آسمانی مذاہب میں قربانی کا تصور

   
تاریخ بیان: 
۲۸ نومبر ۲۰۰۹ء

( مرکزی عید گاہ اہلسنت مبارک شاہ روڈ گوجرانوالہ میں نماز عید الاضحی کے اجتماع سے خطاب۔ ادارہ نصرۃ العلوم)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج عید کا دن ہے، قربانی کی عید جس میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ یہ قربانی نسلِ انسانی کے آغاز سے چلی آرہی ہے، قرآن کریم نے سب سے پہلی قربانی کا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ ان کا رشتے پر جھگڑا ہو گیا تھا، فیصلے کے لیے انہیں قربانی پیش کرنے کو کہا گیا، دونوں نے قربانی پیش کی، ایک کی قبول ہوئی جو اس کے حق میں فیصلے کی علامت تھی، لیکن دوسرے نے غصے اور انتقام میں بھائی کو قتل کر دیا۔

اس دور میں قربانی کی قبولیت کی علامت یہ ہوتی تھی کہ قربانی، خواہ جانور کی صورت ہو میں یا کسی اور شکل میں، اسے میدان میں رکھ دیا جاتا تھا، آسمان سے آگ آ کر اسے جلا دیتی تھی، جو اس قربانی کے قبول ہو جانے کی علامت ہوتی تھی۔ آسمانی آگ سے جل جانے والی یہ قربانی موسٰی علیہ السلام کی شریعت میں بھی تھی جس کا ذکر بائبل میں ’’سوختنی قربانی‘‘ کے نام سے موجود ہے، اور قرآن کریم میں بھی اس حوالہ سے اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب یہود مدینہ نے جناب نبی اکرمؐ سے کہا کہ وہ کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ ’’حتٰی یاتینا بقربان تأکلہ النار‘‘ (سورہ آل عمران ۱۸۳) ایسی قربانی نہ پیش کر دے جسے آگ جلا ڈالے۔ یہ وہی سوختنی قربانی ہے جو بنی اسرائیل میں رائج تھی اور اسی کا جناب نبی اکرمؐ سے مدینہ منورہ کے یہودیوں نے تقاضا کیا تھا۔ اس کا جواب قرآن کریم نے یہودیوں کو یہ دیا کہ پھر تم نے بنی اسرائیل کے ان انبیاء اکرام علیہم السلام کو کیوں قتل کر دیا تھا؟ جو دیگر واضح دلائل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تمہارے کہنے کے مطابق سوختنی قربانی بھی پیش کر چکے تھے۔

یہاں یہ بات عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قربانی کی تاریخ بہت پرانی ہے، اس کا ذکر حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے حوالہ سے ملتا ہے، بنی اسرائیل کے حوالہ سے بھی موجود ہے، اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا تو قرآن کریم نے اہتمام اور تفصیل کے ساتھ کیا ہے کہ انہوں نے جب خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں تو اسے حکم خداوندی سمجھتے ہوئے اس کے لیے تیار ہو گئے۔ اللہ تعالی کے نبی کا خواب وحی ہوتا ہے، حجت ہوتا ہے اور دلیل ہوتا ہے۔ یہ ہمارے آپ کے خواب کی بات نہیں کہ کبھی سچا بھی ہو جاتا ہے مگر اکثر غلط ہی ہوتا ہے اسی لیے وہ حجت اور دلیل نہیں ہے۔ جبکہ پیغمبر کے خواب اور بیداری میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور جیسے پیغمبر پر بیداری میں نازل ہونے والی بات وحی ہوتی ہے اسی طرح خواب میں ہونے والا اشارہ بھی وحی کا درجہ رکھتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ خواب اپنے جواں سال اور اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بتایا تو وہ بھی اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ یہ پیغمبر کا خواب ہے اس لیے کسی تردد اور تذبذب کے بغیر تیار ہو گئے۔ کوئی تفصیل نہیں پوچھی، کوئی وجہ دریافت نہیں کی، بے ساختہ جواب دیا ’’یا أبت افعل ما تؤمر‘‘ (سورہ الصافات ۱۰۲) ابا جان جو حکم ہوا ہے کر گزریے، مجھے آپ صبر و حوصلہ کے ساتھ تعمیل کرنے والا پائیں گے۔ ’’فلما اسلما وتلّہ للجبین‘‘ (الصافات ۱۰۳) دونوں یعنی باپ بیٹا اللہ تعالی کے حکم کے سامنے جھک گئے اور باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا۔ باپ نے اپنی طرف سے ذبح کر دیا اور بیٹا اپنے تئیں ذبح ہو گیا، مگر اللہ تعالی کو کچھ اور ہی منظور تھا، آواز آئی ’’قد صدقت الرؤیا‘‘ (الصافات ۱۰۵) اے ابراہیم! آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ یہ آزمائش تھی جس میں پورا اترنے کے صلے میں اللہ تعالی نے حضرت اسماعیلؑ کی زندگی بھی بچا لی اور باپ بیٹے کو قربانی کی قبولیت کا پروانہ بھی دے دیا۔ حضرت ابراہیمؑ کو ذبح عظیم سے نوازا اور ’’وترکنا علیہ فی الآخرین‘‘ (الصافات ۱۰۸) ہم نے اس سنت پر بعد والوں کو قائم کر دیا۔

اسی لیے جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ’’ما ھذہ الأضاحی یا رسول اللّٰہ؟‘‘ یارسول اللہ یہ قربانی کیا ہے؟ تو جواب میں فرمایا کہ ’’سنۃ ابیکم ابراہیم‘‘ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ نبی اکرمؐ نے اسے حضرت ابراہیمؑ کی سنت بھی فرمایا اور خود اپنی سنت سے بھی تعبیر کیا۔ بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جس نے عید کی نماز ادا کرنے کے بعد قربانی کی ’’فقد أصاب سنتنا‘‘ اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔ اس لیے قربانی حضرت ابراہیمؑ کی سنت بھی ہے اور جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ بھی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرمؐ نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کرتے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمؐ ہر سال دو مینڈھے قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے قربانی دیتا ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ قربانی میں دو مینڈھے ذبح کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ایک جانور اپنی طرف سے قربان کر رہا ہوں اور دوسرا اپنی امت کے ان افراد کی طرف سے ذبح کر رہا ہوں جو قربانی نہیں کر سکیں گے۔ یہاں ایک فرق ذہن میں رکھیں کہ نبی اکرمؐ نے قربانی امت کے ان افراد کی طرف سے کی ہے جو قربانی نہیں کر سکیں گے اور اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہوں گے، ان کی طرف سے نہیں کی جو استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی نہیں کریں گے۔ ان کے بارے میں الگ حکم بیان فرمایا کہ ’’من وجد سعۃً ولم یضح فلا یقر بن مصلانا‘‘ جس نے قربانی کی استطاعت پائی اور قربانی نہیں کی وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ یہ لا تعلقی ہے اور برأت کا اظہار ہے ان لوگوں سے جو استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ استطاعت نہیں رکھتے ہوں گے اور ناداری کی وجہ سے قربانی نہیں کر سکیں گے انہیں بھی محروم نہیں رکھا اور فرمایا کہ ان کی طرف سے میں قربانی کر کے جا رہا ہوں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اپنی قدر و قیمت اور عظمت کے اعتبار سے کون سی قربانی بڑی ہے؟ ان کی قربانی جو خود قربانی کر رہے ہیں یا ان کی قربانی جن کی طرف سے نبی اکرمؐ نے قربانی کی تھی، میرا ایمان ہے کہ نبی اکرمؐ کی ایک قربانی پوری امت کے لیے کافی ہے اور نبی اکرمؐ کے مبارک ہاتھوں سے کی جانے والی قربانی کی طرف نسبت بھی ایک مسلمان کے لیے باعث سعادت و نجات ہے۔

بہرحال نبی اکرمؐ نے خود قربانی کی ہے اور امت کو قربانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ عید الاضحی کے موقع پر جناب نبی اکرمؐ نے بھیڑ بکریوں کا ایک ریوڑ میرے سپرد کیا اور فرمایا کہ اسے میرے صحابہ میں قربانی کے لیے تقسیم کر دو۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ دو جانور عید قربان پر ذبح کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے نبی اکرمؐ نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی طرف سے بھی قربانی دیا کروں اس لیے میں ایک جانور آپؐ کی طرف سے ذبح کیا کرتا ہوں۔

آج کل بعض لوگوں کی طرف سے یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ قربانی صرف اس لیے تھی کہ حج کے موقع پر منٰی میں حاجیوں کی بڑی تعداد جمع ہو جاتی ہے، ان کی مہمان نوازی کے لیے کچھ جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن یہ بہت بڑا مغالطہ ہے، اس لیے کہ میں نے آپ کے سامنے قربانی کے بارے میں جتنی روایات کا ذکر کیا ہے ان سب کا تعلق مدینہ منورہ سے ہے اور یہ ساری قربانیاں مدینہ منورہ میں ہوئی ہیں، کوفہ میں ہوئی ہیں، اور بصرہ میں ہوتی رہی ہیں۔

قربانی کے بارے میں ایک مغالطہ اور بھی دیا جاتا ہے کہ قربانی کے لیے جانور ذبح کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے نقد رقم خرچ کر کے بھی یہ ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے اور قربانی کا مقصد پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی قطعی طور پر غلط ہے اس لیے کہ قربانی عبادت ہے اور کسی عبادت کی جو صورت جناب نبی اکرمؐ نے متعین فرما دی ہے وہ اسی صورت میں ادا ہو گی تو عبادت شمار ہو گی ورنہ نہیں ہو گی۔ مثلًا فجر کی نماز میں دو رکعت فرض ہیں جو ایک خاص کیفیت میں ادا کی جاتی ہیں، کوئی صاحب ان کی بجائے فجر کا سارا وقت قرآن کریم کی تلاوت میں گزار دیں اور کہیں کہ میں نے عبادت ہی تو کی ہے بلکہ زیادہ وقت صرف کیا ہے، تو ان کی دو گھنٹے تلاوت آٹھ دس منٹ میں پڑھی جانے والی دو رکعتوں کا متبادل نہیں ہو گی، اور وہ فرض نماز کے تارک متصور ہوں گے۔ اسی طرح اگر کسی شخص پر حج فرض ہو گیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں حج پر دو لاکھ روپے خرچ کرنے کی بجائے دس لاکھ روپے کسی مسجد پر لگا دیتا ہوں، تو دس لاکھ نہیں بلکہ دس کروڑ لگا کر اگر وہ انتہائی خوبصورت اور وسیع مسجد تعمیر کر دے تب بھی یہ اس کے حج کا متبادل نہیں ہو گا، اور وہ شخص فریضۂ حج کے ترک کا مرتکب قرار پائے گا۔ اسی طرح قربانی اسی صورت میں قبول ہو گی جس شکل میں جناب نبی اکرمؐ نے اس کا حکم دیا ہے، اس سے ہٹ کر اس کی جگہ دس گنا رقم بھی خرچ کر دی جائے تو وہ قربانی متصور نہیں ہو گی۔ میں اس پر بخاری شریف کی ایک روایت کا حوالہ دینا چاہوں گا، اس روایت کی تفصیل سن کر خود آپ لوگ فیصلہ کر لیں کہ قربانی کس شکل میں قبول ہوتی ہے اور کس صورت میں قبول نہیں ہوتی۔

بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرمؐ نے ایک بار عید الاضحی کے خطبہ میں فرمایا کہ قربانی کے دن کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے عید کی نماز ادا کی جائے اور اس کے بعد قربانی کی جائے، جس نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے اس کی قربانی نہیں ہوئی اور اسے دوبارہ قربانی کرنا ہو گی۔ یہ سن کر ایک صحابی حضرت ابو بردہ بن نیارؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو نماز کے لیے گھر سے روانہ ہونے سے قبل قربانی کی نیت سے جانور ذبح کر کے آیا ہوں۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ وہ عام گوشت کی طرح ہے جو تم نے اپنے گھر والوں کو کھلایا ہے، اس کی جگہ تمہیں دوسرا جانور ذبح کرنا ہو گا۔، حضرت ابو بردہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں مگر میرے پاس اب ایک جانور ہے جو عمر میں کم ہے اور قربانی کے لیے عمر کی شرط پوری نہیں کرتا، کیا میں اسے ذبح کر سکتا ہوں؟ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ تمہیں بطور خاص اس کی اجازت دے رہا ہوں تم اس کم عمر والے جانور کو ذبح کر سکتے ہو، لیکن تمہارے علاوہ کسی اور کو یہ رعایت حاصل نہیں ہو گی۔

اس روایت سے دو باتیں بالکل واضح ہیں (۱) ایک یہ کہ قربانی میں جانور ہی ذبح کرنا ہے (۲) اور دوسری یہ کہ جانور بھی عمر اور وقت کی شرط کے مطابق ذبح ہو گا تو قربانی ہو گی ورنہ نہیں ہو گی۔ اس لیے میں آپ سب حضرات سے عرض کرتا ہوں کہ قربانی سنت کے مطابق اور جناب نبی اکرمؐ کی ہدایات کے مطابق ادا کریں اور آج کل کے ’’زیادہ پڑھے لکھے‘‘ لوگوں کی باتوں کی طرف نہ جائیں جو خود بھی کنفیوژڈ ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی کنفیوژن کا شکار کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

قربانی کے حوالہ سے ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ قربانی کا ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق اللہ تعالی کے ساتھ ہے اور وہ انسان کا خلوص اور اس کی نیت ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہمیں تمہارے جانور کے گوشت اور خون سے کوئی غرض نہیں ہے ’’ولکن ینالہ التقویٰ منکم‘‘ (سورہ الحج ۳۷) اللہ تعالیٰ کے پاس تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے یعنی تمہاری نیت اور خلوص کا اعتبار ہوتا ہے۔ یہ تو قربانی کا وہ پہلو ہے جس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور یہ خدا اور اس کے بندے کا معاملہ ہے، جبکہ قربانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی مہمانی ہے، یعنی کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ذریعہ بناتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نمائندے بن کر اس کے بندوں کو ان دنوں میں کھلائیں پلائیں۔ گویا قربانی کرنے والے کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے کارندے کی ہے اور یہ بہت بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے۔ اس لیے اس بات کی زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے کہ اپنے محلہ میں، برادری میں اور اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں کہ کوئی شخص اس سے محروم نہ رہ جائے۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک بار عید الاضحی کے موقع پر کچھ قبائل کے مفلوک الحال لوگ مدینہ منورہ آئے ہوتے تھے، ان کی رعایت کرتے ہوئے جناب نبی اکرمؐ نے عید کے خطبے میں اعلان فرما دیا کہ کسی شخص کے گھر میں تیسرے دن کے بعد گوشت کا کوئی حصہ باقی نہ رہے۔ مقصد یہ تھا کہ قربانی کے گوشت کو بچا کر نہ رکھا جائے بلکہ سارے کا سارا لوگوں کو کھلا دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کسی صحابی نے گوشت کی ایک بوٹی بھی تین دن کے بعد گھر میں بچا کر نہ رکھی۔ اگلے سال عید الاضحی کے موقع پر صحابہ کرامؓ نے نبی اکرمؐ سے دریافت کیا کہ کیا تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت گھر میں نہ رکھنے کا حکم اب بھی باقی ہے یا وہ صرف گزشتہ سال کے لیے تھا؟ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ وہ حکم صرف گزشتہ سال کے لیے تھا، اب تم گوشت کھا بھی سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔ اتفاق سے حضرت ابو سعید خدریؓ کو یہ دوسرا حکم معلوم نہیں تھا، وہ سفر پر تھے، واپس آئے تو گھر والوں نے کھانے میں گوشت پیش کیا اور بتایا کہ قربانی کا گوشت ہم نے بچا کر رکھا ہوا تھا، انہوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک نبی اکرمؐ سے خود نہ پوچھ لوں میں یہ گوشت نہیں کھاؤں گا۔ نبی اکرمؐ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ پابندی والا حکم صرف گزشتہ سال کے لیے تھا کہ اس موقع پر کچھ مفلوک الحال اور نادار لوگ آئے ہوئے تھے ان کی وجہ سے میں نے یہ پابندی لگا دی تھی، اور اس سال میں نے اجازت دے دی ہے کہ قربانی کا گوشت کھا سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔

اس روایت کے حوالہ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ چند مفلوک الحال لوگوں کے مدینہ منورہ آنے کی وجہ سے نبی اکرمؐ نے تین دن سے زیادہ گوشت گھر میں رکھنے پر پابندی لگا دی تھی تو آج بھی ہمیں اردگرد ضرور دیکھنا چاہیے کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں ہفتہ میں ایک بار بھی گوشت نصیب نہیں ہوتا اور کتنے ایسے ہیں جن کو پورا پورا مہینہ گوشت کی بوٹی دیکھنا نصیب نہیں ہوتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ گوشت بالکل ذخیرہ نہ کریں، شوق سے ایسا کریں لیکن اپنے اردگرد کے قبیلہ برادری کے اور گلی محلے کے ان لوگوں کو بھی یاد رکھیں جنہیں مہینوں گوشت کھانے کو نہیں میسر آتا۔ یہ قربانی کا معاشرتی پہلو ہے اور سوسائٹی کی ضروریات سے اس عبادت کا عملی تعلق ہے جس کا ہمیں ضرور لحاظ رکھنا چاہیے۔

میں آج کے اجتماع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قربانی کے ایک اور پہلو کی طرف بھی آپ حضرات کو متوجہ کرنا چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ سے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، لیکن آج ہمارا حال کیا ہے؟ ہماری قربانیاں کس کے لیے ہیں؟ قربانیاں ہم بھی دے رہے ہیں لیکن کن چیزوں کی قربانیاں دے رہے ہیں؟ ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی قربانی دے رہے ہیں، عقیدہ کی قربانی دے رہے ہیں، ثقافت کی قربانی دے رہے ہیں، ملکی سالمیت کی قربانی دے رہے ہیں، عوام کے جان و مال کی قربانی دے رہے ہیں، قومی حمیت اور ملی غیرت کی قربانی دے رہے ہیں، اور قومی وحدت اور خود مختاری کی قربانی دے رہے ہیں۔ کس کے لیے؟ امریکہ کے لیے، ایک عالمی قوت کو خوش کرنے کے لیے اور ایک استعماری قوت کو راضی رکھنے کے لیے ہم نے اپنی زندگی اور موت کے فیصلے بھی امریکی استعمار کے سپرد کر دیے ہیں کہ وہ جسے چاہے زندہ رہنے دے اور جسے چاہے ڈرون حملوں کے ذریعے موت کی نیند سلا دے۔ ہمارے قومی فیصلے اور پالیسی کے معاملات اسلام آباد میں نہیں واشنگٹن میں ہو رہے ہیں، اور ہمارے حکمران روبوٹ کی طرح ان احکام کی تعمیل کیے جا رہے ہیں۔

ہمارا حال یہ ہے کہ قرآن کریم کے احکام ہمارے سامنے ہیں مگر ہماری ان کی طرف توجہ نہیں ہے، جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات شب و روز ہم سنتے ہیں مگر ہمارے معمولات میں کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن رات دو بجے امریکہ کا حکم آجائے تو ہم اڑھائی بجے تک اس پر عمل کر کے اس کی رپورٹ بھی دے چکے ہوتے ہیں، ہمیں اسی کی سزا مل رہی ہے اور ایک اللہ کے سامنے سرنڈر نہ ہونے کے نتیجے میں خدا جانے کون کون سے دروازے پر ناک رگڑنا پڑ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ کتاب اللہ کے فیصلوں سے انحراف کرنے والوں پر ہم دنیا میں رسوائی اور ذلت مسلط کر دیتے ہیں، ہماری صورتحال آج کل یہی ہے کہ ہم نے شریعت پر عملدرآمد سے انکار کیا، قرآن و سنت کی بالادستی سے منہ موڑا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے احکام و قوانین سے اعراض کیا، تو ہر طرف سے ہم پر ذلت اور رسوائی مسلط ہے اور عزت و وقار کا کوئی راستہ ہمیں دکھائی نہیں دے رہا۔ قربانی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قربانی اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کو قربان کرنے کا نام ہے، دنیا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام سے منہ موڑنے کا نام نہیں ہے۔ دنیا کی خاطر دین کی قربانی اور دنیا والوں کی خاطر اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسولؐ کی شریعت اور احکام کی قربانی سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔

آج بھی اگر ہم اللہ کے در پر جھک جائیں، جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات و تعلیمات کے سامنے جھک جائیں، اور شریعت اسلامیہ کے سامنے سرنڈر ہو جائیں، تو ساری صورتحال بدل سکتی ہے، اس دلدل سے نجات مل سکتی ہے، اور ہم قومی طور پر عزت و وقار کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے اجتماعی طور پر توبہ و استغفار کی ضرورت ہے، ملی حمیت و غیرت کو جگانے کی ضرورت ہے، اور عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائیں، وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین۔