عالمی تناظر میں دینی مدارس کا کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۷ مئی ۲۰۱۴ء

۲۳ مئی کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دستار بندی کی سالانہ تقریب تھی جس میں پاکستان شریعت کونسل صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عبد القیوم حقانی مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے تفصیلی خطاب کیا اور جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی کی۔

جامعہ نصرۃ العلوم ۱۹۵۲ء سے دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے، اس کا تعارف پورے برصغیر کے علمی و دینی حلقوں میں ہزارہ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے حوالہ سے ہے۔ اور سات عشروں کو محیط جامعہ کی خدمات کے تذکرہ کے لیے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔ اب تک دورہ حدیث، دورہ تفسیر، تجوید و قراءت اور حفظ قرآن کریم کے شعبوں سے فراغت حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کی تعداد کا اندازہ پندرہ سے بیس ہزار کے درمیان کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے تجوید و قراءت کے شعبہ میں جامعہ نصرۃ العلوم کی خدمات کو عالمی سطح پر امتیازی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے اور درجنوں بین الاقوامی اور قومی مقابلوں میں جامعہ کے حفاظ اور قراء نے نمایاں پوزیشنیں حاصل کی ہیں۔

راقم الحروف نے بھی انہی دو بزرگوں کے زیرسایہ جامعہ میں تعلیم حاصل کی جو میرے والد محترم اور چچا محترم ہیں۔ ۱۹۶۹ء میں جامعہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد سے بحمد اللہ تعالیٰ کم و بیش دو عشرے مدرسہ انوار العلوم میں اور اس کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں مسلسل تدریس و خطابت کی خدمات سرانجام دے رہا ہوں اور حضرت والد محترمؒ کے بعد جامعہ کے صدر مدرس کے طور پر ذمہ داریاں میرے سپرد ہیں۔ جامعہ سے اس سال دورہ حدیث سے پچاس طلبہ اور تیرہ طالبات نے سند فراغت حاصل کی، شعبہ تجوید و قراءت سے پچیس قراء کرام نے اسناد حاصل کیں، پندرہ حفاظ اور پندرہ حافظات نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا، جبکہ ترجمہ قرآن کریم کی کلاسوں کو شامل کر کے اس سال فارغ ہونے والے طلبہ اور طالبات کی تعداد ایک سو چھتیس کے لگ بھگ بنتی ہے۔ جامعہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی اور ناظم اعلیٰ مولانا حمد ریاض خان سواتی ہیں۔ شعبہ تجوید و قراءت کے سربراہ مولانا قاری سعید احمد اور شعبہ حفظ کے سربراہ مولانا قاری عبید اللہ عامر ہیں۔

اسی شام کو مغرب کے بعد مرکزی جامع مسجد گکھڑ میں معارف اسلامی اکادمی کی سالانہ تقریب تھی۔ یہ دینی درسگاہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے قائم کی تھی اور اب ہمارے چھوٹے بھائی مولانا قاری حماد الزہراوی اپنے رفقاء سمیت اس کا انتظام چلا رہے ہیں۔ یہاں حفظ و ناظرہ اور تجوید و قراءت کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس سال بارہ قراء اور چار حفاظ کی دستار بندی ہوئی۔ اس تقریب سے بھی مولانا عبدا لقیوم حقانی اور راقم الحروف نے خطاب کیا اور فراغت حاصل کرنے والے طلبہ کی دستار بندی کی۔

دونوں تقریبات میں مدارس دینیہ کی خدمات اور کردار ہی ہمارا موضوع گفتگو تھا۔ مولانا عبد القیوم حقانی نے دینی تعلیم کے فروغ، مسلمانوں میں جذبۂ حریت و آزادی کی بیداری اور عقیدۂ و ثقافت کے تحفظ کے حوالہ سے مدارس کی خدمات کا ذکر کیا اور ان کوششوں کا حوالہ دیا جو مدارس دینیہ کی آزادی کو سلب کرنے اور ان کے تعلیمی و تہذیبی کردار کو محدود کرنے کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔ اور ان کے خیال میں قومی سلامتی کے حوالہ سے اس وقت پارلیمنٹ میں قانون کا جو مسودہ زیربحث ہے اس میں مدارس دینیہ کے کردار کو محدود کرنے کی شقیں بھی اسی کوشش کا حصہ ہیں۔ مولانا نے کہا کہ اس قسم کی کوئی کوشش پہلے بھی کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور اب بھی کامیاب نہیں ہوگی جبکہ دینی مدارس اپنا کردار حسب سابق ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں دینی حوالہ سے جو بیداری پائی جاتی ہے وہ مدارس دینیہ کی اسی محنت کا نتیجہ ہے اور اسے کسی صورت میں بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

راقم الحروف نے عالمی تناظر میں دینی مدارس کے کردار کا جائزہ لیا اور عرض کیا کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ دینی مدارس ہزار سال پہلے کے علوم کی تعلیم دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ ان مدارس میں جو علوم و فنون پڑھائے جاتے ہیں انسانی معاشرہ کو ہر دور کی طرح مستقبل میں بھی ان کی ضرورت ہے۔ مغربی دنیا آج ویلفیئر اسٹیٹ اور سماجی انصاف میں حضرت عمرؓ کے دور کو آئیڈیل قرار دینے پر مجبور ہے اور سودی بینکاری کی تباہ کاریوں سے تنگ آ کر غیر سودی بینکاری کی طرف واپسی کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ جبکہ معاشرتی احکام و ضوابط کے حوالہ سے بھی قرآن و سنت کے احکام کی ضرورت اور برتری کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ آج جب ویٹی کن سٹی قرآن کریم کے معاشی اصولوں کی بات کرتا ہے، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون غیر سودی بینکاری کو دنیا کی ضرورت قرار دے رہے ہیں، اور شہزادہ چارلس مسلسل وجدانیات کی طرف واپسی اور قرآن کریم کے معاشرتی احکام کی دہائی دے رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نسل انسانی کو اپنے مستقبل کے حوالہ سے بھی اسلامی تعلیمات کی ضرورت ہے۔ اور ان اصولوں کی تعلیم اس وقت یہی دینی مدارس دے رہے ہیں۔ میں اس کو یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ نسل انسانی کے مستقبل کی ضروریات کے حوالہ سے یہ دینی مدارس ’’ایڈوانس اسٹڈی‘‘ کے مراکز ہیں جو دنیا کو ان اصولوں اور احکام کی تعلیم دے رہے ہیں جن کی نسل انسانی کے دانشوروں کو دنیا کے بہتر مستقبل کے لیے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

اس لیے دینی مدارس کے طلبہ کو پورے حوصلے اور اعتماد کے ساتھ قرآن و سنت کے علوم حاصل کرنے چاہئیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حالاتِ زمانہ سے واقف ہوں، آج کے دور کی نفسیات سے آگاہ ہوں، اور آج کی دنیا کی فریکونسی پر عبور حاصل کریں۔ تاکہ وہ دور جدید کی ضروریات کو سامنے رکھ کر اسلام کا پیغام نسل انسانی کے تمام طبقات تک پہنچا سکیں۔