بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد

بین الاقوامی معاہدات اور اصحاب فکر و دانش کی ذمہ داری

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف ہم بلکہ کم و بیش ساری دنیا بین الاقوامی معاہدات کے حصار ہیں، اور جنگ و امن کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی اور سولائزیشن کے حوالہ سے بھی بیسیوں معاہدات نے پوری دنیا پر حکمرانی کا سکہ جما رکھا ہے۔ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کی حکمرانی کم اور معاہدات کی حکمرانی زیادہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ طاقتور اور امیر ممالک اپنے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں جبکہ غریب اور کمزور اقوام و ممالک کو ان معاہدات کی بہرحال پابندی کرنا پڑتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۹ء

اسلام اور سائنس

اسلام اور سائنس کے موضوع پر گفتگو کے بیسیوں دائرے ہیں، ان میں سے صرف ایک پہلو پر عرض کرنا چاہوں گا کہ کیا اسلام اور سائنس آپس میں متصادم ہیں؟ کیونکہ عموماً‌ یہ بات دنیا میں کہی جاتی ہے کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور ان کے درمیان بُعد اور منافاۃ ہے۔ میں آج کی گفتگو میں اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔ سب سے پہلے اس بات پر غور فرمائیں کہ مذہب اور سائنس کے باہم مخالف اور متصادم ہونے کا جو تاثر عام طور پر پایا جاتا ہے اس کے بڑے اسباب دو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے

آرا و افکار کا تنوع اور خیالات و تاثرات کا اختلاف سیاست میں بھی ہے، تہذیب و ثقافت میں بھی ہے، معیشت و تجارت میں بھی ہے، طب و حکمت میں بھی ہے، اور مذہب میں بھی ہے۔ اس لیے اختلافات کا موجود ہونا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے بلکہ انسانی عقل و دانش کے مسلسل استعمال کی علامت ہے۔ البتہ اختلاف کا اظہار جب اپنی جائز حدود کو کراس کرنے لگتا ہے تو وہ تنازعہ اور جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ رواداری اور ہم آہنگی کے باب میں یہی نکتہ سب سے زیادہ قابل توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۱۵ء

ہم آہنگی کی حکمت عملی ۔ ماضی اور حال کے تجربات کی روشنی میں

پاکستان میں ہم آہنگی اور کشمکش کے اسباب میں چار امور خصوصی توجہ کے طلبگار ہیں۔ ہمارا اجتماعی مزاج یہ بن گیا ہے کہ دو باتیں ہمارے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور رواداری کا سبب بنتی ہیں، جبکہ دو باتیں انتشار و افتراق اور کشمکش کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد کے تناظر میں بات کروں گا کہ جب بھی ہم نے کسی مشترکہ قومی یا دینی مسئلہ کے لیے جدوجہد کی ہے ہمارے درمیان ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوا ہے اور تمام مذہبی مکاتب فکر باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر آگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۱۵ء

اختلاف رائے کے دائرے، حدود اور آداب

ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ کسی اختلاف کی اصل سطح اور دائرہ کو پیش نظر رکھے بغیر ہر اختلاف میں ایک ہی طرح کا طرز عمل اختیار کر لیا جاتا ہے جس سے اختلافات اکثر اوقات تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے میں مذہبی اختلافات کی مختلف سطحوں اور دائروں کے بارے میں اپنے طالب علمانہ مطالعہ کی روشنی میں کچھ امور کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۱۳ء

’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کا پس منظر

پاکستان میں حدود قوانین کی مخالفت کا سلسلہ ان کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے اور ملک کے سیکولر حلقوں کے ساتھ سینکڑوں این جی اوز اور انسانی حقوق کے حوالہ سے کام کرنے والی بیسیوں تنظیمیں اس مقصد کے لیے ربع صدی سے متحرک ہیں۔ ان کی اس مہم کا اصل مقصد تو وہی ہے جو بین الاقوامی حلقوں کا ہے جبکہ ملک کے اندرونی سیکولر حلقوں کی جدوجہد کے اہداف مذکورہ بالا بین الاقوامی اہداف سے مختلف نہیں ہیں، لیکن ان کے اعتراضات میں کچھ داخلی امور بھی ہیں جن میں سے ایک دو کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر

۱۹، ۲۰، ۲۱ مارچ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیراہتمام ’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے عرب دنیا کے ممتاز عالم و فقیہہ الاستاذ الدکتور وہبہ الزحیلی اور بھارت سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید جلال الدین العمری، مولانا سعود عالم قاسمی اور جناب فہیم اختر ندوی نے شرکت کی۔ مجھے بھی شرکت اور گفتگو کی دعوت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء

مغربی فلسفہ و تہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل

موضوع پر گفتگو شروع کرنے سے قبل اس کے عنوان میں تبدیلی کی طرف اشارہ ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے جمہوریت کے ساتھ لادینی کا سابقہ حذف کر دیا ہے اور مطلق جمہوریت بلکہ مغربی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے امت مسلمہ کے رد عمل اور موجودہ صورتحال پر گفتگو کا خواہش مند ہوں۔ مغرب نے اب سے کم و بیش تین سو برس قبل جمہوریت کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس سے قبل کی صدیوں میں اسے جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ اس کا رد عمل ہے کہ وہ جمہوریت کی شاہراہ پر مسلسل آگے بڑھتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۲۰۰۵ء

علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں

مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آج کے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ میرے نزدیک یہ دو الگ الگ موضوع ہیں، آج کے حالات مستقل گفتگو کے متقاضی ہیں اور اپنے اندر اس قدر وسعت اور تنوع رکھتے ہیں کہ اگر ان پر بات شروع ہو گئی تو دوسرے عنوان پر کچھ کہنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ جبکہ علماء کرام کی ذمہ داریاں ایک الگ موضوع ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۳ء