ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جون ۲۰۰۹ء

ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ ملک کے ان ممتاز علمائے کرام میں سے تھے جو مشترکہ دینی و قومی مقصد کے لیے ہمیشہ متحرک اور فعال رہے۔ ان کے والد محترم مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ کا ذوق بھی یہی تھا اور مجھے ان دونوں کے ساتھ متعدد دینی تحریکوں میں کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ نے ۱۹۸۷ء کے عرصے میں ’’شریعت بل‘‘ کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا اور انہی کی سربراہی میں جامعہ نعیمیہ لاہور میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کا مشترکہ کنونشن منعقد ہوا جس میں شریعت بل کی حمایت میں عوامی جدوجہد کے لیے ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ تشکیل دیا گیا۔ محاذ کا سربراہ شیخ الحدیث مولانا عبد الحق آف اکوڑہ خٹک کو منتخب کیا گیا تھا جبکہ مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ کی سربراہی میں سرکردہ علمائے کرام کی ایک کمیٹی نے شریعت بل میں ترامیم کا مسودہ تیار کیا جو بعد میں بل میں شامل کر لیا گیا۔ مجھے اس وقت متحدہ شریعت محاذ کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا اور حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ کے ساتھ متعدد یادگار ملاقاتیں ہوئیں۔

مولانا محمد حسین نعیمیؒ کے بعد ان کے جانشین مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کے ساتھ بھی یہ تعلق بدستور برقرار رہا اور جب بھی کسی مشترکہ دینی یا قومی مقصد کے لیے باہم مل بیٹھنے کی ضرورت محسوس ہوئی، ہم نہ صرف مل بیٹھے بلکہ مسئلہ کا حل نکالنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کا اہتمام بھی ہوا۔ کچھ عرصے سے ہم ایک فورم پر اکٹھے کام کر رہے تھے جو ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کے نام سے اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے کہ دینی و قومی مسائل میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام کے مشترکہ موقف کے تعین اور اظہار کے لیے کوئی اجتماعی صورت اختیار کی جائے۔ اس فورم کی تشکیل میں ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ، مولانا حافظ عبدا لرحمانؒ مدنی، ڈاکٹر محمد امین اور دیگر حضرات کے ساتھ میں بھی شریک تھا اور وقتاً فوقتاً اس فورم کا اجلاس منعقد ہوتا رہتا تھا۔ جس روز ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت کا المناک واقعہ رونما ہوا اس روز بھی شام کو لاہور میں ملی مجلس شرعی کا اجلاس تھا جس کا دعوت نامہ مجھے ایک روز قبل موصول ہوا مگر جمعہ کا روز ہونے کی وجہ سے میں اس میں شریک ہونے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ جمعۃ المبارک کی نماز پڑھانے کے بعد مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ ڈاکٹر نعیمی صاحب کو فون پر اطلاع کردوں کہ میں آج کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکوں گا، مگر ابھی میں اس سوچ میں تھا کہ یہ روح فرسا خبر فون کے ذریعے ملی کہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ اپنے رفقاء سمیت ایک خودکش حملے میں شہید ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس سے قبل ۳۰ مئی کو جامعہ نعیمیہ لاہور میں ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی صدارت میں ملی مجلس شرعی کا اجلاس ہوا تھا جس کی کارروائی کا متن اس کالم کے ذریعے میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ اس اجلاس کی صدارت مجلس کے کنوینر مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ نے کی، اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا اور اس کے بعد ایجنڈے پر بحث شروع ہوئی۔ مجلس کی رکنیت میں توسیع کے بعد یہ پہلا اجلاس تھا اور اجلاس میں بہت سے اداروں اور جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اکثر شرکاء نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ اور حکمرانوں کے مدافعت پر مبنی رویے پر تنقید کی۔ اکثر شرکاء کی یہ رائے بھی تھی کہ سوات کا فوجی آپریشن جلد یا بدیر ختم ہو جائے گا اور وہاں نفاذ شریعت کا مسئلہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ تفصیلی بحث اور مناقشے کے بعد مجلس کے شرکاء نے مندرجہ ذیل دو نکات پر مبنی ایک پر امن تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔

  1. امریکی غلامی سے نجات اور پاکستان سے امریکی مداخلت کا خاتمہ۔
  2. پاکستان بالخصوص اس کے شمائلی قبائلی علاقوں میں اسلامی اصولوں پر عمل اور شریعت کا نفاذ، اس تعبیر کے مطابق جس پر پاکستان کے سارے مکاتب فکر کا اتفاق ہو۔

مجلس نے اس کے لیے مندرجہ ذیل سات ارکان پر مشتمل ایک سٹئیرنگ کمیٹی بنائی جو مجوزہ تحریک کے لیے پلاننگ کرے گی، اس کے لیے ساری دینی قوتوں کو مجتمع اور متحرک کرے گی، اور اسے کامیاب بنانے کے لیے جدوجہد کرے گی۔ تنظیم اسلامی کے امیر جناب حافظ عاکف سعید کو اس کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا اور یہ طے پایا کہ اس کمیٹی کی حیثیت مجوزہ تحریک کی مجلس عاملہ کی سی ہوگی۔ کمیٹی کے ارکان درج ذیل ہوں گے:

  1. مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی
  2. حافظ عاکف سعید
  3. جناب امیر العظیم
  4. شیخ قاری محمد یعقوب
  5. مولانا سیف الدین سیف
  6. پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی
  7. مولانا مجیب الرحمن انقلابی

اجلاس کی یہ کاروائی ملی مجلس شرعی کے رابطہ سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کی طرف سے جاری ہوئی اور مجھے اس سٹئیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے دعوت نامے کے ساتھ موصول ہوئی جو ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت کے روز شام کو لاہور میں منعقد ہونے والا تھا اور اس المناک سانحہ کے باعث منعقد نہ ہو سکا۔

یہ سرگرمیاں ریکارڈ پر لا کر احباب کی توجہ اس نکتے کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ کی شہادت کے ذمہ دار عناصر اور اسباب و عوامل کے تعین اور اس سانحہ کی تفتیش کرتے ہوئے اس پہلو کو یکسر نظر انداز نہ کر دیا جائے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف ملک کے تمام مکاتب فکر کو ایک دینی تحریک کے لیے متحد اور متحرک کرنے کے لیے نئی کوششوں کا آغاز کر چکے تھے جس کا ہدف امریکی تسلط سے وطن عزیز کی آزادی اور ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ تھا۔ جبکہ یہ دونوں مقاصد اور ان کے لیے پر امن عوامی تحریک ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سی مؤثر قوتوں کے لیے کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں تھے۔ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ اہل سنت کے بریلوی مکتب فکر کے صف اول کے رہنما تھے اور مسلکی معاملات میں بھی ہمیشہ دوٹوک اور بے لچک موقف اختیار کرتے تھے جس پر بعض دوستوں کو شکایت بھی ہوتی تھی۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے مشترکہ ملی و دینی مقاصد کے تعاون سے کبھی گریز نہیں کیا۔ اور نہ صرف ڈاکٹر صاحبؒ بلکہ جامعہ نعیمیہ جیسا عظیم ادارہ بھی ملی و قومی امور کے حوالے سے مشترکہ پروگراموں کے لیے ہمیشہ میسر رہا ہے۔

میں تعزیت کے لیے جامعہ نعیمیہ حاضر ہوا اور ڈاکٹر صاحب کے فرزند و جانشین ڈاکٹر راغب حسین نعیمیؒ اور دیگر حضرات سے تعزیت و دعا کے علاوہ ایک پروگرام میں بھی شریک ہوا جو ایک ٹی وی چینل کی طرف سے اس موقع پر منعقد ہوا۔ میں نے اس پروگرام میں عرض کیا کہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ بلاشبہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں اور ان کی شہادت ہم سب کا مشترکہ المیہ و صدمہ ہے۔ اس موقع پر ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہمارے ہاں دہشت گردی کا کھیل ایک عرصے سے جاری ہے۔ یہ دہشت گردی زبان کے مسئلے پر بھی ہوئی ہے، قومیت کے مسئلے پر بھی ہوئی ہے، شیعہ سنی تنازع میں بھی اس دہشت گردی کی تاریخ بہت تلخ ہے، اور اب یہ نفاذ شریعت کے نام پر ہو رہی ہے۔ ہمیں دراصل وہ ہاتھ تلاش کر کے اسے بے نقاب کرنا ہوگا جو ہمیں مختلف ناموں سے آپس میں لڑاتا رہتا ہے اور خود ہمارے ہاتھوں ہماری گردنیں کٹوا کر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ جب تک ہم اس خفیہ ہاتھ کو بے نقاب نہیں کرتے، دہشت گردی کا یہ گھناؤنا کھیل کسی نہ کسی بہانے جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ہماری قومی ضرورت ہے کہ سرکاری سطح پر یا عدالت عظمیٰ کی طرف سے یا کسی ذمہ دار پرائیویٹ فورم کی طرف سے ایک انکوائری کمیشن قائم ہو جو دہشت گردی کے اسباب و عوامل کا حقیقت پسندی کے ساتھ جائزہ لے کر اس کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرے۔