خلافت راشدہ اور حضرت عمر ثانی ؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۸ مارچ ۱۹۹۸ء

مذہبی امور کے وفاقی وزیر راجہ محمد ظفر الحق نے گزشتہ روز اسلام آباد میں حمید نظامی مرحوم کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑی دلچسپ باتیں کی ہیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں قوم کو ملت اسلامیہ کے شاندار ماضی کے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ راجہ صاحب کا کہنا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ پاکستان میں خلافت راشدہ کا نظام کیسے نافذ ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے لیے ’’خلیفہ راشد‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تاریخ سے ’’عمر ثانی‘‘ کا خطاب پانے والے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے شہزادہ ہونے کے باوجود کس طرح سادگی اور قناعت کی زندگی اختیار کی اور دنیا کے سامنے ایک بار پھر خلافت راشدہ کی یاد تازہ کر دی۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ بنو امیہ کے شاہی خاندان کے فرد تھے اور خلیفۂ وقت کا بھتیجا ہونے کے ساتھ ایک عرصہ تک مدینہ منورہ کے گورنر بھی رہے۔ اس دور میں ان کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا یہ عالم تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق دمشق سے مدینہ منورہ کا سفر کرتے ہوئے ان کا ذاتی سامان سو اونٹوں پر لد کر جاتا تھا۔ وہ اپنی خوش پوشاکی میں اپنے تمام معاصرین میں ممتاز تھے۔ عمدہ سے عمدہ لباس پہنتے، دن میں دو بار لباس تبدیل کرتے، اور جو لباس ایک بار پہن لیتے اسے دوبارہ ان کے جسم کے ساتھ لگنا نصیب نہ ہوتا۔ خیبر کا معروف باغ ’’فدک‘‘ ان کے ذاتی تصرف میں تھا جس کا تقاضہ دختر رسول سیدہ فاطمہؓ نے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کیا تھا، لیکن حضرت صدیق اکبرؓ نے اسے بیت المال کی ملکیت قرار دیتے ہوئے وراثت کے طور پر منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عمر بن عبد العزیزؒ کے علم، تقویٰ، اور ذوق عبادت کے باوجود ان کی یہ خوش پوشاکی اور نازک مزاجی ان کے معاصرین میں ان کے لیے طعن و تعریض کا عنوان بن گئی تھی۔

اسی دوران انہیں کسی دوست نے اپنا خواب سنا دیا۔ خواب یہ تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، ان کے دائیں بائیں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بیٹھے ہیں جبکہ سامنے عمر بن عبد العزیزؒ ہیں جنہیں مخاطب ہو کر رسول اللہؐ فرما رہے ہیں کہ:

’’اگر تمہیں حکومت ملی تو ان دونوں کی طرح حکومت کرنا۔‘‘

چنانچہ جب انہیں خلافت کے منصب کے لیے چنا گیا اور لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو انہیں رسول اللہؐ کا یہ حکم یاد آیا، اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا دور ان کی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ بیت المال یعنی قومی خزانے کی اسی فیصد رقوم اور اثاثے شاہی خاندان کے افراد کے تصرف میں تھے۔ اور خود ’’باغ فدک‘‘ عمر بن عبد العزیزؒ کے قبضے میں تھا۔ اب یہ تو ممکن نہیں تھا کہ قومی خزانہ شاہی خاندان کے قبضے میں رہتا، زندگی کے تکلف و تعیش کے انداز بھی باقی رہتے، اور ’’خلافت راشدہ‘‘ کی یاد بھی تازہ ہو جاتی۔ عمر بن عبد العزیزؒ نے ’’عمر ثانی‘‘ بننے کا فیصلہ کر لیا اور دنیا کو بتا دیا کہ اگر ارادہ مضبوط اور عزم راسخ ہو تو تعیش اور سہولت کی زندگی ترک کر کے فقر و فاقہ کی راہ اختیار کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے ’’فدک‘‘ کا باغ یہ کہہ کر بیت المال کو واپس کیا کہ

’’جس باغ پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حق تسلیم نہیں ہوا، مجھے اس پر قبضہ جمانے کا کیا حق ہے۔‘‘

پھر اہلیہ محترمہ سے بات کی کہ ان کے زیورات اور گھر کا بہت سا سامان بیت المال کی دولت سے بنا ہے، اس لیے وہ سب کچھ قومی خزانے کو واپس لوٹانا ہوگا۔ ان کی اہلیہ فاطمہ بنت عبد الملکؒ جو خلیفہ کی بیٹی، گورنر کی اہلیہ، اور اب نئے خلیفہ کی بیوی تھی۔ اس نے بھی تامل نہیں کیا اور اپنے زیورات سمیت قومی خزانے کی اشیا بیت المال کو واپس کر دیں۔ اس کے بعد امیر المومنین عمر بن عبد العزیزؒ نے شاہی خاندان کا اجلاس بلا لیا اور سب کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے اپنا باغ واپس کر دیا ہے، فاطمہ کے زیور اتروا دیے ہیں، اور اب تمہاری باری ہے کہ جس جس کے پاس بیت المال کی جو چیز بھی ہے، دو ہفتے کے اندر وہ واپس کر دے ورنہ میں کوئی اور راستہ اختیار کروں گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ دو ہفتے کے اندر بیت المال کو اس کے اثاثے اور رقوم واپس مل چکی تھیں اور امت مسلمہ ایک بار پھر خلافت راشدہ کی برکات سے مستفید ہو رہی تھی۔ پھر دمشق کے شہزادے پر یہ وقت ضرور آیا کہ ایک روز عمر بن عبد العزیزؒ گھر آئے، اہلیہ محترم سے پوچھا کہ اگر ایک درہم کہیں رکھا ہوا ہو تو مجھے دے دو، راستے میں ایک دکان پر انگور دیکھ کر کھانے کو جی چاہا لیکن جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اہلیہ نے جواب دیا کہ جب آپ کے پاس نہیں ہیں تو میرے پاس کہاں سے آئیں گے؟ نازونعم میں پلے ہوئے اس شہزادے پر یہ وقت بھی آیا کہ ایک دفعہ بیماری کی حالت میں برادر نسبتی مسلمہ بن عبد الملک بیمار پرسی کے لیے آئے، بہنوئی کی حالت دیکھ کر بہن سے جھگڑ پڑے کہ خدا کی بندی امیر المومنین کا لباس اس قدر میلا ہو چکا ہے، اتروا کر دھو کیوں نہیں دیا؟ اس پر ملکہ نے جواب دیا کہ

’’بھائی امیر المومنین کے پاس دوسرا جوڑا نہیں ہے کہ انہیں وہ پہنا کر ان کے جسم کا یہ لباس دھو سکوں۔‘‘

لیکن ان کی اس مشقت اور صبر کا صلہ امت کو یہ ملا کہ ہر گھر میں خوشحالی اور برکت کے چشمے پھوٹ پڑے۔ اسی دور کے بارے میں تاریخ یہ شہادت دیتی ہے کہ مالدار لوگ اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے زکوٰۃ کا مستحق تلاش کرتے تھے اور سوسائٹی میں انہیں کوئی مستحق نہیں ملتا تھا۔ اور یہ بھی اسی دور کا واقعہ ہے کہ دمشق سے سینکڑوں میل دور ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے بکری اٹھا کر لے گیا۔ چرواہے نے بلند آواز سے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور کہا کہ امیر المومنین عمر بن عبد العزیزؒ کا انتقال ہوگیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ تمہیں کیسے پتہ چلا؟ جواب دیا کہ بھیڑیے کی اس حرکت سے معلوم ہوا، اس لیے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ عمر بن عبد العزیزؒ جیسا عادل حکمران سروں پر ہو اور بھیڑیا بکری لے جائے۔ اس کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ بات درست تھی اور اسی رات عمر بن عبد العزیزؒ کا انتقال ہو چکا تھا۔

امن اور خوشحالی کی یہ منزل آج بھی زیادہ دور نہیں ہے مگر اس کے لیے ’’دمشق کے شہزادے‘‘ کو ’’عمر ثانی‘‘ بننا پڑے گا، باغ واپس کرنا ہوں گے، زیور اتروانا ہوں گے، چچاؤں ماموؤں بھانجوں بھتیجوں اور خاندان کے دیگر افراد کی تجوریاں خالی کرانا ہوں گی، قومی خزانے کو اس کی لٹی ہوئی دولت واپس دلانا ہوگی، اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتے چلے جانے کی بجائے تعیشات سے دستبردار ہو کر سادگی اور قناعت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

پھر یہ واقعہ تو خود راجہ محمد ظفر الحق اپنی اسی مذکورہ تقریر میں سنا چکے ہیں کہ ایک خلیفۂ وقت نے عوام پر نیا ٹیکس لگانے کے لیے قاضیٔ وقت سے فتویٰ مانگا تو قاضی صاحب نے جواب دیا کہ اپنے محلات اور زیورات بیچ دو، اس کے بعد اگر نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت باقی رہے تو میں اس کے لیے فتویٰ دے دوں گا۔ راجہ صاحب سے گزارش ہے کہ ان کی یہ باتیں سو فیصد درست ہیں اور ہم ان کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ مگر یہ باتیں عوام کی بجائے ان لوگوں کو سنانے کی زیادہ ضرورت ہے جو ’’دمشق کے شہزادوں‘‘ کی طرح قومی دولت اور اثاثوں پر سانپ بن کر عوام پر ٹیکسوں کا شکنجہ کستے جا رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ کوئی ’’عمر بن عبد العزیزؒ ‘‘ انہی میں سے نکل آئے اور اپنے عیش و آرام کی قربانی دے کر قوم کو بد امنی، بدحالی، اور معاشی تباہی سے نجات دلا دے۔ ورنہ اگر ’’تیسرا عمر‘‘ عوام میں اٹھا تو قندھار کے ’’ملا محمد عمر‘‘ کی طرح اس کی یلغار بھی سب کچھ بہا کر لے جائے گی اور پھر ان بلند و بالا ایوانوں، کوٹھیوں، عشرت گاہوں، اور تجوریوں کو تاریخ کے ’’باب عبرت‘‘ کے سوا کہیں جگہ نہیں ملے گی۔

درجہ بندی: