ناظم اعلیٰ وفاق المدارس پر عدمِ اعتماد کی مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ جنوری ۲۰۱۷ء

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی مبینہ الزامات و اعتراضات سے برأت اور اکابر کی طرف سے ان پر اعتماد کے اظہار سے ملک بھر کے سنجیدہ علمی، مسلکی اور دینی حلقوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ بحمد اللہ تعالیٰ وہ مہم دم توڑ گئی ہے جو قاری صاحب محترم کے خلاف نہیں بلکہ وفاق المدارس کے خلاف تھی اور اس کی ڈوریاں خداجانے کہاں کہاں سے ہلائی جا رہی تھیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان ملک بھر کے دیوبندی حلقوں، مراکز، مدارس اور شخصیات کی نمائندگی کرتا ہے اور ان کی وحدت و مرکزیت کی علامت ہے، بلکہ دینی مدارس کے نظام کو کمزور کرنے کے عالمی ایجنڈے کی راہ میں تمام مکاتب فکر کے مدارس و مراکز کو ساتھ لے کر مضبوط رکاوٹ کھڑی کیے ہوئے ہے۔ اسی لیے ایک عرصہ سے متنوع سازشوں کے حصار میں ہے اور وقتاً فوقتاً مختلف قسم کی منفی سرگرمیوں کی زد میں آتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وفاق کے خلاف ایک اور مہم جو بظاہر بہت مضبوط اور سنگین دکھائی دے رہی تھی، ناکامی کا شکار ہوگئی ہے۔

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے ساتھ میرا تعلق چار نسلوں سے ہے۔ میں حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے باہمی تعلق سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ اس کا عینی گواہ بھی ہوں۔ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کی زیارت، ان کی دعاؤں اور ارشادات سے متعدد بار فیضیاب ہو چکا ہوں، بلکہ میں نے تو نماز پڑھنا بھی ان کی تصنیف ’’نمازِ حنفی‘‘ سے سیکھا تھا اور زندگی میں سبقاً سبقاً سب سے پہلے وہی کتاب پڑھی تھی۔ ان کے فرزند گرامی حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ سے نیاز مندانہ تعلق رہا ہے، ان کی خدمت میں حاضری، مختلف مجالس میں ان کے ساتھ شرکت اور ان کی شفقت و دعاؤں کا موقع بحمد اللہ تعالیٰ ملتا رہا ہے۔

قاری صاحب کے ساتھ تعلق اس دور سے ہے جب وہ جمعیۃ طلبائے اسلام میں ہمارے ساتھ شریک کار تھے، ممتاز آباد ملتان کے مولانا قاری محمد اسحاق جالندھریؒ ان کے بہنوئی اور میرے بے تکلف دوست اور ساتھی تھے، ان کی مسجد اس علاقہ میں ہماری جماعتی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے اور قاری صاحب موصوف سے بھی ابتدائی ملاقاتیں زیادہ تر وہیں ہوئیں۔ اب قاری صاحب محترم کے فرزند عزیزم احمد حنیف سلمہ کو دینی و تعلیمی محاذ پر متحرک دیکھ کر خوش ہوتا رہتا ہوں، اس کے ساتھ میرا تعلق اس کے ننھیال کے حوالہ سے بھی ہے کہ فیصل آباد میں حضرت مولانا عزیز الرحمان انوریؒ اور حضرت مولانا سعید الرحمان انوریؒ کا جڑواں گھر ایک عرصہ تک میری جماعتی اور تحریکی سرگرمیوں کی آماجگاہ رہا ہے۔

قاری محمد حنیف جالندھری پر الزامات کیا تھے اور انہوں نے ان پر اپنی صفائی کس طرح پیش کی، یہ ان کا اور وفاق کی قیادت کا معاملہ ہے۔ گزشتہ روز ایک دوست نے مجھے اس سلسلہ میں کریدنے کی کوشش کی تو میں نے کہا ’’چھوڑو یار! مٹی پاؤ اور نسیاً منسیاً کر دو‘‘۔ پھر ایک اور ساتھی پیچھے پڑ گئے کہ ساٹھ سے زائد سوالات تھے۔ میں نے کہا کہ سینتیس (۳۷) سال کے لگ بھگ عرصہ کو محیط تھے، اگر سال میں دو غلطیوں کی گنجائش رکھی جائے تو بھی یہ تعداد کم ہے۔ قاری صاحب فرشتہ نہیں انسان ہیں، کوئی آدمی کام کرے گا تو غلطیاں بھی کرے گا اور جتنا زیادہ کام کرے گا غلطیوں کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ غلطیاں کام کرنے والے ہی کرتے ہیں، ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھر بیٹھنے والوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں۔ سوال غلطیاں کرنے یا نہ کرنے کا نہیں بلکہ ساتھیوں کی غلطیوں کو باعزت طریقہ سے سنبھالنے اور حکمتِ عملی کے ساتھ ان کی اصلاح کرنے کا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوۂ حسنہ اس سلسلہ میں بھی ہماری بھرپور راہنمائی کرتا ہے۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ معروف صحابی تھے، فتح مکہ سے قبل انہوں نے مکہ مکرمہ کے کچھ دوستوں کو جناب رسول اللہؐ کی جنگی سرگرمیوں اور تیاریوں کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے خفیہ طور پر خط بھجوایا جو وحی کے ذریعہ اطلاع ملنے پر راستہ میں ہی پکڑا گیا۔ جنگی ماحول میں یہ عمل کس قدر سنگین ہوتا ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر قرآن کریم کی پوری سورۃ نازل ہوئی جس میں حضرت حاطبؓ کا نام لیے بغیر سب کو مجموعی طور پر ڈانٹ پلائی گئی۔ حضرت حاطبؓ نے آنحضرتؐ کے روبرو اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے انہیں قتل کرنے کی اجازت مانگی مگر آپؐ نے اجازت نہیں دی بلکہ یہ فرما کر معاملہ نمٹا دیا کہ انە شھد بدرا کہ وہ بدر میں شریک ہونے والا ساتھی ہے۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک دفعہ جناب نبی اکرمؐ نے زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کے لیے کچھ لوگوں کو مقرر کیا، انہوں نے واپسی پر یہ شکایت کی کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے پاس بہت قیمتی ہتھیار اور آلاتِ جنگ ہیں مگر انہوں نے زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ آنحضرتؐ نے خالد بن ولیدؓ سے پوچھے بغیر ان کی طرف سے خود جواب دے دیا کہ اس کے ہتھیار بہت قیمتی ہیں مگر جہاد کے لیے ہیں اس لیے اس نے زکوٰۃ نہیں دی۔ اس کے ساتھ ہی اعتراض کرنے والوں کو آپؐ نے یہ فرما کر ڈانٹ دیا کہ وانتم تظلمون خالدًا کہ تم خالدؓ پر یہ اعتراض کر کے اس پر ظلم کر رہے ہو۔ یہ حضرت خالد بن ولیدؓ پر جناب رسول اللہؐ کے اعتماد کا اظہار تھا کہ ان پر کیے جانے والے اعتراض پر کوئی تحقیقاتی کمیشن بٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ از خود ان کی طرف سے جواب دے دیا اور اعتراض کرنے والوں کو ڈانٹ بھی دیا۔ اس لیے میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اگر ساتھیوں پر واقعتاً اعتماد ہو تو اس کے اظہار کا ایک مسنون طریقہ یہ بھی ہے۔

مولانا قاری محمد حنیف جالندھریؒ کو ان اعتراضات، سوالات یا الزامات سے برأت اور بالآخر اعتماد کے اظہار پر مبارک باد دیتے ہوئے ایک ہلکا سا سوال اس کے ساتھ شامل کرنا چاہوں گا کہ کیا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ کے منصب پر گزشتہ سینتیس برس سے فائز شخصیت کے خلاف ہفتہ عشرہ تک سوشل میڈیا پر اودھم مچائے رکھنے کا بھی کوئی نوٹس لیا جائے گا؟ کیا کوئی کمیٹی بنے گی جو اس مہم کے پس منظر، مقاصد اور نتائج کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے، یا کم از کم کوئی ذمہ دار بزرگ ایسا کرنے والوں کو وانتم تظلمون۔۔۔۔ کہنے کی زحمت فرما سکیں گے؟