تجدیدِ عہد برائے دفاع وطن

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جنوری ۲۰۱۷ء

مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (MSO) کے سولہویں یومِ تاسیس کے موقع پر 12 جنوری کو اسلام آباد ہوٹل اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان، سابق صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان، ایم ایس او کے صدر محسن خان، تحریک انصاف کے ایم این اے جناب غلام سرور خان اور دیگر حضرات کے ہمراہ ’’تجدید عہد اور دفاعِ وطن‘‘ کے عنوان سے کچھ گزارشات پیش کیں، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے نوجوانوں کو سولہویں یومِ تاسیس پر مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا۔ میں ان نوجوانوں سے متعارف ہوں جو گزشتہ پندرہ سال سے اسلامی تعلیمات کے فروغ اور وطن کے استحکام و سالمیت کے لیے تعلیمی اداروں میں مسلسل سرگرم عمل ہیں، اور وقتاً فوقتاً ان کے پروگراموں میں بھی شریک ہوتا رہتا ہوں۔ میں انہیں اس بات پر مبارکباد دیتا ہوں کہ مشکلات و مصائب کے ہجوم اور رکاوٹوں کے تسلسل کے باوجود یہ حضرات اسلام اور وطن کے محاذ پر استقامت کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں اور ان کے اس جذبہ و عمل کو بھی سراہوں گا کہ یہ اپنی جدوجہد کے دائروں اور روابط کے حوالہ سے کسی مخصوص خول میں بند نہیں ہیں۔ آج مجھے ان کے اجتماع میں مختلف سیاسی جماعتوں، دینی حلقوں اور طبقات کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کیونکہ دین اور قوم کے لیے جدوجہد کا سب سے اولین تقاضہ یہی ہے کہ محدود دائروں سے نکل کر وسیع تر قومی ماحول میں دینی جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے۔

آج کی اس تقریب کا عنوان ’’تجدیدِ عہد اور دفاعِ وطن‘‘ ہے مگر میں اس میں ایک لفظی ترمیم کر کے اسے ’’تجدیدِ عہد برائے دفاعِ وطن‘‘ کی صورت میں پیش کرنا چاہوں گا اور اپنے ان عزیز نوجوانوں کو جو اسلام، وطن اور قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں، وطنِ عزیز پاکستان کے حوالہ سے چند باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ وطنِ عزیز پاکستان اس وقت ہم سے جن باتوں کا تقاضہ کر رہا ہے اسے سامنے رکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔

تکمیلِ پاکستان

وطنِ عزیز کا پہلا تقاضہ پاکستان کی تکمیل ہے، جغرافیائی تکمیل بھی، نظریاتی تکمیل بھی اور معاشی تکمیل بھی۔ کیونکہ قیامِ پاکستان کے وقت کشمیر کا مسئلہ کھڑا کر کے پاکستان کو نامکمل چھوڑ دیا گیا تھا جس کی وجہ سے برصغیر کی تقسیم کا ایجنڈا ابھی تک ادھورا ہے۔ جن طاقتوں نے کشمیر کا مسئلہ کھڑا کیا تھا وہ اسے مسلسل الجھائے ہوئے ہیں اور ستر سال گزرنے کے باوجود پاکستان اپنی جغرافیائی سرحدوں کی تکمیل نہیں کر سکا۔ چنانچہ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان اس دن مکمل ہوگا جب کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ کشمیر کے نوجوان اس کے لیے قربانیاں دیتے آرہے ہیں مگر اپنے وطن کی سرحدات کو مکمل کرنے کے لیے ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ اس جدوجہد میں مؤثر کردار ادا کریں۔

اسی طرح نظریاتی طور پر بھی پاکستان ابھی تک نامکمل ہے کیونکہ جس مقصد کے لیے پاکستان قائم ہوا تھا اس کی طرف کوئی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح مرحوم اور تحریک پاکستان کے دیگر راہنماؤں نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان مسلم تہذیب کا تشخص قائم رکھنے اور اسلام کے نظام و قوانین کو روبہ عمل لانے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دستور میں تو اس کی ضمانت موجود ہے مگر عملی طور پر ملک میں اسلامی نظام و قوانین کے نفاذ و عملداری کا کوئی ماحول موجود نہیں ہے۔ پاکستان نظریاتی اور تہذیبی طور پر اس دن مکمل ہوگا جب قرآن و سنت کی تعلیمات کی عملداری قائم ہوگی اور مسلمانوں کی اپنی تہذیبی اقدار و روایات کی بالادستی کا ماحول نظر آئے گا۔

پاکستان کی تکمیل کی منزل ہم ابھی تک معاشرتی اور معاشی حوالہ سے بھی حاصل نہیں کر سکے۔ قائد اعظم مرحوم نے مغربی معاشی فلسفہ کی بجائے اسلامی تعلیمات پر مشتمل معاشی نظام کا تقاضہ کیا تھا مگر ابھی تک ہمیں سود کی لعنت سے نجات نہیں مل سکی اور دستور میں واضح طور پر طے ہوجانے کے بعد سودی نظام بدستور ہم پر مسلط ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کا شکنجہ ہمیں جکڑے ہوئے ہے۔ ہم معاشرتی اور معاشی طور پر اس وقت مکمل پاکستان کی منزل سے ہمکنار ہوں گے جب عالمی معاشی جبر سے نجات حاصل ہوگی، سودی نظام کا خاتمہ ہوگا اور پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی ویلفیئر اسٹیٹ کی صورت اختیار کر لے گا۔ چنانچہ پاکستان کا ہم سے اولین تقاضہ ’’تکمیلِ پاکستان‘‘ کا ہے، جغرافیائی لحاظ سے بھی، تہذیبی و نظریاتی حوالہ سے بھی، اور معاشی و معاشرتی اعتبار سے بھی پاکستان کو مکمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

دفاعِ وطن

وطنِ عزیز کا دوسرا بڑا تقاضہ ہم سے دفاع کا ہے۔ ایک طرف پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کو مسلسل خطرات درپیش ہیں، ہماری سرحدات پر جو خطرات سامنے نظر آرہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ وہ منصوبے بھی ہماری توجہ چاہتے ہیں جو خدانخواستہ پاکستان کو حصے بخرے کرنے کے لیے بین الاقوامی سازشوں کی فائیلوں میں موجود ہیں اور ان کے لیے مختلف سطحوں پر کام ہوتا بھی دکھائی دے رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو بھی مسلسل یلغار کا سامنا ہے کہ وطنِ عزیز کی نظریاتی اور تہذیبی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ایسی کاروائیاں جاری ہیں جو پاکستان کو اسلامی شناخت سے محروم کر کے بتدریج ایک سیکولر ریاست کی شکل میں بدل دینا چاہتی ہیں۔ قراردادِ مقاصد، دستور کی اسلامی دفعات، تحفظ ختم نبوت کا قانون، تحفظ ناموسِ رسالتؐ کا قانون اور دیگر اسلامی قوانین میڈیا اور این جی اوز کی ہمہ گیر یلغار کی زد میں ہیں۔

قومی وحدت

اس کے ساتھ وطنِ عزیز کا تیسرا بڑا تقاضہ قومی وحدت اور ملکی استحکام کا ہے، اس لیے کہ ان سب کاموں کے لیے قومی وحدت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ جبکہ نسل، قومیت، فرقہ واریت اور زبان کے مختلف حوالوں سے ہماری قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی مہم جاری ہے۔ اور مختلف لابیاں اس کے لیے ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں جن کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم متحد اور ہم آہنگ ہو کر وطنِ عزیز کی تکمیل اور دفاع کے تقاضوں کی طرف توجہ نہ دے سکیں اور آپس کے جھگڑوں میں ہمیشہ الجھے رہیں۔

چنانچہ میں اپنے عزیز نوجوانوں کو ان دینی اور قومی تقاضوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ہماری نئی نسل میں ان تقاضوں کا احساس موجود ہے اور وہ ان کے لیے سرگرم عمل ہونے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جدوجہد کا تسلسل اور اس کا یہ سالانہ پروگرام دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی ہے اور ملک و قوم کے محفوظ مستقبل کے حوالہ سے اچھی امید پیدا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کی حفاظت فرمائیں اور دین و قوم کے لیے مثبت اور مؤثر خدمات کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔