سوات کے حالات، قومی کمیشن قائم کیا جائے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۹ء

سوات اور دیگر ملحقہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے، آبادی کا وسیع پیمانے پر انخلا ایک مستقل مسئلہ ہے اور ہزاروں خاندان کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں پر امن شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ بظاہر پاک فوج اس خطہ میں حکومتی رٹ قائم کرنے اور مبینہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے یہ وسیع فوجی آپریشن کر رہی ہے لیکن اس عمل میں دیگر عوامل بالخصوص بین الاقوامی حرکات اور دلچسپیوں کا تناظر بھی ہر شخص کو پوری طرح دکھائی دے رہا ہے۔

ہم نے ملک کی حدود کے اندر نفاذ شریعت سمیت کسی بھی مطالبہ کے لیے ہتھیار اٹھانے کی کبھی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اب اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے معاملہ صرف اتنا نہیں ہے۔ کیونکہ اس خطہ کے بارے میں عالمی ایجنڈے اور بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت نے معاملات کو تہہ در تہہ پیچیدگیوں میں الجھا کر رکھ دیا ہے اور حکومتی رٹ کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملک سر حدوں کا تقدس بھی ڈرون حملوں کے ذریعے پامال ہو کر رہ گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ جنگ مبینہ دہشت گردی کے خلاف ہے، جبکہ ہمارے ہاں دہشت گردی کی تاریخ بہت پرانی ہے:

  • یہ زبان کے مسئلہ پر بھی ہوتی ہے،
  • قومیت کے مسئلہ پر بھی ہوتی ہے جس کا تسلسل اب بھی جاری ہے،
  • سنی شیعہ کشمکش کے تناظر میں بھی دونوں طرف کی سینکڑوں جانیں اور قیمتی افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،
  • اور اب یہ مبینہ دہشت گردی بظاہر نفاذ شریعت کے نام پر ہو رہی ہے۔

ہماری اصل ضرورت اس خفیہ ہاتھ کو بے نقاب کرنے اور ان اسباب و عوامل کو منظر عام پر لانے کی ہے جو کسی نہ کسی حوالہ سے ہمارے ہاں دہشت گردی کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے میں بڑے خلوص کے ساتھ مصروف ہو جاتے ہیں۔ حالات کی سنگینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک کا ہر محبت وطن شہری اس پر مضطرب اور بے چین ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ قومی سطح پر ایک کمیشن قائم کیا جائے جو اس دہشت گردی کے اسباب و عوامل کا جائزہ لے اور اس خفیہ ہاتھ کو بے نقاب کرے جو ان اسباب و عوامل کو حرکت میں لا کر ہماری قومی زندگی کو غیر مستحکم کرنے کا باعث بنتا رہتا ہے۔ یہ قومی کمیشن حکومت کو قائم کرنا چاہیے، عدالت عظمیٰ کو اس طرف پیشرفت کرنی چاہیے، ورنہ پاکستان بار ایسوسی ایشن طرز کا کوئی آزاد فورم اس طرف توجہ دے اور زمینی حقائق کی بنیاد پر قوم کو بتائے کہ اس دہشت گردی کے اسباب و عوامل کیا ہیں اور اس کے سدباب کے لیے قومی سطح پر کیا کیا جا سکتا ہے؟