تاشقند اور سمرقند کے پانچ روزہ سفر کی سرگزشت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۱۹۹۳ء

تاشقند وسطی ایشیا کی ایک اہم ریاست ازبکستان کا دارالحکومت ہے اور ہماری کئی تاریخی اور قومی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ وسطی ایشیا کا یہ خطہ، جسے علمی حلقوں میں ماوراء النہر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، صدیوں تک علومِ اسلامیہ بالخصوص فقہ حنفی کا مرکز رہا ہے اور اسے امام بخاریؒ، امام ترمذیؒ، صاحب ہدایہ امام برہان الدین مرغینائیؒ اور فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ جیسے اساطینِ علم وفضل کی علمی جولانگاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ پھر پاکستان کی قومی تاریخ میں بھی تاشقند کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ۱۹۶۵ء کی خوفناک پاک بھارت جنگ کے نتائج کو سمیٹنے کے لیے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم اور بھارت کے وزیر اعظم آنجہانی لال بہادر شاستری کے درمیان مذاکرات اسی تاشقند میں ہوئے تھے اور انہی مذاکرات کے حوالہ سے ’’تاشقند کا راز‘‘ ۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۰ء تک مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا ایک مؤثر سیاسی ہتھیار اور قومی سیاست میں ہلچل اور گہماگہمی کا ذریعہ بنا رہا۔

اس پس منظر میں سوویت یونین کے تسلط سے وسطی ایشیا کی ریاستوں کی آزادی کے بعد سے یہ خواہش تھی کہ وسطی ایشیا کے اہم علاقوں بالخصوص تاشقند کو دیکھا جائے اور اس خطہ کے مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور معاشرتی حالت کا جائزہ لیا جائے۔ سالِ رواں کے آغاز میں لندن سے واپسی پر یہ پروگرام طے ہوا کہ مجھے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے ضروری امور کے لیے جون میں دوبارہ لندن آنا ہے تو واپسی کے لیے سستے ٹکٹ کی تلاش شروع ہوئی جو میرے جیسے سفید پوش مسافروں کی مجبوری ہوتی ہے۔ مختلف ایئرلائنوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ صورت حال سامنے آئی کہ ان میں سب سے سستا ٹکٹ ازبک ایئرلائن کا ہے جو کراچی سے براستہ تاشقند لندن پہنچنے تک تاشقند میں چند روز قیام کی سہولت کے ساتھ دو سو پینتالیس برطانوی پونڈ کا بنتا ہے۔ اس رقم کو پاکستانی کرنسی میں شمار کیا جائے تو دس ہزار روپے کے لگ بھگ بن جاتی ہے۔ چنانچہ ’’ایک ٹکٹ میں دو مزے‘‘ یعنی سستے ٹکٹ کی سہولت اور تاشقند کی سیر کا لطف حاصل کرنے کا پروگرام بنا لیا اور لندن سے ہی واپسی کا ٹکٹ بھی خرید لیا۔

پروگرام کے مطابق مجھے عید الاضحٰی کے فورًا بعد سفر پر روانہ ہونا تھا اور کراچی سے سفر کے آغاز کے علاوہ تاشقند کا ویزا بھی وہیں سے حاصل کرنا تھا۔ اس لیے پانچ جون کو صبح کراچی پہنچ گیا، وہاں پہنچ کر جب یہ معلوم ہوا کہ کراچی کے علماء کرام کا ایک وفد انہی دنوں تاشقند جانے والا ہے جس میں اقراء ڈائجسٹ کے ایڈیٹر مفتی محمد جمیل خان بھی شامل ہیں تو سفر کے حوالہ سے بہت سی الجھنوں اور پریشانیوں سے ذہن خود بخود آزاد ہوگیا۔ علماء کے وفود مرتب کرنا، ان کے بیرونی سفر کے دفتری اور قانونی مراحل کو ہنستے کھیلتے طے کرنا اور پھر سفر کے آغاز سے اختتام تک خود کو وفود کی خدمت کے لیے وقف کردینا مولانا مفتی محمد جمیل خان کا خصوصی ذوق اور دل پسند مشغلہ ہے۔ مجھے مکہ مکرمہ اور لندن کے دو اسفار میں ان کی اس ’’خدمت گزاری‘‘ سے لطف اندوز ہونے کا اس سے قبل موقع مل چکا ہے اس لیے میں نے اپنے سفر کے معاملات ان کے سپرد کر دیے اور خود مطمئن ہوکر دوسری مصروفیات میں مشغول ہوگیا۔ یہ وفد عالمی مجلس ختم نبوت کی طرف سے وسطی ایشیا کے مسلمانوں کی دینی ضروریات کا جائزہ لینے اور ان میں قرآن کریم کے نسخے اور ضروری دینی لٹریچر تقسیم کرنے کے لیے جا رہا تھا اور اس میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مولانا مفتی نظام الدین شامزی، مولانا محمد عاصم، قاری عتیق الرحمن اور انور زیب خان شامل تھے، اور بعد میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی اور راقم الحروف بھی اس میں شامل ہوگئے۔ ویزے کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا مرحلہ آیا تو معلوم ہوا کہ ایک ہفتہ کے ویزا کی فیس تیس ڈالر اور پندرہ روز کے ویزا کی فیس چالیس ڈالر ہے اور اگر ویزا ایک دو روز میں ارجنٹ حاصل کرنا ہو تو فیس ڈبل ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ تاشقند کے کسی ہوٹل کی کم سے کم تین روز کی پیشگی بکنگ بھی ویزے کے حصول کے لیے ضروری ہے اور یہ بکنگ ساڑھے چار ہزار روپے فی کس کے حساب سے ہوتی ہے۔ مجھے صرف ایک ہفتہ کا ویزا درکار تھا اس لیے ہوٹل کے ساڑھے چار ہزار روپے کے علاوہ امریکی ڈالر بھی ادا کرنا پڑے اور اس طرح لندن سے سستا خریدنے کا جو مزہ ذہنی اور اقتصادی طور پر میسر تھا تقریبا چھ ہزار روپے کے اس اضافی بوجھ کے ساتھ کرکرا سا ہو کر رہ گیا اور میرے سفری بجٹ کا گراف ’’عاشق نامراد‘‘ کی آرزوؤں کی طرح گرتا چلا گیا۔

خدا خدا کر کے ۷ جون کو وفد کے ویزوں کے لیے درخواست دی گئی تو شام کو ’’ففٹی ففٹی‘‘ نتیجہ برآمد ہوا یعنی نصف ارکان کو ویزا مل گیا اور نصف کے ویزوں سے انکار کر دیا گیا۔ اس پر دل کھٹکا کہ خداخیر کرے، فیصلوں کا یہ انداز تو آنجہانی مہاراجہ رنجیت سنگھ سے ملتا جلتا ہے۔ رنجیت سنگھ کے بارے میں ایک روایت ہے کہ ایک روز دربار میں ان کے سامنے لوگوں کی درخواستوں کا ایک ’’دتھا‘‘ پیش کیا گیا۔ مہاراجہ موصوف اس وقت شاید شکایات سننے کے موڈ میں نہیں تھے اس لیے درخواستوں کو درمیان سے نصف کر کے انہیں الگ الگ میز پر رکھا اور فیصلہ صادر کر دیا کہ ’’آھا منجور تے آھا نامنجور‘‘ یعنی یہ ایک طرف والی درخواستیں منظور ہیں اور دوسری طرف والی درخواستیں نامنظور ہیں۔ خیال ہوا کہ ہماری درخواستیں پیش ہوتے وقت ازبک قونصل خانے کے حکام شاید اسی طرح کے موڈ میں ہوں اس لیے نصف درخواستیں منظور ہوئیں اور نصف مسترد ہوگئی ہیں۔ لیکن جب وجہ معلوم کرنے کا تردد کیا تو معاملہ بالکل الٹ نکلا یعنی نصف درخواستیں مسترد کرنے کی وجہ ’’کام نہ کرنے کا موڈ‘‘ نہیں تھا بلکہ کارکردگی دکھانے اور خود کو مستعد ظاہر کرنے کا شوق ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مولانا فداء الرحمن درخواستی اور مفتی نظام الدین شامزئی جیسے سنجیدہ بزرگوں کی درخواستیں نامنظور ہونے کا باعث بن گیا ہے۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ ان کی ڈاڑھیاں لمبی ہیں جو ان کے متشدد مذہبی ہونے کی علامت ہیں اس لیے انہیں ویزا نہیں دیا جا سکتا۔

یہ ڈاڑھی بھی عجیب چیز ہے جو امریکہ بہادر کے ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی بدولت کچھ عرصہ سے عالمی امن کے لیے خطرے کی حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے اور اب امریکہ اور اس کی بہی خواہوں کو کسی کے ہاتھ میں کلاشنکوف دیکھ کر اتنی تشویش نہیں ہوتی جتنا کہ کسی مسلمان کے چہرے پر ڈاڑھی دیکھ کر ان پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔مجھے اس سے پہلے بھی ڈاڑھی کی اس خطرناکی کا کچھ اندازہ تھا اس لیے کہ تقریباً ایک ماہ قبل اسلام آباد میں مسئلہ کشمیر کے بعض پہلوؤں کے حوالہ سے ایک اجلاس میں ایک ذمہ دار کشمیری راہنما نے یہ انکشاف کیا تھا کہ چند دن پہلے مظفر آباد کے گرد و نواح میں کشمیری مہاجرین کے کیمپوں میں ایک حساس ادارے کی طرف سے یہ ہدایت جاری کی گئیں کہ چونکہ مختلف امریکی گروپ اس علاقہ کا دورہ کرتے رہتے ہیں اس لیےبڑی ڈاڑھیوں والے حضرات سے کہا جائے کہ وہ ایسے موقع پر ادھر ادھر ہو جایا کریں تاکہ ان پر امریکیوں کی نظر نہ پڑے۔

فرعون کے بارے میں تاریخی روایات میں آتا ہے کہ اسے علم نجوم کے ماہرین نے ایک خواب کی تعبیر میں بتا دیا تھا کہ اس کے اقتدار کا خاتمہ بنی اسرائیل کے ایک نوجوان کے ہاتھوں ہوگا۔ اس پر فرعون نے حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا آج کے بعد پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے۔ مگر جس موسٰی کی آمد کو روکنے کے لیے فرعون نے ہزاروں بچوں کے بے گناہ خون سے اپنے ہاتھ رنگے خدا کی بے نیازی نے خود فرعون کے گھر میں اس موسٰی کی پرورش کا اہتمام کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی ستم ظریف نجومی نے آج کے فرعون کو بھی بتا دیا ہے کہ عالمی اسٹیج پر اس کی ’’خرمستیاں‘‘ اپنے عروج کو پہنچ کر اب زوال کی طرف ٹرن لینے والی ہیں اور اس کی چودھراہٹ اور رعونت کا خاتمہ کسی ڈاڑھی والے مسلمان کے ہاتھوں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ بہادر کے حواریوں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے خواہشمند حلقوں میں ڈاڑھی والے مسلمان بطور خاص نشانے پر ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بے نیازی اور اس کا اٹل قانون فطرت ہمارے اس ایمان کی بنیاد ہے کہ آج کا فرعون بھی اپنے ’’موسٰی‘‘ کی آمد اور نشونما کو کسی صورت میں نہیں روک سکے گا لیکن یہ ’’موسٰی کا خوف‘‘ دنیا بھر کے کتنے بے گناہ ڈاڑھی والے مسلمانوں کے خون سے امریکہ اور اس کے حواریوں کے ہاتھ رنگتا ہے اس کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

خیر کراچی کے ازبک قونصل خانے نے ہمارے وفد کے نصف ارکان کو ویزے دینے سے ان کی ڈاڑھیاں لمبی ہونے کے باعث انکار کر دیا تھا مگر مفتی محمد جمیل خان ہار ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے، انہوں نے پینتر ا بدلا اور دوسرے دن کسی اور ٹریول ایجنٹ کی معرفت انہی حضرات کی درخواستیں دوبارہ بھجوا دیں، اب خدا جانے کہ ویزا افسر کی یادداشت نے کام نہیں کیا یا مولانا فدا الرحمن درخواستی کے وظیفوں نے اثر دکھایا کہ شام تک ان بزرگوں کے ویزے لگ گئے اور اس طرح ہمارے وفد کے تاشقند کے سفر کی راہ ہموار ہوئی۔

چنانچہ مولانا فدا الرحمن درخواستی، مولانا عبد الرزاق سکندر، مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، مفتی محمد جمیل خان، مولانا محمد عاصم، مولانا عتیق الرحمن، انور زیب خان اور راقم الحروف پر مشتمل آٹھ رکنی وفد ۹ جون بدھ کو کراچی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ازبک ایئرلائن کے ذریعے شام ساڑھے سات بجے روانہ ہو کر تقریباً سوا دس بجے تاشقند ایئرپورٹ پہنچا۔ آنجہانی سوویت یونین کے ہوائی اڈوں کے انتظامات کے بارے میں اس سے قبل بھی کچھ سن رکھاتھا، تاشقند ایئرپورٹ بھی انہی میں سے ہے جسے اب انٹرنیشنل معیار پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن مسافروں کے ساتھ عملہ کا طرز عمل اب بھی پہلے جیسا ہے اور وہاں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مسافر کمیونسٹ پارٹی کے عام ارکان ہیں اور ایئرپورٹ کا عملہ پارٹی کی لیڈر شب ہے۔ امیگریشن اور کسٹم کے معاملات نمٹانے کے لیے عملہ ناکافی ہے اور طریقہ کار فرسودہ۔ اس پر مستزاد یہ کہ طرز عمل بھی بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے مسلمہ معیار سے میل نہیں کھاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں ان مراحل سے گزرنے میں سوا دو گھنٹے صرف ہوگئے۔ مجھے پیشاب کی تکلیف رہتی ہے مگر ایئرپورٹ کے اس حصہ میں صرف ایک ٹوائلٹ نظر آیا جہاں نہ پانی تھا، نہ ٹشو پیپر اور نہ صفائی۔ میں تو دیکھ کر ہی واپس آگیا کہ ابھی ہم نے ٹھکانے پر پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نماز ادا کرنا تھی اور مجھ میں اس وقت کپڑے دھونے اور نہانے کا حوصلہ نہ تھا۔ ہمارے ایک اور ساتھی اندر آگئے اور واپس آکر کہنے لگے کہ یہ تو ’’لی مارکیٹ کراچی‘‘ کے ٹوائلٹ سے بھی گیا گزرا ہے۔ خیر پیشاب روکے امیگریشن ہال سے باہر نکلنے کا انتظار کرتے ساڑھے بارہ بجے کے لگ بھگ باہر کھلی فضا میں آئے تو کراچی سے سپر انٹرنیشنل ٹریول کے ذریعے جس ہوٹل کی بکنگ کرائی تھی اس کا نمائندہ موجود تھا۔ اسے دیکھ کر کچھ پریشانی کم ہوئی کہ چلو اب ہوٹل پہنچ کر اس مشکل سے نجات مل جائے گی مگر ابھی کہاں؟

گاڑیاں امیگریشن ہال کے گیٹ سے کافی فاصلہ پر کھڑی ہوتی ہیں اور وہاں تک سامان لے جانے کے لیے ٹرالیاں ندارد۔ ہمارے پاس آٹھ آدمیوں کے سامان کے علاوہ قرآن کریم اور ازبکی زبان میں مترجم نماز کے کچھ پیکٹ بھی تھے جنہیں ازبکستان میں تقسیم کرنا مقصود تھا۔ یہ اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے کیا گیا تھا اور وفد بھی عالمی مجلس کی طرف سے ہی ازبکستان کے دورہ پر گیا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس سے قبل بھی وسطی ایشیا کی ریاستوں میں قرآن کریم کے نسخے بڑی مقدار میں تقسیم کر چکی ہے اور اب وہیں قرآن کریم چھپوا کر تقسیم کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے کیونکہ اتنی مقدارمیں قرآن کریم باہر سے وہاں لے جانا مشکل ہے۔ خود ہمیں کراچی ایئرپورٹ سے قرآن کریم کے بہت سے پیکٹ واپس کرنا پڑے تھے کیونکہ ازبک ایئرلائن کے عملہ نے مقررہ وزن سے زیادہ پیکٹ لے جانے سے انکار کر دیا تھا۔ خیر تاشقند ایئر پورٹ پر ہمیں ایسی آزاد ٹرالی نظر نہ آئی جسے مسافر اپنی مرضی سے کرائے کے بغیر استعمال کرسکتے۔ البتہ کچھ قلی نما افراد کے پاس چھوٹی بڑی ٹرالیاں تھیں، ایک ریڑھی نما ٹرالی پر سامان لادا اور ہمارا سامان دو ہزار روبل کے عوض گاڑیوں کے اسٹینڈ تک پہنچا۔ روبل آنجہانی سوویت یونین کا سکہ تھا جو اب بھی روس اور وسطی ایشیا کی نو آزاد ریاستوں میں چلتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کبھی یہ امریکی ڈالر کے برابر ہوتا تھا مگر اب امریکی ڈالر کے عوض ساڑھے گیارہ سو کے لگ بھگ روبل سرکاری طور پر ملتے ہیں اور غیر سرکاری طور پر ساڑے بارہ سو روبل بھی مل جاتے ہیں۔ خدا خدا کرکے اسٹینڈ پر پہنچے تو گاڑی ندارد۔ کم وبیش پون گھنٹہ وہاں کھڑے رہنا پڑا پھر کہیں گاڑی کی شکل دکھائی دی۔ ہوٹل پہنچے تو پتہ چلا کہ یہ وہ ہوٹل ہی نہیں جو کراچی سے بک کرایا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ اس ہوٹل میں جگہ نہیں ہے اس لیے متبادل ہوٹل میں لایاگیا ہے۔اس ہوٹل کا نام یوشلیک ہے اور خاصا بڑا ہے، ہمیں اس کی نویں منزل پر کمرے ملے جو غالباً آخری منزل ہے، مجھے اور مولانا فدا الرحمن درخواستی کو ایک کمرہ ملا۔ کمرہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو سیدھا باتھ روم میں گھس گیا کہ پیشاب کا زور اب میری دماغی کیفیت پر بھی اثر انداز ہونے لگا تھا۔ پیشاب سے فارغ ہو کر اردگرد نظر دوڑائی تو استنجا کے لیے نہ وہاں کوئی برتن تھا کہ پانی استعمال کرسکوں اور نہ ٹیشو پیپر نام کی کوئی چیز تھی۔ جیسے کیسے اس مرحلہ سے نجات حاصل کی اور نماز ادا کی۔

نیند کے لیے بستر پر دراز ہونے لگے تو ایک نئی مشکل سے دو چار ہو گئے، کمرے میں پنکھا نہیں تھا اور گرمی کی کیفیت یہ تھی کہ اگر کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھے جائیں تو گزارہ ہوسکتا تھا اور اگر دروازہ بند کر دیں تو حبس کی سی کیفیت ہوجاتی تھی۔ حبس اور گرمی سے میں بھی بہت تنگ پڑتاہوں لیکن جہاں مجبوری ہو خاموشی کے ساتھ گزارہ کر لینے کا مزاج بنا ہوا ہے۔ البتہ مولانا فدا الرحمن درخواستی کے لیے یہ صورتحال خاصی پریشان کن ثابت ہوئی، وہ اس معاملہ میں بادشاہ ہیں، ٹھنڈک اور سبزہ ان کی کمزوری ہیں، ایسی کمزوری کہ یہ دو چیزیں دکھا کر انہیں دنیا و مافیہا سے بے خبر کیا جاسکتاہے۔ سونے کے لیے ٹھنڈا ماحول نہ ملے تو ان کی رات غسل کرتے ہوئے بسر ہوتی ہے چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ میں بیڈ پر لیٹا تو مولانا درخواستی غسل خانے میں تھے اور صبح جب میری آنکھ کھلی تب بھی وہ غسل خانہ میں تھے۔ یہ ہوٹل جو تھری سٹار ہوٹلوں کے معیار کا لگتا تھا ہمیں صرف تین دن کے لیے ملا۔ ہم جمعرات کو صبح ۲ بجے کے لگ بھگ کمروں میں داخل ہوئے تھے جبکہ ہمیں کہا گیا کہ ہفتہ کے روز بارہ بجے سے پہلے کمرے خالی کر دینے ہیں۔ مجھ سے کراچی میں سپر ٹریول انٹرنیشنل نے ہوٹل کے کرایہ کی مد میں ساڑھے چار ہزار روپے وصول کیے تھے اور دو دو افراد کو ایک کمرہ ملا تھا۔ اس طرح تھری سٹار کا یہ ہوٹل ہمیں یومیہ تین ہزار پاکستانی روپے میں پڑا۔ اب یہ معلوم نہیں کہ اس میں ہوٹل اور ٹریول ایجنسی کی ’’بندربانٹ‘‘ کا تناسب کیا تھا، ہمارے کپڑے بہرحال اتر چکے تھے اور ہماری بے بسی کا حال یہ تھا کہ زبان سے ناواقفیت کے باعث ’’اظہار بھی مشکل ہے‘‘ کی عملی تصویر بنے ہوئے تھے۔

ایئرپورٹ اور ہوٹل سے قطع نظر باقی شہر بہت خوبصورت ہے، باغات اور درختوں میں گھرا ہوا تاشقند دیکھ کر سفر کی ساری کلفتیں ذہن سے اتر گئیں۔ کشادہ سٹرکیں، درختوں کی لمبی قطاریں، ہر طرف سبزہ اور ہر گھر کے ساتھ باغیچہ نے ایک عجیب سماں باندھ رکھا ہے۔ ٹریفک کی سہولت عام ہے، ٹرام، بجلی والی بس اور آٹو بس کے ساتھ ساتھ زیر زمین ٹرین کا نظام بھی موجود ہے۔ ٹرام اور انڈرگراؤنڈ ٹرین میں جسے میٹرو کہا جاتاہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے فی کس کرایہ چھ روبل ہے جو پاکستانی سکہ کے حساب سے بیس پیسے کے قریب بنتے ہیں۔ ٹیکسی بھی اس حساب سے کچھ مہنگی نہیں، واپسی پر ہم نے تاشقند ہوٹل سے ایئرپورٹ تک ٹیکسی کا کرایہ چار سو روبل دیا اور فاصلہ اندازًا دو میل تھا۔

۱۰ جون جمعرات کو ہم نے شہر میں گھومنے کا پروگرام بنایا، مفتی محمد جمیل خان چونکہ پہلے بھی آچکے تھے اس لیے کوئی دقت نہ ہوئی۔ ہم پہلے مدرسہ قوقل تاش گئے جو تاشقند کے علاقہ چہار سو میں ہے۔ مدرسہ کی عمارت مغل طرز تعمیر کا نمونہ ہے اور باہر سے ایک بلند و بالا قلعہ دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ دینی مدرسہ چار صدیوں سے آباد چلا آرہا تھا،کمیونسٹ انقلاب کے بعد اسے بند کر دیا گیا اور کچھ عرصہ پہلے تک سیمنٹ کے سٹور کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ آزادی کے آثار نمودار ہونے پر علاقہ کے نوجوانوں نے ایک باہمت بزرگ جنا ب محمد نعیم کی سرکردگی میں اس پر قبضہ کر لیا اور اسے دوبارہ دینی مدرسہ کی شکل دینے کی کوشش شروع کر دی۔ نعیم صاحب اب مدرسہ کے منتظم ہیں اور ان کی زیر نگرانی مرمت اور تعمیر نو کا کام جاری ہے۔ مدرسہ میں عربی اور دینیات کی تعلیم ہوتی ہے مگر اوقات متعین نہیں ہیں، طلبہ اور دیگر حضرات اپنی اپنی سہولت کے مطابق مختلف اوقات میں آتے ہیں اور سبق پڑھ کر چلے جاتے ہیں۔ بچیوں کی بھی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے۔ آج کل تعطیلات ہیں مگر جزوی طور پر تعلیم کا سلسلہ اس کے باوجود جاری ہے۔ معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر دو ہزار کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات دینی تعلیم کے لیے مدرسہ قوقل تاش میں آتے ہیں۔ یہاں ایک اور بزرگ سے بھی ملاقات ہوئی جن کا نام قابل محمد ہے۔ نماز اور جمعہ کے خطابت کے فرائض وہی سر انجام دیتے ہیں، عربی میں گفتگو کر سکتے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن پر کمیونسٹ انقلاب اپنی تمام تر قہر سامانیوں کے باوجود اثر انداز نہیں ہوسکا اور وہ عقیدہ وعمل کے لحاظ سے اپنی پرانی طرز پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچاس برس تک بازار سے گوشت خرید کر نہیں کھایا اس لیے کہ ذبح کا نظام شریعت کے مطابق نہیں تھا۔ مدرسہ قوقل تاش کے قریب ایک بڑا گنبد دکھائی دیا۔ میں نے سمجھا کہ کوئی مزار ہے مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک مسجد ہے جو مدرسہ کی طرح سیمنٹ کے گودام کا کام دیتی رہی ہے، اب مقفل ہے اور ابھی تک واگزاری اور آبادی سے محروم ہے۔

تاشقند کے مسلمان بے حد مہمان نواز ہیں، مہمان جب تک بیٹھا رہے اس کے سامنے دسترخوان بچھا رہتا ہے جس پر پھل اور خشک میوے موجود رہتے ہیں اور گرم چائے وقفے وقفے سے آتی رہتی ہے۔ ہمارے جانے پر بھی محمد نعیم صاحب نے دسترخوان بچھا دیا اور ظہر کے بعد پلاؤ کے ساتھ ہماری تواضع کی۔ یہاں کی چائے بڑی آسان ہے کہ دودھ اور چینی دونوں کے تکلف سے پاک ہوتی ہے، مہمان زیادہ اہمیت کا حامل ہو تو چینی کے اعزاز سے مشرف ہو پاتا ہے اور بحمداللہ تعالیٰ ہمیں اسی زمرہ میں شمار کیا گیا۔

اسی مدرسہ میں چینی ترکستان کے مولوی محمد امین صاحب بھی مدرس ہیں جنہوں نے جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دیگر پاکستانی مدارس میں تعلیم حاصل کی ہے، اردو بول لیتے ہیں اور ان کی یہ صلاحیت اس دورہ میں ہمارے بہت کام آئی۔ انہوں نے گوجرانوالہ کے مدرسہ نصرۃ العلوم میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی سے قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر پڑھی ہے اور اچھے با اخلاق اور خدمت گزار ساتھی ہیں۔ دینی مدارس کے مدرسین کا حال یہاں بھی ناگفتہ بہ ہے ایک عام مدرس پانچ ہزار روبل تنخواہ کا مستحق سمجھا جاتا ہے جبکہ اشیائے صرف کی قیمتوں کا حال یہ ہے کہ چھوٹا گوشت تقریباً ایک ہزار روبل میں ایک کلو ملتاہے۔ ایک مدرس نے بتایا کہ ان کا تنخواہ سے روزمرہ خوراک کا گزارہ بھی نہیں چلتا لیکن وہ یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کام اس لیے نہیں کرتے کہ پھر دین کی تعلیم کا کام کیسے چلے گا؟

مدرسہ قوقل تاش کے بعد ہم ادارہ امور دینی دیکھنے گئے، یہ سرکاری ادارہ ہے جو کمیونسٹ دور میں قائم رہا۔اس کے سامنے ایک بڑی مسجد ہے جو ان خوش قسمت مساجد میں سے ہے جو کمیونسٹ دور میں بھی بطور نمونہ باقی رکھی گئی تھیں اور باہر سے آنے والے مسلمانوں کو یہ مساجد دکھا کر مسلمانوں کی مذہبی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا۔ اس مسجد کے ساتھ ایک حجرہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مصاحف میں سے ایک مصحف موجود ہے۔حضر ت عثمانؓ نے اپنے دورِ خلافت میں عرب قبائل کے لہجوں اور لغات میں فرق کو قرآن کریم کی تلاوت پر اثر انداز ہوتے دیکھا تو قریش کی لغت پر قرآن کریم کے چند نسخے اہتمام کے ساتھ لکھوا کر مختلف علاقوں کو بھجوا دیے اور یہ حکم دے دیا کہ قرآن کریم کی تلاوت آئندہ اس مصحف کے مطابق کی جائے۔ ان مصاحف میں سے ایک استنبول کے توپکاپی میوزیم میں ہے اور دوسرا تاشقند میں ہے، مگر اس روز حجرہ کا چابی بردار موجود نہیں تھا اس لیے ہم اس مصحف شریف کی زیارت کا شرف حاصل نہ کرسکے۔

شام کو ہم نے میدانِ استقلال دیکھا، اس میدان میں لینن کا مجسمہ ہوا کرتا تھا جو آزادی ملتے ہی ازبکستان کے مسلمانوں نے گرا دیا اور اس کے ساتھ ہی اس میدان کا نام ’’مستقل میدان‘‘ رکھ دیاگیا۔ چاروں طرف فوارے، درمیان میں خوبصورت سبزہ زار اور اردگرد بلند و بالا عمارتوں نے اس تفریح گاہ کو خاصا دلفریب بنا دیا ہے۔

۱۱ جنوری کو جمعہ کی نماز ہم نے مدرسہ قوقل تاش میں ادا کی۔ مدرسہ کے مین گیٹ سے باہر کھلے میدان میں نماز ادا کی گئی۔ الشیخ قابل محمد نے پہلے ازبک زبان میں خطاب کیا بلکہ ایک کتاب کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایا پھر مختصر عربی خطبہ کے بعد نماز پڑھا دی۔ اجتماع بھر پور تھا۔ نماز جمعہ کے بعد تاشقند کے نواح میں نذر بیغ نامی ایک بستی میں عبد الرشید صاحب کے ہاں دعوت کا اہتمام تھا۔ پرتکلف دعوت تھی اور میزبان کا خلوص تھا کہ مہمانوں نے دسترخوان کا خوب حق ادا کیا۔

۱۲ جنوری ہفتہ کو سمرقند جانے کا پروگرام تھا، چونکہ مفتی محمد جمیل خان اور ڈاکٹر عبد الرزق سکندر صاحب قرآن کریم کے طباعت کے سلسلہ میں ماسکو بھی جانا چاہتے تھے۔ ٹریول ایجنٹ کے ذریعے متعلقہ حکام سے استفسار کیا گیا تو جواب ملا کہ الگ ویزے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تین دن سے کم مدت کے لیے ماسکو جانا چاہتے ہیں تو اسی ویزے پر جا سکتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ جب ماسکو جانے کے لیے الگ ویزے کی ضرورت نہیں تو سمرقند تو ازبکستان ہی کا ایک شہر ہے اس کے لیے بھی الگ ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ چنانچہ ویگن کرایہ پر لی اور مدرسہ قوقل تاش کے ایک اور استاذ جنا ب عبدالغنی صاحب کی راہ نمائی میں سمرقند کی طرف روانہ ہوگئے۔ مگر غالباً ایک چوتھائی سفر طے کرچکے ہوں گے کہ دریائے جیحوں پار کرتے ہی پولیس چوکی پر ہمیں روک لیا گیا اور کہا گیا کہ آپ کے پاس صرف تاشقند کا ویزا ہے اس لیے آپ لوگ سمرقند نہیں جاسکتے۔ خاصی پریشانی ہوئی مگر کم وبیش دوگھنٹے کی ’’بک بک جھک جھک‘‘ کے بعد انہوں نے ہمیں دس ہزار روبل فی کس جرمانہ کیا اور سمرقند جانے کی اجازت دے دی۔ تاشقند سے سمرقند تین سو کلو میڑ کے لگ بھگ ہے اور سٹرک اگرچہ یورپ کے معیار کی تو نہیں لیکن ہماری پاکستانی سٹرکوں سے اچھی ہے۔

اس سفر سے اندازہ ہوا کہ وسطی ایشیا کی یہ ریاستیں کس قدر سرسبز وشاداب ہیں۔ سٹرک کے دونوں طرف بڑے بڑے زرعی فارم ہیں جہاں مرد اور عورتیں کھیت مزدور کے طور پر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں زمین ابھی تک سرکاری ملکیت میں ہے اور کاشتکار بطور مزدور کام کرتے ہیں، بہت تھوڑی زمین لوگوں کی انفرادی ملکیت میں ہے۔ سرکاری زمین اگر کوئی خریدنا چاہے تو اس کی سہولت موجود ہے لیکن آبادی کی غالب اکثریت میں یہ سکت ہی نہیں کہ وہ مالک زمین بن سکے۔ بمشکل دو وقت کا کھانا چلتا ہے اور سہولتوں کا تو یہاں کی عام آبادی تصور بھی نہیں کرسکتی۔ ضروریات کا دائرہ بہت محدود ہو کر رہ گیا ہے، پھیکے قہوے کے ساتھ سوکھی روٹی اور موسمی پھل عام آدمی کی خوراک ہیں۔ کھانے پینے میں زیادہ تکلف پلاؤ کا ہوتا ہے جو موٹے چاول سے بنتا ہے۔ ہمارے دوستوں نے جہاں جہاں پلاؤ کھایا اس کی بڑی تعریف کی مگر ہم گوجرانوالہ کے لوگوں کے لیے موٹے چاول کا پلاؤ جتنا مزیدار ہوسکتاہے اتنا ہی تھا۔ بعض مقامات پر سالن بھی دیکھا۔ بند گوبھی، آلو اور گاجر کے ساتھ گوشت کی چند بوٹیاں پانی میں ابال کر نمک چھڑک لیں تو سالن تیار ہے، سوپ بھی پئیں اور اس کے ساتھ روٹی بھی کھائیں۔ ازبکستان کی پیداوار میں زیادہ حصہ کپاس کا ہے جو یہاں کی خاص پیداوار کہلاتی ہے اور برآمد بھی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد آلو، گاجر اور گندم کی کاشت ہوتی ہے، البتہ پھل بے پناہ ہوتاہے بالخصوص چیری، شہتوت، خوبانی اور انگور تو بے اندازہ ہوتے ہیں۔ سمرقند میں ہمارا قیام مدرسہ زود مراد میں تھا جس کے منتظم الشیخ مصطفی قل ہیں۔ یہ مدرسہ ایک قدیمی مسجد کے ساتھ ہے جو کچھ عرصہ قبل شیخ موصوف کی مساعی سے آزاد اور آباد ہوئی ہے، اس سے قبل یہ مقفل رہی ہے۔ البتہ صفائی اور مرمت کے دوران اس کی دیواروں پر ایسے اعلانات چسپاں دکھائی دیے جن سے پتہ چلتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس مسجد کے ہال میں انگلش فلمیں دکھائی جاتی رہی ہیں۔ بہرحال یہ مسجد آباد ہے اور دینی درسگاہ بھی شیخ مصطفی قل کی نگرانی میں روبہ ترقی ہے۔ سمرقند میں دینی رحجانات تاشقند کی بہ نسبت زیادہ ہیں اور کہا جاتا ہے کہ جوں جوں آگے بڑھتے جائیں دینی رحجانات کا تناسب بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ روسی تسلط زیادہ تر دار الحکومت اور بڑے شہروں تک رہا ہے اور دیہی علاقے نسبتا کم متاثر ہوئے ہیں۔

ثمرقند تاریخی روایات کے مطابق ۴۵ھ میں حضرت امیر معاویہؓ کے دورِ حکومت میں فتح ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہو گیا تھا اور اسے جناب نبی اکرمؐ کے چچا زاد بھائی حضرت قثم بن عباسؓ اور حضرت عثمانؓ کے فرزند حضرت سعید بن عثمانؓ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ سمر قند میں حضرت امام ابو منصور ماتریدیؒ، امام ابو اللیث سمرقندیؒ اور نقشبندی سلسلہ کے عظیم پیشوا خواجہ عبیداللہ احرارؒ کے مزارات ہیں، جبکہ حضرت امام بخاریؒ کا مزار سمرقند سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں ان کے نام پر ایک دینی درسگاہ بھی ہے۔ ان سب مزارات پر حاضری دی اور حسب توفیق قرآن خوانی کی سعادت حاصل ہوئی ۔صاحب ہدایہ امام برہان الدین مرغینانیؒ کے مزار پر حاضری کی خواہش بھی تھی مگر یہ معلوم کرکے بے حد دکھ ہوا کہ یہ مزار جس مکان میں تھا وہ کسی یہودی نے خریدا ہے اور مزار کا نشان غالباً ختم ہو گیا ہے۔ امام بخاریؒ کے مزار پر محدثین کی پرانی روایت کے مطابق مولانا مفتی نظام الدین شامزئی نے بخاری شریف کی پہلی اور آخری حدیث پڑھی اور باقی حضرات نے سماع کا شرف حاصل کیا۔

سمرقند میں مدرسہ ریگستان بھی دیکھا۔ ریگستان علاقہ کا نام ہے جہاں تین قلعہ نما، پرشکوہ اور بلند و بالا عمارتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ یہ تینوں دینی مدارس تھے جو الغ بیگ، شیخ طلا محمد اور شیر داد کے نام سے منسوب ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم دہلی کے شاہی قلعہ اور شاہی مسجد کے درمیان کھڑے ہیں۔ تینوں مدارس کمیونسٹ انقلاب کے دوران میوزیم بنے رہے اور ان کے درمیانی میدان میں اسٹیڈیم طرز کی نشستیں بنا دی گئی تھیں جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں تھیٹر دکھایا جاتا رہا ہے۔

سمرقند سے ہم نے ۱۳ جون پیر کو تاشقند واپسی کی۔ مفتی محمد جمیل خان اپنے ساتھ قرآن کریم اور ازبکی زبان میں مترجم نماز کے علاوہ ٹوپیاں اور تسبیح بھی خاصی تعدادمیں لائے تھے اور کلمہ طیبہ کا سکہ بھی تھا جس پر ازبکی زبان میں ترجمہ کے ساتھ کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے۔ جہاں بھی گئے ان کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہا، بوڑھے افراد بالخصوص ازحد احترام اور عقیدت کے ساتھ انہیں سینے سے لگاتے اور بوسہ دیتے۔ قرآن کریم اور تسبیح کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ پون صدی کے بعد یہاں کے عام مسلمانوں کو قرآن کریم کی زیارت نصیب ہوئی ہے، اس کے اشتیاق اور عقیدت کا اندازہ آخر کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ تاشقند واپس پہنچے تو نئے سرے سے ہوٹل کی بکنگ کا مرحلہ درپیش تھا۔ یوشلیک ہوٹل میں واپس جانا دوستوں کو پسند نہ تھا اس لیے تاشقند ہوٹل میں کمرے بک کرائے گئے، ہوٹل کا معیار تو یوشلیک سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا البتہ کمرے ذرا کھلے کھلے سے تھے اس لیے ایک حد تک تغیر کا احساس رہا۔

۱۵ جون پیر کو تاشقند میں استاذ ذاکر جان سے ملاقات ہوئی بلکہ انہوں نے شام کو پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا۔استاذ ذاکر جان مسجد مفتی ضیا ء الدین بابا خانوف کے امام وخطیب اور اس کے ساتھ مدرسہ کے منتظم ہیں، ان کے ساتھ ایک اچھی معلوماتی نشست رہی اور کم ازکم میرے لیے تاشقند کے سفر میں مقصدیت کا عنصر بھی شامل ہوگیا۔ میرے لیے یہ تعجب کی بات تھی کہ استاذ قابل محمد، استاذ مصطفی قل اور استاذ ذاکر جان عربی میں اچھی گفتگو کر رہے تھے جبکہ ان میں سے کسی نے ازبکستان سے باہر کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ کمیونسٹ انقلاب کے دور میں خفیہ طور پر دینی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ہے اور دینی شخصیات نے تعلیم وتربیت کا تسلسل کسی دور میں بھی ٹوٹنے نہیں دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جبکہ آزادی کے بعد پورے ازبکستان میں ایک ہزار کے قریب مساجد ومدارس دوبارہ آباد ہوچکے ہیں، ان کی آبادی کے لیے رجال کار اسی معاشرہ سے سامنے آئے ہیں۔ یہ رجال کار ان خفیہ مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں جو حجرہ مدرسہ کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں اور ازبکستان کے طول وعرض میں سینکڑوں کی تعداد میں موجود رہے ہیں۔ ان میں سے ایک مدرسہ کی زیارت ہم نے بھی کی جو دارالحکومت میں تھا، ایک صاحب دل بزرگ نے اپنے مکان کے عقبی نصف حصہ کو باغ کی شکل دے کر گھنے درختوں کے جھنڈ میں چار حجرے بنا رکھے تھے جن میں طلبہ قرآن کریم، فقہ اور عربی کی تعلیم اسی صاحب مکان سے حاصل کرتے تھے۔ اس طرح کے مدارس میں حفظ قرآن اور دینیات کا سلسلہ چلتا رہا۔ جبکہ جبر کا یہ عالم تھا کہ ایک دیندار شخص کے لیے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مشکل ہو گیا تھا۔ ایک بزرگ نے ہمیں بتایا کہ ان کے والد دوپہر کے وقت کام سے وقفہ کرکے گھر آتے تو ظہر کی نماز اس کیفیت میں ادا کرتے تھے کہ چائے کی چینک ان کے سامنے پڑی رہتی اور میں دروازے پر پہرے کے لیے کھڑا ہوتا۔ نماز کے دوران ذرا سی آہٹ پر والد صاحب نماز توڑ کر چائے کا پیالہ اٹھا لیتے اور مجھ سے دروازے پر کوئی پوچھتا کہ تمہارے والد اندر کیا کر رہے ہیں تو میں قسم کھا کر بتاتا کہ وہ چائے پی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو پیسے اور پھل دے کر یہ پوچھا جاتا کہ تمہارے والد گھر میں نماز تو نہیں پڑھتے؟ جن کے بارے میں معلوم ہو جاتا کہ وہ گھر میں نماز پڑھتے ہیں وہ ایسے غائب کر دیے جاتے کہ پھر ان کا کوئی سراغ نہ ملتا۔ سکولوں میں چھوٹے بچوں سے بڑی شفقت کے ساتھ پوچھا جاتا کہ سنا ہے کہ تم قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہو، کوئی سور ت تو سناؤ، وہ بچہ سورت سنا دیتا تو دوسرا سوال ہوتا کہ قرآن تم نے کس سے پڑھا ہے؟ بچہ استاذ کا نام بتا دیتا تو دوسرے دن استاذ غائب ہوجاتا۔ لیکن بچے بھی ہوشیار ہوگئے تھے، قرآن کریم کا کوئی حصہ فرمائش پر سنا دیتے اور استاذ کے بارے میں بتا دیتے کہ دادا سے یا تایا سے پڑھا ہے اور وہ فوت ہوگئے ہیں۔

وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کو سوویت یونین کے خاتمہ کے ساتھ جو آزادی ملی ہے اس کا عملی اثر سردست یہی سامنے آیا ہے اور مساجد و مدارس کی آبادی کاسلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ ورنہ عام معاشرتی اور قومی زندگی میں پہلے سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑا اس لیے کہ ان ریاستوں میں حکومتیں ابھی تک وہی ہیں جو آزادی سے پہلے تھیں، انتظام بھی وہی ہے اور عام معاشرتی زندگی بھی اسی ڈگر پر ہے۔ شراب عام ہے، حلال وحرام کا کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا، عورتوں کا لباس یورپین ہے، بعض عورتیں شلوار اور سر پر رومال سے مزین نظر آتی ہیں جو ان کی مذہبیت کی علامت سمجھی جاتی ہے مگر اکثریت اس سے محروم ہے، پارکوں میں اسی طرح جوڑے بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھومتے نظر آتے ہیں، زمین بدستور سرکاری ملکیت ہے، تجارت کے بڑے حصہ پر سرکاری کنٹرول ہے، عام آدمی کی معاشی حالت پہلے کی طرح ہے بلکہ روبل کی قیمت خوفناک حد تک کم ہوجانے کے باعث مہنگائی بڑھ گئی ہے، ایک صاحب نے بتایا کہ پہلے ایک روبل میں چھ روٹیاں ملتی تھیں اب وہی روٹی بیس روبل میں ایک ملتی ہے اور ایک ذمہ دارآدمی کے بقول عام آبادی کا بڑا حصہ دو وقت کی روٹی سے لاچار ہے۔

سیاسی صورت حال یہ ہے کہ تاجکستان میں رونما ہونے والے واقعات کے باعث ان ریاستوں کی حکومتیں چوکنا ہوگئی ہیں اور اپنے تحفظ کے لیے دوبارہ روس کی طرف دیکھنے لگی ہیں۔ روس کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا جا رہا ہے اور آزادی کا جو رسہ چند سال قبل ڈھیلا کر دیا گیا تھا اسے دھیرے دھیرے دوبارہ کسا جا رہا ہے۔ مذہبی لوگوں کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے اور باہر سے آنے والے مذہبی افراد کو یہ حکومتیں اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگی ہی۔ تبلیغی جماعت کی نقل وحرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ان ریاستوں کی حکومتیں پاکستان کے بجائے بھارت کی نام نہاد سیکولر حکومت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں عافیت محسوس کرنے لگی ہیں۔ ان حالات میں وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کی آزادی کا وہ خواب پریشان ہوتا دکھائی دیتا ہے جو وسطی ایشیا کے مسلمانوں کے ساتھ تعلقات دوبارہ استوار ہونے کے حوالہ سے جنوبی ایشیا کے مسلما نوں نے دیکھا تھا۔

یہ بات تو بدیہی ہے کہ وسطی ایشیا کی یہ آزادی جہاد افغانستان کی رہینِ محنت ہے لیکن یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ روس نے اس خطہ میں آزادی کے نام پر وہی کھیل کھیلا ہے جو اس سے قبل برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ اپنے زیر تسلط مسلم ممالک کو آزادی دیتے وقت کھیل چکے ہیں کہ ان ممالک پر آزادی کا لیبل لگ جائے لیکن ان کا نظام اور حکمران طبقے وہی رہیں جو استعماری قبضہ کے دوران تھے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران آزاد ہونے والے مسلم ممالک پر نظر ڈال لیں آپ کو یہی صورت حال نظر آئے گی۔ ان ممالک میں نہ نظام بدلا ہے، نہ معاشرتی زندگی میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ حکمران طبقے تبدیل ہوئے ہیں۔ اور یہ مسلم ممالک انقلاب کے ایک ایسے عجیب وغریب تصور سے روشناس ہوئے ہیں کہ قومی اور معاشرتی زندگی میں کوئی عملی تبدیلی آئے بغیر ان پر آزادی اور انقلاب کا خوشنما لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے۔ خدا جانے کہ ایسے موقع پر میرے ذہن میں ’’شراب کی بوتل پر زمزم کا لیبل‘‘ کامحاورہ بار بار کیوں گردش کر رہا ہے؟ شاید اس لیے کہ ابھی تک اس کے علاوہ کسی اور عملی تبدیلی کا ادراک نہیں کر پایا۔بہرحال وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کی آزادی بھی اس عمل کا تسلسل ہے جس سے اکثر مسلم ممالک گزشتہ نصف صدی کے دوران دوچار ہوچکے ہیں اور یہ بات دن بدن اور زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ افغانستان کے مسئلہ پر جنیوا مذاکرات کے دوران روس اور امریکہ کے درمیان اس بات پر خفیہ مفاہمت ہوگئی تھی کہ اگر وسطی ایشیا کے معاملات کو کابل میں اسلامی نظریاتی حکومت کے قیام واستحکام کے بعد تک مؤخر کر دیا گیا تو وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں میں آزادی کا عمل مذہبی اور نظریاتی حوالوں سے منظم ہوگا جو امریکہ اور روس دونوں کے لیے خطرناک ہوگا۔ اس لیے کابل پر مجاہدین کی حکومت قائم ہونے سے پہلے ہی وسطی ایشیا کے مسلم ممالک کے عوام کو آزادی کا ’’لولی پاپ‘‘ دے دیا جائے تاکہ سیکولر نظام اور سکولر حکومتوں کا تسلسل قائم رہ سکے۔

الغرض ان مشاہدات ومحسوسات اور جذبات وتاثرات کے ساتھ ۱۵ جون کو لندن روانگی کے لیے تاشقند ایئرپورٹ پر پہنچا تو ایئرپورٹ کے سابقہ تجربات کا تسلسل دوبارہ قائم ہوگیا۔ میں نے پندرہ جون کی سیٹ کراچی سے کنفرم کرائی تھی اور تاشقند پہنچ کر ری کنفرم کی مہر بھی لگوائی تھی مگر ایک لمبی قطار میں کم وبیش ڈیڑھ گھنٹہ تک رینگتے ہوئے کاؤنٹر پر پہنچا تو یہ کہہ کر مجھے قطار سے الگ کر دیا گیا کہ آپ کی سیٹ کنفرم نہیں ہے۔ میں نے بہت شور مچایا کہ کنفرمیشن اور ری کنفرمیشن کی دونوں مہریں لگی ہوئی ہیں لیکن جواب ملا کہ ہمارے پاس کنفرم سیٹوں کی جو فہرست ہے اس میں آپ کا نام نہیں ہے اس لیے آپ چانس پر ہیں۔ غصہ کے تلخ گھونٹ پی جانے کے سوا کیا چارہ تھا؟ تھوڑے سے انتظار کے بعد چانس پر سیٹ تو مل گئی مگر ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ سامان تولتے وقت کاونٹر کے عملہ نے میرا دستی بیگ بھی ترازو پر رکھ لیا۔ میرے پاس سفر میں عام طور پر ایک بیگ یا زیادہ سے زیادہ دو ہوتے ہیں۔ اس دفعہ میرے پاس کچھ لٹریچر تھا جو میں نے تول کر بائیس کلو گرام تک کا بیگ بنا رکھا تھا اور میرا ذاتی سامان ہاتھ کے بیگ میں تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ بیگ میرے ہاتھ میں رہے گا، جواب ملا کہ بے شک ہاتھ میں رکھیں مگر وزن ان کا بھی ہوگا۔ چنانچہ دونوں کو ملاکر وزن ۳۳ کلو گرام بن گیا اور مجھے چار و ناچار گیارہ کلوگرام وزن کا کرایہ بلاوجہ ادا کرنا پڑا اور دس ڈالر ایئرپورٹ ٹیکس اس پر مستزاد تھا۔ بہرحال ان مراحل سے گزر کر جہاز پر سوار ہوا تو چانس پر ہونے کی وجہ سے آخر میں جانے کے باعث سیٹ کی تلاش مشکل ہوگئی۔ ازبک ایئرلائن کے بورڈنگ کارڈ پر سیٹ کا نمبر نہیں ہوتا۔ رش میں سیٹ تلاش کرتے ہوئے جہاز کے آخری حصے میں پہنچا تو دو باریش حضرات کے درمیان ایک سیٹ خالی تھی، انہوں نے تیسرا باریش دیکھ کر بیک وقت آواز دی کہ یہاں آجائیں اور میں ان کے درمیان بیٹھ گیا۔ ان میں تو ایک سردار صاحب تھے جو جالندھر سے آرہے تھے اور دوسرے باریش نوجوان کا تعارف ہوا تو حسن اتفاق پر بارگاہ ایزدی میں تشکر بجا لایا کہ یہ صاحب مولانا محمد اکرم ندوی تھے جو ندوۃ العلماء لکھنو سے تعلق رکھتے ہیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی مدظلہ کی زیر نگرانی اسلامک سنٹر میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ان سے مختلف دینی، علمی اور معاشرتی مسائل پر مفید گفتگو ہوتی رہی اور حضرت مولانا علی میاں کی صحت وعافیت اور بھارتی مسلمانوں کے تازہ ترین حالات سے آگاہی ہوئی۔ تقریباً سات گھنٹے کی پرواز کے بعد لندن کے وقت کے مطابق شام سوا سات بجے ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترے تو پھر وہی ڈاڑھی کا مسئلہ سامنے آگیا اور امیگریشن کے کاؤنٹر پر میرا پاسپورٹ چیک کر کے یہ کہہ کر روک لیاگیا کہ گزشتہ سال آپ نے انٹری کی پوری مدت چھ ماہ برطانیہ میں کیوں گزاری ہے؟ میرا موقف یہ تھا کہ جب آپ نے چھ ماہ کی انٹری دی تھی تو چھ ماہ سے دو دن کم یہاں رہنے پر اعتراض کیوں ہے؟ میں اس اعتراض کا جواز سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ ایک طرف تین سردار صاحبان بھی دوسرے کاؤنٹر پر میری طرح بیٹھے نظر آئے۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مسکرائے جیسے بات دونوں کی سمجھ میں آگئی ہو کہ اصل مسئلہ ڈاڑھی کا ہی ہے۔ بہرحال دو گھنٹے کے اتار چڑھاؤ کے بعد مجھے لندن میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔