ٹرانسجینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء سے آگاہی

   
مقام / زیر اہتمام: 
جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ
تاریخ بیان: 
۲۰ اکتوبر ۲۰۲۲ء

جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں جمعیت اہلحدیث گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ٹرانسجینڈر قانون کے بارے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث گوجرانوالہ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کا یہ مشترکہ اجتماع منعقد کیا جس میں سرکردہ علماء کرام کے ساتھ طلبہ بھی شریک ہیں جو ہماری مستقبل کی قیادت ہے اور مجھے اس پر خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے طلبہ کو بھی مسائل کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں امت کی قیادت کا فریضہ صحیح طریقہ سے انجام دے سکیں۔ ہمارے آج کے مہمان خصوصی جناب عبد الرحمٰن بشیر ایڈووکیٹ ہیں جن کا ٹرانسجینڈر ایکٹ کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے فعال کردار ہے اور وہ اس سلسلہ میں اب تک کی صورتحال کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کریں گے۔ وہ ہمارے محترم بزرگ مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ کے فرزند ہیں جن کے ساتھ مختلف دینی و تعلیمی معاملات میں میری رفاقت رہی ہے اس لیے میں انہیں اپنا بھتیجا ہی سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مولانا محمد بشیر سیالکوٹیؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

آج کا موضوع ٹرانسجینڈر قانون کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہے، میں اس کے حوالے سے مختصرًا دو تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قانون ۲۰۱۸ء میں نافذ ہو گیا تھا اور ابھی تک نافذ العمل ہے مگر ہم اس پر اب بات کر رہے ہیں جو غوروفکر کا مقام ہے اور ہماری بے توجہی اور بے پرواہی کی علامت ہے۔ میں ذاتی طور پر اس پر شرمندگی محسوس کر رہا ہوں اور گزارش کر رہا ہوں کہ ہم سب کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی اپنی کوتاہی کو محسوس کرتے ہوئے اس کے ازالہ کی کوشش کرنی چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ اس قانون کے مقاصد اور پس منظر کے تفصیلی تجزیہ کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ خواجہ سرا اور مخنث دوسرے ملکوں کی طرح ہمارے ملک میں بھی موجود ہیں جو انسانی نسل کے معذور افراد میں سے ہیں، جس طرح بہت سے دیگر جسمانی اعضا سے محروم افراد پائے جاتے ہیں اور معذور شمار ہوتے ہیں اسی طرح خواجہ سرا بھی جسمانی معذوروں کا ایک طبقہ ہے جن کی تعداد اگرچہ مجموعی تناظر میں بہت کم ہے مگر بہرحال موجود ہیں۔ البتہ ان میں یہ فرق دیکھنا ہو گا کہ اصل معذور کون سے افراد ہیں اور جو خود جان بوجھ کر اس طبقہ کا حصہ بنے ہیں یا انہیں جبراً بنایا گیا ہے وہ کون ہیں؟ دونوں کی حیثیت الگ ہے۔ جو لوگ پیدائشی طور پر معذور ہیں ان کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے جس میں معذور افراد بھی پیدا ہو جاتے ہیں، مگر جس طرح دوسرے جسمانی اعضا اور صلاحیتوں سے قدرتی طور پر معذور افراد کے بارے میں طبی علاج دریافت ہوئے ہیں اور میڈیکل سائنس کے ماہرین ان کا علاج کر رہے ہیں، اسی طرح ان معذور افراد کے لیے بھی اسی محنت کی ضرورت ہے اور میں نے ڈاکٹر صاحبان کی ایک مجلس میں ان سے کہا ہے کہ وہ اس کا علاج دریافت کریں۔

مگر اس عنوان سے مذکورہ قانون کے تحت ہوا یہ ہے کہ چند معذوروں کے مسائل حل کرنے کے عنوان سے پوری قوم کو خواجہ سرا بنا دینے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے کیونکہ سب کو یہ حق دے دیا گیا ہے کہ کوئی بھی مرد خود کو عورت محسوس کرتا ہے یا بننا چاہتا ہے تو وہ نادرا میں اپنے آپ کو عورت کے طور پر رجسٹرڈ کروا سکتا ہے۔ اسی طرح کوئی عورت خود کو مرد ظاہر کرنا چاہتی ہے تو وہ مرد کے طور پر رجسٹرڈ ہو سکتی ہے۔ تو یہ قانون پورے معاشرہ کو جنسی شناخت کے حوالے سے مشکوک بنانے کا قانون ہے جو شریعتِ اسلامیہ اور انسانی فطرت کے منافی ہے اور اس کے خلاف جدوجہد ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

تیسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ کچھ عرصہ سے ہمارے قانونی نظام کے بارے میں بیرونی اداروں کے طرزعمل میں بنیادی تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلے ہم سے عالمی ادارے اور بیرونی عناصر یہ کہا کرتے تھے کہ ان کے فلاں فلاں تقاضے کے مطابق قانون بنایا جائے، اور ہم گول مول سا قانون بنا دیا کرتے تھے جس میں ان کا تقاضہ بھی پورا ہو جاتا تھا اور ہم اپنے تحفظات کا اس میں لحاظ کر لیا کرتے تھے۔ مثلاً بیوی کو خاوند کی طرح طلاق کا حق دینے کے بیرونی مطالبہ پر ہم نے ۱۹۶۲ء کے عائلی قوانین میں نکاح کے فارم میں تفویضِ طلاق کا سوال درج کر کے درمیانہ طریق کار اختیار کیا تھا جبکہ دیگر بہت سے قوانین میں بھی ایسی ہی صورت اختیار کی گئی۔ مگر اب عالمی اداروں اور بیرونی مداخلت کاروں نے ہمیں خود قانون سازی کا موقع دینے کی بجائے قوانین کے مسودات تیار کر کے ہم سے انہیں بعینہ منظور کرنے کا مطالبہ شروع کر رکھا ہے، اور ہم ان میں کوئی ترمیم کیے بغیر انہیں قانون ساز اسمبلیوں سے پاس کراتے جا رہے ہیں۔

چنانچہ گزشتہ چند سالوں میں اوقاف کا قانون فیٹف کی ڈکٹیشن پر پاس کیا گیا، گھریلو تشدد کی روک تھام کے نام پر خاندانی نظام کو سبوتاژ کرنے کا قانون سیڈا کی ہدایت کے مطابق منظور ہوا، اسٹیٹ بینک پر بیرونی نگرانی کا قانون آئی ایم ایف کے کہنے پر اسمبلی سے منظور کیا گیا، اسی طرح ٹرانسجینڈر کا قانون بھی بیرونی اداروں کے کہنے پر نافذ ہوا ہے۔ حالانکہ یہ قوانین قرآن و سنت کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ دستورِ پاکستان کی بھی خلاف ورزی ہے، کیونکہ ہمارے تمام قانون ساز ادارے دستور کے مطابق قرآن و سنت کی تعلیمات کے دائرہ میں قانون سازی کے پابند ہیں جسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

اس لیے میرے خیال میں اصل ضرورت قانون سازی میں بیرونی مداخلت کا راستہ روکنے کی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم اپنے قانونی نظام کو دستور کے مطابق نہیں بنا سکتے، اور نہ ہی نافذ شدہ اسلامی قوانین کو عالمی سیکولر ایجنڈے کا شکار ہونے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ میں دینی مکاتبِ فکر کے اس مشترکہ اور نمائندہ اجتماع کی وساطت سے تمام قومی اور دینی حلقوں سے گزارش کر رہا ہوں کہ قانون سازی میں بیرونی مداخلت کا راستہ روکنا دستور کی بالادستی کا تقاضہ ہے اور قرآن و سنت کی بالادستی کے لیے بھی ضروری ہے۔ ہمیں اس کے لیے سب کو مل کر تحریکِ ختم نبوت کی طرز کی اجتماعی اور فیصلہ کن جدوجہد کا اہتمام کرنا ہو گا ورنہ سیکولر ایجنڈا خدانخواستہ ہمارا سب کچھ بہا کر لے جائے گا اور ہم کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔

ان گزارشات کے ساتھ میں اس اجتماع کے اہتمام پر مرکزی جمعیت اہلحدیث گوجرانوالہ کا شکرگزار ہوں اور اس جدوجہد کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں، آمین یا رب العالمین۔

Flag Counter