حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ مئی ۲۰۰۹ء

رات ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ فون کی گھنٹی بجی، فون اٹھایا تو دوسری طرف برادر عزیز قاری حماد الزہراوی تھے، دل دھڑکا کہ خدا خیر کرے، انہوں نے گلوگیر لہجے میں بتایا کہ حضرت والد صاحب مدظلہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور اب بظاہر کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی، زبان پہ بے ساختہ دعا جاری ہوئی۔ ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ برادرم قاری راشد خان کا فون آیا اور انہوں نے روتے ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا تو موہوم امید کی آخری کرن بھی گل ہوگئی اور انا للہ وانا الیہ راجعون کہتے ہوئے اہلیہ کو جگایا، وہ یہ خبر اچانک سن کر رونے لگ گئیں۔ تھوڑی دیر میں حاجی محمد فیاض خان سواتی کا فون آیا، ہم نے ایک دوسرے سے تعزیت کی اور پھر گکھڑ جانے کی تیاری میں لگ گئے۔

اس سے چند گھنٹے پہلے میں نے عشاء کی نماز تلونڈی موسیٰ خان کے قریب گاؤں پیروچک میں پڑھائی اور اس کے بعد درس دیا۔ درس کے دوران گفتگو اس مسئلہ پر آگئی کہ اخبارات میں ’’آپ کا ہفتہ کیسے گزرے گا‘‘ کے عنوان سے کہانت کا جو کاروبار چل رہا ہے یہ وہی کہانت ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھی اور آپؐ نے جاہلیت کی دیگر بہت سی اقدار و روایات کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ کر دیا تھا۔ میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ تمہیں آنے والے کل کی خبر نہیں کہ تم کیا کرو گے اور آنے والا کل تو بہت دور ہے آج رات کے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ ہم کیا کریں گے یا ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟ اس گفتگو کے صرف چند گھنٹے کے بعد ہمارے ساتھ وہ کچھ ہوگیا ہے جس کا صدمہ رہتی زندگی تک ہمارے ساتھ ساتھ رہے گا۔

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ گزشتہ آٹھ نو برس سے صاحب فراش تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی یادداشت آخر وقت تک قائم رہی اور علمی دلچسپی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ نظر کمزور ہوگئی تھی اور کسی کو دیکھ کر نہیں پہچانتے تھے لیکن تعارف کرانے پر ساری باتیں ان کو یاد آجاتیں اور پھر وہ جزئیات تک دریافت کرتے تھے۔ مجھے جمعہ کے دن شام کو تھوڑی دیر کے لیے حاضری کا موقع ملتا، جب طبیعت کچھ بحال ہوتی تو کسی نہ کسی کتاب سے کچھ سنانے کی فرمائش کرتے اور احادیث کی کسی کتاب سے میں انہیں چند احادیث سنا دیتا۔ ان کے سامنے پڑھتے ہوئے ڈر بھی لگتا تھا کہ چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی ان کی گرفت سے نہیں بچ پاتی تھی۔ چند ماہ قبل فرمانے لگے کہ لغت کی کوئی مستند کتاب تمہارے پاس ہو تو مجھے لا دو۔ میں نے عرض کیا کہ آپ اسے اس حالت میں کیا کریں گے؟ فرمایا کہ کسی وقت ضرورت پڑ جاتی ہے، میں نے بازار سے ایک کتاب خرید کر پیش کر دی جس پر بہت خوش ہوئے۔ پھر ایک دن فرمایا کہ ’’اللؤلو والمرجان‘‘ مل جائے گی؟ میں نے عرض کیا کہ مل جائے گی، وہ بھی میں نے بازار سے لا کر پیش کر دی۔

گزشتہ ماہ برطانیہ کے سفر پر جاتے وقت جب میں نے انہیں بتایا کہ واپسی پر عمرہ کا ارادہ بھی ہے تو خوش ہوئے اور دعا دی۔ پھر فرمایا کہ سنا ہے کہ ’’مسند ابی یعلی‘‘ چھپ گئی ہے، اگر مل جائے تو میرے لیے لیتے آنا۔ میں نے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے متعدد کتب خانوں میں اسے تلاش کیا مگر نہ ملی۔ واپسی پر جدہ میں اپنے میزبان قاری محمد اسلم شہزاد سے جو میرے ہم زلف ہیں، عرض کیا کہ کتاب لیے بغیر واپس جانے کو جی نہیں چاہتا کہ حضرت والد صاحب کی فرمائش ہے اور وہ مل نہیں رہی۔ ہم نے ایک راؤنڈ جدہ کے کتاب خانوں کا لگایا تو دو تین کتب خانوں کی چھان بین بعد ایک مکتبہ میں وہ مل گئی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی، مجھ سے زیادہ قاری صاحب خوش ہوئے اور انہوں نے مجھے قیمت بھی ادا نہیں کرنی دی اور کہا کہ یہ ہدیہ میری طرف سے پیش کر دیں۔

جمعرات کو میں حرمین شریفین کے سفر سے واپس گھر پہنچا، حسب معمول جمعہ کی شام کو حاضری دی تو طبیعت زیادہ خراب تھی۔ حضرت کے معالج ڈاکٹر فضل الرحمان، خادم خصوصی حاجی میر محمد لقمان، اور مولانا محمد نواز بلوچ موجود تھے۔ میں نے کتاب دکھائی تو دیکھ کر اشارہ کیا کہ وہاں رکھ دو۔ کچھ دنوں سے مسلسل خاموشی تھی، کچھ کھا پی بھی نہیں رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ کوشش کریں کچھ کھا پی لیں اور باتیں بھی کریں۔ میں نے گزارش کی تو ایک آدھ گھونٹ پانی پیا اور پھر انکار کر دیا۔ میں نے سفر کے حالات کا تذکرہ شروع کیا تو ہلکا ہلکا اشارہ کرتے رہے۔ ہماری کوشش تھی کہ کچھ بولیں مگر کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے ان کی نواسیوں کا ذکر کیا جو برطانیہ میں رہتی ہیں، ان کا نام لیا اور بتایا کہ میں ان کے پاس بھی گیا تھا تو ہلکی سی توجہ کی اور اشارے سے ان کا حال پوچھا۔ بس میری یہ آخری ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد ہم تین چار بھائی کچھ دیر کے لیے ان کے پاس بیٹھے اور آپس کا کچھ حساب کتاب ان کے سامنے کیا۔ اس موقع پر ہم سب گھر والے یعنی میری اہلیہ، محمد عمار خان ناصر، اس کی اہلیہ اور دونوں بچے صحت کا حال معلوم کرنے کے لیے گکھڑ گئے تھے اور یہ آخری ملاقات ہم سب کی اکٹھی ہوئی۔

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ہم تین چار بھائی حسب معمول جمعہ کی شام کو ان کے پاس موجود تھے تو طبیعت میں بشاشت تھی۔ مجھ سے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کون سی سورت میں ہے؟ میں نے بتا دیا۔ خیال تھا کہ کسی مسئلہ کے حوالہ سے پوچھ رہے ہیں لیکن جب اسی آیت کے بارے میں دوسرا سوال کیا تو اندازہ ہوا کہ ویسے نہیں پوچھ رہے بلکہ امتحان لے رہے ہیں۔ چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمن شاہد بھی موجود تھے جو جدہ میں رہتے ہیں اور ان دنوں گکھڑ آئے ہوئے ہیں۔ میں انہیں آگے کر کے ان کی اوٹ میں ہو گیا اور پھر ان کا امتحان شروع ہوگیا۔ ان سے متعدد آیات کے بارے میں پوچھا اور جو آیت پوچھتے اس کے ساتھ یہ کہتے کہ اس سے پہلے والی آیت بھی سناؤ۔ ہمیں اس بات پر خوشی تھی کہ آج طبیعت ہشاش بشاش ہے اور بابا جی اچھے موڈ میں ہیں۔

میری حاضری پر وہ زیادہ تر ملکی حالات کے بارے میں دریافت کرتے۔ ان دنوں سوات کی صورتحال کے بارے میں سخت پریشان تھے۔ اخبارات سننے کا معمول تھا اس لیے حالات سے واقف رہتے تھے اور سوال و جواب بھی کرتے تھے۔ میرے کالم بھی اہتمام سے سنتے تھے او ران کے بعض مندرجات کے بارے میں بات بھی کرتے تھے۔ میں نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے امتیوں کے لیے آئیڈیل ہیں۔ پوچھنے لگے کہ یہ ’’آئیڈیل‘‘ کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ اسوۂ حسنہ کا آزاد ترجمہ ہے۔ ایک بار ایک حدیث سناتے ہوئے ایک لفظ پر میں اٹک گیا، بعد میں حیرت بھی ہوئی کہ کئی دفعہ یہ حدیث پڑھنے پڑھانے میں آئی ہے، یہ اٹک درمیان میں کیسے آگئی؟ بہرحال میں جب اٹکا تو انہوں نے وہ لفظ بھی بتایا اور اس کا مفہوم بھی بتایا۔ متعدد بار ایسا ہوا کہ کسی حدیث کی تلاش میں ذہن کام نہیں کر رہا اور تلاش کے باوجود نہیں مل رہی تو وہ بتاتے کہ فلاں کتاب کے فلاں باب میں دیکھو تو دیکھنے پر وہ حدیث وہیں مل جاتی۔ یہ باتیں ان کی صحت کے دور کی نہیں بلکہ اس بیماری کے دور کی ہیں جب وہ اپنی مرضی سے کروٹ بھی نہیں بدل سکتے تھے لیکن ذہنی استحضار کا یہ عالم تھا کہ ہمیں رشک آتا تھا۔

وہ آج ہم سے جدا ہوگئے ہیں اور ہم آج ہی شام کو انہیں سنت کے مطابق رخصت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ملک بھر سے ٹیلی فون کا تانتا بندھا ہوا ہے مگر میں یہ سطور لکھنے میں مصروف ہوں تاکہ وہ دوست احباب بھی اس مرحلہ میں شریک غم ہو سکیں جو جنازے میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کی تعزیت کے مستحق ہیں۔ ان کا کوئی عقیدت مند تعزیت کے لیے آتا ہے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اس سے تعزیت کروں اس لیے کہ یہ اجتماعی صدمہ ہے، ملی صدمہ ہے، اور عظیم دینی صدمہ ہے۔ مگر میں اس موقع پر حضرت والد رحمہ اللہ کے ان خدام کو سب سے زیادہ تعزیت کا مستحق سمجھتا ہوں جنہوں نے ان کے صاحب فراش ہونے کے دوران سالہا سال تک ان کی خدمت کی۔ بالخصوص برادر عزیز قاری راشد صاحب جو ہمارے سب سے چھوٹے بھائی ہیں اور ان کے ساتھ ڈاکٹر فضل الرحمان صاحب، حاجی میر محمد لقمان صاحب، مولانا محمد نواز بلوچ، حاجی محمد نعیم بٹ، ہمارے بھانجے مولانا داؤد خان نوید، اور گھر کی وہ بچیاں جو مسلسل خدمت میں مصروف رہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں اور حضرت مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں، آمین یا رب العالمین۔