جہاد اور قومی اتفاق رائے

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۰ء

راجہ انور صاحب محترم کی دوسری شکایت یہ ہے کہ ’’جہاد افغانستان‘‘ کے بارے میں ان کے سوال کا جواب تشنہ رہ گیا ہے۔ اگر وہ جواب کے حسب منشا نہ ہونے کی بات کرتے تو مجھے مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی مگر جواب کے تشنہ رہ جانے کی بات ہوئی ہے تو اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہا۔

راجہ صاحب محترم کو جہاد افغانستان کو جہاد تسلیم کرنے میں اشکال ہے، وہ اس کے لیے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ جہاد کا یہ فتوٰی کسی مجاز اتھارٹی نے نہیں دیا تھا اور مجاز اتھارٹی ان کے نزدیک صرف ایک اسلامی حکومت ہے، اور اگر اس کا وجود نہ ہو تو قومی اتفاق رائے یا افغانوں کی زبان میں ’’لویہ جرگہ‘‘ کو اس کی جگہ دی جا سکتی ہے، لیکن وہ علماء کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ جہاد کا فتوٰی دیں۔ ان کے نزدیک اسلامی حکومت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ ان سے فتوٰی لینے کے بعد جہاد کا اعلان کرے، اور نہ ہی حکومتی اتھارٹی کی عدم موجودگی میں علماء کرام کو یہ فتوٰی دینے کا اختیار حاصل ہے، اس لیے ان کے نزدیک جہاد افغانستان کو جہاد کہنا درست نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں راقم الحروف نے راجہ صاحب کے ایک سوال پر عرض کیا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ اسلامی حکومت کی موجودگی میں جہاد کے اعلان کا اختیار صرف حکومت کو حاصل ہے اور اس کے سوا کسی اور کو یہ حق نہیں ہے، لیکن اگر اسلامی حکومت کا وجود نہ ہو اور کفار کے غلبہ و تسلط کا خطرہ پیش آ جائے، یا کوئی برائے نام مسلم حکومت موجود ہو اور وہ غلبہ پانے والے کفار کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر رہ جائے تو ملی آزادی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جہاد کے اعلان کا حق علماء کو منتقل ہو جاتا ہے، اور یہ صرف حق اور اختیار نہیں ہوتا بلکہ ذمہ داری اور فرض بن جاتا ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ملت کی قیادت کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔

اس سلسلہ میں واضح شرعی اور فقہی احکام موجود ہیں، لیکن ان سے قطع نظر ایک مشترکہ اصول عالمی سطح پر بھی تسلیم شدہ ہے کہ ’’اتھارٹی‘‘ کا خلا کبھی کسی جگہ نہیں رہتا۔ اور اگر کہیں اصل اتھارٹی موجود نہ رہے تو اسے پر کرنے کے لیے جو بھی آگے آ جائے اور اس کے فرائض سنبھال لے، خلا اور تعطل سے بچنے کے لیے اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔ ہم اس اصول کو اپنی قومی زندگی میں کئی بار بھگت چکے ہیں اور اس وقت بھی اسی مرحلہ میں ہیں۔ میں نے اس سلسلہ میں برصغیر پاک و ہند کی جنگ آزادی کی مثال دی تھی کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے دہلی کے اقتدار پر قبضہ کر کے مغل بادشاہ کو ایک کٹھ پتلی کی حیثیت دے دی تو برائے نام مغل حکمران کے موجود ہوتے ہوئے بھی شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے جانشین شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوٰی دیا تھا اور اسی فتوٰی کی بنیاد پر آزادی کی جنگ لڑی گئی تھی۔

میری گزارش کا مقصد یہ ہے کہ اگر متحدہ ہندوستان میں علماء کا فتوٰی برطانوی استعمار کے خلاف جہاد آزادی کی بنیاد بن سکتا ہے تو افغانستان میں بھی روسی استعمار کے خلاف علماء کا فتوٰی جہاد کی بنیاد قرار پا سکتا ہے، اور اس کے شرعی جہاد ہونے میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ورنہ اگر افغان علماء کو جہاد کا فتوٰی دینے کا حق نہیں تھا تو شاہ عبد العزیز دہلویؒ اور دوسرے علماء ہند کو بھی انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوٰی دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا، اور راجہ صاحب کے اس فلسفہ کے مطابق برصغیر پاک و ہند کا جہاد آزادی بھی شرعی جہاد کی بجائے فساد قرار پاتا ہے۔ میں نے راجہ صاحب سے ان دونوں کے درمیان فرق پوچھا تھا مگر انہوں نے اس کا کوئی جواب دینے کی بجائے میرے جواب کو تشنہ قرار دینے میں عافیت سمجھی ہے۔

میرے نزدیک راجہ صاحب کی اصل مجبوری یہ ہے کہ ان کے گراموفون کی سوئی کابل پر اٹک کر رہ گئی ہے اور اس سے آگے یا پیچھے ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ورنہ وہ اگر کابل کی سطح سے بلند ہو کر تھوڑے سے وسیع تناظر میں جائزہ لے لیں تو مسئلہ کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ عالم اسلام میں استعماری قوتوں کے خلاف جہاں بھی آزادی کی جنگ ’’جہاد‘‘ کے عنوان سے لڑی گئی ہے وہاں اصل قوت محرکہ علماء ہی کی تھی اور انہی کے فتوٰی پر جہاد آزادی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ برصغیر پاک و ہند اور افغانستان سے ہٹ کر ایک اور مسلم ملک کی جنگ آزادی پر نظر ڈال لیں جس نے مسلسل جہاد آزادی کے ذریعے فرانسیسی استعمار سے آزادی حاصل کی ہے۔ میری مراد الجزائر سے ہے جہاں الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ اور الشیخ بشیر الابراہیمیؒ کی قیادت میں علماء کرام نے فرانسیسی استعمار کے خلاف جہاد کا فتوٰی دیا اور خود بھی اس جہاد آزادی میں عملاً شریک ہوئے۔

اس سلسلہ میں ایک دلچسپ تاریخی واقعہ قارئین کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ الشیخ عبد الحمید بن بادیسؒ جن کا شمار الجزائر کی جنگ آزادی میں بن بیلا، یومدائن اور بوضیاف کے ساتھ صف اول کے راہنماؤں میں ہوتا ہے، حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں اور انہی کے حکم پر انہوں نے الجزائر کی جنگ آزادی میں علماء کرام کو منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ وہ فرانسیسی استعمار کے مظالم کی وجہ سے ہجرت کر کے الجزائر سے مدینہ منورہ چلے گئے تھے، یہ وہ دور تھا جب حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ مسجد نبویؐ میں حدیث پڑھایا کرتے تھے۔ شیخ بن بادیسؒ نے ان سے حدیث شریف پڑھ کر اجازت حاصل کی تو حضرت مدنیؒ نے انہیں حکم دیا کہ وہ مدینہ منورہ میں قیام کرنے کی بجائے اپنے وطن الجزائر واپس جائیں اور علماء کرام کو منظم کر کے فرانسیسی استعمار کے خلاف جہاد آزادی میں حصہ لیں۔ چنانچہ شیخ بن بادیسؒ نے استاد کے حکم پر مدینہ منورہ میں رہنے کا ارادہ ترک کیا اور الجزائر واپس جا کر علماء کرام کو جہاد آزادی کے لیے تیار کیا۔

راجہ صاحب محترم کا کہنا ہے کہ اگر اسلامی حکومت کی اتھارٹی موجود نہ ہو تو جہاد کے فتوٰی کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے، ورنہ وہ شرعی جہاد نہیں ہو گا۔ راجہ صاحب سے گزارش ہے کہ یہ بات قطعی طور پر قابل عمل نہیں ہے اور اس کے علاوہ شرعی احکام اور ملی روایات کے بھی منافی ہے۔ ملت اسلامیہ کی تحریکات آزادی میں کسی جگہ بھی اس کا اہتمام ضروری نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی کسی ملک میں اس کا اہتمام کرنا ممکن تھا۔ برصغیر پاک و ہند میں اگر شاہ عبد العزیز دہلویؒ جہاد کا فتوٰی دینے سے پہلے ’’قومی اتفاق رائے‘‘ کے حصول کے لیے نکل کھڑے ہوتے تو یہ آج تک حاصل نہ ہو پاتا۔

اور اگر برصغیر پاک و و ہند، افغانستان اور الجزائر کے حوالہ سے بات راجہ صاحب کی سمجھ میں نہ آ رہی ہو تو اس تناظر کا دائرہ تھوڑا سا اور وسیع کرتے ہوئے ایک اور حوالہ سے راجہ صاحب سے یہ دریافت کرنا چاہوں گا کہ جب ویتنام میں امریکی فوجیں اتری تھیں تو کامریڈ ہوچی منہ اور ویت کانگ نے امریکی فوجوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے لیے کون سے قومی اتفاق رائے کا اہتمام کیا تھا؟ اور اگر وہ راجہ صاحب کے اس فلسفہ کے پیچھے چل پڑتے تو کیا ویتنام سے امریکی فوجوں کا انخلا کبھی ممکن ہوتا؟ اس لیے اگر ویت کانگ کو اس فلسفہ کی پابندی سے مستثنٰی کیا جا سکتا ہے تو بیچارے افغانوں کو بھی ’’معافی‘‘ دے دینے میں کیا حرج ہے؟

درجہ بندی: