جمہوریت، ووٹ اور اسلام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۷ مارچ ۱۹۹۹ء

جمہوریت اور ووٹ کے بارے میں میرے ایک مضمون پر محمد مشتاق احمد صاحب نے ’’اوصاف‘‘ میں شائع شدہ مراسلے میں تنقید کی ہے اور اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ میں جمہوریت کو کفر بھی قرار دے رہا ہوں اور ووٹ کے مروجہ سسٹم کی حمایت بھی کر رہا ہوں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ نے کبھی ووٹ کا طریقہ اختیار نہیں کیا اس لیے آج بھی عوامی ووٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لیے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔

جہاں تک جمہوریت کو کفر قرار دینے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جمہوریت کا یہ بنیادی فلسفہ سراسر کفر ہے کہ:

  1. سوسائٹی اپنی حکمران خود ہے،
  2. سوسائٹی کی اکثریت اپنے لیے جو قانون بھی طے کر لے وہی حرف آخر ہے، اور
  3. وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر عمل اختیاری چیز ہے کہ سوسائٹی ان میں سے جس حکم کو چاہے قبول کر لے اور جسے چاہے نظر انداز کر دے۔

مگر وحی الٰہی کے دائرے میں اور آسمانی تعلیمات کی حدود کو قبول کرتے ہوئے سوسائٹی اپنی حکومت کی تشکیل اور روزمرہ امور طے کرنے کے لیے باہمی مشاورت کی بنیاد پر ووٹ کا طریقہ اختیار کرتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بلکہ آج کے دور میں ان معاملات میں جن میں شریعت اسلامیہ ’عوامی رائے‘‘ کے حق کو تسلیم کرتی ہے، عام لوگوں کی رائے معلوم کرنے کا صحیح اور منظم طریقہ ووٹ ہی ہے، بشرطیکہ وہ صحیح طریقہ سے استعمال کیا جائے۔

یہ کہنا کہ اسلام میں عامۃ الناس کی رائے کوئی حیثیت نہیں رکھتی، قطعی طور پر غلط بات ہے۔ بلکہ اسلامی حکومت کی تشکیل کی اصل اساس ’’عوامی رائے‘‘ ہے جس کی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کو پہلا خلیفہ چنا گیا۔ اور خلافت پر بحث کرنے والے تقریباً تمام اصحاب علم اس بات کو بطور اصول تسلیم کرتے ہیں کہ خلیفۂ اول کا انتخاب رائے عامہ کی بنیاد پر ہوا تھا۔ اس بارے میں دو واضح نقطۂ نظر چلے آرہے ہیں۔ ایک یہ کہ جناب نبی اکرمؐ نے حضرت علیؓ کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیا تھا، یہ نقطۂ نظر اہل تشیع کا ہے۔ دوسرا یہ کہ نبی اکرمؐ نے خلیفہ کا انتخاب امت کی عمومی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا اور رائے عامہ پر اعتماد کیا تھا۔ یہ نقطۂ نظر اہل سنت کا ہے اور خلیفۂ اول کے انتخاب کی واقعاتی صورت بھی یہی ہے۔ اس لیے اہل سنت کے ہاں یہ اصول طے شدہ ہے کہ خلیفہ کے انتخاب میں عوام کے اعتماد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

اس سلسلہ میں بخاری شریف کی ایک روایت کی طرف اپنے سابقہ مضمون میں بھی اشارہ کیا تھا اور اس طویل روایت کی تھوڑی سی تفصیل مزید عرض کر دیتا ہوں۔ امام بخاریؒ نے یہ روایت ’’کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ‘‘ میں نقل کی ہے اور اس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ نے جو آخری حج کیا اس میں ان کے سامنے منیٰ میں کسی صاحب کی یہ بات نقل کی گئی کہ اگر حضرت عمرؓ کا انتقال ہوگیا تو وہ فلاں صاحب کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کر کے اس کا اعلان کر دیں گے۔ اور جس طرح حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر ہونے والی اچانک بیعت تسلیم ہوگئی تھی اسی طرح ان کی اس بیعت کو بھی بالآخر قبول کر لیا جائے گا۔ حضرت عمر بن الخطابؓ نے اس بات پر سخت غصے کا اظہار کیا اور فرمایا کہ وہ آج شام عام لوگوں کے اجتماع سے خطاب کریں گے اور انہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبردار کریں گے جو یریدون ان یغصبوھم امورھم لوگوں سے ان کے اختیارات غصب کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے مشورہ دیا کہ امیر المومنین! یہاں دنیا بھر سے طرح طرح کے لوگ آئے ہوئے ہیں، آپ کی بات سن کر کوئی کچھ سمجھے گا اور کوئی اس سے کچھ نتیجہ اخذ کرے گا۔ جبکہ یہ بات انتہائی اہم ہے اس لیے زیادہ مناسب رہے گا کہ یہ بات دارالحکومت مدینہ منورہ جا کر کی جائے۔ امیر المومنین نے مشورہ قبول کرلیا اور جب اس سفر سے مدینہ منورہ واپس پہنچے تو پہلے جمعۃ المبارک کا خطبہ اسی موضوع پر ارشاد فرمایا جس میں دیگر بعض اہم امور کے ساتھ ساتھ خلیفہ کے انتخاب کے مسئلہ پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔

حضرت عمرؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت اگرچہ اچانک ہوئی تھی لیکن اسے دو وجہ سے قبول کر لیا گیا تھا۔ ایک اس لیے کہ اس وقت حضرت ابوبکرؓ سے بہتر کوئی شخصیت ہمارے درمیان موجود نہ تھی۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ انصار مدینہؓ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اپنے طور پر جمع ہو کر انصار میں سے امیر منتخب کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اگر انہیں اس فیصلے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا موقع مل جاتا تو باقی مسلمانوں کے لیے اسے قبول کرنا یا رد کرنا مشکل ہو جاتا اور معاملہ بہت زیادہ بگڑ جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی اور ہم نے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے خطبہ میں سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اب کوئی شخص یہ بات ذہن میں نہ لائے کہ وہ اسی طرح کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسے باقی مسلمانوں سے قبول کرا لے گا۔ پھر امیرالمومنینؓ نے فرمایا کہ

’’جس شخص نے بھی مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس کی بات ہرگز قبول نہ کی جائے۔‘‘

میں نے حضرت عمرؓ کے طویل خطبہ سے صرف ایک دو متعلقہ امور کا ذکر کیا ہے جس میں وہ خلیفہ کی بیعت کو مسلمانوں کے مشورہ کے ساتھ مشروط کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر کی جانے والی بیعت کو انہوں نے عام لوگوں کے اختیارات غصب کرنے سے تعبیر کیا ہے۔

اس حوالہ سے ایک اور نکتہ پر غور کر لیجیے کہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت پر بیعت سے پہلے خلیفہ کے انتخاب پر عمومی بحث و مباحثہ ہوا بلکہ مہاجرینؓ اور انصارؓ کے درمیان جھگڑا ہوتے ہوتے رہ گیا۔ اس موقع پر مہاجرینؓ، انصارؓ اور خاندان نبوتؐ تینوں نے اپنے الگ الگ سیاسی تشخص کا اظہار کیا اور الگ الگ رائے پیش کی۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود حضرت عمرؓ اس سارے عمل کو ’’اچانک‘‘ قرار دے رہے ہیں اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس وقت کے حالات میں یہی ممکن تھا۔ اس لیے اسے آئندہ کے لیے مثال نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کے وقت صحابہ کرامؓ کے مختلف طبقات کے درمیان جو بحث و مباحثہ ہوا اور جس کی بنیاد پر جمہور علماء امت خلیفۂ اول کی بیعت کو ’’عامۃ الناس‘‘ کی بیعت قرار دے رہے ہیں، حضرت عمرؓ کے نزدیک وہ بھی ناکافی تھا۔ اور اصل ضرورت اس سے کہیں زیادہ ’’عوامی مشاورت‘‘ کی تھی جو ہنگامی حالات کی وجہ سے اس وقت قابل عمل نہیں تھی۔ اور اسی حوالہ سے حضرت عمرؓ آئندہ کے لیے خبردار کر رہے ہیں کہ کوئی شخص مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ کے انتخاب کی بات نہ کرے۔

اس لیے محمد مشتاق احمد صاحب سے عرض ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن الخطاب ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے مسلمانوں کی عمومی مشاورت کو ضروری قرار دے رہے ہیں جس کا دائرہ انہوں نے اس خطبہ میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ بیان فرمایا ہے۔ جبکہ آج کے دور میں عام لوگوں اور مسلمانوں کی عمومی رائے معلوم کرنے کا طریقہ ’’ووٹ‘‘ ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ان کے ذہن میں ہو تو وہ ارشاد فرما دیں۔ مگر طریقہ ایسا ہو کہ حکومت کی تشکیل اور حاکم کے انتخاب میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ کی رائے کا فی الواقع اظہار ہوتا ہو۔