امریکہ کا سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ و ۱۵ جون ۲۰۰۳ء

گزشتہ ماہ مجھے تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مئی کے دوران دو ہفتے امریکہ رہا اور واپسی پر تین چار دن برطانیہ میں گزار کر مئی کے آخر میں وطن واپس آگیا۔ اس سے قبل ۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء تک چار پانچ بار امریکہ جا چکا ہوں۔ اس دوران میں نے کم و بیش درجن بھر امریکی شہروں میں مختلف اجتماعات میں شرکت کی اور متعدد امریکی اداروں میں جانے کا موقع بھی ملا۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی دیکھا بلکہ اس کی ایک سو ساتویں منزل پر واقع سیر گاہ سے نیویارک کا نظارہ کرنے کے علاوہ عصر کی نماز بھی وہیں جماعت کے ساتھ ادا کی جسے دیکھنے کے لیے ایک ہجوم ہمارے گرد جمع ہوگیا تھا۔ نیویارک میں یوم پاکستان کی روایتی ریلی میں شریک ہوا، نیاگرا آبشار دیکھی، کینیڈا کے شہر ٹورنٹو بھی گیا، اور نیویارک سے سان فرانسسکو تک بہت سے امریکی شہروں میں وقت گزارا۔ سان فرانسسکو کا مشہور زلزلہ جس روز آیا اس دن صبح ۶ بجے وہاں سے نیویارک واپسی کے لیے میری پرواز تھی اور زلزلہ اس سے چند گھنٹے بعد آیا تھا۔ امریکہ رہنے والے ایک دوست نے ایک بار مجھ سے کہا کہ ہم نے امریکہ اس قدر گھوم پھر کر نہیں دیکھا جتنا آپ نے دیکھ لیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ایک دفعہ ایک دست شناس دوست نے اتفاقیہ طور پر میرا ہاتھ دیکھ لیا تھا اور بتایا تھا کہ زاہد صاحب! آپ کے ہاتھ میں سفر کی لکیریں بہت ہیں لیکن آپ کے مقدر میں دولت نظر نہیں آتی۔

یہ دولت کے بغیر سفر کا تجربہ بھی بہت عجیب ہے۔ میں اسے دین کی برکت سمجھتا ہوں کہ بڑے بڑے سرمایہ دار جن سفروں سے گبھراتے ہیں اور لمبی چوڑی پلاننگ کرتے ہیں، ہمارے وہ سفر آسانی سے ہو جاتے ہیں۔ یہ پندرہ سال قبل کی بات ہے کہ گوجرانوالہ سے ہمارے ایک محترم دوست نے، جو ایک بڑے صنعت کار ہیں اور شاہ ولی اللہ یونیورسٹی پروجیکٹ کے ذمہ دار حضرات میں سے ہیں، میرے ساتھ برطانیہ اور امریکہ کے سفر کا پروگرام بنا لیا۔ ہم نے لندن اور نیویارک کا اکٹھے سفر کیا اور کئی دن ساتھ گزارے۔ اس زمانے میں ہم ایئرپورٹ پر دکھانے کے لیے ٹریول چیک کی صورت میں چند سو ڈالر لے جایا کرتے تھے۔ میں نے کچھ ٹریول چیک حاصل کیے اور احتیاطاً پاسپورٹ کے ساتھ رکھ لیے، لیکن دوران سفر کسی جگہ بھی انہیں کیش کرانے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ ہر جگہ دوست ہمیں ایئرپورٹ سے وصول کرتے اور واپسی پر چھوڑ جاتے۔ مساجد و مدارس میں ہمارا قیام ہوتا، بہت سے دوست خوشی خوشی گھر لے جا کر ہمیں کھانا کھلاتے اور روزانہ گھومنے پھرنے کے لیے ٹرانسپورٹ بھی مہیا کرتے۔ اس کے علاوہ ہمارا اور کیا خرچہ ہوتا؟ چنانچہ گوجرانوالہ واپس پہنچنے پر میں نے ان صاحب سے کہا کہ میں اپنے ٹریول چیکس واپس کر رہا ہوں تو حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا کہ آپ کا تو صرف ٹکٹ ہی کا خرچہ ہوا ہوگا؟ میں زیر لب مسکرا کر خاموش ہوگیا کہ اس بات کا بھی پردہ ہی رہ جائے تو بہتر ہے۔

یہ بات بہت سے دوست نہیں سمجھ پائیں گے مگر دین اور دینی تعلق کی برکات کا تجربہ ہم شب و روز کرتے رہتے ہیں اس لیے ہمارے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ متعدد بار ایسا ہوا کہ معمول کے مطابق دو چار ماہ رہنے کے لیے لندن پہنچا مگر جیب میں چند سو پاکستانی روپوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ صرف یہ خدشہ رہتا تھا کہ اگر امیگریشن کے کاؤنٹر پر متعلقہ آفیسر نے پوچھ لیا کہ وزیٹر کے طور پر اتنے دن رہنے کے لیے آئے ہو تو جیب میں کچھ رقم بھی ہے تو کیا جواب دوں گا۔ عام طور پر وہ نہیں پوچھا کرتے تھے مگر ایک بار انہوں نے پوچھ ہی لیا تو انگریزی زبان نہ جاننا بہانہ بن گیا اور دو تین گول مول الٹے سیدھے اشاروں کے بعد جان چھوٹ گئی۔ اس بار میں ۲۵ مئی کو نیویارک سے ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچا تو جس دوست نے مجھے لینے آنا تھا وہ باہر موجود نہیں تھے۔ انہیں فون کر کے صورتحال معلوم کرنے کے لیے سکوں کی ضرورت تھی جو میرے پاس موجود نہیں تھے۔ مجبورًا بیس ڈالر کا ایک نوٹ کیش کرا کے پاؤنڈ حاصل کیے۔ ایئرپورٹ پر کرنسی کے تبادلے کے ریٹ مختلف ہوتے ہیں، مجھے بیس ڈالر کے عوض تقریباً گیارہ برطانوی پاؤنڈ ملے۔ میں نے فون کر کے دوست کا پتہ کیا جو تھوڑی دیر کے بعد لینے کے لیے آگئے۔ میں چار دن برطانیہ میں رہا، لندن کے علاوہ برمنگھم، مانچسٹر، اور نوٹنگھم بھی گیا۔ چار دن کے بعد جب ۲۸ مئی کی شام کو لاہور واپسی کے لیے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچا تو ان میں سے پانچ پاؤنڈ کا نوٹ میری جیب میں موجود تھا جو اب بھی میرے پاس ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ اگلے سفر میں کام آئے گا۔

بات اس رخ پر چل پڑی ہے تو تحدیث نعمت کے لیے ایک اور واقعہ عرض کر دیتا ہوں، صرف اس حقیقت کے اظہار کے لیے کہ اس دنیا میں دینی تعلق سے زیادہ کوئی تعلق اور فکری رشتے سے زیادہ مستحکم کوئی رشتہ نہیں ہے اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے جس کا ہم سے کسی طور بھی شکر ادا نہیں ہو پاتا۔ تقریباً ۲۰ سال قبل کی بات ہے، ذی الحجہ کی دوسری یا تیسری تاریخ کو کراچی سے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن نے فون پر مجھ سے دریافت کیا کہ ’’میاں حج پر جانا ہے؟‘‘ میں نے گزارش کی کہ اس سعادت سے انکار کا لفظ منہ پر نہیں لانا چاہتا مگر اب تو وقت بھی گزر گیا ہے اور میرے پاس پاسپورٹ کے سوا اور کچھ ہے بھی نہیں۔ پوچھا کہ ’’پاسپورٹ کارآمد ہے نا؟‘‘ میں نے ہاں میں جواب دیا تو کہا کہ ٹی سی ایس سے بھیج دو۔ میں نے پاسپورٹ انہیں بھجوا دیا، دو دن گزرے ہوں گے کہ فون آیا کہ رات نائٹ کوچ سے کراچی پہنچو، کل ایک بجے کراچی سے جدہ کے لیے فلائٹ ہے۔ میں حسب حکم پہنچا اور ذی الحجہ کی پانچویں یا چھٹی تاریخ کو حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن کے قافلے میں شامل ہو کر مغرب سے قبل مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ میں دوستوں سے عرض کیا کرتا ہوں کہ ہم فقیروں کے کام تو اس طرح ہوجایا کرتے ہیں کہ جیب میں پیسے ہوں یا نہ ہوں، جہاں مقدر میں جانا لکھا ہے اس کے اسباب اللہ تعالیٰ غیب سے پیدا فرما دیتے ہیں۔

لیکن جب مقدر ساتھ نہ دے تو اس طرح بھی ہوتا ہے کہ جس سال عراق نے کویت پر حملہ کیا تھا میں ان دنوں لندن میں تھا۔ واپسی پر عمرہ کے لیے براستہ سعودی عرب وطن واپس آنے کا ارادہ تھا۔ سعودی ایئرلائن کا ٹکٹ تھا، عمرے کا ویزا لیا اور سفر کے لیے جہاز پر سوار ہوگیا۔ لندن سے جدہ کی فلائٹ تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے کی ہوتی ہے، جہاز نے چار گھنٹے کے لگ بھگ سفر طے کر لیا تھا کہ مجھے جہاز کا رخ واپسی کی طرف مڑتا ہوا محسوس ہوا۔ رات کا پچھلا پہر تھا کہ پائلٹ نے اعلان کیا کہ خلیج میں جنگ شروع ہوگئی ہے اور جدہ ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے اس لیے ہم واپس لندن جا رہے ہیں۔ چنانچہ تقریباً آٹھ گھنٹے مسلسل فضا میں رہنے کے بعد ہم صبح پھر ہیتھرو ایئرپورٹ پر تھے۔ اور جب میں نے رات کو ایئرپورٹ پر چھوڑ کر جانے والے اپنے میزبان کے گھر پہنچ کر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ مجھے سامنے دیکھ کر حیران رہ گئے۔

بات بہت دور نکل گئی، تیرہ چودہ سال قبل ہونے والے امریکہ کے بعض اسفار کا ذکر کر رہا تھا، مگر یہ نائن الیون سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس بار جب امریکہ پہنچا تو صورتحال بدلی ہوئی تھی، فضا پہلے کی طرح مانوس نہیں تھی، اور دوستوں کے چہروں کے تاثرات بھی مختلف تھے۔ میں نے زیادہ تر دوستوں کو بتایا بھی نہیں تھا اس لیے کہ صرف دو ہفتے کے سفر میں سب کے پاس جانا میرے بس میں نہیں تھا۔ بعض دوستوں کو وہاں پہنچنے کے بعد فون پر بتایا، کچھ کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا، بار بار پوچھتے رہے کہ کیا واقعی امریکہ آئے ہو اور کیسے آئے ہو؟ ان کے لیے یہ بات ناقابل فہم تھی کہ مجھے امریکہ کا ویزا کیسے مل گیا ہے۔ کیونکہ سب دوست جانتے ہیں کہ میں عالم اسلام اور پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسیوں کے خلاف مسلسل لکھتا رہتا ہوں، اور صرف لکھتا ہی نہیں اجتماعات میں تقریریں بھی کرتا ہوں، بلکہ امریکی موقف اور پالیسیوں کے خلاف مختلف تحریکات میں سرگرم کردار بھی ادا کرتا ہوں۔ اس لیے انہیں میرے امریکہ میں موجود ہونے کا یقین نہیں آرہا تھا۔ مگر میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس امریکہ کا ویزا ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء سے قبل کا ہے اور ۲۰۰۵ء تک کارآمد ہے ۔

میرے امریکہ جانے کے مقاصد میں سے سب سے بڑی بات تو وہاں رہنے والے دوستوں سے تعلقات کی تجدید تھی جو گزشتہ بارہ تیرہ سال سے کم و بیش منقطع تھے۔ اس کے ساتھ ہی میں امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے حالات اور ان پر نائن الیون کے سانحہ کے بعد پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ پھر یہ خواہش بھی تھی کہ اگر کچھ دوست وقت نکال سکیں اور اچھی ترجمانی کر سکیں تو دوچار امریکی دانشوروں بالخصوص پادری صاحبان سے موجودہ عالمی صورتحال اور مغرب اور مسلمانوں کی کشمکش کے حوالے سے گفتگو ہو جائے تاکہ ان کا نقطۂ نظر براہ راست معلوم کیا جا سکے۔ آخری بات کے لیے تو فضا سازگار نہیں ملی اور اس خواہش کو کسی اور مناسب موقع کے لیے ملتوی کرنا پڑا، البتہ ایک محدود دائرہ میں پہلی دو باتوں کے سلسلہ میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی۔

واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں ہمارے ایک پرانے دوست مولانا عبد الحمید اصغر صاحب رہتے ہیں، بنیادی طور پر انجینئر ہیں، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے رہے ہیں، چکوال کے معروف روحانی پیشوا حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ کے خلفاء میں سے ہیں، اور ایک عرصہ سے واشنگٹن میں مقیم رہ کر دینی خدمات میں مصروف ہیں۔ تب وہ واشنگٹن کے قریب شمالی ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں ایک کرائے کے مکان میں مسجد اور دینی مکتب قائم کیے ہوئے تھے۔ لیکن اب چند برس سے اس کے قریبی علاقہ سپرنگ فیلڈ میں ایک عمارت خرید کر اس میں مسجد، دینی درسگاہ اور طالبات کا اسکول قائم کیے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ مخلص معاونین کی ایک ٹیم ہے اور یہ دوست مل کر اس علاقے میں مسلمانوں کی دینی رہنمائی اور تعلیمی خدمات کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ الیگزینڈریا سے کچھ آگے جنوب کی طرف ڈمفریز شہر میں میرے ہم زلف محمد یونس صاحب اپنے بچوں سمیت رہتے ہیں، میرا ابتدائی قیام انہی کے ہاں تھا۔ لیکن جب میں اپنے دو عزیزوں کے ہمراہ ملاقات کے لیے مولانا عبد الحمید اصغر کے ہاں پہنچا تو انہوں نے اچانک مجھے دیکھ کر خوشی کے ساتھ ساتھ ناراضگی کا اظہار بھی کیا کہ انہیں آنے کی پہلے اطلاع کیوں نہیں دی۔ انہیں افسوس اس بات پر تھا کہ جس روز میں پہنچا اس سے ایک روز قبل انہوں نے اپنے دینی مرکز ’’دارالہدیٰ‘‘ میں بڑے اہتمام کے ساتھ ایک سیرت کانفرنس منعقد کی تھی جس میں علاقے کے سینکڑوں مسلمانوں نے شرکت کی اور حضرت مولانا احترام الحق تھانوی نے اس سے خطاب کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں میرے پروگرام کا چند روز قبل علم ہو جاتا تو وہ اس کانفرنس کو ایک روز کے لیے آگے کر سکتے تھے۔ لیکن چونکہ مجھے کانفرنس کے انعقاد کا علم نہ تھا اور میں اپنے سفر امریکہ کو جان بوجھ کر اکثر دوستوں سے صرف اس لیے چھپائے ہوئے تھا کہ

کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے

مولانا نے اپنا غصہ میرے لیے اس سزا کی صورت میں نکالا کہ مغرب کی نماز کے بعد دارالہدیٰ کی مسجد میں میرے درس کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ یہ جتنے دن بھی واشنگٹن میں رہیں گے روزانہ مغرب کے بعد دارالہدیٰ میں سیرت نبویؐ پر درس دیا کریں گے اور اس دوران جو دو جمعۃ المبارک آئیں گے وہ بھی یہی پڑھائیں گے۔ چنانچہ یہ ’’خوبصورت سزا‘‘ میں نے بھگتی۔

اس کے علاوہ امریکہ کے اس سفر کے دوران دو روز کے لیے نیویارک گیا جبکہ ایک روز کے لیے بیفلو جانا ہوا۔ نیویارک کے جمیکا کے علاقہ میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے نوجوان علمائے کرام نے ’’دارالعلوم نیویارک‘‘ کے نام سے دینی درسگاہ قائم کر رکھی ہے۔ وہاں ’’قرآن کریم کی تعلیم کی اہمیت اور قرآن کریم کے اعجاز‘‘ کے موضوع پر بیان ہوا۔ انہوں نے خاصے دوست جمع کر رکھے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ اس سال اس درسگاہ میں گیارہ بچوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے۔ اس خوشی میں اس موضوع پر چند گزارشات پیش کیں اور عرض کیا کہ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ جیسے جیسے عالمی سطح پر اس کی تعلیم کی مخالفت ہو رہی ہے، ویسے ویسے دنیا میں قرآن کریم کے حافظوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ نیویارک کے ایک مدرسہ میں اس سال گیارہ بچے حافظ قرآن ہوگئے ہیں۔

نیویارک کے علاقے بروکلین کی مکی مسجد میں دوسرے روز مغرب کے بعد درس ہوا جس کے بعد سوال و جواب کی محفل جمی۔ مکی مسجد کے خطیب حافظ محمد صابر وہاں کی مسلم کمیونٹی کے خاصے متحرک لیڈر ہیں اور سرکاری طور پر تسلیم کیے جانے والے مسلمان ائمہ میں سے ہیں۔ ان کے گھر کھانے پر سرکردہ حضرات سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا۔ جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے سابق مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبد الرزاق عزیز نے، جو نیویارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ کے ایک اسلامک سنٹر کے امام ہیں، جزیرے کی خوب سیر کرائی اور پھر خود پانچ چھ گھنٹے کی مسافت پر واشنگٹن ڈی سی چھوڑنے آئے۔

نیویارک ریاست کے سرحدی شہر بیفلو میں دارالعلوم مدینہ کے نام سے ایک معیاری دینی درسگاہ ہے جہاں کے منتظم شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا مہاجر مدنی ؒ کے خلیفہ مجاز محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن ہیں۔ ایک روز کے لیے وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ اسی دارالعلوم مدنیہ کی ’’زکریا مسجد‘‘ کو نائن الیون کے سانحہ کے بعد نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ یہ مسجد ایک بڑا چرچ خرید کر بنائی گئی تھی اور اب اس کی دوبارہ تعمیر ہو رہی ہے جو تکمیل کے قریب ہے۔ ظہر اور عصر کی نماز اس مسجد میں باجماعت ادا کی اور دارالعلوم مدینہ میں اساتذہ اور طلبہ کے اجتماع سے مختصر خطاب کا موقع بھی ملا۔

واشنگٹن ڈی سی میں بہت کچھ دیکھنے اور بہت سے حضرات سے بات چیت کرنے کو جی چاہتا تھا لیکن فضا میں غیر مرئی سی حد درجہ احتیاط اور چوکنا پن محسوس کر کے یہ ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔ مولانا عبد الحمید اصغر ایک روز نیشنل میوزیم آف امریکن ہسٹری دکھانے لے گئے لیکن رش زیادہ ہونے کے باعث پارکنگ نہ ملی تو میوزیم دیکھے بغیر واپس آنا پڑا۔ البتہ پینٹاگون کے سامنے سے کئی بار گزرنے کا اتفاق ہوا اور جیفرسن کی یادگار کے قریب سے بھی متعدد بار گزر ہوا۔ شہر میں دریا کے کنارے ایک دھاتی مجسمے کو اس انداز سے زمین میں دبایا گیا ہے کہ اس کا منہ، دونوں ہاتھ، ایک گھٹنا اور دونوں پاؤں باہر ہیں، جبکہ باقی سارا جسم زمین کے اندر ہے۔ اس کے قریب کوئی کتبہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ اس کی وجہ معلوم ہو سکے مگر ایسا کوئی کتبہ نہ ملا۔ البتہ ایک دوست نے صحیح یا غلط یہ بتایا کہ قیامت کے روز اسی طرح لوگ اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔ اگر یہ کہانی درست ہے تو بڑے تعجب کی بات ہے۔ کیا امریکی معاشرے میں ابھی تک قیامت کا اور قبر سے جی اٹھنے کا تصور موجود ہے؟ بظاہر امریکی سوسائٹی کا ماحول اور رجحانات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ لیا ہے اور اسی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن پیش رفت کی جا رہی ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ اس دنیا کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے اور زیادہ سے زیادہ معاشرتی اسباب اور سہولتیں فراہم کرنے میں امریکی معاشرے کا کوئی جواب نہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کے بے شمار لوگ ، جن میں مسلمان اور غیر مسلم سبھی شامل ہیں، امریکہ جانے اور وہاں آباد ہونے کے لیے بے چین نظر آتے ہیں۔

ایک دوست نے گیارہ ستمبر کے سانحہ کے بعد کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں طرف خوف کی فضا اور احساس موجود ہے۔ ایک طرف مسلمانوں میں اور خاص طور پر عربوں میں کوئی سرگرمی دکھائی دیتی ہے تو پورا سسٹم الرٹ ہو جاتا ہے اور میڈیا بار بار یہ کہہ کر کہ ’’ابھی مزید بھی کچھ ہونے والا ہے‘‘ اس خوف میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس دوست کا کہنا ہے کہ اس طرف پتہ بھی ہلتا ہے تو سب کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مسلمانوں میں بھی ہر وقت یہ خدشہ او رخطرہ ذہنوں پر سوار رہتا ہے کہ خدا جانے کب کوئی شک کی زد میں آجائے اور دھر لیا جائے۔ کیونکہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں افراد شک و شبہ کی گھاٹی سے گزر چکے ہیں اور خدا جانے کتنوں کو اس چھلنی سے ابھی گزرنا ہے۔ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے ساتھ اس سے قبل جو نرمی برتی جاتی تھی اور چشم پوشی سے کام لیا جاتا تھا وہ پالیسی بالکل تبدیل ہوگئی ہے اور سب سے زیادہ متاثر بھی وہی لوگ ہوئے ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد امریکہ چھوڑ چکی ہے اور اچھی خاصی تعداد جیلوں میں بند ہے۔ وہاں کی جیلوں کی صورتحال کے بارے میں بھی کچھ اچھے تاثرات نہیں پائے جاتے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے گرفتار کیے جانے والے افراد کے ساتھ بہت سی امریکی جیلوں میں معاملہ اور سلوک وہ نہیں ہے جو امریکی جیلوں کے بارے میں عام طور پر سننے میں آتا ہے۔ ایک دوست نے کہا کہ رویہ کے لحاظ سے پاکستان کی جیلوں اور امریکہ کی جیلوں میں کچھ خاص فرق نہیں رہا۔

بعض دوستوں نے تاثرات دریافت کرتے ہوئے یہ سوال بھی کیا کہ میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے کوئی رائے دوں لیکن مشکل یہ ہے کہ میں اب تک کی معلومات پر رائے نہیں دے سکتا، البتہ تسلی کے ساتھ گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ مزید لوگوں سے ملاقات اور گفتگو کی کوئی صورت نکل آئی تو تاثرات کے ساتھ رائے اور تجاویز پر بھی بات ہو جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

امریکی دستور میں یہودیوں نے مسلسل محنت کے بعد اپنے لیے ایک سہولت حاصل کر رکھی ہے کہ وہ ایک خاص طریقہ کار کے تحت خاندانی قوانین اور مالیاتی معاملات میں اپنی کمیونٹی کے لیے الگ عدالتی نظام قائم کر سکتے ہیں جو ان کے مذہبی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کا مجاز ہے اور اس کے فیصلوں کا سپریم کورٹ تک میں احترام کیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم چونکہ مذہبی اقلیتوں کے عنوان سے ہے، اس لیے مسلمان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں لیکن الجھن یہ ہے کہ ایک تو امریکی مسلمانوں کی اکثریت اس دستوری سہولت اور حق سے بے خبر ہے اور دوسرے یہ کہ مسلم کمیونٹی میں اس قدر ہم آہنگی اور اشتراک کار نہیں ہے کہ وہ کوئی مشترکہ نظام اور طریق کار اس سلسلے میں طے کر سکیں۔ گزشتہ اسفار کے دوران میں نے متعدد اجتماعات میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور بہت سے مسلم راہ نماؤں نے میری اس گزارش سے اتفاق کیا تھا کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو اس دستوری حق اور سہولت سے محروم نہیں رہنا چاہیے اور اسے بروے کار لانے کے لیے مشترکہ اور سنجیدہ محنت کا آغاز ہونا چاہیے۔ حالیہ سفر میں ا س مسئلہ پر مولانا عبد الحمید اصغر سے تفصیلی بات ہوئی، انہیں اس سلسلے میں باخبر اور فکر مند پایا اور آئندہ کسی سفر کے موقع پر ان کے ساتھ اس حوالے سے پیش رفت کے پروگرام کا ہلکا پھلکا سا نقشہ بھی طے ہوا۔