پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۱۹۹۴ء

(15 اپریل 1994ء کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں مدیر اعلیٰ الشریعہ کا پریس کانفرنس سے خطاب)

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے 1987ء میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط عائد کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جس نظریاتی اور اعصابی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ان شرائط میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی ضمانت، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے اقدامات کی واپسی کے مطالبات شامل تھے، اور ان میں اب گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کے تقاضہ کا اضافہ بھی ہوگیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ان شرائط اور مطالبات کا مقصد اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کو روکنا، اسے اسلامی تشخص سے محروم کر کے ایک سیکولر ریاست کی حیثیت دینا، اور دفاعی طور پر کمزور اور بے بس بنا کر بھارت کے زیر اثر ممالک میں شامل کرنا ہے۔ ان شرائط و مطالبات کی تکمیل کے لیے امریکہ نہ صرف پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کو روکے ہوئے ہے بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے سے پاکستان پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کرتا جا رہا ہے اور پاکستان کے اندر مختلف طبقات بالخصوص اقلیتوں کو ابھار کر فکری انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے مغربی ممالک کا دورہ کرنے والے پاکستانی وفد کے سامنے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جو مطالبات رکھے ہیں ان میں آٹھویں آئینی ترمیم کے خاتمہ، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔

امریکہ اور اس کی ہمنوا دیگر مغربی قوتیں و لابیاں اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کا نعرہ بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں اور پاکستان میں ملک کے اسلامی تشخص کے تحفظ، دفاعی استحکام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے اقدامات کو نام نہاد ’’انسانی حقوق‘‘ کی خلاف ورزی قرار دے کر انہیں بلڈوز کر دینا چاہتی ہیں۔ انسانی حقوق کا یہ فلسفہ مغربی دنیا کا خودساختہ ہے جس کی تشکیل اور تشریح کے تمام اختیارات مغرب نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں جو اسلامی دنیا کے لیے قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں قرآن کریم اور جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے پابند ہیں اور قرآن و سنت کے احکام کے خلاف کسی بھی فلسفہ کی بالادستی کو قبول کرنا اسلامی نظام کے اجتماعی کردار سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس لیے ہم انسانی حقوق کے دائرہ کار کے تعین اور ان کی تشریح پر مغرب کی اجارہ داری کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں اور امریکی حکومت اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطالبات کو اسلامیان پاکستان کے دینی معاملات اور مذہبی عقائد میں کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں جبکہ امریکہ اور اس کے حواری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جنگ کے فیصلہ کن راؤنڈ کا آغاز کر چکے ہیں، پاکستان کے سیاسی و دینی حلقوں کا طرز عمل انتہائی افسوسناک اور مایوس کن ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی قوتیں اقتدار کے حصول اور تحفظ کے لیے امریکہ کی خوشنودی کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کی خاطر ’’خود سپردگی‘‘ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ جبکہ دینی حلقوں کے بیشتر قائدین نہ صرف صورتحال کی سنگینی کے احساس اور مسائل کے ادراک سے عاری ہو چکے ہیں بلکہ باہمی انتشار، بے اعتمادی اور غلط ترجیحات کے باعث عوام میں بد دلی اور مایوسی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

ان حالات میں رائے عامہ کو امریکی عزائم کے خلاف بیدار کرنا اور پاکستانی عوام میں مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنا سب سے اہم قومی ضرورت اور دینی تقاضہ ہے۔ اسی مقصد کے لیے ورلڈ اسلامک فورم نے گروہی اور انتخابی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کے فکری اجتماعات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے کراچی میں 26 دسمبر 1993ء کو اور گوجرانوالہ میں 12 جنوری 1994ء کو علماء کنونشن منعقد ہو چکے ہیں۔ جبکہ اس سلسلہ کا تیسرا کنونشن 18 اپریل 1994ء کو شیرانوالہ گیٹ ہری پور ہزارہ میں اور چوتھا کنونشن 22 اپریل کو جامع مسجد انارکلی لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری پر یقین رکھنے والے ہر شہری سے گزارش ہے کہ وہ اس مہم میں شریک ہو اور ہمارا ہاتھ بٹائے۔

رتہ دوہتڑ توہین رسالتؐ کیس

اس موقع پر ’’رتہ دوہتڑ توہین رسالتؐ کیس‘‘ کے حوالہ سے کچھ گزارشات ضروری معلوم ہوتی ہیں۔ یہ کیس جسے بی بی سی، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی اور آل انڈیا ریڈیو کے مسلسل پراپیگنڈہ نے عالمی شہرت دے دی ہے اب اسلامیان پاکستان کے دینی جذبات اور محبت رسولؐ کی علامت بن چکا ہے۔ مگر حکومت پاکستان کا طرز عمل یہ ہے کہ امریکہ کے دباؤ کے تحت گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کے قانون میں تبدیلی کی فکر کے ساتھ ساتھ اس کیس کے حوالہ سے بھی امریکہ کو ہر حال میں خوش رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور پاکستانی عوام کے مذہبی جذبات کی توہین کے مترادف ہے۔

اس ضمن میں مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں کا طرز عمل بھی قابل افسوس ہے جو گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کی مخالفت کر کے خود بائبل کے احکام سے انحراف کر رہے ہیں۔ کیونکہ بائبل میں انبیاء کرام علیہم السلام تو کجا مذہبی پیشوا کی گستاخی اور کتاب مقدس کے صندوق کی توہین پر بھی موت کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں کی طرف سے اس سزا کی مخالفت ناقابل فہم ہے۔ البتہ ان کے اس مطالبہ کی ہم حمایت کرتے ہیں کہ اس قانون میں جناب محمد رسول اللہؐ کے ساتھ دیگر انبیاء کرامؑ کا بھی ذکر کیا جائے۔ کیونکہ ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے کسی بھی سچے پیغمبر کی توہین کو اسی طرح ناقابل معافی جرم سمجھتے ہیں جس طرح جناب نبی اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی جرم ہے۔ اسی طرح ہم مسیحی اقلیت کے اس مطالبہ کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کسی بھی مقدمہ کے اندراج سے قبل مجسٹریٹ کی انکوائری کو ضروری قرار دیا جائے۔ ہمیں اقلیتوں سے کوئی عناد نہیں ہے اور انہیں اس قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ہر جائز تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا اٹل ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس سلسلہ میں گستاخ رسولؐ منظور مسیح کے قتل کے الزام میں ماسٹر عنایت اللہ اور دیگر بے گناہ افراد کی گرفتاری بھی افسوسناک ہے اور ہم مسیحی اقلیت کے مذہبی پیشواؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کسی گستاخ رسولؐ کی حمایت کر کے اپنی پوزیشن خراب نہ کریں اور نہ بے گناہ افراد کی گرفتاری کے لیے اپنی صلاحیتیں ضائع کریں۔ اگر مسیحی راہنما چاہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں کہ رتہ دوہتڑ توہین رسالت کیس اور منظور مسیح قتل کیس کی انکوائری کے لیے ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے جس میں تحفظ ناموس رسالت ایکشن کمیٹی کے نمائندے اور مسیحی مذہبی راہنما بھی شامل ہوں۔ اور یہ کمیشن دونوں کیسوں کے بارے میں تحقیقات کر کے حقائق کی نشاندہی کرے تاکہ اصل حالات پاکستانی عوام اور عالمی رائے عامہ کے سامنے واضح ہو سکیں۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ

  1. انسانی حقوق کے نام نہاد اور یکطرفہ مغربی فلسفہ کو مسترد کرنے کا اعلان کیا جائے،
  2. پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا دوٹوک اعلان کیا جائے،
  3. گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے،
  4. اور منظور مسیح قتل کیس میں گرفتار بے گناہ ماسٹر عنایت اللہ اور ان کے رفقاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔