سیرۃ النبیؐ اور علاج و پرہیز

   
مقام / زیر اہتمام: 
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرانوالہ
تاریخ بیان: 
۱۰ اکتوبر ۲۰۲۱ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں محترم بھائی ڈاکٹر فضل الرحمن (ایم ایس) کا، ان کے رفقاء کا، اور یہاں کی انتظامیہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہء حسنہ کے حوالے سے محفل کا انعقاد کیا اور مجھے بھی موقع بخشا کہ میں آپ حضرات کے ساتھ اس مبارک محفل میں بیٹھوں اور اس کی برکات حاصل کروں۔ اللہ تعالیٰ اس محفل کو قبول فرمائے اور ہمارے لیے دنیا و آخرت میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبتوں اور برکتوں کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنائے، آمین۔

ابھی ہمارے نعت خواں بھائی بڑی خوبصورت نعت پڑھ رہے تھے، اس کا ایک جملہ میرا دل بار بار دُوہرا رہا ہے ’’میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے‘‘۔ یہ بات ہم یہاں بیٹھ کر تو کر ہی رہے ہیں لیکن اگر آپ تھوڑا سا نسلِ انسانی کی موجودہ مجموعی صورتحال کو دیکھیں تو زبانِ حال سے ہر انسان کے دل سے یہی آواز سنائی دے گی کہ ’’میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے‘‘۔ آج انسانیت اسی موڑ پر کھڑی ہے جس پر جناب نبی کریمؐ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر ’’أیھا الناس‘‘ کہتے ہوئے پہلی آواز لگائی تھی۔ جہاں انسانیت اس وقت کھڑی تھی آج بھی وہیں کھڑی نظر آتی ہے، آج پھر اسی آواز اور ویسی ہی بائیس تئیس سالہ محنت کی ضرورت ہے۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر آواز لگائی تھی ’’أیھا الناس‘‘ اور بائیس تئیس سال کے بعد منیٰ میں کھڑے ہو کر، جو صفا سے تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اپنی محنت کا نچوڑ کامیابی کے اس اعلان کے ساتھ کہ میں کامیاب جا رہا ہوں، ایک جملے میں بیان فرمایا تھا ’’کل أمر الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ جاہلیت کی ساری قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ وہ جاہلیت کی ساری قدریں جو تئیس سال کی محنت سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹا ڈالی تھیں اور پاؤں تلے روند ڈالی تھیں، آج پھر نئے میک اپ اور نئی زیب و زینت کے ساتھ معاشرے پر مسلط ہیں۔ اس لیے انسانیت آج پھر اسی موڑ پر کھڑی نظر آ رہی ہے اور پکار رہی ہے کہ ’’میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے‘‘۔ خدا کرے کہ انسانیت کی اس آواز کو ہم سن سکیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محنت، وہ پیغام، وہ بائیس تئیس سالہ تگ و دو اور وہ قربانیاں نسل ِانسانی تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انسانیت تو تلاش میں ہے، انسانیت تو پیاسی ہے، آج انسانی سماج اسی ماحول میں کھڑا ہے کہ کوئی چمکانے والا آئے اور وہ اپنے دل کو پیش کریں، اللہ کرے کہ اس حوالے سے ہم اپنا فرض ادا کر سکیں۔

اس وقت چونکہ میں ہسپتال میں مرض، مریض، علاج اور معالج کے ماحول میں بیٹھا ہوں تو میرا جی چاہتا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ اور سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں عرض کروں کہ معالج کیسا ہوتا ہے، بیماری کیا ہوتی ہے اور علاج کیسے کیا جاتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ ہلکے پھلکے انداز میں بات کروں کوئی فلسفہ اور لمبا چوڑا لیکچر نہ ہو۔ چنانچہ مریض، مرض اور معالج کیا ہوتے ہیں؟ اس پر دو تین واقعات عرض کرنا چاہوں گا اور اسی پر اکتفا کروں گا۔

  • بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ حضرات کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، بعض علاقوں کی آب و ہوا مرطوب ہوتی ہے، بعض کی خشک ہوتی ہے، ہر قسم کی آب و ہوا ہر کسی کو راس نہیں آتی۔ مدینہ منورہ اس وقت یثرب کہلاتا تھا، یثرب کی آب و ہوا مہاجرین کی ایک تعداد کو راس نہ آئی، لوگ بیمار ہو گئے اور ان میں دو بڑے نام ہیں، ایک حضرت صدیق اکبرؓ جنہیں بخار ہو گیا، ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کپکپی کا بخار تھا، آپ ڈاکٹر صاحبان سمجھتے ہیں کہ وہ کیا ہوتا ہے۔ اور دوسرے حضرت بلالؓ تھے، وہ بھی مدینہ منورہ کی آب و ہوا راس نہ آنے کی وجہ سے بیمار ہو گئے۔ بیماری میں وطن زیادہ یاد آتا ہے اور وہ ابھی تازہ تازہ وہاں سے آئے تھے تو دونوں حضرات کو مکہ یاد آرہا تھا اور وہ مکے کی پہاڑیاں اور پرانا وطن یاد کر رہے ہیں، وطن کی محبت فطری بات ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ اٹھتے بیٹھتے کہہ رہے ہیں کہ لوگ اپنے گھروں میں صبح کر رہے ہیں جبکہ میں مسافر ہوں اور حالتِ سفر میں ہوں، ایک انجانے علاقے میں ہوں، پتہ نہیں موت آئے گی تو کیا ہو گا، موت تو جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے، نہ جانے کس حالت میں آئے گی، اس حوالے سے آپ اشعار پڑھ رہے تھے۔ حضرت بلالؓ بازاروں میں گھوم رہے ہیں، وادیوں میں جا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یا اللہ وہ دن کب آئے گا کہ میں مکے کی زمین دیکھوں گا ’’ھل اردن یوماً میاہ مجنۃ‘‘ کبھی مجنہ کے چشموں پر جانے کا اتفاق ہو گا؟ کبھی مکہ مکرمہ کا اذخر گھاس دیکھوں گا؟ کبھی شامہ اور طفیل کے پہاڑ دیکھ سکوں گا؟ دونوں کا یہ حال تھا کہ بیماری کے حصار میں وطن کو یاد کر رہے تھے۔

    جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ! مسئلہ پریشانی کا ہے، یہ ہمارے دونوں بزرگ اپنے وطن کو یاد کر کے شعر و شاعری کر رہے ہیں اور پریشان حال ہیں۔ تو اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ مریض کا پہلا حق دعا ہے۔ فرمایا کہ یا اللہ! مدینے کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے، یا اللہ مدینے کی وبا کو جحفہ بھیج دے۔ یہ عرب کی سرحد تھی۔ یا اللہ مدینہ میں برکت عطا فرما، برکت جیسی مکے میں ہے۔ نہیں بلکہ ’’أو أکثر‘‘ مکے کی برکت سے دگنی عطا فرما، مکے کی محبت سے دوہری محبت ہمیں عطا فرما۔ غرضیکہ اس صورتحال کو دیکھ کر حضورؐ نے محسوس کیا اور دعا فرمائی۔

    میں عرض کیا کرتا ہوں یہ حضورؐ کی دعا کی برکت ہے۔ مکہ کیلئے دعا ہمارے بڑے بابا جی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی جس کی برکات آج تک ہم دیکھ رہے ہیں، جبکہ مدینے کے لیے دعا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی اور دوگنے کی دعا کی تھی، یعنی یا اللہ جو مکے کو برکت دی ہے مدینے کو دُگنی دے، جو مکے سے ہماری محبت ہے مدینے سے دگنی عطا فرما۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہر مسلمان کو مکہ مکرمہ سے محبت ہے، اور یہ محبت ایمان کا حصہ ہے لیکن مدینے کا نام آتے ہی مسلمان کے دل کی دنیا بدل جاتی ہے جو حضورؐ کی دعا کا نتیجہ ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مریض کیلئے پہلا علاج دعا ہے اور دعا صرف مریض کیلئے نہیں بلکہ علاقے کے لیے بھی ہے۔

  • جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں ایک بڑے صحابی ہیں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں بیمار ہو گئے، ہجرت کر کے گئے تھے، السابقون الاولون میں ان کا شمار ہوتا ہے، آٹھ سال کے بعد مکہ مکرمہ میں گئے اور بیمار ہو گئے، بیماری زیادہ ہو گئی، بسا اوقات بیمار سمجھتا ہے میں جا رہا ہوں، اور کہتا ہے کہ میں تو گیا، ایسی کیفیت ہو جاتی ہے۔ نبی کریمؐ ان کے خیمے میں بیمار پرسی کیلئے گئے، انہوں نے آپؐ سے دو سوال کیے، پہلا سوال یہ کہ یا رسول اللہ! میں یہاں سے ہجرت کر کے گیا تھا، اب اپنے وطن واپس آیا ہوں اور یہاں آ کر بیمار ہو گیا ہوں، اگر یہاں فوت ہوا تو یہیں دفن ہوں گا تو میری ہجرت کیا بنے گا؟ کہیں وہ رائیگاں تو نہیں ہو جائے گی؟ دوسرا سوال یہ کیا کہ میں صاحبِ حیثیت آدمی ہوں، وارث ایک بیٹی کے علاوہ کوئی نہیں ہے، بیٹی کو بھی ضرورت نہیں ہے، وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے، کیا میں اپنا مال سارا صدقہ نہ کر دوں؟

    جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو حوصلہ دیا کہ تم اس بیماری میں مرنے نہیں والے، حوصلہ کرو، یہ صرف تسلی نہیں تھی بلکہ پیشگوئی تھی اور کمال کی پیش گوئی تھی، فرمایا کہ اللہ نے تجھ سے دنیا کی قوموں کو ابھی بڑا نفع پہنچانا ہے اور بڑی قوموں کا بیڑہ غرق کروانا ہے، حوصلہ رکھو، ابھی تجھ سے اللہ نے بڑے کام لینے ہیں، ’’ینفع بک اللّٰہ اقواماً و یضر بک آخرین‘‘ بہت سی قوموں کو تیرے ذریعے اللہ نفع دے گا اور بہت سی قوموں کو تیرے ذریعے نقصان پہنچائے گا۔ ابھی بڑے کام کرنے ہیں، حوصلہ رکھو، خیر یہ معجزہ بھی تھا جو وقوع پذیر ہوا۔ ایران کے فاتح سعد بن ابی وقاصؓ ہیں، کوفہ کے بانی اور معمار سعد بن ابن ابی وقاصؓ ہیں، کوفہ شہر آباد کیا تھا، حکم حضرت عمرؓ کا تھا، نگرانی انہوں نے کی ہے، بڑے معمار یہی تھے جن کی نگرانی میں کوفہ تعمیر ہوا۔ تو حضورؐ نے تسلی دی اور حوصلہ دیا کہ گھبراؤ نہیں ابھی تمہاری لمبی عمر ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے بڑے کام لیں گے۔ تو مریض کا دوسرا حق حوصلہ اور تسلی دینا اور صبر دلانا ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین بھی یہی ہے، فرمایا مریض کی عیادت کرو، اور عیادت کیسے کرو؟ اس کو حوصلہ دو، اس کی پریشانی کا باعث نہ بنو، اس کو تسلی دو۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو حوصلہ دیا، چنانچہ وہ خاصا عرصہ زندہ رہے رہے، بڑے کام کیے، اللہ تعالیٰ نے ان سے دین کی بڑی خدمت لی۔

  • ایک بات اور عرض کرتا ہوں، ایک دفعہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیمار ہو گئے، بخار سے کچھ کمزوری آگئی۔ پھر ٹھیک ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجلس میں بیٹھے کھجوریں کھا رہے تھے، بخاری شریف کی روایت ہے، حضورؐ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ لیا کہ ابھی بیماری سے اٹھے ہو، خدا کے بندے کھجوریں چھوڑ دو، ان کے ہاتھ سے کھجوریں لے کر نیچے رکھ دیں کہ یہ تمہارے لیے فائدے مند نہیں ہیں۔ یہ مریض کا تیسرا حق ہے، یعنی پرہیز۔ جناب نبی کریمؐ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ کھجوریں لے لیں کہ ابھی تو بیماری سے اٹھا ہے پھر دوبارہ بیمار ہو رہا ہے؟ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ تیسرا حق مریض کا اس کو پرہیز کی تلقین کرنا، دیکھنا اور نگرانی کرنا ہے کہ کوئی چیز اس کو نقصان نہ دے۔
  • اسے لطیفہ سمجھ لیں یا واقعہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ خود بیمار ہو گئے۔ آپؐ کے آخری ایام تو بڑی کمزوری کے گزرے ہیں، باری باری ازواج مطہراتؓ کے حجروں میں جانے میں دقت ہوتی تھی، بیمار کو دقت ہوتی ہی ہے۔ حضورؐ کا جی چاہا کہ مجھے ایک ہی حجرے میں رکھا جائے، حضرت عائشہ کا حجرہ تھا، ازواج مطہراتؓ نے محسوس کر لیا، بیوی سے زیادہ کون مزاج سمجھتا ہے، آپس میں مشورہ کیا اور سب نے کہا، یا رسول اللہؐ! آپ کو جہاں تسلی ہو وہیں رہیں، ایک جگہ ہی رہیں، کیونکہ باری باری حجرے بدلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب آئے تھے تو چل نہیں پا رہے تھے، حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پاؤں سے گھسٹ کر آرہے تھے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں پاؤں سے زمین پر لکیریں پڑ رہی تھیں، کمزوری کی یہ کیفیت تھی، بیماری میں ایسا ہو جاتا ہے۔ اس دوران کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ساری ازواج مطہراتؓ بیٹھی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نیم بیہوشی کی کیفیت طاری ہے، سب کچھ دیکھ رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں لیکن کچھ بول نہیں پا رہے۔

    ازواج مطہراتؓ نے آپس میں مشورہ کیا کہ حضورؐ کو دوائی دینی ہے، دوائی لائی گئی تو حضورؐ نے ناں میں سر ہلایا، اشارے سے کہا کہ نہیں۔ سب آپس میں کہنے لگے کہ مریض تو منع کرتا ہی ہے، مریض کب خوشی سے دوائی پیتا ہے، سب بیبیوں نے جکڑا اور دوائی پلا دی۔ تھوڑی دیر کے بعد افاقہ ہوا تو کہا کہ میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟ کہنے لگیں یا رسول اللہؐ! مریض تو منع کرتا ہی ہے، مریض کب خوشی سے دوائی پیتا ہے، فرمایا جب میں نے تمہیں منع کیا تھا تو پھر تم نے کیوں مجھے زبردستی پلائی ہے؟ اگلی بات یہ فرمائی کہ جو بیبیاں اس عمل میں شریک تھیں سب باری باری ایک دوسرے کو دوائی پلاؤ جیسے مجھے پلائی ہے، چاچا جی حضرت عباسؓ پاس کھڑے تھے، فرمایا، یہ اس کام میں شریک نہیں تھے ان کو نہ پلانا، باقی آپس میں ایک دوسرے کو زبردستی پلاؤ جیسے مجھے پلائی ہے۔ اب ایک دوسرے کو پلا رہی ہیں، ام سلمہؓ فرماتی ہیں یا رسول اللہؐ! میرا تو روزہ ہے، فرمایا کوئی روزہ نہیں، بعد میں رکھ لینا، اسے بھی پلاؤ۔

    میں اس کو یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ دل لگی اور خوش طبعی کا ماحول بھی رہنا چاہئے، مریض کے ساتھ اس کے ماحول کے مطابق معاملہ ہونا چاہئے، جناب نبی کریمؐ نے بیماری کے ایام کیسے گزارے ہیں اور بیماروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے، کس طرح محبت کے ساتھ، حضورؐ نے ان کے حقوق بیان کیے ہیں۔

جناب نبی کریمؐ نے بیمار کی بیمار پرسی کو، اس کے لیے دعا کو، اس کے علاج کو، اور اس کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کو حقوق میں شمار کیا ہے، اس سے اسے تسلی ہوتی ہے، اطمینان بڑھتا ہے، مریض کو حوصلہ رہتا ہے۔ آخر میں وہ بات پھر عرض کروں گا جو نعت خوان بھائی نے کہی تھی، آج پوری نسل انسانی دل سے یہ پکار رہی ہے کہ ’’میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے‘‘ لیکن واسطہ بننا ہماری ذمہ داری ہے، اگر ہم واسطہ نہیں بنیں گے، اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو یہ جرم ہمارے ذمے ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس جرم کے ماحول اور نفسیات سے نکالے اور آج کے عالمی ماحول میں جناب نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Flag Counter