حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۱۹۹۴ء

جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۱۰۰ برس کے لگ بھگ تھی اور وہ ۱۹۶۲ء سے جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر چلے آرہے تھے۔ مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ جنہیں پاکستان کے دینی و علمی حلقوں میں حضرت درخواستیؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے ساتھ بے پناہ شغف اور بے شمار احادیث زبانی یاد ہونے کے باعث انہیں حافظ الحدیث کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔

حضرت درخواستیؒ کا تعلق ضلع رحیم یار خان کی بستی ’’درخواست‘‘ سے تھا جس کے باعث وہ درخواستی کہلاتے تھے۔ انہوں نے دینی تعلیم پہلے اپنے گاؤں میں اور بعد میں دین پور شریف میں حاصل کی جو اپنے وقت کے ولیٔ کامل اور مجاہدِ تحریک آزادی حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ کا مرکز تھا اور اب بھی ان کا خاندان اس روحانی مرکز کو آباد رکھے ہوئے ہے۔ حال ہی میں جرمن وزارت خارجہ کے ایک سابق ڈپٹی سیکرٹری نے اپنی یادداشتوں میں اس تحریک آزادی کا ذکر کیا ہے جو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے منظم کی تھی اور جس کے تحت جرمن، جاپان، ترک اور افغان حکومتوں نے مل کر برطانوی استعمار سے برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے لیے مجاہدینِ آزادی کی عملی امداد کا اہتمام کرنا تھا۔ لیکن قبل از وقت منصوبہ کے انکشاف کے باعث یہ تحریک ناکامی کا شکار ہوگئی تھی۔ دین پور شریف اس تحریک کے اہم مراکز میں سے تھا اور حضرت خلیفہ غلام محمدؒ کو تحریک کے راہنماؤں میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ حضرت درخواستیؒ بھی اس تحریک کے کارکنوں میں سے تھے اور کبھی کبھی اس دور کے واقعات مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے۔ یہ ان کا طالب علمی کا دور تھا لیکن اپنے شیخ و مربی حضرت خلیفہ غلام محمدؒ کے حوالہ سے تحریک آزادی کے کاموں میں بھی شریک رہتے تھے۔

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ بنیادی طور پر تعلیم و تربیت کے میدان کے بزرگ تھے، انہوں نے ساری زندگی قرآن کریم اور حدیث رسولؐ کا درس دیا اور لاکھوں تشنگان علوم کو علوم نبوت سے سیراب کیا۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت اور ذکر اللہ کی تلقین ان کا خصوصی ذوق تھا اور بڑے بڑے علماء و مشائخ ان کی روحانی مجالس میں بیٹھنے کو سعادت سمجھتے تھے۔ حضرت درخواستیؒ کو میں نے سب سے پہلے ۱۹۶۰ء میں دیکھا جب وہ میرے حفظ قرآن کریم کی تکمیل پر ہمارے قصبہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں تشریف لائے اور میرا آخری سبق سننے کے ساتھ ساتھ ختم قرآن کریم کی تقریب سے ایمان افروز خطاب بھی فرمایا۔ اس کے بعد ان سے مسلسل تعلق رہا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ جمعیۃ علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے ان کے ساتھ خلوت و جلوت اور سفر و حضر میں سالہا سال تک رفاقت نصیب رہی۔ اور میں اسے اپنے لیے توشۂ آخرت سمجھتا ہوں کہ جماعتی، دینی و سیاسی معاملات میں آخر وقت تک مجھے ان کا اعتماد اور شفقت حاصل رہی۔

حضرت درخواستیؒ کو حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی وفات کے بعد علماء کرام نے اپنی امارت کے لیے منتخب کیا اور وہ نظام العلماء پاکستان کے امیر چنے گئے جو ایوب خان مرحوم کے مارشل لاء کے دور میں سیاسی جماعتوں پر پابندی کے باعث جمعیۃ علمائے اسلام کی جگہ مذہبی امور کی انجام دہی کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اور پھر مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد سیاسی جماعت کے طور پر جمعیۃ علمائے اسلام کی بحالی پر وہ اس کے امیر چنے گئے۔ ان کی امارت میں کام کرنے والوں میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبد الحقؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبید اللہ انورؒ، مولانا سید گل بادشاہؒ، مولانا سید محمد شاہؒ امروٹی، اور مولانا مفتی عبد القیومؒ پوپلزئی جیسے اکابر علماء شامل رہے ہیں جو مجالس میں ان کے ساتھ دو زانو بیٹھتے اور ان سے راہنمائی کے طالب ہوتے۔

۱۹۷۶ء کی بات ہے کہ جمعیۃ علمائے اسلام کے ایک حلقہ کی طرف سے تجویز آئی کہ حضرت درخواستیؒ کی علالت اور ضعف کے باعث انہیں جمعیۃ کا سرپرست بنا دیا جائے اور مولانا مفتی محمودؒ کو امیر منتخب کیا جائے۔ شیرانوالہ لاہور میں جمعیۃ کی جنرل کونسل کے کھلے اجلاس میں مولانا مفتی محمودؒ نے اس تجویز کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ حضرت درخواستیؒ کی موجودگی میں ہم کسی اور کی امارت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ بات مولانا درخواستیؒ کی بزرگی اور راہنمائی پر اپنے دور کے اہل علم کے بھرپور اعتماد کا مظہر تھی اور ان کے علم و فضل کا اعتراف تھی۔

شدید علالت اور ضعف کے آخری چند سالوں کو چھوڑ کر حضرت درخواستیؒ پورے ملک میں متحرک رہتے تھے اور شاید ہی پاکستان اور بنگلہ دیش کا کوئی حصہ ایسا ہو جہاں انہوں نے بار بار علماء کے جلسوں اور پبلک اجتماعات سے خطاب نہ کیا ہو۔ وہ جہاں جاتے نفاذ اسلام اور تحفظ ختم نبوت کے لیے علماء اور کارکنوں کو تیار کرتے، ان سے کام کرنے کا عہد لیتے، نمایاں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی دستار بندی کرتے اور دینی مدارس و مکاتب کے قیام کی طرف لوگوں کو توجہ دلاتے تھے۔ وہ ایک دن میں دس دس اجتماعات سے خطاب کرتے اور اس طرح مسلسل سفر میں رہتے تھے کہ میرا جیسا نوجوان کارکن بھی چند دن سے زیادہ ان کا ساتھ نہیں دے پاتا تھا۔ ان کی زندگی کا مشن پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ، عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور قریہ قریہ دینی مدارس کا قیام تھا۔ وہ جہاں جاتے اور جس مجلس میں ہوتے ان کی گفتگو انہی مقاصد کے حوالہ سے ہوتی تھی۔ ان کا خطاب معروف معنوں میں سیاسی نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی مربوط گفتگو کا مزاج تھا، لیکن اس روحانی اور علمی شخصیت کا کمال یہ تھا کہ لوگ گھنٹوں بیٹھے ان کی غیر مربوط گفتگو کی چاشنی سے محظوظ ہوتے رہتے۔ بسا اوقات ساری ساری رات گزر جاتی اور جب وہ تقریر کے بعد دعا سے فارغ ہوتے تو پتہ چلتا کہ فجر کی اذان کا وقت ہوگیا ہے۔ وہ جھوم جھوم کر احادیث رسولؐ کی تلاوت کرتے تو ایک عجیب سماں کی کیفیت ہوتی، خود بھی روتے اور ساتھ حاضرین کو بھی رلاتے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرتا ہوں اور ان کی احادیث سناتا ہوں تو مجھے وقت کا ہوش نہیں رہتا، یہ ان کے عشقِ رسولؐ کی علامت تھی۔

حضرت درخواستیؒ میرے مشفق امیر تھے، انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنی شفقتوں اور اعتماد سے نوازا لیکن میں ان کے ساتھ اس سے زیادہ وفا نہ کر سکا کہ جمعیۃ علمائے اسلام میں دھڑے بندیوں کے کئی دور آئے مگر میں ان کے علاوہ کسی اور کو اپنا امیر نہ مان سکا۔ شاید یہی ایک بات آخرت میں ان کے ساتھ رفاقت کی وجہ بن جائے، آمین۔ آج میرا امیر مجھ سے جدا ہوگیا ہے اور میں وطن سے دور بہت دور گلاسگو کی مرکزی جامع مسجد میں بیٹھا آنسو بہا رہا ہوں اور ان الفاظ کے ذریعے اپنے دل کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اے کاش وقت کے یہ بے رحم فاصلے درمیان میں نہ ہوتے اور میں ان کی آخری زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

(۲۹ اگست ۱۹۹۴ء)