دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ نے اب سے نصف صدی قبل قادیانی امت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا جس پر دونوں طرف سے خط و کتابت بھی ہوئی تھی۔ دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان مولانا چنیوٹیؒ اپنے ساتھیوں سمیت مقررہ تاریخ کو سارا دن انتظار کرتے رہے مگر دوسری طرف سے کوئی نہ آیا۔ اس کے بعد ہر سال مولانا چنیوٹیؒ اسی مقام پر اس چیلنج کو دہراتے تھے اور اب اس کی یاد میں ۲۶ فروری کو سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دانش ور خطاب کرتے ہیں۔ اس سال یہ کانفرنس دو حصوں میں ہوئی۔ ۲۵ فروری کو مغرب کے بعد ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں کانفرنس کا ایک سیشن ہوا جبکہ دوسرا سیشن ۲۶ فروری کو صبح دس بجے شام ۵ بجے تک ایوان اقبال لاہور کے وسیع ہال میں انعقاد پذیر ہوا۔ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الحفیظ مکی نے کانفرنس کی صدارت کی جبکہ سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج اور مولانا چنیوٹیؒ کے جانشین مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے کی نگرانی میں کانفرنس کے دونوں سیشن کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے ممتاز ارباب علم و دانش نے خطاب کیا اور راقم الحروف کو بھی دونوں نشستوں میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی اس کانفرنس کے ذریعہ ہم جہاں عقیدۂ ختم نبوت اور تحریک ختم نبوت کے ساتھ اپنی بے لچک وابستگی اور عزمِ نو کا اظہار کر رہے ہیں، وہاں تحریک ختم نبوت کے عظیم مجاہد حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ کو بھی خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی عظیم جدوجہد، یاد اور اس کے تسلسل میں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں۔ آمین۔

آج ملک کا سب سے اہم مسئلہ جس نے قوم کے ہر فرد کو مضطرب اور بے چین کر رکھا ہے، ملکی سالمیت، خود مختاری اور امن کے قیام کا مسئلہ ہے۔ بیرونی مداخلت بالخصوص ڈرون حملوں نے بد اَمنی کی جو صورت حال ہمارے ملک میں پیدا کی ہے اور اندرونی دہشت گردی اور خودکش حملوں میں جس طرح بے گناہ شہریوں کا خون بہایا گیا ہے وہ سب کے لیے پریشان کن ہے اور ملک و قوم کو اس افسوسناک بلکہ المناک صورت حال سے نجات دلانے کے لیے مذاکرات کی بات چل رہی ہے۔ وطن عزیز کی سلامتی، ریاست کا تحفظ و وقار، قومی خود مختاری، دستور کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور امن عامہ کی بحالی ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اور ہماری ترجیحات میں اسلام اور پاکستان سب سے مقدم ہیں۔ اسی حوالہ سے دستور کی بالادستی کا تذکرہ ہو رہا ہے اور اس پر بحث چل رہی ہے، کہا جا رہا ہے کہ تحریک طالبان پہلے دستور کو تسلیم کرے اور اس کی بالادستی کا اعلان کرے تب مذاکرات صحیح سمت آگے بڑھیں گے۔ ہم بھی اس کی حمایت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دستور کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے، خودکش حملے بند ہوں اور آپریشن کا سلسلہ روک کر مذاکرات کے ذریعہ امن قائم کیا جائے۔

لیکن اس سلسلہ میں ایک اہم پہلو یہ بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستانی طالبان دستور کو مانتے ہیں یا نہیں اور مذاکرات کے لیے وہ دستور کی بالادستی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں، اس مسئلہ میں ہم حکومت کے ساتھ ہیں اور قومی موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس گروہ نے گزشتہ چار عشروں سے دستور کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کر رکھا ہے ان کے بارے میں حکومتی پالیسی کیا ہے؟ ۱۹۷۴ء میں جب منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ دستوری ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا، تب سے قادیانی گروہ دستور کے اس فیصلے کو ماننے سے انکاری ہے۔ وہ نہ صرف دستور کی دفعات اور پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے سے منحرف ہے بلکہ اس نے دنیا بھر میں بیسیوں مقامات پر دستور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور لابنگ کے مورچے قائم کر رکھے ہیں اور پاکستان کے نظریاتی تشخص، دستور کی اسلامی دفعات، عقیدۂ ختم نبوت کے بارے میں قوم کے موقف اور ناموس رسالتؐ کے قانون کے خلاف مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ میں حکومت پاکستان، ملک کے ارباب دانش اور خاص طور پر میڈیا کے پالیسی سازوں اور مختلف چینلوں کے اینکرز سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ دستور پاکستان سے اس انحراف اور اس کے خلاف اس مہم کا بھی نوٹس لیں۔ اگر دستور سے منحرف ایک گروہ کے خلاف آپریشن کی بات اس شد و مد کے ساتھ کی جا رہی ہے تو اسی دستور سے منحرف دوسرے گروہ کے خلاف آپریشن کی بات کیوں نہیں کی جاتی، کیا یہ بھی دستور کی بالادستی کا تقاضہ نہیں ہے؟

اس حوالہ سے ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں، ابھی کل ہماری قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ سفارش کی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ملک میں قانون سازی کی جائے۔ میں اس قرارداد کا خیر مقدم کرتا ہوں لیکن دو سادہ سے سوال قوم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ اسلامی نظریاتی کونسل ۱۹۷۳ء میں دستور کے نفاذ کے بعد قائم ہوئی تھی جس کے ذمہ یہ بات تھی کہ وہ ملک کے تمام قوانین کا جائزہ لے کر خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کرے اور ان کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ کام برسوں پہلے مکمل کر دیا تھا، چنانچہ آج ہی کے ایک قومی اخبار نے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں رائج سات سو سے زیادہ غیر شرعی قوانین کی نشاندہی کر کے انہیں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے تجاویز مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر رکھی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ دستور کے نفاذ کو چار عشرے گزر جانے کے بعد اب قومی اسمبلی کو یہ قرارداد منظور کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کی جائے۔ سارا کام مکمل ہو جانے کے باوجود اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی اور کئی عشروں پر محیط اس دستوری اور قانونی خلا کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگر دستور کو تسلیم نہ کرنے والے مجرم ہیں تو دستور کے اسلامی کردار کو چار عشروں تک معطل رکھنے والوں کے بارے میں ہمارے دانش ور کیا فرماتے ہیں؟

پھر اس کے ساتھ ہی ایک سوال یہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی یہ سفارش کس سے کر رہی ہے؟ قانون سازی تو خود قومی اسمبلی نے ہی کرنی ہے، گویا قومی اسمبلی خود سے یہ سفارش کر رہی ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کرے۔ کیا یہ قوم کے ساتھ مذاق نہیں ہے؟ میں انتہائی نرم الفاظ میں اپنے حکمرانوں سے صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ خدا کے لیے اس قوم پر رحم کیجئے اور اپنے ملک کے عوام پر ترس کھائیے۔

اس موقع پر یہ بات عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ دستور پاکستان کے بیشتر حصوں کو اب تک معطل رکھنے کے نتیجے میں ہی وہ صورت حال پیدا ہوئی ہے جس نے پوری قوم کو کرب و اضطراب سے دوچار کر رکھا ہے۔ اگر دستور پر عمل ہوتا، دستور کے اسلامی کردار کو معطل نہ رکھا جاتا اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی ہو جاتی تو یہ حالات سرے سے پیدا ہی نہ ہوتے۔ اب بھی اس کا حل یہی ہے کہ دستور کا اسلامی کردار بحال کیا جائے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں دستوری تقاضوں کے مطابق باضابطہ پیش کر کے قانون سازی کا اہتمام کیا جائے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ سارے مسئلے ختم ہو جائیں گے اور وطن عزیز نہ صرف امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے گا بلکہ ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف بھی گامزن ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔