حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ اگست ۱۹۷۴ء

ملک کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث اور مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے سابق مدرس حضرت مولانا الحاج محمد ادریس کاندھلویؒ ۲۸ جولائی ۱۹۷۴ء بروز اتوار صبح ۵ بجے انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم ایک عظیم مدرس، یگانہ روز خطیب، قابل صد فخر محدث و مفسر اور ایک مایہ ناز مصنف تھے۔ زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ مادر علمی دارالعلوم دیوبند میں گزارا اور ایک عرصہ سے جامعہ اشرفیہ لاہور میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز تھے۔ ملک کے گوشہ گوشہ میں ان کے روحانی فرزند پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی علمی تصانیف بڑے شوق اور ذوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ تصانیف میں حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰۃ شریف کی ضخیم شرح آپ کا علمی شاہکار ہے جبکہ ختم نبوت، حیات مسیحؑ وغیرہ اہم مباحث پر آپ کی گراں قدر تصانیف علمی دنیا کا عظیم سرمایہ ہیں۔ مولانا مرحوم حضرت العلام السید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے ممتاز شاگردوں میں سے ایک تھے جبکہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے روحانی نسبت حاصل تھی اور قومی و ملکی مسائل میں حضرت حکیم الامتؒ کا ہی نقطۂ نظر رکھتے تھے۔

کچھ دنوں سے حضرت مرحوم کی صحت بتدریج کمزور ہوتی جا رہی تھی اور بڑھاپے، بیماری اور دماغی محنت نے آپ کو تھکا دیا تھا، حتیٰ کہ وہ وقت موعود آگیا جس سے کسی صورت مفر نہیں۔ مولانا کی وفات پر لاہور اور بیرون لاہور ہر جگہ غم و افسوس کا اظہار کیا گیا اور لوگ مختلف مقامات سے جنازہ میں شرکت کے لیے آئے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، مولانا مفتی محمود، مولانا عبید اللہ انور اور مولانا سید نیاز احمد گیلانی نے حضرت کاندھلویؒ کی وفات پر سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ رب العزت انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ نماز جنازہ مولانا مرحوم کے بڑے صاحبزادے مولانا محمد مالک صدیقی نے پڑھائی اور اس کے بعد ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔