موجودہ حکومت اور سودی نظام

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۱۹۹۲ء

(متحدہ علماء کونسل کے زیر اہتمام ۱۸ فروری ۱۹۹۲ء الحمرا ہال لاہور میں منعقدہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے نمائندہ اجتماع کا اعلامیہ۔ )

یہ اجتماع وفاقی شرعی عدالت کے اس تاریخی فیصلہ کو ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی اور نفاذ کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتا ہے جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ۳۰ جون تک ان کے متبادل اسلامی قوانین نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ اجتماع اس سلسلہ میں حکومت پاکستان کے اس طرز عمل کو انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک قرار دیتا ہے کہ اسلام کے نفاذ کے نعرے پر برسرِ اقدار آنے والی حکومت اس فیصلہ پر عملدرآمد کرنے کے بجائے اس سے پیچھا چھڑانے اور اسے سبوتاژ کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کو وفاقی حکومت نے نہ صرف مختلف اداروں کی طرف سے سپریم کورٹ میں چیلنج کرانے میں متحرک کردار ادا کیا ہے بلکہ وفاقی وزراء مسلسل اس فیصلہ کے خلاف اور سود کے حق میں بیان بازی کا شغل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ اجتماع اس سلسلہ میں بعض وفاقی وزراء کی طرف سے علماء کرام کے خلاف الزام تراشی بالخصوص سود کا متبادل پیش نہ کر سکنے کے الزام کو خلاف واقعہ اور علماء کرام کو بدنام کرنے کی طے شدہ سرکاری پالیسی کا ایک حصہ قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے، جو تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور دیگر ماہرین پر مشتمل ایک آئینی ادارہ ہے، ۱۹۸۰ء میں غیر سودی بینکاری کا مکمل ڈھانچہ مرتب کر کے حکومت کو پیش کر دیا تھا جس میں ان تمام اشکالات و خدشات کا واضح حل دیا گیا ہے جن کا اظہار آج پھر کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ مکمل اور جامع رپورٹ حکومت کی میز پر موجود ہونے کے باوجود متبادل حل پیش نہ کرنے کا واویلا اس امر کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ حکومت خود سود کے لعنتی نظام کو ختم نہیں کرنا چاہتی اور اپنی اس بدنیتی کو علماء کے خلاف مکروہ پراپیگنڈا کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ اور علماء کے خلاف وفاقی وزراء کے منفی بیانات کی اشاعت تو پورے اہتمام سے ہو رہی ہے مگر غیر سودی بینکاری کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کو صیغہ راز میں رکھا گیا ہے اور اس کی اشاعت پر سرکاری طور پر پابندی ہے۔

یہ اجتماع ملک بھر میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور راہنماؤں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سودی نظام کے سلسلہ میں حکومت کے اس طرز عمل کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیں اور پوری طرح متحد ہو کر ان تمام چور دروازوں کو بند کر دیں جنہیں حکومت سودی نظام کے تحفظ کے لیے کسی بھی درجہ میں استعمال کر سکتی ہے۔ یہ اجتماع حکومت کو خبردار کرتا ہے کہ اگر اس نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے مقررہ مدت میں سودی قوانین کے خاتمہ کے اقدامات نہ کیے تو اسے دینی قوتوں کی طرف سے زبردست مزاحمتی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے لیے دینی حلقوں میں صلاح مشورہ کا آغاز ہو چکا ہے۔