سودی نظام اور سپریم کورٹ آف پاکستان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۳ء

روزنامہ اسلام ، اسلام آباد میں ۲۶ جون ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں:

’’سپریم کورٹ میں ہاؤس بلڈنگ کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ۳ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلے کے لیے بینکنگ کورٹ کوئٹہ کو کیس واپس بھجواتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ سودی نظام ابھی تک چل رہا ہے، مذہب کے نام پر بے ایمانی کی جا رہی ہے، سود پر لفظوں کا غلاف چھڑا دیا گیا ہے، سود وصول کرنے والے مذہب سے مذاق کر رہے ہیں۔ ہاؤس بلڈنگ فنانس کسی شخص سے یکمشت پیسے وصول کرنے کا اختیار نہیں رکھتی، ۲ افراد کے درمیان معاہدے کا فیصلہ بینکنگ کورٹ کرے۔

اس دوران ایچ پی ایف سی کی جانب سے رحمان قریشی جبکہ قرضہ لینے والا ارشد پیش ہوا۔ارشد نے بتایا کہ انہوں نے بیس سال کا معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے ۱۰ سال بعد کیس کر دیا، اب یہ تمام رقم سود سمیت واپس لے چکے ہیں جس پر مخالف وکیل نے کہا کہ انہوں نے سود نہیں لیا صرف خدمات کے پیسے لیے ہیں۔ اس پر جسٹس جواد نے کہا کہ آپ سود پر کوئی غلاف بھی چڑھا دیں وہ سود ہی رہے گا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس فیصلے کے لیے بینکنگ کورٹ کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ اس کا سپریم کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہوئے بغیر فیصلہ کیا جائے۔‘‘

ہمیں محترم جسٹس جواد ایس خواجہ کے اس ارشاد سے مکمل اتفاق ہے کہ سودی نظام ابھی تک چل رہا ہے، مذہب کے نام پر بے ایمانی کی جا رہی ہے اور سود پر لفظوں کا غلاف چڑھا دیا گیا ہے۔مگر ہم اس کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ہمیں اس کے اسباب و محرکات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ قیام پاکستان کو پینسٹھ برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک سود کا نظام آخر کیوں جاری ہے ؟ پاکستان کا قیام اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد ’’اسٹیٹ بینک آف پاکستان ‘‘ کے افتتاح کے موقع پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح طور پر کہا تھا کی مغرب کا نظام معیشت انسانی سوسائٹی کے لیے تباہی کا باعث بنا ہے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کا نظام معیشت اسلامی اصولوں کے مطابق تشکیل دیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود مغرب کا نظام معیشت ہم پر بدستور مسلط ہے اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ہر سنجیدہ کوشش آخری مرحلہ میں ناکام ہوتی چلی آرہی ہے۔

سابق صدر غلام اسحاق خان مرحوم نے، جب وہ وفاقی وزیر خزانہ تھے، ایک موقع پر قوم کو اپنی سالانہ بجٹ تقریر میں خوشخبری سنائی تھی کہ اگلے سال کا بجٹ غیر سودی ہوگا اور حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ملک کے نظام کو سود سے پاک کرنے کا نظام وضع کر لیا ہے ۔ لیکن وہ ’’اگلا سال‘‘ آج تک نہیں آیا جبکہ غلام اسحاق خان مرحوم اس کے بعد ملک کے صدر کے طور پر بھی کئی سال قوم پر حکمرانی کر چکے ہیں۔

سود کے خاتمے کے لیے ملک کے اسلام دوست حلقوں کی جدوجہد اور سود کے تحفظ کے لیے ارباب حل و عقد کی چالبازیوں کی داستان بہت طویل اور تلخ ہے، لیکن یہ ارشادات چونکہ عدالت عظمٰی کے ایک محترم، نیک سیرت اور نیک شہرت جج صاحب کے ہیں اس لیے ان کی یاددہانی کے لیے پورے ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کا شریعت اپلیٹ بینچ ملک سے سودی نظام اور ملکی قوانین میں سود سے متعلقہ دفعات کے خاتمہ کا واضح فیصلہ دے چکے ہیں مگر اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے کہ خود سپریم کورٹ نے نظرثانی کی اپیل میں اس فیصلے کو معطل کر رکھا ہے اور اس وقت ملک میں جو سودی نظام چل رہا ہے اس کی واحد وجہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ ہے جس میں سودی قوانین کے خاتمے کے لیے سپریم کورٹ ہی کے فیصلے کی ازسرنو سماعت کا حکم دے کر اس پر عملدرآمد کو روک دیا گیا تھا۔

اس لیے ہم پورے ادب و احترام کے ساتھ محترم جسٹس جواد ایس خواجہ اور ان کی وساطت سے پوری عدالت عظمٰی سے درخواست کریں گے کہ وہ سودی نظام کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ کے تاریخی اور تفصیلی فیصلے پر عملدرآمد کی راہ ہموار کر دیں، سودی نظام خودبخود ختم ہوجائے گا اور مذہب کے نام پر بے ایمانی کا راستہ بھی رک جائے گا۔امید ہے کی خواجہ صاحب محترم ہماری اس درخواست پر غور فرمائیں گے اور ملک سے سودی نظام کے خاتمہ کے لیے مؤثر کردار ادا کر کے نہ صرف قوم کی دعائیں لیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخروئی سے بھی بہرہ ور ہوں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عدالت عظمیٰ کو بہت سے دیگر جرأتمندانہ فیصلوں کے ساتھ اس سمت میں بھی مؤثر پیشرفت کی توفیق دیں، آمین۔