چوہدری شجاعت حسین سے وابستہ توقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۰ اپریل ۲۰۰۳ء

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم مسلمان بھائیوں کے خون کے بدلے میں ملنے والے پیسوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ذمہ ایک ارب ڈالر کا قرضہ معاف کر دیا ہے جس کے بارے میں بعض سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے امریکہ نے وہ وعدہ پورا کیا ہے جو اس نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی عالمی مہم میں اس کا ساتھ دینے کے حوالہ سے پاکستانی حکومت کے ساتھ کر رکھا تھا۔ محترم چوہدری شجاعت حسین نے یہ بھی کہا ہے کہ عراق پر امریکی حملہ کے خلاف لاہور، راولپنڈی، کراچی، ملتان، پشاور اور دیگر شہروں میں جو ملین مارچ ہوئے ہیں ان میں پاکستان مسلم لیگ کی حمایت بھی شامل تھی اور ہمارے ساتھی بھی ان میں شریک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اسے سیاسی مسئلہ نہ بنائے اور اس سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔

ہمیں چوہدری صاحب کے اس ارشاد سے اتفاق ہے کہ عراق پر امریکی حملہ کے خلاف ملین مارچ کے ان پروگراموں کی کال اگرچہ متحدہ مجلس عمل نے دی ہے لیکن اس میں تمام طبقات کے لوگ شریک ہو رہے ہیں اور ان مظاہروں کے ذریعے سے پوری قوم نے متفقہ طور پر یہ عوامی فیصلہ دے دیا ہے کہ پاکستانی قوم بحیثیت قوم عراق پر امریکی اتحاد کے حملہ کی مذمت کرتی ہے، اسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ تصور کرتی ہے اور پاکستان کے عوام اس جنگ میں عراق کے مظلوم اور غیور عوام کے ساتھ ہیں۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے وہ تو امریکی حملہ کے خلاف پوری طرح متحد ہیں اور ان کی آواز ایک ہے لیکن ہماری سیاسی قیادت کی ترجیحات بہرحال اپنی جگہ موجود ہیں جو ہر باشعور شہری کو نظر آرہی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) اس وقت ملک کی مقتدر جماعت ہے اور اس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی اکثریت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس حوالہ سے عراق پر امریکی یلغار کے خلاف عوامی جذبات کو منظم کرنے کی مہم میں قیادت کرنے کی ذمہ داری اس کی بنتی ہے مگر چوہدری شجاعت حسین یہ فرما کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم بھی تو مجلس عمل کے ساتھ ہیں اور ہم بھی مسلمان بھائیوں کے خون کے بدلے میں ملنے والے پیسوں کو اچھا نہیں سمجھتے اور ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا طرز عمل بھی سب کے سامنے ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے عوام کی سیاست کرنے کی دعویدار ہے اور استعمار دشمنی کے نعروں میں آگے آگے رہتی ہے لیکن افغانستان اور اس کے بعد عراق کے عوام کے خلاف سامراجی قوتوں اور عالمی استعمار کی کھلم کھلا دہشت گردی کے بارے میں پی پی پی کی قیادت نے جو سیاسی حکمت عملی اپنا رکھی ہے اس نے عوام دوستی اور سامراج دشمنی کے سارے پردے ایک ایک کر کے اس کے چہرے سے اتار دیے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے گزشتہ دو سالوں کے دوران امریکہ کے کتنے چکر لگائے ہیں اور امریکی حکام سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ملاقاتیں کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہیں یہ اعتماد دلانے کی کوشش کی ہے کہ یہ جنگ جنرل پرویز مشرف کے بجائے وہ زیادہ بہتر طریقہ سے لڑ سکتی ہیں اس لیے انہیں ایک بار پھر چانس دیا جائے اور دوبارہ ایسا موقع فراہم کیا جائے کہ وہ بنیاد پرستی اور دہشت گردی کو کچلنے کے لیے امریکہ کے زیر سایہ مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کر سکیں۔ اور اس حقیقت سے کون آنکھیں بند کر سکتا ہے کہ امریکہ کے خلاف حالیہ عوامی مظاہروں کی قیادت میں آگے نہ آنے میں بھی پی پی پی قیادت کی یہی حکمت عملی کارفرما ہے کہ کہیں امریکہ بہادر اس قدر ناراض نہ ہو جائے کہ اس کے بعد کوئی اور چانس ملنے کا امکان ہی باقی نہ رہے۔

اس پس منظر میں اگر متحدہ مجلس عمل نے آگے بڑھ کر امریکہ مخالف مظاہروں کی کال دی ہے، انہیں منظم کرنے کے لیے محنت کی ہے اور ان کی قیادت کر کے عوامی جذبات کو سیاسی زبان دی ہے تو اسے اس کے کریڈٹ اور سیاسی فوائد سے مرحوم کرنا اور ’’سیاست‘‘ کا طعنہ دے کر اس کی اہمیت کو کم کرنا چوہدری شجاعت حسین جیسے سنجیدہ سیاستدان کے لیے کسی درجہ میں بھی مناسب نہیں ہے۔ چوہدری صاحب ملک کی مقتدر سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ان کی زبان سے یہ باتیں سن کر ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عراق پر ناجائز طور پر حملہ آور ہیں، یہ سراسر ظلم ہے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ جنگ ہے اور ہم اس حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔ پھر چوہدری صاحب کا یہ ارشاد بھی ہمارے لیے خوشی کا باعث بنا ہے کہ ہم مسلمانوں کے خون کے بدلے میں ملنے والی رقم پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لیکن ملک کے مقتدر ترین سیاستدان کی حیثیت سے ان سے ہمارا سوال ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان کو قرضوں میں جو معافیاں اور سہولتیں مل رہی ہیں اور مزید امداد کے جو وعدے ہو رہے ہیں وہ کس چیز کا معاوضہ ہیں؟ اور امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر اس قدر مہربان کیسے ہوگئے ہیں کہ اسلام آباد کو اٹھتے بیٹھتے آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کا طعنہ دینے والی حکومتیں اچانک قرضے معاف کرنے، انہیں ری شیڈول کرنے اور نئے قرضے دینے کے لیے تیار نظر آتی ہیں؟ کیا اس کے پیچھے اپنے مسلمان بھائیوں کا خون چوہدری صاحب کو نظر نہیں آرہا؟ پھر عراقی مسلمانوں پر بموں کی مسلسل بارش کے دوران اور عراقی بھائیوں کی تڑپتی لاشوں اور کٹتے جسموں کے تناظر میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے قرضے کی معافی کی ’’خوشخبری‘‘ دینے کا کیا مطلب ہے؟ چوہدری صاحب زمیندار ہیں، جاٹ ہیں، پنجاب کے جاٹوں کی روایات کے امین ہیں اور دوستیاں اور دشمنیاں رکھنے والے ڈیرہ دار ہیں۔ اگر اس کا مطلب وہ بھی نہیں سمجھتے تو پاکستان میں اور کون ہے جو اس کا مطلب سمجھتا ہوگا؟

چوہدری صاحب سے ہماری دوسری گزارش یہ ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے وہ یہ تصور کریں کہ چوہدری ظہور الٰہی مرحوم آج زندہ ہیں اور موجودہ عالمی اور ملکی تناظر کو دیکھ رہے ہیں۔ اور پھر یہ سوچیں کہ کیا آج کے حالات کے تناظر میں چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کا کردار بھی یہی ہوتا جو آج ان کا خاندان ادا کر رہا ہے؟ ہم چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کو جانتے ہیں، ہم نے ان کے ساتھ سالہا سال تک سیاسی کام کیا ہے، ہمیں یقین ہے کہ اگر چوہدری ظہور الٰہی مرحوم آج زندہ ہوتے تو امریکہ کے خلاف عوامی مظاہروں کی قیادت اور عالم اسلام کو امریکہ کے خلاف متحد کرنے کی مہم کا پرچم ان کے ہاتھ میں ہوتا اور وہ منہ میں ’’کھنگھیاں‘‘ ڈال کر دبے لفظوں میں صرف یہ نہ کہہ رہے ہوتے کہ ’’ہم بھی تو ساتھ ہی ہیں‘‘۔ یہ صرف چوہدری صاحب کی بات نہیں ہے بلکہ اس حوالہ سے ہمارے جذبات و احساسات یہ ہیں کہ آج ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق، چوہدری ظہور الٰہی میں سے کوئی بھی زندہ ہوتا تو ان کا کردار یقیناً وہ نہ ہوتا جو ان کی سیاسی جانشینی کی دعویدار اولاد ادا کر رہی ہے۔ اور ایک باحوصلہ، مدبر اور غیرت مند قیادت کی موجودگی قوم کے لیے یقیناً اطمینان اور اعتماد کا باعث ہوتی۔

اس پس منظر میں اگر مفتی محمودؒ کا بیٹا اپنے باپ کی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہے اور اسے دیکھ کر عوام کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر آج کے حالات میں مفتی محمودؒ زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی کرتے جو ان کا بیٹا کر رہا ہے تو چوہدری شجاعت حسین کو اسے ’’سیاست بازی‘‘ کا طعنہ دینے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے نہ صرف اپنے باپ کی روایات کا پرچم تھام رکھا ہے بلکہ وہ چوہدری شجاعت حسین کے والد محترم کی جرأت و حوصلہ کا پرچم بھی اٹھائے ہوئے ہے۔ چوہدری شجاعت حسین ایک محترم سیاسی لیڈر ہیں، ہمارے انتہائی محترم اور بزرگ دوست کے بیٹے ہیں اور ان سے ہمیں بہت سی توقعات ہیں جن میں سے سب سے بڑی توقع یہ ہے کہ اے کاش کہ وہ آمریت کو برسرعام للکارنے والا ظہور الٰہی بنیں، مچھ جیل والا ظہور الٰہی، بلوچستان کے مظلوم کی حمایت میں آواز بلند کرنے والا ظہور الٰہی، اور آمریت کو برسرعام للکارنے والا ظہور الٰہی۔ کیونکہ آج پنجاب کو اسی ظہور الٰہی کی ضرورت ہے جو ملک کے اس سب سے بڑے صوبے پر آمریت کے شکنجے کو مزید قوت بخشنے کے بجائے اپنی توانائیاں اس شکنجے کو توڑنے میں صرف کر سکے۔