سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا نیا مرحلہ

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خاتمہ کے حوالہ سے رٹ کی سماعت طویل عرصہ کے بعد دوبارہ شروع ہونے سے ملک میں رائج سودی قوانین سے نجات کی جدوجہد نئے مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی تحریک انسداد سود پاکستان نے نئی صف بندی کے ساتھ اپنی مہم پھر سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور نے وفات سے چند ہفتے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر استوار ہو گا مگر ان کی ہدایت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے حالانکہ دستور پاکستان میں دوٹوک کہا گیا ہے کہ سودی نظام کو جلدازجلد ختم کر کے ملک کے معاشی نظام کو قرآن و سنت کے احکام کے مطابق بنایا جائے گا۔ مگر ان واضح ہدایات کے باوجود سودی نظام اور قوانین بدستور موجود ہیں اور عدالتوں میں آنکھ مچولی مسلسل جاری ہے۔ چند روز قبل وفاقی شرعی عدالت نے اس سلسلہ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک درخواست کو مسترد کیا تو راقم الحروف نے ٹویٹ میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس کا اصولی طور پر خیرمقدم ہونا چاہیے مگر ٹال مٹول اور تاخیری حربوں میں تسلسل کے باعث اب یہ تکلف ہی لگتا ہے۔

دوسری طرف ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ نئی صف بندی کے ساتھ متحرک ہوتی نظر آ رہی ہے، تمام مکاتب فکر کے علماء کرام پر مشتمل یہ مشترکہ فورم کئی سالوں سے موجود و متحرک ہے اور اس دوران مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام پر مشتمل مرکزی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کی ذمہ داری راقم الحروف پر رہی ہے مگر اب خود میری تجویز پر اس کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا گیا ہے، چنانچہ ۸ دسمبر کو آسٹریلیا مسجد لاہور میں منعقدہ ایک کنونشن میں مولانا عبد الرؤف ملک کو تحریک کا صدر اور ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کو سیکرٹری جنرل منتخب کر کے ان کے ساتھ پندرہ افراد پر مشتمل مجلس عاملہ قائم کر دی گئی ہے جس میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ خلیل الرحمان قادری، ڈاکٹر محمد امین، پروفیسر حافظ عاطف وحید، ابوعمار زاہد الراشدی، قاری جمیل الرحمان اختر، ڈاکٹر حافظ محمد سلیم، اور ڈاکٹر حسن مدنی کے علاوہ تاجر برادری کے پانچ ارکان بھی شامل ہوں گے۔

اس سے اگلے روز فیصل آباد میں مرکزی انجمن تاجران نے ایک وسیع ہال میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے مشترکہ ’’انسداد سود کنونشن‘‘ کا اہتمام کیا جس کی صدارت انجمن تاجران کے صدر جناب حاجی شاہد رزاق سکا نے کی اور مہمان خصوصی سابق سیشن جج چودھری خالد محمود تھے، جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی نائب امیر مولانا عبد الرزاق اور راقم الحروف نے بھی خطاب کیا اور فیصل آباد کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر سودی نظام کے خلاف جدوجہد کے معروضی تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے راقم الحروف نے جو معروضات پیش کیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

  • عوامی ماحول میں حلال و حرام کا شعور و احساس کم ہوتا جا رہا ہے اور بے پروائی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا علماء کرام اور دینی اداروں کو سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے اور خطابات، بیانات، سوشل میڈیا اور دیگر میسر ذرائع سے حلال و حرام کے مسائل اور ان میں فرق کی دینی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے خاص طور پر سودی نظام کی نحوستوں سے عوام کو خبردار کرنا چاہیے۔
  • تاجر برادری کی تنظیموں اور راہنماؤں کو تجارتی ماحول میں یہ شعور اجاگر کرنا چاہیے کہ تجارت کے جن شعبوں میں وہ ازخود سود سے بچ سکتے ہیں یا سود کے حوالہ سے جو چند اسلامی قوانین اس وقت موجود ہیں ان پر عملدرآمد کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے لیے باقاعدہ عوامی رابطہ مہم کی ضرورت ہے جو تاجر تنظیمیں اور ادارے بآسانی کر سکتے ہیں۔
  • سیاسی سطح پر دستور پاکستان کی اسلامی دفعات بالخصوص سودی نظام کے خاتمہ کی دفعات پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ جدوجہد تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے اور قومی سیاست میں متحرک دینی جماعتوں اور قائدین کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  • وفاقی شرعی عدالت میں اس کیس کی پیروی عملی طور پر جماعت اسلامی پاکستان اور تنظیم اسلامی پاکستان کے راہنما کر رہے ہیں جن میں تحریک انسداد سود پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ بھی شامل ہیں۔ ملک بھر کے وکلاء اور بار ایسوسی ایشنز کو اس کی حمایت و تعاون کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے اور ان کی اس مہم میں عملی شرکت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
  • تحریک انسداد سود پاکستان کی جدوجہد کا نیا مرحلہ یہ ہے کہ
    1. عوامی ماحول میں حلال و حرام کے فرق کا احساس و شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ حرام کی نحوستوں بالخصوص سود کی بے برکتی اور لعنت و نحوست کو اجاگر کیا جائے۔
    2. معاشرے میں نجی و سرکاری سطح پر رائج سود کی مختلف صورتوں کو سامنے لایا جائے اور ان سے بچنے کے لیے متبادل طریقوں کے متعلق آگاہی کا ماحول پیدا کیا جائے۔
    3. علماء کرام، تاجر راہنماؤں اور وکلاء برادری کے درمیان اس سلسلہ میں رابطوں، ملاقاتوں، مشترکہ اجتماعات اور اشتراک عمل کا ماحول قائم کیا جائے، اور
    4. وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے راہنماؤں اور وکلاء کو سیاسی، اخلاقی اور علمی مدد فراہم کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق سے نوازیں، آمین۔