مسئلہ قادیانیت کے تین پہلو

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
۱۵ اپریل ۲۰۱۲ء

(سبزہ زار سکیم لاہور میں سابق ایم این اے چوہدری محمد ارشاد ڈوگر کی رہائشگاہ پر مجلس صوت القرآن کے زیر اہتمام درس قرآن کریم کی تقریب سے مولانا عبد الجبار سلفی کی دعوت پر خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مجھے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا ہے، اس کے دو پہلو ہیں، ایک مثبت کہ اسلام میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور مسلمانوں کے اس سلسلے میں جذبات و احساسات کا دلائل اور تاریخ کے تناظر میں ذکر کیا جائے اور دوسرا منفی کہ آج کے دور میں عقیدۂ ختم نبوت کے بارے میں اس عقیدہ کے منکرین کی طرف سے جو چیلنج درپیش ہے، اس کو واضح کیا جائے اور مسلمانوں کو اس کی طرف توجہ دلائی جائے۔ میں آج کی گفتگو میں اس دوسرے پہلو پر چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔

جنوبی ایشیا کے کسی حصے میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے اس پہلو پر جب بات ہوتی ہے تو قادیانیت کا تذکرہ لازمی سمجھا جاتا ہے کیونکہ گزشتہ کم و بیش سوا سو برس سے قادیانیت ہی کو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ علماء اسلام اور دینی جماعتوں کی کشمکش جاری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر انہیں اور ان کے پیروکاروں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا اور اعلان کیا کہ نئی نبوت کے دعویٰ کے ساتھ وجود میں آنے والے اس گروہ کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسلمانوں کے اسی اجتماعی موقف کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں دستوری ترامیم کے ذریعے ملک کے دستور کا حصہ بنا دیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو ملکی دستور و قانون کی رو سے غیر مسلم اقلیتوں میں شامل کر دیا گیا۔ جبکہ قادیانیوں نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے نہ صرف انکار کر رکھا ہے بلکہ دنیا بھر میں وہ پاکستانی پارلیمنٹ کے اس متفقہ اور جمہوری فیصلے کے خلاف لابنگ اور پروپیگنڈے کے ذریعے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسے منسوخ کرانے کے لیے ہر سطح پر اپنا پورا زور لگا رہے ہیں۔ اس تناظر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ قادیانیت کے مسئلے پر مختصر گفتگو کروں تاکہ جو لوگ واقف نہیں ہیں، انہیں اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ہو جائے۔

مسئلہ قادیانیت کے تین پہلو ہیں: ایک علمی و دینی، دوسرا سماجی اور تیسرا سیاسی۔ چنانچہ قادیانیت کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ان تینوں پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

  1. مذہبی، علمی و دینی پہلو تو یہ ہے کہ قادیانیت کے آغاز میں مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں ہی حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ جیسے اکابر اہل علم نے اس کا نوٹس لیا اور دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ مکاتب فکر کے تمام علماء نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا اعلان کیا۔ جبکہ عوامی سطح پر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دوسرے علمائے کرام نے اس سلسلے میں بیداری کی مہم چلائی۔ علمائے برصغیر کا یہ فتویٰ اور فیصلہ صرف ان کا نہیں ہے بلکہ پوری دنیائے اسلام کے تمام دینی مکاتب فکر اور علمی مراکز کا متفقہ فیصلہ ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی بھی مسلمہ مذہبی حلقہ ایسا موجود نہیں ہے جو اس فیصلے سے اتفاق نہ رکھتا ہو اور اس کی کھلے بندوں تصدیق و تائید نہ کرتا ہو۔

    قادیانیوں نے یہ کہہ کر اس فیصلے کی اہمیت کو ہر دور میں کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ مختلف مسلمان مکاتب فکر ایک دوسرے کو بھی کافر کہہ دیتے ہیں، اس لیے اس فتویٰ یا فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن ہر موقع پر مسلمان مکاتب فکر کے علماء کرام نے باہم مل کر اس کی دو ٹوک وضاحت کی ہے کہ ان کے آپس کے فتاویٰ کی نوعیت مختلف ہے اور قادیانیوں کے خلاف ان سب کا متفقہ فتویٰ بالکل مختلف نوعیت کا ہے جو پوری امت مسلمہ کے متفقہ اور اجماعی فیصلے کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے انکار کی کسی کے لیے گنجائش نہیں ہے۔

  2. مسئلہ کا دوسرا پہلو سماجی ہے جس کی طرف مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے توجہ دلائی اور پھر دلائل کے ساتھ اس کو پوری طرح واضح کیا کہ نئی نبوت کا ٹائٹل امت کو تقسیم کرنے کا باعث ہے، اس لیے کہ نبی کسی بھی مذہب میں آخر اتھارٹی ہوتا ہے اور نبی کے بدل جانے سے مذہب بدل جایا کرتا ہے۔ اس کی تھوڑی سی وضاحت میں کرنا چاہوں گا کہ
    • جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور توراۃ پر ایمان رکھنے والے یہودی کہلاتے ہیں لیکن ان دونوں پر ایمان رکھنے کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل پر ایمان لانے والے یہودی کہلانے کے حقدار نہیں ہیں، بلکہ ایک الگ اور نئے مذہب ’’مسیحیت‘‘ کے پیروکار تسلیم کیے جاتے ہیں۔
    • اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور توراۃ اور انجیل سب پر ایمان رکھنے کے باوجود حضرت محمدؐ اور قرآن کریم پر ایمان لانے والے نہ یہودی تسلیم کیے جاتے ہیں اور نہ ہی مسیحی کہلانے کے حقدار ہیں، بلکہ ایک نئے مذہب اسلام کو قبول کرنے کے باعث مسلمان کہلاتے ہیں۔
    • اسی تسلسل میں حضرت محمدؐ اور قرآن کریم پر ایمان کا دعویٰ رکھنے کے باوجود قادیانی حضرات بزعم خود ایک نئے نبی مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی نئی وحی پر ایمان لانے کی وجہ سے مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں ہیں اور ان کی حیثیت ایک نئے اور الگ مذہب کے پیروکار کی ہے۔ اسی لیے ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جس طرح عیسائیوں نے یہودیوں سے الگ تشخص اختیار کیا تھا اسی طرح وہ بھی مسلمانوں سے الگ تشخص اختیار کریں اور اپنے مذہب کا نام اور اس کی مذہبی علامات کو مسلمانوں کے مذہبی شعائر سے الگ کریں، کیونکہ الگ اور نیا مذہب رکھتے ہوئے مسلمانوں کا ٹائٹل اور اسلام کے مخصوص مذہبی شعائر کو استعمال کرنے سے اشتباہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے مسلمانوں کا اپنے مذہبی تشخص کی حفاظت کا حق مجروح ہوتا ہے۔

    علامہ محمد اقبالؒ نے برطانوی دورِ حکومت میں مطالبہ کیا تھا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار شمار کیا جائے اور غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے کر ان کا معاشرتی تشخص مسلمانوں سے الگ کیا جائے۔ علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کی بنیاد پر ہی ۱۹۷۴ء میں پاکستانی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا متفقہ اور جمہوری فیصلہ صادر کیا تھا۔

  3. مسئلہ کا تیسرا پہلو سیاسی ہے اور اس کی طرف بھی سب سے پہلے علامہ اقبالؒ نے ہی توجہ دلائی تھی، انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ قادیانیت، یہودیت کا چربہ ہے۔ اس کی وضاحت میں اگر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے ان ریمارکس کو دیکھ لیا جائے تو بات پوری طرح سمجھ میں آجاتی ہے، جس کا تذکرہ بھٹو مرحوم کے قید کے ایام میں ان کی نگرانی کرنے والے فوجی افسر کرنل رفیع نے اپنی یادداشتوں میں کیا ہے (جو جنگ پبلیکیشنز کی طرف سے کتابی صورت میں شائع کی گئی ہیں )کہ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا کہ قادیانی گروہ پاکستان میں وہی حیثیت حاصل کرنے کے درپے ہے جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے کہ ملک کی کوئی پالیسی ان کی مرضی کے بغیر طے نہ ہو۔ امریکہ اور یورپ میں یہودیوں کی دخل اندازی بلکہ مغرب کی پالیسیوں پر ان کے کنٹرول کو اقبالؒ نے یوں تعبیر کیا تھا کہ ’’فرنگی کی رگِ جان پنجۂ یہود میں ہے‘‘۔ آج دنیا کا ہر با شعور شخص اس سے آگاہ ہے کہ امریکہ میں سیاست، معیشت اور میڈیا تینوں پر یہودیوں کا کنٹرول ہے اور تھنک ٹینکس بھی انہی کے زیر اثر ہیں۔ اس لیے امریکہ کی قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں پر ان کی اجارہ داری ہے، حالانکہ امریکی آبادی میں یہودیوں کا تناسب بمشکل ایک فیصد ہو گا۔ بھٹو مرحوم نے اس حقیقت کو بجا طور پر سمجھا تھا اور اس کی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان میں وہی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے قادیانیوں کی شروع سے کوشش جاری ہے اور آج بھی وہ عالمی استعمار کی پشت پناہی کے ساتھ اس کے لیے منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

اس لیے میں تمام مسلمانوں سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ اس معروضی صورتحال کا اچھی طرح ادراک کریں کہ قادیانیت کا مسئلہ مذہبی، علمی اور دینی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی مسئلہ بھی ہے اور اس سے امت مسلمہ کی وحدت، پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو مسلسل خطرات درپیش ہیں۔ بالخصوص آج کے اس عالمی تناظر میں بہت زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ قادیانیوں کو عالمی سیکولر لابیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور پاکستان کے اندر قادیانیوں کے عزائم کو کامیاب بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر منظم مہم چلائی جا رہی ہے، اس لیے عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانیوں کے بارے میں دستور پاکستان کے فیصلے کا مسلسل پہرہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ صرف علمائے کرام کی نہیں بلکہ امت کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔