ارباب علم ودانش کی عدالت میں ماہنامہ الشریعہ کا مقدمہ

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۹ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے آرگن ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے گزشتہ شمارے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی عمومی پالیسی پر نقد و تبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسے امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کی وضاحت کے لیے قلم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے تفصیلی تبصرہ کے جواب کے طور پر نہیں، بلکہ توجہ دلانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اہم امور کی وضاحت کے لیے ’’ارباب علم و دانش کی عدالت میں ’الشریعہ‘ کا مقدمہ‘‘ کے طور پر کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں۔

اس تبصرے کی روشنی میں تین نکات ہمارے سامنے ہیں:

  1. ’’الشریعہ‘‘ نے علمی مسائل پر آزادانہ بحث ومباحثہ کے عنوان سے فکری انتشار پھیلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے۔
  2. ’’ الشریعہ‘‘ اکابر و اسلاف کے طرز اور موقف سے انحراف کی طرز اپنائے ہوئے ہے۔
  3. ’’ الشریعہ‘‘ کے مدیر حافظ محمد عمار خان ناصر نے، جو راقم الحروف کا فرزند ہے، اس فورم کو جناب جاوید احمد غامدی کے افکار کے فروغ کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور اس کے والد کے طور پر راقم الحروف بھی اس کا معاون اور پشت پناہ ہے۔

جہاں تک علمی مسائل میں آزادانہ بحث و مباحثہ کا تعلق ہے، یہ بات درست ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ نے گزشتہ بیس سال کے دوران اس کا ماحول پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے اور اب بھی یہ ہمارے اہداف میں شامل ہے، اس لیے کہ آج کے حالات میں آزادانہ بحث و مباحثہ کے بغیر کسی بھی مسئلے میں منطقی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ اور تعلیمی مراکز نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس کے اثرات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارا روایتی اسلوب کافی نہیں ہے۔ ماضی نے اپنا علمی خزانہ کتابوں اور سی ڈیز کی شکل میں اگل دیا ہے اور آج کوئی بھی ذی استعداد اور باصلاحیت نوجوان اپنے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے کسی بھی حصہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے یا کسی بھی طبقے کا موقف اور دلائل معلوم کرنا چاہے تو اسے اس کے بھرپور مواقع اور وسائل ہر وقت میسر ہیں۔ اس ماحول میں یہ کوشش کرنا کہ نوجوان اہل علم صرف ہمارے مہیا کردہ علم اور معلومات پر قناعت کریں اور علم اور معلومات کے دیگر ذرائع سے آنکھیں اور کان بند کر لیں، نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں ہے بلکہ فطرت کے بھی منا فی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اور یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہو جاتی ہے کہ مطالعہ اور تحقیق کے اس سمندر سے نئی نسل کو روکنے کی بجائے خود بھی اس میں گھسیں اور ان متنوع اور مختلف الجہات ذرائع معلومات میں حق کی تلاش یا حق کے دائرے کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی راہنمائی کریں۔ چنانچہ علم و فکر کی دنیا میں میرا ذوق روکنے یا باز رکھنے کا نہیں بلکہ سمجھانے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کا ہے۔ کسی دوست کو یہ طریقہ پسند ہو یا نہ ہو، لیکن میں اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔ اس کے لیے بحث و مباحثہ ضروری ہے، مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور دلائل کی روشنی میں ان کا حل خالص علمی انداز میں تلاش کرنا ضروری ہے، البتہ اس بحث و مباحثہ میں علمی اصول اور مسلمات کا لحاظ اور گفتگو کو ان کے دائرے میں محدود رکھنا بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے۔

مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا عبد الماجد دریابادی کے نام اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں:

’’تدوین فقہ پر کام شروع کر دیا گیا تھا۔ ۱۰۰ صفحات سے زیادہ جامعہ عثمانیہ کے ریسرچ جرنل میں شائع بھی ہو چکا تھا۔ اگرچہ اس کی حیثیت بالکل مقدمہ کتاب کی تھی، تاہم لوگوں نے پسند کیا تھا۔ ..... یوں تو اس کتاب کے سلسلے میں خدا ہی جانتا ہے کن کن باتوں کے لکھنے کا ارادہ تھا، لیکن ہندی ’’مجددیت‘‘ کی تین خاص باتوں میں سے ارادہ تھا کہ اس خاص مسئلہ کے ما لہ و ما علیہ پر اس کتاب میں بحث کی جائے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الف ثانی کے مجدد ہند رحمۃ اللہ علیہ نے ارقام فرمایا ہے:

در دیار ہندوستان کہ ایں ابتلا بیش تر است، دریں مسئلہ کہ عموم بلویٰ دارد اولیٰ آنست کہ فتویٰ باسہل وایسر امور بدہند۔ اگر موافق مذہب خود نبود بقول ہر مجتہد کہ باشد۔ (مکتوب ۲۲)

’’اس خطہ ہندوستان میں جہاں ابتلا کی یہ صورت زیادہ پیش آئی ہے تو عموم بلویٰ (عام مصیبت) کی حیثیت اس مسئلہ نے اختیار کر لی ہے۔ یعنی بہتر اور زیادہ پسندیدہ بات ہے کہ فتویٰ اس پہلو کے مطابق دیا جائے جو آسان اور زیادہ سہل ہو، خواہ فتویٰ دینے والے مفتی کے مسلک کے مطابق یہ فتویٰ نہ ہو۔ کسی دوسرے مجتہد کے قول کے مطابق فتویٰ کا ہونا ایسی صورت میں کافی ہے۔‘‘

عام مولویوں کے لیے ظاہر ہے کہ فتوے میں اتنی مطلق العنانی ذرا مشکل ہی سے قابل برداشت خصوصاً اس زمانہ میں ہو سکتی تھی جس زمانے میں مجدد رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے تھے کہ ندوہ اس وقت تک ہندوستان میں قائم نہیں ہوا تھا، اس لیے بجائے فقہ یا آثار و اخبار کے اس موقع پر حضرت مجدد نے قرآنی آیات ہی کو استدلال میں پیش کیا ہے۔ لکھا ہے:

قال اللہ تعالیٰ یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر وقال تعالیٰ یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا۔

’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تمہارے ساتھ اللہ آسانی چاہتا ہے اور دشواری پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ دوسری جگہ ہے کہ اللہ تمہارے بار کو ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان تو کمزور ناتواں پیدا کیا گیا ہے۔‘‘

آگے ہند کے اسی مجدد نے لکھا ہے کہ:

بر خلق تنگ گرفتن ایشاں را رنجانیدن حرام است۔

’’عام مخلوق کو سختی کے ساتھ پکڑنا اور ان کو دلوں کو (اپنی تنگی گرفت سے) دُکھانا حرام ہے۔‘‘

یہ مکتوب گرامی اس قسم کے گراں مایہ تجدیدی زریں دانش آموزیوں سے معمور ہے۔ اس زمانہ میں ہم عام مولوی لوگ معیاری اسلام کو ہاتھ میں لے کر غریب مسلمانوں کی زندگی کا جو جائزہ لیتے رہتے ہیں اور آئے دن ان کے مومن قلوب کو دُکھاتے رہتے ہیں، دل چاہتا تھا کہ حضرت مجدد کے مشوروں کو اس سلسلہ میں ان کے آگے رکھتا۔ نیز معمولی عام کتابوں میں تلفیق کے نام سے مسلمانوں میں خوف و دہشت کی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے، یعنی مجتہدین ائمہ ہدیٰ میں سے کسی ایک امام کے اجتہادی نتائج کے ساتھ ہم آہنگی کا فیصلہ تاریخ کے مختلف وجوہ واسباب کے تحت مختلف ممالک کے مسلمانوں کو کرنا پڑا تو سمجھایا جاتا ہے کہ آیندہ اپنے اپنے ما نے ہوئے امام کے خلاف عمل کی اجازت ان کی آیندہ نسلوں کو نہیں دی جائے گی۔ ایسے آدمی کو فعل مذموم اور ’’عمل تلفیق‘‘ کا مرتکب ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ واقع کے لحاظ سے مسئلہ کی صحیح صورت حال چونکہ یہ نہیں ہے، ارادہ تھا کہ کافی بسط و تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کی جائے، مگر بحث کے میدان ہی سے جو نکال دیا گیا، وہ کیا کرے۔‘‘ (صدق جدید ،۲۲ جولائی ۱۹۵۶ء)

اس سلسلے میں حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کے فقہی ذوق کا حوالہ دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو ’’فتاویٰ مفتی محمود ‘‘ کے دیباچہ میں مولانا مفتی محمد جمیل خان شہید ؒ نے حضرت مولانا محمد عبیداللہ دامت برکاتہم (مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور) کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ حضرت مولانا عبید اللہ مدظلہ حضرت مولانا مفتی محمود ؒ کے ساتھ ایک ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مفتی صاحبؒ نے اس ملاقات میں مجھ سے ایسی بہت سی باتیں کہیں جن سے میرے دل کو تسلی ہوئی۔ مجھے اس بالمشافہہ گفتگو سے اندازہ ہو گیا کہ مفتی صاحب اپنے دل میں ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ کے لیے بڑی تڑپ رکھتے ہیں اور فرقہ واریت سے انہیں طبعی نفرت ہے۔ چونکہ اس وقت وہ نوجوان تھے، اس لیے ایک نوجوان عالم کی زبانی اتنی سنجیدہ اور فکر انگیز گفتگو میرے لیے خوشی کا باعث بنی۔ نوجوان عموماً جذباتی ہوتے ہیں، ان کی سوچ بھی جذباتی ہوتی ہے، ان کے فیصلے بھی جذباتی ہوتے ہیں۔ مجھے اطمینان ہوا کہ ہمارے ہم عصر علماء میں وہ ایک پختہ فکر، صائب الرائے اور زیرک انسان ہیں۔ ان کی یہی صفت میرے دل کو بھائی۔ اس کے بعد ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ان ملاقاتوں میں علمی، سیاسی اور ملی مسائل کے علاوہ بین الاقوامی مسائل بھی زیر بحث آئے اور ان کی فقہی رائے کو میں نے ہمیشہ قوی پایا۔

بعض مسائل میں وہ اپنی انفرادی رائے بھی رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر فقہی مسائل پر عمل کے سلسلہ میں ان کی رائے یہ تھی کہ مخصوص حالات میں ایک حنفی کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی خاص مسئلے میں ائمہ اربعہ میں سے کسی کی پیروی کرے۔ ایسا آدمی ان کے نزدیک حنفیت سے خارج نہیں ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امام محمدؒ اور امام ابویوسفؒ نے متعدد مسائل میں امام صاحبؒ سے اختلاف کیا ہے۔ ان کی اپنی ترجیحات ہیں، لیکن ان پر حنفیت سے خروج کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ اپنے اختلافات اور ترجیحات کے باوجود حنفی تھے۔ اسی طرح اگر کسی مسئلہ میں امام صاحبؒ کا قول موجود نہ ہو یا موجود ہو تو مگر سمجھ نہ آئے یا سمجھ بھی آئے لیکن حالات کی خاص نوعیت کے تحت اس پر عمل ممکن نہ ہو تو کسی دوسرے امام کی پیروی درست ہو گی۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ایسی شکل و صورت پیش آجائے تو صاحبینؒ کے قول پر عمل کیا جائے۔ اگر صاحبینؒ کے قول میں بھی یہی صورت پیش آئے تو امام محمدؒ کے قول کو ترجیح دی جائے۔ اس کے بعد ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کے اقرب قول پر عمل کر لیا جائے۔ ان کے نزدیک کسی خاص مسئلہ میں خروج عن الحنفیت تو جائز ہے لیکن مذاہب اربعہ سے خروج جائز نہیں ہے۔ اس نقطہ نظر میں مولانا مفتی محمودؒ منفرد تھے۔ تاہم وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ ایسا کرنا ان علماء کا کام ہے جن کی مذاہب اربعہ پر وسیع نظر ہے، جو کسی مسئلہ کے ترجیحی پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر عمل کرے، کیونکہ ایسی اجازت دینے سے اس کے عقیدے میں خلل آسکتا ہے اور لوگ اپنی مرضی سے ادھر ادھر بھٹکنے کے عادی بن سکتے ہیں، جب کہ ایسی صورت صرف اس وقت پیش آسکتی ہے جب ملکی قوانین کی تدوین کی صورت میں علماء کسی مشکل سے دو چار ہو جائیں تو وہ اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکیں، کیوں کہ اصل چیز امام کا قول نہیں، اصل چیز وہ نص ہے جس کی روشنی میں یہ قول متشکل ہوا ہے، یعنی منصوص چیزیں جو ائمہ اربعہ کی علمی تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوئیں۔ ائمہ اربعہ نے بے پناہ تحقیق و جستجو کے بعد قرآن و حدیث سے مسائل مستنبط کیے ہیں، اس لیے یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ کسی مسئلہ پر اگر احناف کے ہاں کوئی دلیل یا سند نہیں ہے تو دوسرے مذاہب سے اسے لینا درست ہوگا، بشرطیکہ وہ وہاں بہتر صورت میں موجود ہو۔‘‘

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے فقہی ذوق اور علمی اسلوب کے بارے میں حضرت مولانا عبیداللہ دامت برکاتہم کا یہ ارشاد گرامی تفصیل کے ساتھ میں نے اس لیے نقل کیا ہے کہ میرا طالب علمانہ ذوق بھی بعینہ اسی طرح کا ہے، البتہ حضرت مولانا عبیداللہ مدظلہ نے اسے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا انفرادی ذوق بتایا ہے، جب کہ میرے خیال میں اور بزرگ بھی اس ذوق میں ان کے ساتھ شریک ہیں، جیسا کہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اپنی کتاب ’’اسلامی بینکاری۔ تاریخ و پس منظر اور غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت گنگوہیؒ سے معاملات کے اندر اس بات کی صریح اجازت لی ہے کہ معاملات میں لوگوں کی آسانی کے لیے ائمہ اربعہ میں جہاں بھی توسع ہو، اسے لے لیا جائے۔ ’’حضرت گنگوہی سے صریح اجازت لی‘‘ میں نے یہ الفاظ حضرت والد صاحب (مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ) سے بعینہ سنے ہیں اور ایک جگہ حضرت والد صاحبؒ نے لکھے بھی ہیں۔‘‘

اس لیے اسے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی انفرادی رائے یا ذوق سے تعبیر کرنا شاید درست نہ ہو، تاہم ان بزرگوں کے ارشادات کی روشنی میں میری طالب علماء نہ ترجیحات کچھ اس طرح کی ہیں کہ:

  • کسی عام کو شخص کو یہ حق نہیں ہے، حتیٰ کہ کسی عالم کے لیے بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ اس قسم کے کسی توسع سے فائدہ اٹھانے کا ازخود فیصلہ کرے، بلکہ اس کے لیے کسی ذمہ دار مفتی سے رجوع ضروری ہے اور اس کے فتوے کے ذریعے ہی یہ سہولت استعمال کی جا سکتی ہے۔ خود میرا ذاتی معمول یہ ہے کہ درجنوں مسائل میں اپنے مطالعہ اور تحقیق کی بنیاد پر منفرد رائے رکھتا ہوں اور اس کے لیے دلائل پر مجھے اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے، مگر اس وقت تک عمل نہیں کرتا جب تک کوئی ذمہ دار مفتی اس کی اجازت نہ دے دے۔
  • مفتی کا یہ حق ہے کہ وہ کسی مسئلے میں لوگوں کو سہولت اور آسانی فراہم کرنے یا کسی الجھے ہوئے مسئلے کا حل نکالنے کے لیے اس توسع سے فائدہ اٹھائے اور اسے استعمال میں لائے، مگر چونکہ ہم نے ملک بھر میں مفتیوں کا ’’اتوار بازار‘‘ ہر طرف سجا رکھا ہے، اس لیے مفتی صاحبان میں یہ درجہ بندی کرنا ہو گی کہ کس سطح کے مفتی صاحب کو یہ حق ہے اور کس درجہ کے مفتی صاحب کو یہ حق استعمال کرنے کی اجازت دینا مناسب نہیں ہے۔
  • میری طالب علمانہ رائے میں حاجات عامہ، ملکی قوانین کی تدوین اور اجتماعی معاشرتی الجھنوں کا حل تلاش کرنے کا میدان فتویٰ کے میدان سے مختلف ہے، اس لیے ایسے معاملات میں فتویٰ کے اصول اور ترجیحات کو بنیاد بنانے کی بجائے تحقیق اور استدلال کا قدرے وسیع دائرہ متعین کرنا ہوگا اور اس کے لیے اہل سنت والجماعت کے علمی اصول اور مسلمات کو دائرہ قرار دینا زیادہ مناسب ہو گا۔

میرا میدان فتویٰ کا نہیں ہے اور نہ کبھی فتویٰ دیا ہے۔ کوئی اجتماعی مسئلہ ہو اور ذمہ دار مفتی صاحبان نے فتویٰ صادر کیا ہو تو دوستوں کے اصرار پر اس پر دستخط کر دیتا ہوں، ورنہ فتویٰ طلب کرنے والوں کو کسی دارالافتا سے رجوع کے لیے کہہ دیا کرتا ہوں۔ اس سلسلے میں ایک لطیفہ نما واقعہ کا ذکر کرنا شاید نامناسب نہ ہو کہ چند ماہ قبل میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو نوجوان لڑکیاں، جو کسی کالج کی سٹوڈنٹ تھیں، آگئیں اور مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا۔ میں نے اپنی سمجھ کے مطابق بتا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس پر فتویٰ لینا چاہتی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں فتویٰ نہیں دیا کرتا۔ کسی مفتی صاحب کے پاس تشریف لے جائیں۔ ایک لڑکی نے تعجب سے میری طرف دیکھا اور پوچھا کہ آپ مولانا زاہد الراشدی ہیں؟ میں نے کہا کہ وہی ہوں، لیکن فتویٰ نہیں دیا کرتا۔ اس نے کہا کہ آپ کا تو بڑا نام سن رکھا ہے۔ میں نے کہا: سن رکھا ہو گا، مگر میں مفتی نہیں ہوں۔ پھر ان بچیوں نے اپنے گھر کے کسی معاملہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ہمارے گھر میں کچھ اثرات محسوس ہوتے ہیں، ان کا کوئی علاج بتا دیں۔ میں نے کہا کہ بیٹا، میں یہ کام بھی نہیں کرتا، کسی عامل سے رجوع کریں۔ اس پر ایک لڑکی نے تقریباً پھٹ پڑنے کے انداز میں مجھ سے کہا کہ ’’آپ یہاں کرتے کیا ہیں؟‘‘ یہ کہہ کر دونوں لڑکیاں وہاں سے چلی گئیں۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میرا میدان فتویٰ کا نہیں ہے، لیکن ملکی قوانین کی تدوین میں رائے دینا، اجتماعی ملی مسائل و مشکلات پر بحث کر کے ان کے حل کا راستہ نکالنا اور بین الاقوامی قانون و ثقافت کے ساتھ اسلامی احکام و قوانین کے ٹکراؤ کا جائزہ لے کر قابل عمل راستہ تلاش کرنا میرا ذوق ہے اور ’’الشریعہ‘‘ کا ہدف اور دائرہ کار بھی یہی ہے۔ اس لیے ہماری یہ ہمیشہ درخواست ہوتی ہے کہ ہمارے کام کو فتویٰ کے دائرہ کار کے حوالے سے نہیں بلکہ ملی مسائل میں بحث و مباحثہ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے۔ مفتی صاحب کوئی فتویٰ دیتے ہیں تو وہ فیصلہ دے رہے ہوتے ہیں، لیکن جب ہم کسی مسئلہ پر بحث کرتے ہیں تو اس کی حیثیت فیصلہ کی نہیں ہوتی، رائے کی ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی مقدمہ پر بحث کے دوران وکیل ہر طرح کی بات کرتے ہیں، مسئلے کے ہر پہلو کو واضح کرتے ہیں، بال کی کھال اتارتے ہیں اور تجزیہ و تنقیح کا کوئی پہلو نظر انداز نہیں کرتے، مگر ان کی کوئی بات فیصلہ کا درجہ نہیں رکھتی۔ فیصلہ جج نے کرنا ہوتا ہے اور ہمارے بحث و مباحثہ میں جج کا درجہ امت کے اجتماعی علمی دائرے کو حاصل ہے۔ جو بات اجتماعی قبول کے دائرے میں آ جائے گی، وہ فیصلہ ہو گی اور جس کی وہاں تک رسائی نہیں ہوگی، وہ وکیل کی انفرادی نکتہ رسی قرار پا کر فائلوں میں دبی رہ جائے گی۔

اب میں اس مسئلے کے دوسرے پہلو کی طرف آتا ہوں کہ ایسے مسائل پر عمومی بحث و مباحثہ نہ ہونے کے نقصانات کیا ہوتے ہیں اور ہم اس آزادانہ بحث و مباحثہ کو ضروری کیوں سمجھتے ہیں۔ اس کے مختلف پہلوؤں میں سے سردست ایک پر نظر ڈال لیں کہ کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ ہم کسی اجتماعی مسئلے پر دینی اور شرعی حوالے سے ایک قدم اٹھا لیتے ہیں، فیصلہ کر لیتے ہیں، لیکن اس پر آزادانہ علمی بحث نہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کی علمی توجیہ سامنے نہیں آتی اور دلائل کا پہلو اوجھل رہتا ہے جس سے کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اور فیصلہ ہو جانے اور اس پر عمل درآمد ہو جانے کے باوجود علمی دنیا میں وہ فیصلہ بدستور معلق رہتا ہے۔ مثال کے طور پر:

  1. ہم نے غلامی کا شعبہ بالکل ترک کر رکھا ہے حالانکہ غلاموں اور لونڈیوں کے احکام قرآن کریم میں اور احادیث نبویہ میں اور فقہ اسلامی میں صراحت کے ساتھ موجود ہیں لیکن ان میں سے کسی پر آج عمل نہیں ہو رہا، بلکہ گزشتہ دو صدیوں کے دوران ہم نے دنیا کے کسی بھی حصہ میں ’’جہاد‘‘ کے عنوان سے جو جنگ بھی لڑی ہے اس میں کسی کو نہ غلام بنایا ہے نہ لونڈی بنایا ہے جس کی وجہ سے ان سے متعلق فقہی احکام و قوانین عملاً متروک ہو کر رہ گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کی علمی بنیاد کیا ہے اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آپ گزشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان کے دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علمائے کرام سے استفسار کر لیں، ان میں سے شاید ایک فیصد بھی ایسے حضرات نہ نکلیں جو اس کی کوئی علمی توجیہ کر سکیں یا یہ بتا سکیں کہ قرآن و حدیث اور فقہ میں غلامی کے بارے میں واضح احکام موجود ہونے کے باوجود ان پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ کم از کم دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ اور دین کی دعوت و تعلیم سے تعلق رکھنے والے حضرات کو یہ بات ضروری طور پر معلوم ہونی چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا ہے، ان احکام پر عمل نہ کرنے کا شرعی جواز کیا ہے، اور کیا یہ عارضی صورت حال ہے یا مستقل طور پر اس کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
  2. اسی طرح قادیانیوں کے بارے میں ہم نے اجتماعی طور پر فقہی احکام کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ انہیں غیرمسلم اقلیت کے طور پر ملک میں رہنے کا حق دیا جائے گا اور ان کے جان و مال کے تحفظ کی حکومت ذمہ دار ہو گی۔ یہ فیصلہ جو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر کیا ہے اور ملک میں نافذ العمل ہے، ہمارے روایتی فقہی موقف سے ہٹ کر ہے۔ میں اس فیصلے کی مخالفت نہیں کر رہا، بلکہ اس کے حق میں ہوں اور اس کو قانونی اور دستوری درجہ دلوانے کے لیے عملی جدوجہد کرنے والوں میں شامل ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی علمی توجیہ کیا ہے اور ایسا کرنا شرعی طور پر کیا حیثیت رکھتا ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر علمی مباحثہ ضروری ہے اور نہ صرف علماء و طلبہ بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقات کے سامنے بھی اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی ہے اور اس کا شرعی جواز کیا ہے؟
  3. اس کے ساتھ ہی اس پر بھی غور فرما لیں کہ پاکستان بننے کے بعد ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے ہم نے روایتی فقہی موقف سے ہٹ کر ووٹ کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل کو بنیاد بنایا ہے اور اب تک ہمارا اجتماعی موقف یہی ہے کہ حکومت ووٹ کی بنیاد پر بنے گی، البتہ وہ قرآن و سنت کے احکام کی پابند ہو گی۔ یہ فیصلہ کرنے والوں میں ہمارے اکابر شامل تھے اور تمام مکاتب فکر کے اکابر بزرگوں نے یہ فیصلہ کیا تھا، مگر اس کی علمی توجیہ ہمارے علمائے کرام اور دینی کارکنوں کے سامنے نہیں ہے جس کی وجہ سے ابھی تک کنفیوژن موجود ہے اور جمہوریت کو مطلقاً کفر قرار دینے والوں میں نہ صرف سوات کے مولانا صوفی محمد پیش پیش ہیں بلکہ دینی کارکنوں کی اکثریت بھی یہی ذہن رکھتی ہے، اور یہ سوال لوگوں کے ذہنوں میں مسلسل پریشانی کا باعث بن رہا ہے کہ اگر جمہوریت مطلقاً کفر ہے تو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، علامہ سید سلیمان ندویؒ ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ، حضرت مولانا سید یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ سمیت ان اکابر کی کیا حیثیت ہے جنہوں نے ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ووٹ کو بنیاد قرار دیا تھا اور ۱۹۷۴ء کا دستور تشکیل دینے والے تمام مکاتب فکر کے ان سرکردہ علمائے کرام کی کیا پوزیشن ہے جنہوں نے ووٹ کی بنیاد پر حکومت کے قیام کو تسلیم کیا ہے؟

ہمیں اپنے بزرگ مفتیان کرام کے ارشادات سے اتفاق ہے کہ عام مسلمان کو دین کے دائرہ کا پابند رکھنے اور بے راہ روی سے بچانے کے لیے تحفظات کا برقرار رکھنا ضروری ہے اور ہم افتا کے دائرے میں ان کے اس موقف اور اسلوب کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن حاجات عامہ، دستور و قانون کی تدوین اور اجتماعی معاشرتی مسائل کے حل کے لیے جس توسع کی ضرورت ہے اور اس کی شرعاً گنجائش بھی ہے، اس کے بارے میں انہیں اس قدر سختی روا نہیں رکھنی چاہیے بلکہ بحث و مباحثہ کی حد تک کھلے ماحول کو برداشت کرنا چاہیے اور اس کو فتویٰ کی ترجیحات پر پرکھنے کی بجائے اجتماعی ملی ضروریات کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ ہم نے اس وجہ سے ’’الشریعہ‘‘ کو کھلے بحث و مباحثہ کے لیے وقف کر رکھا ہے اور متعدد بار اس کا اعلان بھی کیا ہے، جیسا کہ اکتوبر ۲۰۰۷ء کے شمارے میں یہ اعلان ان الفاظ میں شائع ہوا تھا کہ:

’’جدید افکار و نظریات اور آرا و تعبیرات کے حوالے سے اسلامی تعلیمات و احکام کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوالات، شکوک و شبہات اور علمی و فکری اعتراضات کے بارے میں ہمارے دینی حلقوں کا عمومی رویہ نظر انداز کرنے اور مسترد کر دینے کا ہے جس سے ’الشریعہ‘ کو اختلاف ہے۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں کے ارباب فکر و دانش اس طرف توجہ دیں، مباحثہ میں شریک ہوں، اپنا نقطہ نظر دلائل کے ساتھ پیش کریں، جس موقف سے وہ اختلاف کر رہے ہیں، اس کی کمزوری کو علمی انداز سے واضح کریں اور قوت استدلال کے ساتھ اپنے موقف کی برتری کو واضح کریں، کیونکہ اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی مسئلہ پر آپ اپنی رائے پیش کر کے اس کے حق میں چند دلائل کا تذکرہ کرنے کے بعد مطمئن ہو جائیں کہ رائے عامہ کے سامنے آپ کا موقف واضح ہو گیا ہے اور آپ کی بات کو قبول کر لیا جائے گا۔ آج کا دور تقابلی مطالعہ کا دور ہے، تجزیہ و استدلال کا دور ہے اور معروضی حقائق کی تفصیلات و جزئیات تک رسائی کا دور ہے۔ آپ کو یہ سارے پہلو سامنے رکھ کر اپنی بات کہنا ہوگی اور اگر آپ کی بات ان میں سے کسی بھی حوالے سے کمزور ہوگی تو وہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی۔

اسی مقصد کے تحت الشریعہ کے صفحات پر ’’مباحثہ و مکالمہ‘‘ کا یہ آزادانہ فورم قائم کیا گیا ہے جس کے تحت شائع ہونے والی تحریروں سے ’الشریعہ‘ کا اتفاق ضروری نہیں ہے اور اس میں کسی بھی علمی موضوع پر لکھی جانے والی کوئی بھی تحریر شائع کی جا سکتی ہے جو علمی اسلوب اور افہام و تفہیم کے لہجے میں مناظرانہ انداز اور طعن و تشنیع کے اسلوب سے ہٹ کر لکھی گئی ہو۔ اس ضمن میں روایتی مناظرانہ مسائل کے بجائے اسلام اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے حوالے سے جدید عنوانات پر لکھی گئی تحریروں کو ترجیح دی جائے گی۔‘‘

بار بار شائع کیے جانے والے اس واضح اعلان کے بعد کسی دوست کو ’’الشریعہ‘‘ کی پالیسی اور اس کے مقاصد کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے تھی اور اگر اب بھی کسی کے ذہن میں غلط فہمی موجود ہے تو اسے دور ہو جانا چاہیے۔

اب میں آتا ہوں جناب جاوید احمد غامدی اور عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر کے مسئلے کی طرف۔ جہاں تک غامدی صاحب کا تعلق ہے، ان کے فکر و موقف پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والوں میں خود میں بھی شامل ہوں اور میرے درجنوں مضامین ’الشریعہ‘ اور قومی اخبارات میں اس سلسلے میں شائع ہو چکے ہیں، البتہ میرا نقد و اعتراض کا انداز مناظرین و مجادلین کے طرز استدلال سے مختلف ہے۔ میری کوشش ہمیشہ یہ رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی کہ طعن و تشنیع اور تحکم کی بجائے افہام و تفہیم سے کام لیا جائے اور جس سے اختلاف کیا جا رہا ہے، اسے مسترد کرنے کی بجائے واپس لانے کی کوشش کی جائے۔ میں ہر حال میں آپریشن کر دینے کا قائل نہیں ہوں بلکہ واپسی کے لیے محفوظ راستہ دینے کو ترجیح دیتا ہوں اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا ہوں۔ یہ صرف غامدی صاحب کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ جو دانشور بھی کسی وجہ سے جمہور کے جادۂ اعتدال سے ہٹ کر بات کر رہے ہیں، ان سب کے بارے میں میری خواہش اور کوشش یہی ہے۔ ایک تاریخی واقعہ اس حوالے سے میرے ذہن میں اٹکا ہوا ہے اور شاید یہی میرے اس اسلوب اور طرز عمل کا باعث بھی یہی ہے کہ معتزلہ کا بانی واصل بن عطا حضرت حسن بصریؒ کے حلقہ سے تعلق رکھتا تھا ۔ معقولات کی دنیا کا آدمی تھا اور عقلی نوعیت کے سوالات کرتا رہتا تھا۔ حضرت حسن بصری اپنی تمام تر علمی عظمت اور تقویٰ اور بزرگی کے باوجود اس دنیا کے آدمی نہیں تھے، اس لیے اس نے جب حضرت حسن بصریؒ کے حلقہ سے علیحدگی اختیار کی تو انہوں نے اطمینان کا اظہار فرمایا کہ ’ اعتزل عنا‘، وہ ہم سے الگ ہو گیا ہے اور حضرت حسن بصریؒ کے اسی تاریخ جملہ سے واصل بن عطا اور اس کے پیروکاروں کا نام ’’معتزلہ‘‘ پڑ گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر واصل بن عطا کا واسطہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی مجلس سے ہوتا تو اسباب کی دنیا میں شاید نتیجہ یہ نہ نکلتا، اس لیے کہ امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میں سوال و جواب ہوتے تھے، بحث و مباحثہ ہوتا تھا، اختلاف رائے ہوتا تھا، دلائل دیے جاتے تھے اور منطق و استدلال کے ساتھ ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، حتیٰ کہ اگر کسی شریک محفل کو مجلس کے اجتماعی فیصلہ پر اطمینان نہ ہوتا تو اسے اختلافی نوٹ لکھوانے کا حق بھی ہوتا تھا۔ آج یہ اسلوب ہمارے ہاں مفقود ہو گیا ہے اور خود ہم احناف اس اسلوب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

رہ گئی بات حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کی تو وہ میرا بڑا بیٹا ہے، اس نے درس نظامی کی تعلیم مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ نصرۃ العلوم میں حاصل کی ہے اور دورۂ حدیث اپنے دادا محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم سے کیا ہے۔ اس کے بعد کم و بیش دس سال تک مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کے شعبہ میں تدریس کی ہے اور موقوف علیہ کے درجہ تک کی کتابیں پڑھائی ہیں اور اس کے ساتھ ہی پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہے۔ خالصتاً کتابی ذوق کا شخص ہے اور لکھنے پڑھنے کے سوا اسے کسی اور کام میں دلچسپی نہیں ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب سے ان کا شاگردی کا تعلق ہے، ان کے ادارے کے ساتھ اس کی جزوی وابستگی ہے اور ان کے بعض افکار سے وہ متاثر بھی ہے۔ اس کی تحریریں ’’الشریعہ‘‘ اور دیگر رسائل میں شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں جمہور کے موقف سے ہٹ کر بھی بات ہوتی ہے، مگر میں نے ہر موقع پر اس کی انفرادی رائے سے اختلاف کیا ہے۔ مثلاً حدود و تعزیرات کے بارے میں اس کی کتاب کو سب سے زیادہ ہدف اعتراض و تنقید بنایا گیا ہے۔ اس کا پیش لفظ میں نے لکھا ہے اور اس میں بھی اس اختلاف کا اظہار کیا ہے جو کتاب کے ساتھ ہی شائع ہوا ہے۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کر لیجیے:

’’آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم و جدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے، مگر انہیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’قدامت پرستی‘ اور ’تجدد پسندی‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو، کیونکہ اس دائرے سے آگے بہرحال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے۔‘‘

اسی دیباچہ میں راقم الحروف نے یہ بھی لکھا ہے کہ:

’’راقم الحروف کے نزدیک اسلامی قوانین و احکام کی تعبیر و تشریح کے لیے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ:

  • امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی، بہرحال پابندی کی جائے۔
  • امت مسلمہ کی غالب اکثریت کی فقہی وابستگیوں کا احترام کرتے ہوئے ہر ملک میں وہاں کی اکثریت کے فقہی رجحانات کو قانون سازی کی بنیاد بنایا جائے، البتہ قانون سازی کو صرف اسی دائرے میں محدود رکھنے کے بجائے دوسری فقہوں سے استفادہ یا بوقت ضرورت قرآن و سنت سے براہ راست استنباط کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔ مثلاً انڈونیشیا میں شوافع کی اکثریت ہے تو اس اکثریت کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ ان کے ملک میں قانون سازی کی بنیاد فقہ شافعی پر ہو، کیونکہ یہ ایک اصولی اور معقول بات ہونے کے علاوہ وہاں کی اکثریتی آبادی کا جمہوری حق بھی ہے۔
  • جدید عالمی ثقافتی ماحول اور گلوبلائزیشن سے پیدا ہونے والے مسائل اور بین الاقوامی مطالبات اور تقاضوں کو نہ تو حق اور انصاف کا معیار تصور کیا جائے کہ ہم ہر تقاضے کے سامنے سپرانداز ہوتے چلے جائیں اور اس کے لیے اسلامی اصولوں اور احکام سے دست برداری یا ان کی مغرب کے لیے قابل قبول توجیہ و تعبیر ہی ہماری علمی کاوشوں کا ہدف بن کر رہ جائے اور نہ ہی ہم انہیں یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نفاذ اسلام کے لیے اپنی پیشرفت کا راستہ خود ہی روکے کھڑے رہیں، بلکہ جن مطالبات اور تقاضوں کو ہم قرآن و سنت کی تعلیمات، اہل سنت کے علمی مسلمات اور اجتہاد شرعی کے دائرے میں قبول کر سکتے ہیں، انہیں کھلے دل سے قبول کریں اور جو امور قرآن و سنت کی نصوص صریحہ اور اجتہاد شرعی کے مسلمہ اصولوں سے متصادم ہوں، ان کے بارے میں کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیے بغیر پوری دلجمعی کے ساتھ ان پر قائم رہیں۔‘‘

اسی طرح عزیزم عمار سلمہ نے حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبد الواحد کی تنقیدات کے جواب میں جو تحریر لکھی ہے، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا ہے کہ:

’’عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کی تصنیف ’’حدود و تعزیرات‘‘ کے بارے میں اپنا اصولی موقف اسی کتاب کے مقدمے میں پیش کر چکا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ ہمارے مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب مدظلہ نے اس پر علمی نقد فرما کر اس بحث کو آگے بڑھایا ہے، کیونکہ میں ’الشریعہ‘ کے صفحات میں متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ ایسے مسائل میں علمی بحث و مباحثہ ہی صحیح نتائج تک پہنچنے کے لیے موزوں راستہ ہے۔ عزیزم عمار سلمہ نے محترم ڈاکٹر صاحب کے ارشادات کے جواب میں اپنے موقف کی وضاحت کی ہے جو قارئین کے سامنے ہے۔ میں چاہوں گا کہ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے اور کوئی اور صاحب علم بھی زیر بحث موضوع پر اظہار خیال فرمائیں۔ اس مباحثہ کے مختلف نکات پر گفتگو کی گنجائش اور ضرورت موجود ہے اور بحث آگے بڑھی تو بعض پہلوؤں پر ان شاء اللہ تعالیٰ میں بھی معروضات پیش کروں گا، البتہ ایک اصولی نکتے پر سردست کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور ان سے استدلال و استنباط کے حوالے سے مجھے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہے کہ اس کا دروازہ بالکل بند ہو چکا ہے اور اب علماء و محققین کا کام صرف ماضی کی تعبیرات و تشریحات اور استنباطات و اجتہادات میں سے ضرورت کے مطابق انتخاب کرنا اور ترجیحات قائم کرنا ہے۔ قرآن و سنت سے استدلال و استنباط ماضی کی طرح حال اور مستقبل کے اہل علم کا بھی حق ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا، لیکن اس کے ساتھ مجھے اس بات سے بھی شدید اختلاف ہے کہ نئے استدلال و استنباط اور تعبیر و تشریح کے لیے ماضی کی تعبیرات سے لاتعلقی بلکہ کسی موقع پر ان سے براءت اور ان کی نفی بھی ضروری ہے۔ علمی ارتقا اس کا نام نہیں ہے کہ چودہ سو سال کے علمی تسلسل کو نظر انداز کر کے اور اسے ’’محض روایت‘‘ قرار دے کر قرآن و سنت سے براہ راست استدلال و استنباط کے زیرو پوائنٹ کی طرف الٹی زقند لگا دی جائے، بلکہ کسی بھی علم میں ارتقا ماضی کے تسلسل کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ اس لیے زمانے کی بدلتی ہوئی ضروریات اور تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نئے استدلال و استنباط کا حق تسلیم کرنے کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسا کوئی بھی استدلال و استنباط قابل قبول نہیں ہو سکتا جس سے ماضی کے اجتہادات اور جمہور اہل علم کے رجحانات کی کلیتاً نفی ہوتی ہو۔

میں اس سلسلے میں امت کے اساطین علم میں سے دو بزرگوں کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ ایک امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں جنھوں نے واضح طور پر فرما دیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد سر آنکھوں پر، صحابہ کرام کے فیصلے بھی ہمارے لیے واجب العمل ہیں اور اگر کسی مسئلے میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہے تو ہم ان کے اقوال میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے اور ان کے اقوال کے دائرے سے باہر نہیں نکلیں گے، البتہ ان کے بعد ہمارے زمانے میں بات آئے گی تو ’نحن رجال وہم رجال‘ ، پھر ہم کسی کے پابند نہیں ہیں۔ جس طرح دوسرے حضرات اجتہاد کرتے ہیں، ہم بھی اجتہاد کریں گے۔

’’صحابہ کرام کے اقوال کے دائرے میں رہنا اور اس سے باہر نہ نکلنا‘‘ ایک ایسا اصول ہے جو نہ صرف حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اجتہادات کی ایک اہم اساس ہے، بلکہ ’’اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ میں ’’الجماعۃ‘‘ کا لفظ بھی اسی کی غمازی کرتا ہے، اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر زمانہ میں نئی تعبیر و تشریح اور استدلال و استنباط کی گنجائش ہے اور ایسا ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے ماضی کے اجتہادات اور علمی تسلسل بالخصوص حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماعی فیصلوں اور رجحانات کی نفی نہ ہو، بلکہ نیا استدلال و استنباط ماضی کے علمی تسلسل میں اضافہ اور اس کے ارتقا کا باعث بنے۔

دوسرے بزرگ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ ہیں جنھوں نے حجۃ اللہ البالغہ کے مقدمہ میں بعض حوالوں سے قرآن و سنت کی نئی تعبیر و تشریح اور استدلال و استنباط کی ضرورت بیان کی ہے اور اس اعتراض کو پوری قوت کے ساتھ رد کر دیا ہے کہ کسی نئی علمی بحث کی ضرورت نہیں ہے، اور چونکہ اسلاف نے یہ باتیں نہیں کہیں (’لان السلف لم یدونوہ‘) اس لیے اب کسی کو اس کا حق حاصل نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے اس فکر کو مسترد کرتے ہوئے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق نئے استدلال و استنباط کی اہمیت و ضرورت کو واضح کیا ہے اور پوری حجۃ اللہ البالغہ میں انہوں نے اول سے آخر تک یہی کام کیا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ اعلان بھی ضروری سمجھا ہے اور میرے نزدیک ایسے علمی مباحث میں حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کا یہ ارشاد ہی قول فیصل کی حیثیت رکھتا ہے کہ:

وہا انا برئ من کل مقالۃ صدر ت مخالفۃ لآیۃ من کتاب اللہ او سنۃ قائمۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او اجماع القرون المشہور لہا بالخیر او ما اختارہ جمہور المجتہدین ومعظم سواد المسلمین فان وقع شئ من ذلک فانہ خطا رحم اللہ تعالیٰ من ایقظنا من سنتنا او نبہنا من غفلتنا اما ہولاء الباحثوں بالتخریج والاستنباط من کلام الاوائل المنتحلون مذہب المناظرۃ والمجادلۃ فلا یجب علینا ان نوافقہم فی کل ما یتفوہون بہ ونحن رجال وہم رجال والامر بیننا وبینہم سجال

’’اور ہاں، میں ہر اس بات سے بری ہوں جو مجھ سے قرآن کریم کی کسی آیت یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت قائمہ کے خلاف صادر ہو گئی ہو یا خیر القرون کے اجماع، جمہور مجتہدین کے فیصلوں اور امت مسلمہ کے اجماعی رجحان کے منافی ہو۔ اگر ایسی کوئی بات ہو گئی ہے تو یہ خطا ہے۔ جو صاحب ہمیں اس اونگھ سے بیدار کریں گے اور غفلت پر خبردار کریں گے، اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔ البتہ یہ لوگ جو پہلے بزرگوں کے کلام سے استنباط و تخریج میں بحث کرتے ہیں اور مناظرہ و مجادلہ کے ذوق و اسلوب کی طرف منسوب ہیں، ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ان کی ہر اس بات میں ان کی موافقت کریں جو ان کے منہ سے نکل جائے، کیونکہ وہ بھی مرد ہیں اور ہم بھی مرد ہیں اور یہ معاملہ ہمارے اور ان کے درمیان کنویں کے ڈول کی طرح گھومتا ہے۔‘‘

اس لیے میں یہ گزارش ضروری سمجھتا ہوں کہ افراط و تفریط دونوں سے بچنے اور اعتدال و توازن سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ نہ ضروریات سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی تحفظات کو نظر انداز کر دینا دانش مندی ہے۔ صحیح بات وہی ہوگی جو ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح رخ پر چلنے اور اس پر استقامت کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔‘‘

میں نہیں سمجھتا کہ ان واضح تصریحات کے بعد بھی کسی دوست کے لیے اس حوالے سے میرے یا ’الشریعہ‘ کے موقف کے بارے میں تذبذب کا شکار رہنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے، بالخصوص اس صورت حال میں کہ حدود و تعزیرات کے بارے میں جمہور امت اور اہل علم کے اجتماعی موقف کی ترجمانی کے لیے خود میرے درجنوں مضامین ’’الشریعہ‘‘ میں وقتاً فوقتاً شائع ہو چکے ہیں اور ان کا مجموعہ ایک کتابی شکل میں بھی موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر کچھ دوست تردد کا شکار ہیں تو ان کی تسلی کے لیے عرض کر رہا ہوں کہ ’’الشریعہ‘‘ اور راقم الحروف کا موقف اور علمی دائرۂ کار وہی ہے جس کا سطور بالا میں تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہو چکا ہے۔ اس موقف اور علمی دائرے سے ہٹ کر ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہونے والی کوئی بھی تحریر، خواہ وہ عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کی ہو یا کسی اور دوست کی، وہ مباحثہ کا حصہ تو ہو سکتی ہے لیکن ’’الشریعہ‘‘ کا موقف نہیں اور نہ ہی وہ راقم الحروف کا موقف ہے۔ ہم نے بحمداللہ تعالیٰ ہمیشہ اعتدال و توازن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ہمیں نہ اس ’تجدد‘ سے اتفاق ہے جس میں امت کے اجماعی تعامل اور اہل سنت کے علمی مسلمات کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو، اور نہ ہی اس ’تشدد‘ کے لیے ہمارے پاس کوئی جگہ ہے جو جزئیات و فروع پر جمود کی یہ کیفیت پیدا کر دے کہ وقت کے ناگزیر تقاضوں اور ملی ضروریات سے ہی آنکھیں بند کر لی جائیں۔

ہم نے اپنا موقف اور مقدمہ پوری وضاحت کے ساتھ ارباب علم و دانش کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اس پر کوئی صاحب علم دوست سنجیدگی کے ساتھ قلم اٹھائیں اور علمی انداز میں ہماری رہنمائی فرمائیں تو ہم شکر و سپاس کے ساتھ ان کا خیرمقدم کریں گے اور ان سے استفادہ کریں گے۔ امید ہے کہ ارباب علم و دانش ہماری اس گزارش پر سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ غور فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

   
Flag Counter