حدود و تعزیرات سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ویب سائٹ
تاریخ اشاعت: 
۷ ستمبر ۲۰۰۷ء

(محمد عمار خان ناصر کی تصنیف ’’حدود و تعزیرات: اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا جائزہ‘‘ کے دیباچے کے طور پر لکھا گیا۔)

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے اس غرض سے تشکیل دیا گیا تھا کہ دستور پاکستان میں ملک کے تمام مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی جو ضمانت دی گئی ہے، وہ اس کی تکمیل کے لیے حکومت پاکستان کی مشاورت کرے۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ جدید قانون کے ممتاز ماہرین اور جید علمائے کرام پر مشتمل ایک کونسل تشکیل دی جاتی ہے جو حکومت کے استفسار پر یا اپنے طور پر ملک میں رائج کسی قانون کا اس حوالے سے جائزہ لیتی ہے کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں، اور اگر وہ اس قانون کو اسلامی تعلیمات کے منافی تصور کرتی ہے تو اس کی خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے اور اس کے متبادل قانون کا مسودہ سفارش کی صورت میں مرتب کر کے حکومت کے سپرد کر دیتی ہے۔ دستور کی رو سے حکومت اس بات کی پابند ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی یا صوبائی اسمبلی میں پیش کر کے اس کے مطابق قانون سازی کرے۔

۱۹۷۳ء کے دستور سے قبل یہ ادارہ ’’اسلامی مشاورتی کونسل‘‘ کے نام سے اور اس سے پہلے ’’تعلیمات اسلامیہ بورڈ‘‘ کے نام سے قائم رہا ہے اور ملک کے بہت سے سرکردہ ماہرین قانون اور ممتاز علمائے کرام مختلف اوقات میں اس میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک سینکڑوں قوانین کا جائزہ لیا ہے اور ان کے بارے میں اپنی تجاویز اور سفارشات حکومت پاکستان کے سامنے پیش کی ہیں، جن کے حوالے سے دستور کا یہ تقاضا کہ انہیں متعلقہ اسمبلیوں میں پیش کر کے قانون سازی کے مرحلہ سے گزارا جائے، ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔ بلکہ اب تک یہ صورتحال رہی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور اس کے مرتب کردہ مسودہ ہائے قانون کی پیشانی پر ’’صرف سرکاری استعمال کے لیے‘‘ کا لیبل چسپاں کر کے اس کی اشاعت کو شجرۂ ممنوعہ قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن جب سے ڈاکٹر خالد مسعود اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بنے ہیں، یہ صورتحال قدرے تبدیل ہو رہی ہے۔ وہ کونسل کو عوامی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور کونسل سے ہٹ کر علماء اور دانشوروں کے وسیع حلقے کو اپنی مشاورت کے دائرے میں شامل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ ان کی سربراہی کے دور میں کونسل کی طرف سے اسلامی احکام و قوانین کے حوالے سے مختلف سیمینارز کے انعقاد اور متعدد سفارشات پیش کرنے کے علاوہ ’’اجتہاد‘‘ کے نام سے ایک سہ ماہی مجلہ کا اجرا بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد عالم اسلام کے مختلف اطراف میں اجتہاد کے حوالے سے ہونے والی علمی کاوشوں سے پاکستان کے دینی و علمی حلقوں کو متعارف کرانا اور اس طرح باہمی ربط و مشاورت کا ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جدید مسائل کے بارے میں اجتہادی ضروریات سے انہیں آگاہ کرنا ہے۔

اجتہاد کے بارے میں ہم اس وقت دو انتہا پسندانہ رویوں سے دوچار ہیں۔ ایک طرف سرے سے اجتہاد کی ضرورت سے انکار کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اجتہاد کے نام پر امت کے چودہ سو سالہ علمی مسلّمات اور اجماعی اصولوں کا دائرہ توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ حق ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے اور اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کے اجماعی اصولوں اور علمی مسلّمات کے دائرے میں رہتے ہوئے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کا حل پیش کیا جائے، اور خاص طور پر نئے پیش آمدہ مسائل کے قابل قبول دینی و علمی حل کی کوئی صورت نکالی جائے۔

اس وقت اسلامی قوانین، دستوری دفعات اور عدالتی فیصلوں پر نظر ثانی کے تقاضے مختلف حلقوں کی طرف سے سامنے آ رہے ہیں اور دھیرے دھیرے ایسی فضا قائم ہو رہی ہے کہ اگر ان تقاضوں کے حوالہ سے اصولی ترجیحات کا ابھی سے تعین نہ کیا گیا تو اسلامائزیشن کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کا اب تک کا پورے کا پورا عمل نظر ثانی کی زد میں آجائے گا۔ یہ ادارے اس سلسلہ میں مزید کسی پیشرفت کی بجائے اپنے سابقہ کام کی صفائیاں پیش کرنے اور ان میں ردوبدل کرنے میں ہی مصروف رہیں گے اور یہ ’’ریورس گیئر‘‘ پاکستان میں اسلامائزیشن کے عمل کو ایک بار پھر ’’زیرو پوائنٹ‘‘ تک واپس لے جائے گا۔

ہمیں اسلام کے نام پر نافذ ہونے والے قوانین پر نظرثانی کی ضرورت سے انکار نہیں ہے اور اگر کسی مسودہ قانون میں کوئی فنی سقم رہ گیا ہے یا اس پر عملدرآمد کی راہ میں کوئی رکاوٹ موجود ہے تو قرآن و سنت کے اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس پر نظرثانی سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ عمل ہمارے داخلی تقاضوں اور ضروریات کے حوالہ سے ہونا چاہیے اور اس سلسلہ میں بیرونی عوامل اور دباؤ کو قبول کرنے کا کسی سطح پر بھی تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے، ورنہ ضروری اور جائز نظرثانی بھی شکوک و شبہات کا شکار ہو کر اس عمل پر عوام اور دینی حلقوں کے اعتماد کو مجروح کرنے کا باعث بن جائے گی۔ اس لیے میں اسلامائزیشن کی راہ میں حائل داخلی مشکلات اور اسلامی قوانین پر نظر ثانی کے دونوں حوالوں سے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے سامنے مندرجہ ذیل تجاویز رکھنا چاہوں گا:

  1. اسلامی قوانین پر نظر ثانی کے خارجی دباؤ یعنی بین الاقوامی تقاضوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک الگ ’’ورکنگ گروپ‘‘ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی قوانین اور تقاضوں کے ساتھ شرعی قوانین کے تضادات کی نشاندہی کرے، ان تضادات کے اسباب اور پس منظر کی وضاحت کرے اور ان کے حوالہ سے شرعی قوانین کی افادیت، اہمیت اور ضرورت کو واضح کرتے ہوئے اس سلسلہ میں عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اور شکوک و شبہات کا جدید اسلوب اور خالصتاً علمی انداز میں جواب دے۔

    ہم اس وقت اس معاملہ میں قومی سطح پر ’’تذبذب‘‘ کا شکار ہیں اور اسلامی قوانین کے بارے میں عالمی تقاضوں اور دباؤ کو نہ پوری طرح قبول کر رہے ہیں اور نہ ہی مسترد کر رہے ہیں۔ یہ طرز عمل درست نہیں ہے اور اس سے پاکستان میں اسلامائزیشن کے بارے میں ابہام اور کنفیوژن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں علمی انداز میں ان سوالات کا سامنا کرنا چاہیے اور علم و دانش کی اعلیٰ ترین سطح پر ان سوالات کا جائزہ لیتے ہوئے شکوک و شبہات کا علمی جواب دینا چاہیے۔ ہمارے نزدیک اس کام کے لیے ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ سب سے بہتر فورم ہے البتہ کونسل اس کام کے لیے حسب معمول دوسرے اہل علم کا تعاون بھی حاصل کر سکتی ہے۔

  2. داخلی تقاضوں، ضروریات اور مشکلات کا جائزہ لینے اور اسلامی قوانین کے مسودات کی خامیوں کی نشاندہی کے لیے ’’ورکنگ گروپ‘‘ قائم ہونا چاہیے جس میں سیشن کورٹس کی سطح کے جج صاحبان، دینی مدارس میں فقہ و حدیث کا کم از کم بیس سالہ تجربہ رکھنے والے مدرسین اور اسی سطح کے وکلاء صاحبان کو شامل کیا جائے جو متعلقہ قوانین کا تفصیلی اور شق وار جائزہ لے کر انہیں مؤثر بنانے کے لیے تجاویز دیں۔ آزاد کشمیر میں چونکہ سیشن جج اور ضلع قاضی مل کر مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں، اس لیے ان کا عملی تجربہ زیادہ ہے اور ورکنگ گروپ میں ایسے جج صاحبان اور قاضی حضرات کی شمولیت زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔
  3. دور جدید میں اسلامی احکام و قوانین کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے دنیا کے مختلف اسلامی ممالک میں مسلسل کام ہو رہا ہے اور بہت سے تحفظات کے باوجود اس سلسلے میں پیشرفت جاری ہے۔ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ دنیائے اسلام کے مختلف حصوں میں ’’اجتہاد‘‘ کے عنوان سے ہونے والے کام سے پاکستان کے اہل علم و دانش کو آگاہ کیا جائے۔ ایک دوسرے کے نقطۂ نظر سے واقفیت کے ساتھ ساتھ مختلف جہات سے ہونے والی اجتہادی کاوشوں کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہونے چاہئیں۔ اتفاق یا اختلاف اس سے بعد کا مرحلہ ہے کہ ہم کس بات کو قبول کرتے ہیں اور کون سی بات ہمارے نزدیک قبولیت کے معیار پر پوری نہیں اترتی، مگر اس سے پہلے ان کاوشوں سے اور ان کے دلائل و نتائج سے واقفیت ناگزیر ہے کیونکہ اس کے بعد ہی کسی بات سے اتفاق یا اختلاف کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
  4. جہاں تک کسی تعبیر و تشریح کو قانون سازی کے دائرے میں عملاً قبول کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ہے تو اس کے لیے صرف کسی صاحب علم یا مکتب فکر کا اسے پیش کر دینا اور اس پر اپنے خیال میں دلائل قائم کر دینا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ امت میں اسے قبولیت حاصل ہونا بھی ضروری ہے۔ امت میں حسن بصریؒ، سفیان ثوریؒ، لیث بن سعدؒ اور امام بخاریؒ کے درجے کے بیسیوں فقہائے کرام موجود ہیں جن کے علم و فضل اور کردار و تقویٰ کے تمام تر احترام کے باوجود ان کی فقہی آرا اور تعبیرات و تشریحات کو امت نے اجتماعی طور پر قبول نہیں کیا، اسی لیے ان پر عمل بھی نہیں ہو رہا۔ تو آج بھی کسی صاحب علم کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ان کی تعبیر و تشریح کو امت میں قبولیت کا درجہ حاصل ہوئے بغیر واجب العمل سمجھ لیا جائے گا۔

    صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں عائلی قوانین کے نام سے نکاح، طلاق اور وراثت کے شرعی قوانین کو ردوبدل کا نشانہ بنایا گیا تھا اور حکومت نے دینی و علمی حلقوں کے اختلاف کو نظرانداز کرتے ہوئے قانون اور حکومت کے زور پر عائلی قوانین ملک میں نافذ کر دیے تھے، مگر ساری دنیا اس حقیقت کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ نصف صدی کے قریب عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ قوانین اب بھی قوم میں متنازعہ ہیں۔ جہاں تک قانون کا جبر کام کرتا ہے اس سے زیادہ عائلی قوانین کا کوئی اثر معاشرے میں نہیں ہے۔ لوگ اب بھی نکاح، طلاق اور وراثت کے معاملات میں مسائل علمائے کرام ہی سے پوچھتے ہیں اور انہی پر عمل کرتے ہیں۔ قوم نے ان قوانین کو آج تک سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی انہیں ذہنی طور پر قبول کیا ہے۔

    اس کے اسباب پر نظر ڈالی جائے تو دو باتیں بطور خاص سامنے آتی ہیں۔ ایک کی طرف ہم سطور بالا میں اشارہ کر چکے ہیں کہ ہمارے ہاں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شرعی احکام و قوانین میں ردوبدل کی کوئی بات سرکاری حلقوں کی طرف سے سامنے آئے تو اس کا داعیہ داخلی ضروریات نہیں بلکہ خارجی دباؤ اور مغرب کے مطالبات ہوتے ہیں، اور یہ بات کسی بھی مسلمان کے لیے قابل قبول نہیں ہوتی۔ جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر شرعی احکام و قوانین کی تعبیر و تشریح میں عام مسلمانوں اور جمہور اہل علم کے مسلّمات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

    مثال کے طور پر حدود و تعزیرات کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی زیر نظر سفارشات کو ہی دیکھ لیا جائے۔ کونسل نے ان سفارشات میں صرف قرآن کریم کو بنیاد بنایا ہے اور شرعی احکام کے باقی تینوں مسلمہ مآخذ (۱) سنت، (۲) اجماع اور (۳) قیاس سے صرف نظر کیا ہے۔ چنانچہ رجم کے شرعی حد ہونے اور ارتداد کی شرعی سزا سے انکار اور متعلقہ سفارشات میں شامل دیگر بہت سی باتوں کا ہمارے نزدیک پس منظر یہی ہے۔ جبکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ ملک کی آبادی کی غالب اکثریت اہل السنۃ والجماعۃ پر مشتمل ہے جن کا تعارف ہی سنت اور جماعت کے حوالہ سے ہے کہ وہ قرآن کریم کی تشریح اور احکام شرعیہ کی تعبیر میں سنت رسولؐ اور جماعت صحابہؓ کو معیار سمجھتے ہیں۔ اور اہل السنۃ والجماعۃ کے جمہور اہل علم کے نزدیک احکام شرعیہ اور اسلامی قوانین کی بنیاد چار مآخذ پر ہے: (۱) قرآن کریم، (۲) سنت رسولؐ، (۳) اجماع اور (۴) قیاس۔ مگر اسلامی نظریاتی کونسل کی ان سفارشات میں قرآن کریم کو بطور ماخذ اپنایا گیا ہے اور اس کی تشریح و تعبیر میں قیاس محض یعنی عقل عام کو ذریعہ کے طور پر اختیار کیا گیا ہے جس سے سنت رسولؐ‘ اجماع اور قیاس شرعی تینوں اس معاملہ سے بے دخل ہو گئے ہیں۔

    سنت رسولؐ کے اسلامی قوانین کا بنیادی ماخذ ہونے کی حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے کونسل اس بات کو بھی بھول گئی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سنت رسولؐ کی اس حیثیت کا بعض حلقوں کی طرف سے شدومد کے ساتھ انکار ہوا تھا اور اس پر بہت دیر تک بحث و مباحثہ کا بازار گرم رہا تھا مگر ملک کی رائے عامہ نے اسے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا اور قوم کے منتخب نمائندوں نے جب ۱۹۷۳ء کا دستور ترتیب دیا تو اس میں صرف قرآن کریم کو قانون سازی کی بنیاد نہیں بنایا بلکہ سنت کو اس کے ساتھ شامل کر کے قرآن و سنت کو دستور اور قانون کے معاملات میں مشترکہ معیار اور ماخذ قرار دیا تھا۔

ان تحفظات کے ساتھ ساتھ بہرحال یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ دینی، علمی اور ملی مسائل پر باہمی تبادلۂ خیالات اور مکالمہ کی ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ اور اس پس منظر میں عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ اللہ تعالٰی نے حدود و تعزیرات کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا فقہی اصول اور دلائل کی روشنی میں جائزہ لیا ہے جو اس بحث و مباحثہ کو علمی انداز میں آگے بڑھانے کی ایک مفید کوشش ہے۔ آج کے ایسے نوجوان اصحاب علم کو جو علمی استعداد اور وسعت مطالعہ کے ساتھ ساتھ معروضی حالات و مسائل اور پیش آمدہ علمی و فکری مشکلات کا کسی حد تک ادراک بھی رکھتے ہیں، فکری و فقہی جمود اور مطلق آزادیٔ فکر کی دو انتہاؤں کے درمیان متوازن راستہ تلاش کرنے میں جن دشواریوں کا سامنا ہے، مجھے پوری طرح ان کا احساس ہے، اس لیے اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلّمات کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کے لیے آزادانہ بحث و مباحثہ اور تحقیق و تمحیص کا حق تسلیم کرتا ہوں اور ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ اس کی کچھ جھلک اس جائزہ میں بھی قارئین کو نظر آئے گی مگر میرے نزدیک یہ علمی مباحثہ و مکالمہ کا ناگزیر حصہ ہے اور ان مراحل سے گزرے بغیر کسی مسئلہ کے صحیح حل تک پہنچنا عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔

ضروری نہیں ہے کہ اس جائزہ کی ہر بات سے اتفاق کیا جائے لیکن یہ ضروری ہے کہ اس کا توجہ کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور دور حاضر کے وسیع عالمی تناظر میں اسلامی احکام و قوانین کی تعبیر و تشریح کے حوالہ سے جو مشکلات و ضروریات اسلامی نظریاتی کونسل کی ان سفارشات اور ان پر عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ کے اس تبصرہ سے ظاہرًا یا بین السطور جھلکتی دکھائی دے رہی ہیں، علمی رسوخ و اعتماد سے بہرہ ور شخصیات اور ادارے ان کی طرف سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہو کر اس سلسلے میں امت مسلمہ کی راہنمائی کا فرض ادا کریں کہ یہی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

درجہ بندی: