مذہب کا کارڈ اور دینی مدارس کے طلبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۶ ستمبر ۲۰۱۹ء

’’آزادی مارچ‘‘ کے لیے مولانا فضل الرحمان اور جمعیۃ علماء اسلام کی ملک گیر سرگرمیاں دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اور مختلف دوستوں کے متنوع سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ میں نے ان سرگرمیوں کے آغاز پر ایک کالم میں لکھا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا موقف اور رخ دونوں میرے خیال میں درست ہیں مگر رفتار اور لہجے کے حوالہ سے کچھ تحفظات ذہن میں موجود ہیں، یہ تحفظات ابھی تک قائم ہیں یا ان میں کچھ فرق پڑا ہے اس کے بارے میں کچھ دنوں کے بعد ہی عرض کر سکوں گا۔ البتہ اس دوران دو سوالات بعض حلقوں کی طرف سے مسلسل سامنے آرہے ہیں، ان کے بارے میں سردست کچھ گزارش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

ایک یہ کہ مولانا فضل الرحمان اس مارچ کے لیے مذہب کا کارڈ استعمال کر رہے ہیں جو بعض دوستوں کے نزدیک قابل اعتراض ہے جبکہ مجھے اس اعتراض کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی۔ اس لیے کہ جنوبی ایشیا میں ہماری ملی جدوجہد اور تحریکات کا ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ کو محیط ماضی سارے کا سارا مذہب کے عنوان سے ہی تعارف رکھتا ہے ، اگر اس کے عملی مظاہر کو کوئی فہرست میں شمار کرنا چاہے تو یہ تحقیق و مطالعہ کا ایک دلچسپ موضوع ہوگا مگر فہرست کے عنوانات دو ہندسوں میں نہیں سما سکیں گے۔ ان میں سے بطور مثال دو تین کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔

تحریک آزادی میں سلطان ٹیپو شہیدؒ کا نام مجاہدین میں سرفہرست شمار ہوتا ہے جنہوں نے وطن عزیز کو بیرونی تسلط سے نجات دلانے کی مردانہ وار جنگ لڑی اور میدان جنگ میں جام شہادت نوش کیا۔ اس مجاہد آزادی کی ذاتی لائبریری لندن کے برٹش میوزیم کی انڈیا آفس لائبریری میں محفوظ کی گئی ہے اور مجھے متعدد بار وہاں جانے کا موقع ملا ہے۔ سلطان ٹیپو کی یہ جنگ اول تا آخر ’’مذہبی کارڈ‘‘ کے ساتھ جہاد کے عنوان سے لڑی گئی چنانچہ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی ہدایات کی روشنی میں سلطان ٹیپوؒ کی سرگرمیوں اور ہدایات کا پورا ریکارڈ اس لائبریری میں موجود ہے اور محققین کی توجہ کا طلب گار ہے۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب برصغیر کے مسلمانوں نے زیرو پوائنٹ سے دوبارہ معاشرتی زندگی کا آغاز کیا تو قومی زندگی میں مسلمانوں کی بھرپور شرکت کی راہ ہموار کرنے کی مہم کی قیادت سر سید احمد خان مرحوم نے کی اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب رہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے مذہب کا کارڈ ہی استعمال کیا اور مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اردو زبان کو مسلمان کی زبان قرار دیتے ہوئے اس کی بقا کی جنگ لڑی۔ اردو زبان اور مسلم تہذیب دونوں کی بنیاد مذہب پر تھی اور اسی حوالہ سے سر سید احمد خان مرحوم نے ’’دو قومی نظریہ‘‘ کا ٹائٹل اختیار کیا جو بالآخر پاکستان کے نام سے مسلمانوں کی الگ ریاست کے قیام پر منتج ہوا۔

ویسے اردو زبان اور مسلم تہذیب کے حوالہ سے ایک دلچسپ تاریخی منظر یہ بھی بے کہ یہ دونوں مظلوم جب ہندی زبان اور ہندو تہذیب کے مقابلہ پر ہوں تو ہمارے بہت سے حلقوں کے نزدیک ایمان اور ملی حمیت کا عنوان بن جاتے ہیں، لیکن اسی اردو زبان اور مسلم تہذیب کا سامنا اگر مغربی تہذیب سے ہو جائے تو وہ ایسے اجنبی ہو جاتی ہیں کہ جدید دانش کے ماحول میں ان کی پہچان بھی مشکل دکھائی دینے لگتی ہے۔ لیکن بہرحال مسلم تہذیب اور اردو زبان کے تحفظ سے لے کر دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان تک کا سارا سفر مذہب کے اسی کارڈ کے سائے میں طے ہوا جو آج بعض دانشوروں کو انجانا انجانا سا لگ رہا ہے۔

پھر اب سے ایک صدی قبل علی گڑھ کے ممتاز فضلاء مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، حکیم محمد اجمل خان، ڈاکٹر انصاری، مولانا ظفر علی خان اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو رحمہم اللہ تعالٰی کے قافلہ نے تحریک آزادی کے نئے دور کا آغاز کیا تو اس کا ٹائٹل ’’خلافت‘‘ تھا، اور وہ ایک مذہبی نظام کو بچانے کے لیے میدان عمل میں نکلے تھے۔ حتٰی کہ مولانا محمد علی جوہر کی گرفتاری کے بعد ان کی بوڑھی والدہ میدان میں آئیں تو پورا برصغیر ان کے حوالہ سے اس نعرہ سے گونج اٹھا کہ ’’بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو‘‘۔

میں نے ان مثالوں میں علماء کرام کی کسی تحریک کا حوالہ جان بوجھ کر نہیں دیا اس لیے کہ کچھ حضرات کو ’’مولوی‘‘ کا نام سن کر ہی ڈراؤنے خواب نظر آنے لگ جاتے ہیں، بلکہ ان سے ہٹ کر جدید تعلیم یافتہ حلقوں میں سے صرف دو تین مثالیں دی ہیں اس بات کی وضاحت کے لیے کہ ہماری ملی تاریخ، سیاسی جدوجہد اور قومی تحریکات کی تو بنیاد ہی مذہب کے کارڈ پر ہے، ہم اس سے دستبردار آخر کیسے ہو سکتے ہیں؟

دوسری بات یہ کہی جا رہی ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ کو جمع کر کے ایسے اجتماعات کر لیے جاتے ہیں چنانچہ ملک بھر میں دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی چھان بین کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس کے انداز سے یوں لگتا ہے کہ آزادی مارچ کے لیے جس تاریخ کا اعلان ہوا اس روز شاید تمام پولیس تھانوں کی ڈیوٹی لگ جائے گی کہ وہ اپنے حلقہ کے دینی مدارس میں جا کر اساتذہ اور طلبہ کی خود حاضری لیں کہ ان میں سے کوئی باہر تو نہیں گیا۔ اس کے ساتھ ہی کچھ حضرات کو کام کا ایک نیا میدان مل گیا ہے جو مدارس کے منتظمین سے مل کر یہ کیمپین چلاتے رہتے ہیں کہ وہ معتوب جماعتوں کو چھوڑ کر ہمارے کیمپ میں آجائیں ورنہ وہ کسی عتاب کا شکار ہو سکتے ہیں، آخر ان حضرات کے لیے بھی تو کام کا کوئی دائرہ موجود رہنا چاہیے۔

اس حوالہ سے اس سارے منظر کی نقشہ بندی کرنے والے حضرات سے دو تین سادہ سے سوال کرنا چاہتا ہوں:

  1. ایک یہ کہ کیا دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں، اور کیا انہیں ملک میں کسی دینی یا سیاسی جدوجہد میں شریک ہونے کا حق حاصل نہیں ہے؟
  2. دوسرا یہ کہ کیا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبہ پر بھی یہ پابندی موجود ہے کہ وہ دستور و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے بھی کسی تحریک میں شریک نہیں ہو سکتے، اور کیا کسی ایسی تحریک سے قبل کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبہ کی اس طرح چھان بین کی جاتی ہے جس طرح دینی مدارس کی کی جاتی ہے اور کی جا رہی ہے؟
  3. تیسری بات یہ کہ جب وکلاء کسی مسئلہ کے لیے مظاہرہ کریں گے تو ظاہر بات ہے کہ ان کے ساتھ وکلاء، عرضی نویسوں اور ان کے منشیوں کی تعداد ہی زیادہ ہوگی، اگر ڈاکٹر صاحبان کوئی تحریک چلائیں تو ان کو یہ طعنہ نہیں دیا جائے گا کہ ان کے ساتھ تو صرف ڈاکٹر حضرات، کمپوڈر اور نرسیں ہی تھیں، دوسرے لوگ کم تھے۔

کسی بھی شعبہ کے حضرات کسی تحریک کے داعی بنیں گے تو ظاہر بات ہے کہ اس میں اسی طبقہ کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگی، جس پر کسی اعتراض کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ لیکن اس کا مطلب دوسرے حضرات کی شرکت کی نفی نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ کہ انہیں دستور و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے کسی جائز مطالبہ کے لیے سڑکوں پر آنے کا حق نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دوسرے کسی طبقہ کے لیے یہ پابندی نہیں ہے تو دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ سے کسی جلوس، مظاہرہ یا تحریک میں شریک ہونے کا دستوری اور قانونی حق کیوں چھینا جا رہا ہے؟

’’آزادی مارچ‘‘ کب ہوتا ہے، کیسے ہوتا ہے اور کون کون اس میں شریک ہوتا ہے، یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی جماعتوں اور راہنماؤں نے طے کرنا ہے، جبکہ دستور و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس میں شرکت کا حق ملک کے ہر شہری کو حاصل ہے۔ ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے بلکہ ہماری درخواست صرف یہ ہے کہ ملک کے تمام شہریوں اور طبقات کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے، اور دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ کو صرف اس لیے ان کے شہری و سیاسی حقوق سے محروم کر دینے کا راستہ اختیار نہ کیا جائے کہ وہ قرآن و حدیث اور فقہ و عربی پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، اور اس کے ساتھ ان علوم کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عملی نظام کے طور پر دیکھنے کے بھی خواہاں ہیں۔