اسلام اور شہری حقوق و فرائض ۔ غیر مسلم معاشرے کے تناظر میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۰۸ء

(برطانیہ کے ایک تحقیقاتی فورم کی طرف سے موصولہ سوال نامہ کے جواب میں حسب ذیل گزارشات پیش کی گئی ہیں۔ یہ ذاتی مطالعہ اور غور وفکر کا نتیجہ ہیں جن کے کسی بھی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ راشدی)

  1. جمہوریت اور انصاف
  2. حقوق اور فرائض
  3. تشخص اور تنوع
  4. جستجو، تنقیدی غور وفکر اور اختلاف رائے
  5. درست معلومات پر مبنی اور ذمہ دارانہ عملی اقدام

۱- جمہوریت اور انصاف

سوال ۱: سماجی زندگی پر اثر انداز ہونے کے لیے فیصلہ سازی اور انتخابی عمل میں فعال حصہ لینے، ایک شہری کی حیثیت سے متحرک کردار ادا کرنے اور جمہوریت کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کیا ہے؟

جواب: اسلام ایک مسلمان کو اور کسی اسلامی مملکت کے ایک شہری کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات میں حصہ لینے اور سوسائٹی کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کا نہ صرف حق دیتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ’تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘ کے تحت جو ہدایت دی گئی ہے، وہ اس کی واضح علامت ہے، اس لیے کہ بر وتقویٰ اور اثم وعدوان کا اطلاق صرف ذاتی نیکی اوربدی پر نہیں ہوتا بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی خیر وشر اور نفع وضرر بھی اس کے دائرے میں شامل ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک سے جو مسلمان نقل مکانی کر کے مغربی ممالک میں گئے ہیں اور انھوں نے ان ممالک کو اپنا وطن بنا لیا ہے تو جہاں وہ ان ممالک کے وسائل اور سہولتوں سے استفادہ کر رہے ہیں، وہاں اس سوسائٹی کا بھی ان پر حق ہے کہ وہ اسے کچھ دیں۔ اس ملک اور سوسائٹی نے مسلمانوں کو بہت کچھ دیا ہے اور وہ اسے بھرپور طریقے سے وصول کر رہے ہیں، لیکن صرف لینا اور لیتے ہی چلے جانا انصاف کی بات نہیں ہے اور اس سوسائٹی کو کچھ دینا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔

اس سلسلے میں احساس کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے پاس انھیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہمارے پاس بہت کچھ ہے اور ہم انھیں بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ اس سوسائٹی کے پاس دنیا کے وسائل اور سہولتوں کی فراوانی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے اور یہ ہمیں ان سے بہرہ ور کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس روح کا سکون اور آخرت کی نجات کا سامان نہیں جو بحمد اللہ تعالیٰ تمام تر خرابیوں کے باوجود ہمارے پاس موجود ہے، وہ ہم انھیں دے سکتے ہیں اور یہ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم وہ انھیں مہیا کریں۔ میں نے چند سال قبل نوٹنگھم برطانیہ میں ایک بڑے پادری صاحب سے اس سلسلے میں بات کی اور ان سے پوچھا کہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی سسٹم کی بربادی اور روحانی سکون کے فقدان کے حوالے سے جو صورت حال ہے، کیا وہ اس سے مطمئن ہیں؟ انھوں نے نفی میں سر ہلایا اور کہا کہ یہ صورت حال ہمارے لیے بڑی پریشان کن ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کے نزدیک اس کا حل کیا ہے؟ تو انھوں نے بڑے صاف انداز میں یہ بات کہہ دی کہ ’’ہمارے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے، ہم تو آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ ۔

جمہوریت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ:

  • حکومت کی تشکیل عوام کی رائے اور مشورہ سے ہوگی، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا جانشین نامزد کرنے کی بجائے اس کا انتخاب لوگوں کی اجتماعی صواب دید پر چھوڑ دیا تھا۔
  • حکومت خاندانی نہیں ہوگی، جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں بننے والے خلفا حضر ت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کا نسبی وارث نہیں تھا۔
  • حکومت عوام کے سامنے جواب دہ ہوگی، جیسا کہ حضرت ابوبکر نے اپنے پہلے خطبے میں عام لوگوں کا یہ حق تسلیم کیا کہ ’’میں سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کر دو۔‘‘ یا جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں اور بعد میں بھی عام لوگ خلفا کے طرز عمل پر کھلے بندوں انھیں ٹوک دیا کرتے تھے اور خلفا کو بعض اوقات اپنے فیصلے واپس بھی لینا پڑتے تھے۔
  • حکمران اپنے معاملات عوام کے مشورہ سے چلائیں گے۔ عوامی معاملات عام لوگوں کے مشورہ سے اور علمی و فنی معاملات اہل علم و فن کی مشاورت سے چلانے کے بارے میں خلفاے راشدینؓ کے طرز عمل کا ذکر تاریخ کی بہت سی روایات میں موجود ہے، بلکہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے امور میں جن میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی، عام لوگوں یا متعلقہ لوگوں سے مشاورت کیا کرتے تھے، حتیٰ کہ اپنی رائے کے خلاف عمومی مشاورت کی رائے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائی ہے، جیسا کہ غزوۂ احد کے موقع پر ہوا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر حملہ آور لشکر کا مقابلہ کیا جائے، لیکن نوجوان صحابہ کے اصرار پر آپ نے مدینے سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
  • ایک اسلامی ریاست میں قرآن وسنت کی بالادستی کو تسلیم کرنا اور ان کے واضح احکام کی پابندی حکمرانوں اور رعیت، دونوں کے لیے ضروری ہے اور ان میں سے کوئی بھی قرآن وسنت کے صریح احکام سے انحراف کا مجاز نہیں ہے، نیز قرآن وسنت کے صریح احکام کو بطور قانون نافذ کرنا مسلمان حکمرانوں کی منصبی ذمہ داری ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا تھا کہ ’’اپنے حکمران کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، جب تک کہ وہ تم میں کتاب اللہ کے احکام کو نافذ کرے‘‘، اور خلیفہ اول سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے پہلے خطبے میں اعلان کیا تھا کہ ’’میری اطاعت تم پر واجب ہے، جب تک میں قرآن وسنت کی پابندی کروں اور اگر اس سے انحراف کروں تو میری اطاعت تم پر واجب نہیں ہے۔‘‘

سوال ۲: اسلام اس بات کی کیسے حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ (سیاسی دائرے میں) مختلف صورت حال میں جائز اور ناجائز کے مابین امتیاز ہوجائے، تاکہ نوجوان درست فیصلہ کر سکیں؟

جواب: اسلام ہر شخص کا یہ حق تسلیم کرتا ہے کہ وہ جس بات کو قانون کے حوالے سے غلط اور باہمی حقوق کے حوالے سے زیادتی سمجھتا ہو، اس کے خلاف آواز اٹھائے بلکہ سوسائٹی کے اجتماعی نقصان کی صورت میں یہ آواز اٹھانا اور معروف ذرائع سے اس کے سدباب کی عملی کوشش کرنا اس کے مذہبی فرائض میں شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سوسائٹی میں خیر کے فروغ اور شر کے سدباب کے لیے محنت کرنا بھی ہر شخص کا حق بلکہ اس کی ذمہ داری ہے۔

ایک اسلامی ریاست میں قرآن وسنت کی خلاف ورزی اور غیر مسلم ریاست میں مسلمہ دستور ومعاہدات کی خلاف ورزی پر ایسا کرنے والوں کو ٹوکا جا سکتا ہے اور جہاں حق تلفی ہو رہی ہو اس کی نشان دہی کی جا سکتی ہے، اور اس روک ٹوک، نشان دہی اور احتجاج کے لیے وہ سب ذرائع اختیار کیے جا سکتے ہیں جو اس دور اور علاقے میں معروف اور تسلیم شدہ ہوں۔ حضرت معاویہؓ رومیوں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے اپنا لشکر لے کر روم کی سرحد کی طرف جا رہے تھے اور ان کا ارادہ تھا کہ وہ مدت ختم ہونے تک سرحد تک پہنچ جائیں گے اور مدت ختم ہوتے ہی حملہ کر دیں گے، لیکن حضرت عمرو بن عبسہؓ نے انھیں روک دیا اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی رو سے اگر کسی قوم کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ ہو تو جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے اس کے خلاف فوجوں کو حرکت میں لانا درست نہیں۔ حضرت معاویہؓ یہ سن کر راستے سے ہی واپس آ گئے اور فوج کو چھاؤنی میں بھیج دیا۔ اس طرح کے درجنوں واقعات خلفاے اسلام کے مختلف ادوارمیں ملتے ہیں۔

سوال ۳: ایک جمہوری ڈھانچے میں انصاف کے حوالے سے اسلام کا تصور کیا ہے؟ (کیا عمومی عدالتی نظام قابل قبول نہیں اور مسلمانوں کی علیحدہ عدالتیں قائم کرنا ضروری ہے؟)

جواب: جمہوری ڈھانچے میں انصاف کے حوالے سے اسلام کا تصور حالات او رزمینی حقائق کی روشنی میں مختلف دائروں میں تقسیم ہے:

  • جہاں مسلم اکثریت یا مسلم اقتدار ہے، وہاں اسلامی عدالتوں کا قیام ضروری ہے جو قرآن وسنت کے مطابق لوگوں کو انصاف فراہم کریں، مگر غیر مسلم اقلیتیں اپنے خاندانی معاملات اور مذہبی معاملات میں ان عدالتوں کی پابند نہیں ہوں گی اور ان کے فیصلے ان دو حوالوں سے ان کے مذہب وروایات کے مطابق کیے جائیں گے جس کے لیے عدالتی نظام بھی ان کے اطمینان کے مطابق فراہم کیا جائے گا۔
  • جن ممالک میں مسلمان اکثریت یا اقتدار میں نہیں ہیں، وہاں چونکہ وہ ایک سماجی معاہدے کے تحت رہ رہے ہیں، اس لیے اس سماجی معاہدہ (نیشنیلٹی کے قوانین) کی پابندی ان کے لیے ضروری ہے جو وہاں کی ریاستی عدالتوں کے ذریعے ہی ہوگا، البتہ مذہبی معاملات اور خاندانی احکام وقوانین میں ان کے مذہب کے مطابق عدالتی نظام کا فراہم کیا جانا ان کا حق ہے۔ اس حق کے لیے وہ کوشش کرتے رہیں گے اور اس کے لیے ہر ممکن ذریعہ اختیار کریں گے۔ نیز اس ملک کے عمومی قوانین میں اگر کوئی بات قرآن وسنت کے صریح احکام اور مسلمانوں کے کسی اجماعی عقیدہ سے ٹکراتی ہے تو وہ اس کے خلاف احتجاج کریں گے، اسے تبدیل کرانے کی کوشش کریں گے اور حکمرانوں کو اس کی طرف توجہ دلائیں گے اور اگر اس کے باوجود وہ تبدیل نہیں ہوتے تو مسلمانوں کے لیے دو ہی راستے ہیں کہ یا وہ ملک چھوڑ دیں اور یا مجبوری کے درجے میں وہاں رہتے ہوئے اپنا احتجاج مسلسل ریکارڈ کراتے رہیں، مگر قانون کو ہاتھ میں لینے یا مروجہ سسٹم سے بغاوت کرنے کا ان کو اس سماجی معاہدہ کی رو سے حق نہیں ہوگا۔

سوال ۴: سماج میں امن قائم رکھنے کے لیے قانون کی اہمیت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ (سیاسی فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے قانون کی پابندی کرنے کی کیا اہمیت ہے؟)

جواب: اسلام سوسائٹی میں امن کو برقرار رکھنے اور اس کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے اور رائج الوقت قانون کی پابندی کا حکم دیتا ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’حاکم وقت اگر تمھاری حق تلفی بھی کر رہا ہو تو اس کی اطاعت کرو‘‘۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ ان دونوں ارشادات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ ظلم وزیادتی کے خلاف احتجاج کرنا، اپیل کرنا اور آواز اٹھانا تو مظلوم کا حق ہے، لیکن قانون سے انحراف اور فیصلوں سے بغاوت کا اسے حق نہیں ہے۔ البتہ مسلم اقتدار کی صورت میں مسلمان حکمران کی طرف سے صریح کفر (کفر بواح) کے ارتکاب پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام مسلمانوں کو بغاوت کی اجازت دیتے ہیں جس کے لیے فقہاے کرام نے شرط لگائی ہے کہ اگر ’’کفر بواح‘‘ یعنی صریح کفر کے مرتکب مسلم حکمران کو عوامی بغاوت کے ذریعے تبدیل کر دینے کا غالب امکان نظر آ رہا ہو تو ایسا کرنا ضروری ہے، ورنہ خواہ مخواہ عام لوگوں کو بدامنی کا شکار بنانا اور ان کی جان ومال کو خطرے میں ڈال دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ لیکن یہ حکم اسلامی ریاست کے لیے ہے۔ غیر مسلم ریاست کے لیے ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ایسی صورت میں مسلمان یا ملک چھوڑ دیں اور یا اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے وہاں رہیں، لیکن قانون کی پابندی ان کے لیے ضروری ہوگی۔

اس وقت عالمی تناظرمیں عراق، فلسطین، کشمیر اور افغانستان وغیرہ کے حوالے سے مغربی حکومتوں کا جو طرز عمل ہے، اس کے بارے میں صرف مسلمانوں کا ہی نہیں، بلکہ عالمی رائے عامہ اور غیر جانب دار مبصرین کا کہنا بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، اس لیے مسلمانوں بالخصوص گرم خون رکھنے والے نوجوانوں کے ذہنوں میں اس کا رد عمل پیدا ہونا فطری بات ہے۔ اس لیے آج کے ورلڈ میڈیا کی کھلی فضا میں دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف مسلمان نوجوانوں کے دل ودماغ میں رد عمل کے پیدا ہونے کو تو کسی صورت میں نہیں روکا جا سکتا اور نہ ہی اس کے اظہار پر کوئی قدغن لگائی جا سکتی ہے، البتہ اس رد عمل کے اظہار کو مناسب حدوں کا پابند ضرور کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً برطانیہ میں رہنے والے مسلمان نوجوانوں کو ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ عراق، فلسطین، کشمیر، افغانستان یا کسی اور جگہ کے مسلمانوں کی مظلومیت پر رد عمل کا شکار نہ ہوں یا اپنے رد عمل کا اظہار نہ کریں، کیونکہ ان سے یہ کہنا صریحاً زیادتی اور ناانصافی کی بات ہوگی، البتہ ہم ان سے یہ ضرو رکہہ سکتے ہیں اور ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنے جذبات اور رد عمل کے اظہا رمیں اپنے ملک کے احوال وظروف، دستور وقوانین اور اپنے دیگر ہم وطنوں کے جذبات واحساسات کی ضرور پاس داری کریں اور اپنی حکومت، مسلمان بھائیوں اور دیگر برادران وطن کے لیے مشکلات پیدا نہ کریں۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عبسہؓ کو قبول اسلام کے بعد اپنے قبیلے میں جا کر خاموشی کے ساتھ وقت گزارنے اور غلبہ اسلام کی صورت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جانے کی ہدایت کی تھی۔ (صحیح مسلم) آپ نے حضرت ابوذر غفاری کو بھی قبول اسلام کے بعد اسی قسم کی ہدایت کی تھی۔ (صحیح بخاری) جنگ بدر کے موقع پر حضرت حذیفہ بن الیمانؓ اور ان کے والد محترم دونوں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ رہے تھے کہ راستے میں کافروں نے پکڑ لیا اور اس شرط پر چھوڑا کہ آپ دونوں ہمارے خلاف جنگ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے۔ کفار کی قید سے رہا ہو کر دونوں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ بیان کر دیا۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ کہہ کر جنگ میں شرکت سے روک دیا کہ چونکہ آپ دونوں نے کفار کی یہ شرط منظور کر لی تھی، اس لیے آپ ہمارے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔ چنانچہ دونوں باپ بیٹا موجود ہوتے ہوئے بھی غزوۂ بدر میں شامل نہ ہو سکے۔ ان واقعات سے اس سلسلے میں اصولی راہ نمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

میری رائے میں حالیہ عالمی کشمکش میں ہمیں مغربی ممالک واقوام کو اقوام وممالک کی حیثیت سے اپنا حریف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ جس طرح مسلم ممالک میں حکومتوں کے اہداف عوام کے اہداف ومقاصد سے مختلف ہیں، اسی طرح مغربی ممالک میں بھی حکومتوں اور بالادست قوتوں کے اہداف وعزائم کا عوام کے اہداف ومقاصد سے ہم آہنگ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر ان دونوں میں فرق کو محسوس کرتے ہوئے مغرب کی رائے عامہ سے اس کی نفسیات اور ذہنی سطح کے مطابق براہ راست مخاطب ہو کر اس کے سامنے اپنا مقدمہ صحیح طور پر پیش کیا جا سکے تو مسلمان اپنے اختلاف اور احتجاج کو زیادہ موثر طریقے سے ریکارڈ کرا سکتے ہیں۔
مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں کے دستور وقانون کی پوری طرح پابندی کریں اور اس کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے دین اور ملت کے لیے جو بھی کر سکتے ہوں، اس سے گریز نہ کریں۔ میں ایسی سرگرمیوں کے حق میں نہیں ہوں جن سے ملک کے دستور وقانون کی پابندی کا عہد متاثر ہوتا ہو اور عام مسلمانوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا ہو اور ایسی خاموشی کو بھی جائز نہیں سمجھتا جس میں اسلام اور مسلمانوں کے جائز حقوق اور ان کے حصول وتحفظ کے قانونی استحقاق سے بھی دست برداری اختیار کر لی جائے۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے درمیان اعتدال اور توازن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور پوری ہوشیاری اور بیداری کے ساتھ اپنے ملی اور معاشرتی حقوق ومفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔

سوال ۵: رواداری اور احترام کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے، بالخصوص ان لوگوں کے حوالے سے جو مختلف اعتقادات اور پس منظر کے حامل اور مختلف روایتوں سے وابستہ ہیں؟

جواب: اسلام عقیدہ ومذہب کے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کا حکم دیتا ہے، ایک دوسرے کے معبودوں او رمسلمہ بڑوں کے خلاف بد زبانی سے روکتا ہے، اپنے اپنے دائرے میں مذہبی احکام وروایات پر عمل کا حق دیتا ہے اور مذہبی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ایک اسلامی ریاست میں اسلامی روایات واقدار کو کھلے بندوں چیلنج کرنے کا حق نہیں دیتا اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی بھی ریاست اپنے تمام شہریوں کو اپنے اپنے دائرے میں اپنے عقائد، کلچر اور روایات کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیتی ہے، لیکن ریاست کے عمومی دستور وقانون اور ریاست کی تہذیبی بنیادوں کو چیلنج کرنے کا کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہوتا۔

جہاں تک معاشرتی اور سماجی تعلقات کا تعلق ہے تو اسلام ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری اور احترام کے رویے کی خصوصی تلقین کرتا ہے۔ سیرت نبوی میں اس کی جھلک حسب ذیل چند واقعات میں دیکھی جا سکتی ہے:

  • مکی عہد نبوت میں جب روم کے مسیحیوں اور فارس کے مجوسیوں کے مابین جنگ میں رومیوں کو شکست ہوئی تو مسلمان بہت غمگین ہوئے۔ رومیوں کے ساتھ اس ہمدردی کو قرآن مجید نے بنظر استحسان دیکھا اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے یہ وعدہ فرمایا کہ عنقریب رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوگا اور اس دن مسلمانوں کو خوشی حاصل ہوگی۔
  • ہجرت کے بعد ایک مخصوص عرصے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہود کی تالیف قلب کے لیے ان کے قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔
  • فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کی خوشی میں مدینہ منورہ کے یہود محرم کی دس تاریخ کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موافقت میں عاشورا کا روزہ رکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا اور فرمایا کہ ’’ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تم سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
  • ایک انصاری نے یہ جملہ زبان سے ادا کرنے پر ایک یہودی کو تھپڑ مار دیا کہ: ’’اس اللہ کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی ہے‘‘ اور کہا کہ تم موسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل قرار دیتے ہو؟ یہودی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس کی شکایت سن کر انصاری سے شدید ناراض ہوئے اور یہود کے مذہبی جذبات کی رعایت سے صحابہ کو اس بات سے منع فرما دیا کہ وہ ان کے سامنے انبیا میں سے بعض کو بعض سے افضل قرار دیں۔
  • ۹ ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے انھیں مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ جب عصر کی نماز کا وقت آیا اور انھوں نے نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ نے ان کو روک دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں نماز پڑھنے دو۔ چنانچہ انھوں نے مسجد نبوی ہی میں مشرق کی سمت میں اپنے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔
  • ایک شخص کا جنازہ گزرا تو آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ کہا گیا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے، تو فرمایا: ’’کیا وہ انسان نہیں ہے؟‘‘
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ان کے ساتھ معاشرتی اور قانونی معاملات میں ہر موقع پر عدل وانصاف کا رویہ اختیار فرمایا جس کی شہادت ایک موقع پر خود یہود نے یوں دی کہ: ’’یہی وہ حق اور انصاف ہے جس کے سہارے زمین اور آسمان قائم ہیں۔‘‘
  • جن معاملات میں آپ کو کوئی واضح ہدایت نہیں ملی ہوتی تھی، ان میں آپ اہل کتاب کے قوانین اور طریقوں کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔
  • لباس اور وضع قطع سے متعلق امور میں بھی آپ مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے طریقے کی موافقت کو پسند فرماتے تھے۔

سوال ۶: دوسرے مسلم گروہ، جو کسی مختلف مکتب فکر سے متعلق ہیں، ان کے ساتھ طرز عمل کے بارے میں اسلام کی کیا تعلیم ہے؟

جواب: اسلام کے دائرے میں شمار کیے جانے والے تمام مسلمان گروہوں کو جنھیں اسلامی اصطلاح میں اہل قبلہ کہا جاتا ہے، ایک اسلامی ریاست میں برابر کے حقوق حاصل ہیں اور تمام گروہوں کے معتقدات وجذبات کے احترام کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ فقہی اور اعتقادی اختلافات کی صورت میں ملک کا عمومی قانون اکثریت کے رجحانات کے مطابق ہوگا اور اقلیتی گروہوں کو اپنے مذہبی اور خاندانی معاملات اپنی اپنی فقہ کے مطابق طے کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ البتہ اہل قبلہ کے تعین میں یہ فرق ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اسلام کے کسی بنیادی عقیدہ مثلاً ختم نبوت سے منحرف گروہوں (قادیانیوں اور بہائیوں وغیرہ) کو اسلام کے دعوے کے باوجود اس دائرے میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلے میں مسلمانوں کے اجماعی فیصلے اور جذبات کا احترام ضروری ہوگا۔

جہاں تک مسلمانوں کے باہمی اعتقادی مسائل اور فقہی اختلافات کا تعلق ہے تو ان اختلافات کی درجہ بندی اور ترجیحات مسلمانوں کے سامنے واضح ہونی چاہیے اور انہیں اس با ت کا علم ہونا چاہیے کہ کون سی بات کفر واسلام کی ہے اور کون سی بات اولیٰ اور غیر اولیٰ کی ہے، کس اختلاف پر سخت رویہ اختیار کرنا ضروری ہے او ر کون سے اختلاف کو کسی مصلحت کی خاطر نظر انداز بھی کیا جاسکتاہے ۔ اگر نظری،فقہی اور فروعی مباحث میں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کے احترام اور برداشت کا رویہ باقی نہ رہے تو خالصتاً فروعی حتیٰ کہ اولیٰ وغیر اولیٰ کے جزوی اختلافات بھی بحث ومباحثہ میں اس قدر شدت اختیار کرلیتے ہیں کہ کفرو اسلام میں معرکہ آرائی کا تاثر ابھرنے لگتاہے اور بیشتر اوقات اس سے خود اسلام کے تعارف میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر برطانوی معاشرہ اسلام کی تبلیغ ودعوت کا ایک وسیع اور ہموار میدان ہے، لیکن اسلام کی دعوت وتبلیغ کی راہ میں یہاں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات، بالخصوص دیوبندی بریلوی کشیدگی ہے جس کے دل خراش اور سنگ دلانہ مظاہروں نے یہاں کی مقامی آبادی کے سامنے اسلام اور مسلم معاشرہ کا ایک ایسا نقشہ پیش کیا ہے جسے کشش، پسندیدگی یا قبولیت کا باعث کسی طرح بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کشیدگی کا اہتمام کرنے والے عناصر خواہ کوئی ہوں، انھوں نے اس کے ذریعے اپنے فرقہ وارانہ جذبات کی وقتی تسکین کا سامان شاید فراہم کر لیا ہو مگر اسلام کی قطعاً کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اسلام کی دعوت وتبلیغ کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔

سوال ۷: عقیدہ و طرز حیات کے تنوع اور ان کے مابین انتخاب کی آزادی کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟

جواب: عقیدہ اور طرز حیات کے تنوع کو اسلام تسلیم کرتا ہے اور اسے سوسائٹی کاناگزیر حصہ تصور کرتا ہے، لیکن چونکہ اسلام کے نزدیک آسمانی تعلیمات کی پابندی اور وحی الٰہی کو قبول کرنا ہی انسان کے لیے صحیح راستہ ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی محفوظ اور فائنل صورت قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وسنت ہے، اس لیے وہ اس سے انحراف کی اجازت نہیں دیتا، بالکل اسی طرح جیسے آج کی مغربی قیادت ویسٹرن کلچر کو انسانی کلچر کی صحیح ترین اور فائنل شکل قرار دیتے ہوئے دنیا میں کسی قوم یا طبقہ کو اس سے انحراف کی اجازت نہیں دے رہی اور جہاں بھی ویسٹرن کلچر سے ہٹ کر کسی دوسرے کلچر کے سوسائٹی میں اسٹیبلش ہونے کا امکان نظر آتا ہے، وہاں مغربی ممالک طاقت کے اندھا دھند استعمال کے ذریعے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس معاملے میں اسلام اور مغرب کے نقطہ نظر میں اصولی طور پر اتفاق پایا جاتا ہے اور صرف اتنا فرق ہے کہ اسلام آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کو اس کی فائنل صورت (قرآن وسنت) میں انسانی سوسائٹی کی صحیح ترین اور حتمی شکل قرار دیتا ہے اور اس سے انحراف کو برداشت نہیں کرتا، جبکہ مغرب اپنے موجودہ کلچر کو حتمی اور فائنل سمجھتا ہے اور دنیا میں کسی کو اس سے ہٹ کر کوئی اور کلچر اختیار کرنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

سوال ۸: حکومت اور معاشرہ کے حوالے سے ایک شہری کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟

جواب: اسلام ایک عام شہری کو ملکی معاملات میں شریک ہونے، ملک کے مشاورتی نظام کا حصہ بننے، خیر کے کاموں میں تعاون کے راستے تلاش کرنے اور شر کی راہ میں رکاوٹ بننے کا نہ صرف حق دیتا ہے ، بلکہ اس کی تلقین کرتا ہے اور اسے مذہبی فرائض میں شمار کرتا ہے۔

سوال ۹: اسلام میں ارباب حل وعقد کو ان کے اعمال کے لیے جواب دہ ٹھہرانے کا طریقہ کیا ہے؟ (حکومت کے فیصلوں سے اختلاف اور ان پر تنقید کا درست طریقہ کیا ہے؟)

جواب: خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کا پہلا خطبہ اس سلسلے میں اسلامی مزاج کی صحیح عکاسی کرتا ہے کہ اگر میں قرآن وسنت (یعنی قانون) کے مطابق چلوں تو میرا ساتھ دیتے رہو، اور اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے سیدھا کر دو۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام حاکم وقت کو عوام کے سامنے جواب دہ بناتا ہے اور عوام کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ حاکم وقت کو قانون کے خلاف چلنے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ ٹوک دیں بلکہ اسے سیدھا کر دینے کے جو ذرائع میسر ہوں، وہ بھی اختیار کریں۔ حکام کو روک ٹوک کرنے اور انھیں سیدھا کر دینے کا کوئی متعین طریقہ اسلام نے نہیں طے کیا، بلکہ اسے حالات اور مواقع کی مناسبت سے کھلا چھوڑ دیا ہے اور اس کے لیے حالات زمانہ کے حوالے سے کوئی بھی مناسب طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً آج کے دور میں ووٹ، سیاسی عمل، احتجاج اور میڈیا ولابنگ اس کی مروجہ اور معروف صورتیں ہیں۔

۲- حقوق اور فرائض

سوال ۱: حقوق اور فرائض کی ان مختلف قسموں کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے جن کا اثر فرد اور سماجی گروہوں، دونوں پر پڑتا ہے؟ (دوسروں کے حقوق کا کیسے خیال رکھا جائے، حقوق میں ٹکراؤ کی صورت میں کیا کرنا چاہیے اور اختلاف کے حدود اور آداب کیا ہیں؟)

سوال ۲: اسلام کی نظر کی اس بات کو یقینی بنانے کے حوالے سے حکومت کی ذمہ داری کیا ہے کہ مختلف تنظیموں اور افراد کے حقوق کے مابین توازن قائم رہے اور ان حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے؟

سوال ۳: ایسے مسائل کو اسلام کیسے ڈیل کرتا ہے جہاں حقوق کے مابین تصادم کی کیفیت پیدا ہو جائے؟ تصادم کے حل کے لیے اس کا تجویز کردہ طریقہ کیا ہے؟

جواب: مختلف افراد، طبقات یا گروہوں کے درمیان حقوق کے باہمی تصادم اور ٹکراؤ کی صورت میں اسلام انصاف، عدل اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیتا ہے اور کسی فریق کی ناجائز طرف داری سے روکتا ہے۔ اسی طرح وہ متصادم گروہوں کے درمیان مفاہمت اور مصالحت کا ماحول قائم کرنے پر زور دیتا ہے اور ثالثی، محاکمہ اور گفت وشنید کے ذریعے ایک دوسرے کو قریب لانا اسلامی تعلیمات کا ایک مستقل باب ہے۔

عدل وانصاف کو قائم رکھنے اور افراد اور طبقات کو ایک دوسرے کی زیادتی سے بچانے کے حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس ضمن میں خلفاے اسلام کے بہت سے واقعات بطور مثال پیش کیے جا سکتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ فتح بیت المقدس کے موقع پر حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ شہر کا دورہ کرتے ہوئے مسیحیوں کی ایک عبادت گاہ میں گئے اور وہاں نماز کا وقت آ گیا تو وہ نماز کی ادائیگی کے لیے باہر آ گئے اور الگ جگہ نماز ادا فرمائی۔ اس پر بعض ساتھیوں نے دریافت کیا کہ امیر المومنین! وہ بھی تو عبادت گاہ تھی۔ اس جگہ نماز ادا کرنے میں کیا حرج تھا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اس جگہ نماز ادا کر لیتا تو بعد میں تم نے وہاں مستقل قبضہ کر لینا تھا کہ یہاں ہمارے امیر المومنین نے نماز ادا کی ہے، اس لیے ہم اس جگہ مسجد بنائیں گے۔ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں پر اس طرح قبضہ کیا جائے۔

حضرت عمر بن عبد العزیز نے خلافت کا منصب قبول کیا اور ذمہ داریاں سنبھال کر گزشتہ حکومتوں کے مظالم کی تلافی کا سلسلہ شروع کیا تو ان کے عدل وانصاف کے واقعات سن کر سمرقند کے غیر مسلم باشندوں کا ایک وفد ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ اب سے پندرہ سال قبل جب مسلم کمانڈر قتیبہ بن مسلم نے سمرقند فتح کیا تو اس شہر پر حملے سے قبل اسلامی احکام کے مطابق نہ تو انھیں اسلام کی دعوت دی اور نہ ہی دوسری شرائط پیش کیں بلکہ اچانک حملہ کر کے فتح کر لیا، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اور اس کی تلافی ہونی چاہیے۔ سمرقند کی فتح حضرت عمر بن عبد العزیز کے خلیفہ بننے سے پندرہ برس قبل ہوئی تھی، لیکن انھوں نے اسے ماضی کے حوالے سے ٹالنے کی بجائے غیر مسلموں کی شکایت کی تلافی ضروری سمجھی اور جمیع بن حاضر الباجی کو اس شکایت کی انکوائری اور تصفیے کے لیے خصوصی قاضی مقرر کر دیا۔ انھوں نے تحقیقات کے بعد شکایت کو درست پایا تو اس پر فیصلہ صادر کر دیا کہ شہر پر قبضہ چونکہ اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہوا، اس لیے مسلم افواج سمرقند شہر خالی کر دیں، چنانچہ قاضی کا فیصلہ نافذ ہو گیا اور اسلامی افواج اس عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے پندرہ سال قبل فتح کیا ہوا شہر خالی کر کے باہر کھلے میدان میں نکل آئیں۔

۳- تشخص اور تنوع

سوال ۱: کیا ’’مسلم تشخص‘‘ نام کی کوئی چیز موجود ہے؟ ایک غیر مسلم ریاست میں رہتے ہوئے مسلمان اپنے مذہبی تشخص اور اعتقادات کے ساتھ کس طرح وابستہ رہ سکتے ہیں؟ اس ریاست سے متعلق ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

جواب: ’’مسلم تشخص‘‘ یہی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک عقیدہ پر قائم ہیں، قرآن وسنت کے ساتھ واضح کمٹمنٹ رکھتے ہیں، اپنی تہذیبی شناخت کو باقی رکھنے پر مصر ہیں، خاندانی نظام میں مذہبی احکام سے ہٹ کر کسی مداخلت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ان کی مساجد ومکاتب اور دینی تعلیم کا بنیادی نظام یکساں ہے اور وہ دینی روایات کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان تمام معاملات میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں پائی جانے والی یکسانیت واضح طور پر نظر آنے والی معروضی حقیقت ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے مرکز بیت اللہ شریف اور مدینہ منورہ میں بلا امتیاز حاضری دے کر ایک ہی طریقے سے اپنی کمٹمنٹ کا مسلسل اظہار کرتے رہتے ہیں۔

ایک مسلمان کے کسی غیر مسلم ملک (مثلاً برطانیہ) کا شہری ہونے کا مطلب اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ ہے کہ وہ:

  • خود کو برطانیہ کا شہری تصور کرے۔
  • جس معاہدے کے تحت وہ شہری بنا ہے، اس کی پابندی کرے۔
  • قانون ودستور اور سسٹم کو چیلنج نہ کرے۔
  • اپنے مذہب اور کلچر پر برقرار رہنے کے مسلمہ حق سے دست بردار نہ ہو۔
  • ملکی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مذہبی احکام پر عمل کرے اور اپنے دیگر مسلمان برادران وطن بلکہ ملک سے باہر کے مسلمانوں کے ساتھ بھی بھائی چارے اور باہمی تعاون وحمایت کا قانونی حق استعمال کرے، البتہ قانون اور سسٹم کو چیلنج نہ کرے اور اس حوالے سے میرے نزدیک دنیا کے کسی بھی ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن حقوق کو یہودی اس ملک کے قانون کی پابندی اور عالمی سطح پر یہودیوں کے مفادات وحقوق کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
  • ملک کے سیاسی نظام میں شریک ہو اور مسلمانوں کے حقوق ومفادات کے ساتھ ساتھ ملک کی عمومی آبادی اور عام شہریوں کے حقوق ومفادات کے تحفظ اور ملک وقوم کے اجتماعی مفاد کے لیے کردار ادا کرے۔
  • اگر ملک کے دستور وقانون میں کوئی بات اپنے عقیدہ اور مسلمہ حق کے خلاف سمجھتا ہے تو اس کے لیے معروف طریقوں سے آواز اٹھائے، لابنگ کرے اور پالیسی سازوں کو اپنے موقف پر قائل کرنے کی ہر ممکنہ صورت اختیار کرے۔

سوال ۲: کیا وقت کے ساتھ ساتھ ’تشخص‘ کے بدلنے کے حوالے سے کوئی اسلامی نقطہ نظر موجود ہے جس میں اس امر کی گنجایش مانی جاتی ہو کہ ’’کسی ملک (مثلاً برطانیہ) کا شہری ہونے کا کیا مطلب ہے؟‘‘ کے سوال کا جواب مختلف طریقوں سے دیا جا سکتا ہے؟

جواب: اسلام ایک مسلمان کے بنیادی تشخص (مثلاً اسلام پر قائم رہنے اور قرآن وسنت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ برقرار رکھنے) میں تغیر کو قبول نہیں کرتا اور ہر حال میں ایک مسلمان کو اس کی پابندی کا حکم دیتا ہے، البتہ وقت کے ساتھ ساتھ تشخص وتنوع میں جزوی تغیر کو اسلام تسلیم کرتا ہے اور یہ فطری بات ہے۔ آج کے عالمی ماحول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ گلوبلائزیشن کا دور ہے اور تہذیبوں کے اختلاط کا دور ہے کیونکہ فاصلے اس قدر سمٹ گئے ہیں کہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان صدیوں سے قائم سرحدیں پامال ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ آج کے دور میں جبکہ تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان حدود اور فاصلوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، منطقی طور پر یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے کہ مختلف تہذیبوں کے اختلاط کے دور میں اسلام کیا راہ نمائی کرتا ہے؟ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات وارشادات میں اس بارے میں واضح راہ نمائی موجود ہے اور احادیث کے ذخیرے میں بہت سی روایات پائی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر بخاری شریف کی ایک روایت کا حوالہ دینا چاہوں گا جو امام بخاریؒ نے کتاب النکاح میں بیان کی ہے اور اس تفصیلی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش کے بہت سے خاندان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو مہاجرین اور انصار کی خاندانی روایات میں واضح فرق موجود تھا۔ مہاجرین کے ہاں کسی عورت کا خاوند کو کسی بات پر ٹوکنا یا اس کی کسی بات کو رد کرنا سرے سے متصور نہیں تھا جبکہ انصار کے خاندانوں میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ خاوند کو کسی بات پر ٹوک سکتی ہیں، کسی بات کا جواب دے سکتی ہیں اور کسی بات سے انکار بھی کر سکتی ہیں۔ حضرت عمرؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایک روز ان کی بیوی نے کسی بات پر ٹوک دیا تو انہیں بہت غصہ آیا اور انہوں نے بیوی کو ڈانٹا۔ بیوی نے جواب دیا کہ مجھے ڈانٹنے کی ضرورت نہیں، یہ تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بھی ہوتا ہے کہ ان کی ازواج مطہرات کسی بات پر ٹوک دیتی ہیں اور کسی بات کا جواب بھی دے دیتی ہیں۔ حضرت عمرؓ نے اسے اس بات سے تعبیر کیا کہ انصار کی عورتوں کی عادات ہماری عورتوں پر اثر انداز ہوتی جا رہی ہیں چنانچہ حضرت عمرؓ اسی غصے کی حالت میں سیدھے ام المومنین حضرت حفصہؓ کے گھر پہنچے جو ان کی بیٹی تھیں اور انہیں سمجھایا بجھایا کہ ایسا مت کیا کرو۔ وہ تو بیٹی تھیں، خاموش رہیں مگر یہی بات جب حضرت عمرؓ نے ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے کہنا چاہی تو انہوں نے آگے سے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ ’’آپ نے میاں بیوی کے معاملات میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے؟‘‘ حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صرف یہ فرمایا کہ ’’آخر ام سلمہ ہے‘‘۔

یہ دو علاقائی ثقافتوں اور معاشرتی روایات کے اختلاط اور ٹکراؤ کا قصہ ہے اور میری طالب علمانہ رائے ہے کہ تہذیبوں کے اختلاط اور مختلف ثقافتوں کے باہمی میل جول کے مسائل میں یہ روایت اصولی اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے جس سے ہمیں راہ نمائی حاصل کرنی چاہیے اور دور نبوی کے اس طرز کے واقعات اور روایات واحادیث کی روشنی میں آج کے عالمی حالات کے تناظر میں اصول وضوابط وضع کرنے چاہییں کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے تال میل میں کہاں ایڈجسٹ منٹ کی گنجائش ہے، کہاں صاف انکار کی ضرورت ہے اور کہاں کوئی درمیان کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ دین اور ثقافت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ ان کے درمیان حد فاصل قائم رہنی چاہیے اور دونوں کو گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ دین کی بنیاد آسمانی تعلیمات پر ہے اور اس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے جبکہ ثقافت کی بنیاد ایک علاقہ میں رہنے والے لوگوں کے درمیان خود بخود تشکیل پا جانے والی معاشرتی اقدار وروایات پر ہوتی ہے اور اس کا سرچشمہ سوسائٹی اور اس کا ماحول ہوتا ہے۔ اگر علاقائی ثقافتوں پر دین وشریعت کا لیبل لگا کر انہیں ساری دنیا سے ہرحال میں منوانے کی بات جائے گی تو اس سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہوں گے۔

سوال ۳: عالمی سطح پر (مثلاً برطانیہ، یورپ کے باقی ممالک اور وسیع تر دنیا کے مابین) باہمی تعلقات کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ کیا دنیا کے ایک عالمی کمیونٹی ہونے کے حوالے سے اسلام کوئی منفرد نقطہ نظر رکھتا ہے؟

جواب: اسلام خود گلوبل سوسائٹی کا علم بردار ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دین کی دعوت کے لیے پوری نسل انسانی کو خطاب کیا ہے اور حجۃ الوداع کے خطبے میں (دنیا کی تاریخ میں پہلی بار) گلوبل انسانی سوسائٹی کے خد وخال واضح کیے ہیں اور اس کے بنیادی اصول بیان فرمائے ہیں، البتہ اسلام گلوبل سوسائٹی کی نظریاتی بنیاد آسمانی تعلیمات کو سمجھتا ہے اور قرآن وسنت کو اس کی محفوظ اور فائنل شکل قرار دیتا ہے جیسا کہ مغرب ویسٹرن کلچر کو گلوبل سوسائٹی کی بنیاد قرار دیتا ہے اور اسے دنیا بھر سے منوانے کے لیے ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کر رہا ہے۔

سوال ۴: کیا ایک یکجان اور آپس میں جڑی ہوئی کمیونٹی وجود میں لانے کے بارے میں کوئی اسلامی نقطہ نظر پایا جاتا ہے؟

جواب: آسمانی تعلیمات کے معاشرتی کردار کی نفی اور وحی الٰہی سے انحراف کی بنیاد پر کمیونٹی کے باہمی اتحاد کو اسلام قبول نہیں کرتا۔

سوال ۵: اسلام میں رضا کارانہ خدمت اور (غریبوں کی) مالی امداد اتنی اہم کیوں ہے؟

جواب: وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات نے ہر دور میں انسان کو راستی کی تعلیم دی ہے، امن کا راستہ دکھایا ہے، باہمی محبت اور رواداری کا سبق دیا ہے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی ہے، نادار اور بے سہارا افراد کی خدمت پر آمادہ کیا ہے، سچائی اور دیانت وامانت کو انسانی سوسائٹی کی اساسی اقدار قرار دیا ہے اور حیا وپاک دامنی کو انسان کا زیور بتایا ہے۔ بائبل اور قرآن کریم کے سینکڑوں اوراق وحی الٰہی کی ان تعلیمات پر گواہ ہیں اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کے متعدد ارشادات مقدس کتابوں میں اس حوالہ سے موجود ومحفوظ ہیں۔ ہم اس حوالے سے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سے دو حوالے دینا مناسب سمجھیں گے:

ایک یہ کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی وحی کے نزول کے بعد غار حرا سے اتر کر گھر آئے اور اس اچانک واقعہ پر کچھ گھبراہٹ کا اظہار کیا تو ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ گھبرائیں نہیں، اس لیے کہ آپ

’’۱۔ صلہ رحمی کرتے ہیں، ۲۔ ناداروں اور بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، ۳۔مہمانوں اور مسافروں کی خدمت کرتے ہیں، ۳۔ ناگہانی آفتوں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں، ۵۔ محتاجوں کو کما کر کھلاتے ہیں۔‘‘

دوسرا حوالہ اس موقع کا ہے جب بخاری شریف ہی کی روایت کے مطابق سلطنت روما کے فرمانروا شاہ ہرقل کے نام جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پہنچا اور شاہ ہرقل نے عرب دنیا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت کے سب سے بڑے حریف جناب ابو سفیانؓ کو دربار میں بلا کر ان سے حضرت محمد کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو ابو سفیانؓ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور پیغام کا تعارف قیصر روم کے دربار میں ان الفاظ میں کرایا کہ:

۱۔ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں،
۲۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نماز کا حکم دیتے ہیں،
۳۔ سچائی کی تلقین کرتے ہیں،
۴۔ صلہ رحمی کو ضروری قرار دیتے ہیں،
۵۔ اور پاک دامن رہنے کا سبق دیتے ہیں۔

سوسائٹی اور تمدن کا قیام چونکہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور سوسائٹی اور تمدن کی بنیاد باہمی تعاون پر ہے، اس لیے باہمی تعاون کی رضاکارانہ صورتوں کو اسلام نہ صرف ضروری قرار دیتا ہے، بلکہ انھیں مذہبی فرائض میں شمار کرتا ہے اور ان سے انحراف کو گناہ اور جرم تصور کرتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث نبوی میں ہے کہ:

’’جو شخص خود پیٹ بھر کر رات کو سویا رہا اور اس کے پڑوسی نے بھوک کی حالت میں رات گزار دی، جبکہ اسے اس کے بارے میں معلوم بھی ہے تو ایسے شخص کو مومن کہلانے کا حق حاصل نہیں ہے۔‘‘

اسی طرح اور بھی بہت سی احادیث میں سماجی ضروریات اور خدمات سے غفلت برتنے کو مذہبی طور پر گناہ اور جرم قرار دیا گیا ہے۔ حضرات انبیاے کرام علیہم السلام کی تعلیمات کا یہی خلاصہ ہے۔ نسل انسانی نے جس دور میں بھی ان تعلیمات کو اپنایا ہے، اسے سکون واطمینان کی وافر دولت ملی ہے اور انسانوں نے باہمی محبت واعتماد کی زندگی بسر کی ہے اور جب بھی ان آسمانی تعلیمات کے بارے میں افراط وتفریط سے کام لیا گیا ہے، انسانی سوسائٹی میں امن اور سکون کا توازن بگڑ گیا ہے۔

سوال ۶: صنفی مساوات کے حوالے سے اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟

جواب: اسلام مرد اور عورت کو سوسائٹی اور تمدن کی دو ناگزیر بنیادیں تصور کرتا ہے اور باہمی برتری اور فضیلت کے لیے بر وتقویٰ کو بنیاد قرار دیتا ہے، لیکن معاشرتی معاملات میں دونوں کے درمیان مکمل فطری مساوات کا قائل نہیں ہے اور اس کے نزدیک یہ غیر فطری اور مصنوعی بات ہے، اس لیے کہ مرد اور عورت کی جسمانی تخلیق، نفسیات اور ان کے فطری فرائض میں ایسا تنوع موجود ہے جس سے نہ تو انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے تبدیل کرنے کی کوئی صورت ممکن ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان جسمانی تخلیق، نفسیاتی رجحانات اور فطری ذمہ داریوں میں جو واضح فرق موجود ہے، اسلام ان کے باہمی حقوق وفرائض کے تعین وتقسیم میں اسی کو بنیاد قرار دیتا ہے اور اس کے مطابق دونوں کے لیے احکام وقوانین میں ا س نے فرق وامتیاز قائم رکھا ہے۔

اسلام نے عورت کے معاشی حقوق اور تحفظات کا متوازن نظام پیش کیاہے۔ یہ شعبہ ایسا ہے جہاں بڑے بڑے نظام افراط وتفریط کا شکار ہو گئے ہیں، لیکن اسلام نے اعتدال اور توازن کا اصول یہا ں بھی پوری طرح قائم رکھا ہے۔ اسلام نے فرائض کی ایک فطری تقسیم کر دی ہے کہ گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت کی ہے اور باہر کی ذمہ داری مرد پر ہے اور مردو عورت کی خلقت میں فطرت نے جو طبعی فرق رکھا ہے، اس کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے سوا کوئی تقسیم ممکن ہی نہیں ہے۔ چونکہ گھر کے اندر کا نظام عور ت کی سپرداری میں ہے، اس لیے باہر کی کوئی ڈیوٹی اس کے سپرد کرنا اس پر ظلم ہے۔ اسی لیے عورت کے تمام اخراجات مرد کے ذمہ لگا دیے گئے ہیں اور ان اخراجات کے سلسلہ میں عور ت کو عدالتی تحفظات بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ کوئی مرد اس معاملے میں عورت کے ساتھ ناانصافی نہ کرسکے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام عورت کے ملازمت کرنے پر کلی پابندی لگاتا ہے۔ ہرگز نہیں! بلکہ اسلام عورت کو ایسی ہر ملازمت کی اجازت دیتا ہے جس سے اس پر اس کی طاقت وصلاحیت سے زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

اسی طرح اسلام کے نزدیک ’’خاندان‘‘ سوسائٹی کی بنیادی اکائی ہے جس کا تحفظ ضروری ہے اور خاندان کا یونٹ اس کے سوا قائم نہیں رہ سکتا کہ رشتوں کا تقدس تسلیم کیا جائے، مرد وعورت کے کسی ایسے باہمی میل جول کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے جس کے نتیجے میں آزادانہ جنسی ملاپ اور رشتوں کے تقدس کی پامالی اور خاندان کے بکھر جانے کی صورت پیدا ہو جائے۔ نیز خاندان کے یونٹ کا ڈسپلن اور نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے سسٹم میں فائنل اتھارٹی ایک ہو، اس لیے اسلام خاندان کے نظام میں مرد کی برتری کی تعلیم دیتا ہے، البتہ مرد کی سنیارٹی کو خاندان کے تحفظ کی ضمانت قرار دیتے ہوئے عورت کو وہ تمام حقوق فراہم کرتا ہے جو ایک شہری، ایک مسلمان اور سوسائٹی کے ایک فرد کے طور پر اس کے لیے ضروری ہیں۔ نسل انسانی کی نشو ونما اور ترقی میں عورت کا بھی اتنا ہی عمل دخل ہے جتنا مرد کا ہے، اس لیے اسلام نے عورت کے وجود کو نہ صرف تقدس واحترام بخشا بلکہ ان کی اہمیت وافادیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور اسے ان تمام حقوق اور تحفظات سے نوازا ہے جو مرد اور عورت کے فطری فرائض کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔

مثال کے طور پر آزادی رائے کو انسانی حقوق میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تاریخ یہ منظر پیش کرتی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک بوڑھی خاتون خولہ بنت حکیمؓ امیر المومنین حضرت عمر کو سرعام روک کر کھڑی ہے اور کہہ رہی ہے : ’’عمر! وہ دن یاد رکھو جب تمہیں عکاظ کے بازار میں صرف عمر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور آج تم امیر المومنین کہلاتے ہو، اس لیے خدا سے ڈرتے رہو اور انصاف کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہو‘‘۔ حضرت عمرؓ اس بڑھیا کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں اور اپنے عمل کے ساتھ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ انسانی معاشرہ میں مرد کی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ راہ چلتے امیر المومنین کا راستہ روک کر کھڑی ہوجائے اور انصاف کی تلقین کرے۔

اسلام مر دکی طرح عورت کو بھی یہ حق دیتاہے کہ وہ اپنے جائز حق کے لیے ڈٹ جائے اور اس کے خلاف کسی بڑے سے بڑے دباؤ کی پروا نہ کرے۔ حضرت عائشہؓ کی باندی بریرہ کو آزاد ہونے کے بعد شرعی طورپر یہ حق حاصل ہو گیاتھا کہ وہ اپنے سابقہ خاوند مغیثؓ کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اس سے الگ ہو جائے۔ بریرہؓ نے اپنا یہ حق استعمال کیا تو مغیثؓ پریشان ہوگئے۔ وہ مدینہ کی گلیوں میں روتے پھرتے تھے اور کہتے تھے کہ کوئی ہے جو بریرہؓ کو دوبارہ میرے ساتھ رہنے پر آمادہ کرے؟ اس کی حالت دیکھ کر خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے بات کی اور اسے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کے لیے کہا۔ بریرہؓ نے صرف یہ پوچھا کہ یارسول اللہ! یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف مشورہ ہے، تو بریرہؓ نے دو ٹوک کہہ دیا کہ میں یہ مشورہ قبول نہیں کرسکتی۔ چنانچہ بریرہؓ مغیثؓ سے الگ رہنے کے فیصلے پر قائم رہی اور اپنے عمل کے ساتھ اسلام کا یہ اصول دنیا کے سامنے پیش کیا کہ عورت اپنے جائز حق سے از خود دستبردار نہ ہونا چاہے تو اسے اس کے حق سے کسی صورت میں محروم نہیں کیا جا سکتا۔

خلافت راشدہ کے دور میں عورت اجتماعی معاملات میں بھی مشاورت کے دائرہ میں شامل رہی ہے،بالخصوص ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن کو تو اس دور میں امت مسلمہ کی اجتماعی راہ نمائی کا مقام حاصل تھا۔ اہم امور میں ان سے مشورہ کیا جاتا تھا اور ان سے اجتماعی معاملات میں راہ نمائی حاصل کی جاتی تھی، حتیٰ کہ ایک موقع پر مدینہ منورہ کے امیر مروانؓ بن حکم نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’جب تک ازواج مطہرات موجود ہیں، ہمیں دوسرے لوگوں سے مسائل دریافت کرنے کی ضرورت ہی کیاہے!‘‘ اور عورتوں سے متعلقہ امور میں تو مشورہ ہی عورتوں سے کیا جاتا تھا۔ مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ نے ام المومنین حضرت حفصہؓ کے ذمہ لگایا کہ وہ سمجھدار عورتوں سے مشورہ کرکے بتائیں کہ ایک عورت خاوند کے بغیر کتنا عرصہ آسانی کے ساتھ گزار سکتی ہے۔ چنانچہ ان کی رائے پر حضرت عمرؓ نے حکم جاری کیا کہ ہر فوجی کو چھ ماہ کے بعد کچھ دنوں کے لیے ضرور گھر بھیجا جائے۔

خلافت راشدہ کے دور میں خواتین کو علم حاصل کرنے اور تعلیم دینے کے آزادانہ مواقع میسر تھے۔ حضرت عائشہؓ اور ان کے ساتھ سینکڑوں خواتین کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات امت تک پہنچانے کا شرف حاصل ہے۔ ان کے شاگردوں میں مر د بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ وہ نہ صرف احادیث بیان کرتی تھیں، بلکہ فتویٰ بھی دیتی تھیں اور ان کے فتوے پر عمل کیا جاتاتھا۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے جو فتاویٰ منقول ہیں، ان سے ایک بڑا مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے بڑے بڑ ے علما صحابہ مسائل میں رجوع کرتے تھے اور اپنے اشکالات کا تسلی بخش جواب پاتے تھے۔ اسی طرح حضرت ام سلمہؓ سے بھی علمی معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا۔ الغرض علم اور افتا کا میدان بھی خواتین کے لیے کھلا تھا اور اس میں ان کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی۔

الغرض اسلام عورت کو انسانی زندگی کی گاڑی کا برابر کا پہیہ تسلیم کرتا ہے اور اس کو وہ تمام حقوق دیتا ہے جو انسانی معاشرہ میں اپنا فطری کردار ادا کرنے کے لیے اسے درکار ہیں، البتہ فرائض کی تقسیم وہ مرد اور عورت کے طبعی تقاضوں اور فطری ضروریات کو سامنے رکھ کر کرتاہے اور عورت کو ہر ایسے عمل سے روکتاہے جو اس کے نسوانی وقار، فطری ذمہ داریوں اور طبعی مناسبت کے منافی ہو اور اسلا م کا یہ اصول حق تلفی نہیں بلکہ عین انصاف ہے جس کے بغیر انسانی معاشرت کو متوازن رکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔

۴- جستجو، تنقیدی غور وفکر اور اختلاف رائے

سوال ۱: اسلام جستجو اور تنقیدی غور وفکر کو کیسے پروان چڑھاتا ہے تاکہ نوجوان نسل مختلف آرا اور آپشنز میں ذہنی دلچسپی لے اور ان پر غور کر سکے؟

سوال ۲: کیا تحقیق اور جستجو کے حوالے سے کوئی اسلامی اپروچ پائی جاتی ہے؟

سوال ۳: اسلام طالب علموں کو اپنا استدلال پیش کرنے اور اپنی رائے کو بیان اور واضح کرنے کے حوالے سے کیا مدد فراہم کر سکتا ہے؟

سوال ۴: اسلام نوجوانوں کو دوسرے کے ایسے خیالات کو سمجھنے اور انھیں بیان کرنے کے حوالے سے کیا مدد دے سکتا ہے جن سے ضروری نہیں کہ وہ متفق ہوں؟

جواب: قرآن کریم غور وفکر کی دعوت دیتا ہے، تاریخ کے حوالے سے بھی، اقوام کے عروج وزوال کے حوالے سے بھی، ارد گرد کے زمینی اور ماحولیاتی حقائق کے مشاہدہ کے حوالے سے بھی، آیات قرآنی پر تدبر کے حوالے سے بھی، کائنات کے مشاہدات اور سائنسی ارتقا کے حوالے سے بھی اور سوسائٹی کے مسائل پر بحث ومباحثہ کے حوالے سے بھی۔ اسلام سوسائٹی کے ہر فرد کا یہ حق تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے، حکمرانوں اور مقتدر طبقات پر تنقید کرے اور سوسائٹی کے مفاد کے لیے ہر سطح پر مشورہ دے۔ اسلام جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام تسلیم نہیں کرتا کہ اس کی بات حرف آخر ہے۔ وہ خلفاے راشدین کو بھی مجتہد کے درجے میں تسلیم کرتا ہے جن کی ہر بات میں خطا اور صواب دونوں کا احتمال موجود ہے اور ان کے کسی بھی فیصلے اور رائے سے اختلاف کی نہ صرف گنجایش موجود ہے، بلکہ بے شمار لوگوں نے ان کی بہت سی آرا سے عملاً اختلاف کیا ہے اور علمی اختلاف سے اسلامی کتب بھری پڑی ہیں۔ اسلام بنیادی طور پر تحقیق و جستجو کا دین ہے اور ایسے معاملات میں اسلامی لٹریچر سے ہزاروں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

اختلاف رائے انسانی فطرت کا اظہار اور عقل ودانش کا خوش ذائقہ ثمر ہے جو اپنی جائز حدود کے اندر اور جائز طریقہ سے ہو تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق امت کے لیے رحمت بن جاتا ہے اور اسے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تعالیٰ نے نہایت خوب صورت انداز میں یوں بیان فرمایا ہے کہ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان مسائل میں اختلاف نہ ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل اچھی نہ لگتی، کیونکہ اس طرح امت ہر مسئلہ میں ایک لگے بندھے راستے پر چلنے کی پابند ہو جاتی۔ اب اختلاف ہے، ایک ایک مسئلہ میں چار چار پانچ پانچ قول ہیں، تنوع ہے، چوائس ہے اور امت کے ارباب علم ودانش اپنے اپنے فہم، ذوق، ضرورت، حالات اور سہولت کے مطابق ان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا حق رکھتے ہیں جس سے علم ودانش کی دنیا رنگا رنگ خوش نما پھولوں کے ایک چمنستان کا روپ اختیار کر گئی ہے۔

اسلام گفتگو او رمکالمہ میں انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت بھی کرتا ہے اور دوسروں کے موقف کو صحیح طور پر دیانت داری کے ساتھ سمجھنا، بیان کرنا اور دلیل کے ساتھ اس کا جواب دینا ’وجادلہم بالتی ہی احسن‘ کا مصداق ہے جو اس سلسلے میں قرآن کریم کی ہدایت ہے۔ اسی طرح مقابل فریق کے طرز عمل کی خامیوں کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی خوبیوں کا اعتراف کرنا بھی اسلامی اخلاقیات کا حصہ ہے۔

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک روز مستورد قرشی رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’قیامت سے پہلے رومی لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہو جائے گی۔‘‘ روم اس دور میں مسیحی سلطنت کا پایہ تخت تھا اور رومیوں سے عام طور پر مغرب کے مسیحی حکمران ہوتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ ’’دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ مستورد قرشی نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے فرمایا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر ان رومیوں میں چار خصلتیں موجود ہوں گی (جن کی وجہ سے وہ انسانی سوسائٹی پر غالب آئیں گے):

پہلی یہ کہ وہ فتنے اور آزمایش کے وقت دوسرے لوگوں سے زیادہ تحمل او ربردباری کا مظاہرہ کریں گے۔ دوسری یہ کہ وہ مصیبت گزر جانے کے بعد سنبھلنے میں دوسرے لوگوں سے زیادہ تیز ہوں گے۔ تیسری یہ کہ وہ شکست کے بعد دوبارہ جلدی حملہ آور ہونے والے ہوں گے۔ چوتھی یہ کہ وہ اپنے یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے لیے اچھے لوگ ثابت ہوں گے۔ اتنا کہہ کر حضرت عمرو بن العاصؓ نے فرمایا کہ ان میں ایک اور پانچویں خصلت بھی ہوگی جو اچھی اور خوب ہوگی کہ وہ لوگوں کو حکمرانوں کے مظالم سے روکنے میں پیش پیش ہوں گے۔

آج مغرب سے ہمیں شکوہ ہے کہ مغرب ہمارے خلاف صف آرا ہے اور ہمیں اپنا سب سے بڑا حریف سمجھ کر زیر کرنے کے لیے جو کچھ وہ کر سکتا ہے، کر رہا ہے۔ مغرب سے ہمیں یہ بھی شکایت ہے کہ وہ ہم پر اپنی ثقافت مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور انسانی حقوق کے خود ساختہ فلسفے کے ہتھیار سے ہماری اخلاقی، دینی اور معاشرتی اقدار کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہے۔ یہ سب شکایا ت بجا ہیں، لیکن ہمیں حضرت عمرو بن العاصؓ کے مذکورہ ارشاد کے حوالے سے مغرب کے ساتھ اپنا تقابل بھی کر لینا چاہیے کہ:

  1. مصیبت اور مشکل کے وقت مغربی اقوام اور ہمارے طرز عمل میں کیا فرق ہوتا ہے؟
  2. مصیبت کے گزر جانے کے بعد سنبھلنے میں ہم کتنا وقت لیتے ہیں؟
  3. شکست کے بعد اس کی تلافی کرنے یا ماتم کرتے رہنے میں سے ہم کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں؟
  4. معاشرہ کے نادار اور بے سہارا لوگوں کی کفالت کے لیے ہمارے پاس کون سا نظام موجود ہے؟
  5. عام لوگوں کو حکام کے مظالم اور ریاستی جبر سے بچانے کے لیے ہمارا ’’معاشرتی شعور‘‘ کس مرحلے میں ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب کا گزشتہ نصف صدی کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے تو یہ شکایت ضرور سامنے آتی ہے کہ مسلم ممالک کے بارے میں مغرب دوہرا معیار رکھتا ہے اور جن ممالک کی حکومتیں مغرب کے مفادات کی نگہبانی کر رہی ہیں، وہاں کے عوام کے انسانی اور سیاسی حقوق کے معاملے میں مغرب نے مجرمانہ غفلت اور خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن اس سے ہٹ کر عمومی تناظر میں دیکھا جائے تو اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ آج مغربی ممالک دنیا بھر کے مختلف خطوں کی حکومتوں کے ستائے ہوئے مظلوموں کی سب سے بڑی پناہ گاہ بھی ہیں اور معاشرے کے نادار اور معذور افراد کے لیے اگر زندگی کی سب سے زیادہ سہولتیں میسر ہیں تو وہ بھی انھی مغربی ممالک میں ہیں۔

۵- درست معلومات پر مبنی اور ذمہ دارانہ عملی اقدام

سوال ۱: معاصر دنیا میں درست معلومات پر مبنی اور ذمہ دارانہ اقدام کرنے کے بارے میں اسلام نوجوان مسلمانوں کی کیسے مدد کر سکتا ہے؟

سوال ۲: معاصر ذرائع ابلاغ سے نبرد آزما ہونے اور سچ کو جھوٹ سے الگ کرنے کے حوالے سے اسلام نوجوان مسلمانوں کی کیسے راہنمائی کر سکتا ہے؟

جواب: قرآن کریم نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ محض سنی سنائی خبروں پر کوئی فیصلہ نہ کریں جب تک کہ ان کی تحقیق نہ کر لیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ نادانی میں کسی گروہ کو نقصان پہنچا بیٹھیں اور پھر انھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے، (سورۃ الحجرات)۔

اسی طرح قرآن کریم کی ہدایت ہے کہ جو لوگ امن یا خوف کی ہر خبر کو پھیلا دیتے ہیں، ان کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور اگر وہ خبر کی تحقیق اور اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں تک خبر پہنچائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے، (سورۃ النساء)۔