اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ دسمبر ۲۰۱۷ء

انسانی حقوق کا مغربی پس منظر

مغرب میں انسانی حقوق کے حوالہ سے جو تاریخ بیان کی جاتی ہے اس کا آغاز ’’میگنا کارٹا‘‘ سے کیا جاتا ہے۔ ۱۲۱۶ء میں برطانیہ کے کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاہدہ اس عنوان سے ہوا تھا جس کا اصل مقصد تو بادشاہ اور جاگیرداروں کے مابین اختیارات اور حدودکار کی تقسیم تھا لیکن اس میں عام لوگوں کا بھی کسی حد تک تذکرہ موجود تھا، اس لیے اسے انسانی حقوق کا آغاز تصور قرار دیا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں ایک عرصہ تک حکمرانی کا حق اور اس کے تمام تر اختیارات تین طبقوں کے درمیان دائر رہے ہیں (۱) بادشاہ (۲) جاگیردار اور (۳) مذہبی قیادت۔ ان میں مختلف مراحل میں آپس میں کشمکش بھی رہی ہے لیکن عام شہری اس تکون کے درمیان جو دراصل جبر اور ظالمانہ حاکمیت کی تکون تھی صدیوں تک پستے رہے ہیں، مغرب خود اس دور کو جبر و ظلم اور تاریکی و جاہلیت کا دور کہتا ہے اور اس تکون سے نجات حاصل کرنے کے لیے مغربی دنیا کے عوام کو طویل جدوجہد اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ بہرحال ان حکمران طبقات کی باہمی کشمکش کے پس منظر میں کنگ جان اور جاگیرداروں کے درمیان حقوق و اختیارات کی باہمی تقسیم کے معاہدہ کو ’’میگناکارٹا‘‘ کہا جاتا ہے اور مغربی دنیا اسے انسانی حقوق کی ابتدائی دستاویز قرار دیتی ہے جو ۱۲۱۵ء میں ۱۵ جون کو طے پایا تھا۔

اس کے بعد ۱۶۸۴ء میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں انقلابی فوج نے پارلیمنٹ کے اقتدار اعلیٰ کا قانون پیش کیا اور ۱۶۸۹ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے ’’بل آف رائٹس‘‘ (حقوق کے قانون) کی منظوری دی جو اس سمت پیش رفت کا اہم مرحلہ تھا۔ ادھر امریکہ میں تھامس جیفرسن نے ۱۲ جولائی ۱۷۷۶ء کو برطانوی استعمار کے تسلط سے امریکہ کی مکمل آزادی کا اعلان کیا اور ۱۷۸۹ء میں امریکی کانگریس نے دستور میں ترامیم کے ذریعہ عوامی حقوق کو دستور کا حصہ بنایا۔

فرانس میں زبردست عوامی جدوجہد اور بغاوت کے ذریعہ ۱۷۸۹ء کو جاگیرداری، بادشاہت اور ریاستی معاملات میں چرچ کی مداخلت کو مسترد کر کے قومی اسمبلی سے شہری حقوق کا قانون ’’ڈیکلریشن آف رائٹس آف مین‘‘ منظور کرایا اور پورے سیاسی اور معاشرتی نظام کی کایا پلٹ دی۔ اسے ’’انقلابِ فرانس‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مغرب میں ظلم و جبر اور حقوق کے درمیان اسے حد فاصل قرار دیا جاتا ہے۔ انقلاب فرانس کے ذریعہ نہ صرف بادشاہت اور جاگیرداری کا مکمل خاتمہ ہوگیا بلکہ اقتدار میں مذہبی قیادت کی شرکت کی بھی نفی کر دی گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ چرچ، پوپ اور مذہبی قیادت نے عوام پر بادشاہ اور جاگیرداروں کی طرف سے ہونے والے دوہرے مظالم اور شدید جبر و تشدد میں عوام کا ساتھ دینے کی بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھ دیا تھا اور مذہب عملاً بادشاہت اور جاگیرداری کا پشت پناہ بن کر رہ گیا تھا۔ اس لیے بادشاہ اور جاگیردار کے ساتھ ساتھ پوپ کی سیاسی قیادت کا بوریا بستر بھی لپیٹ دیا گیا اور نئے نظام میں ہمیشہ کے لیے طے کر دیا گیا کہ مذہب اور چرچ کا تعلق انسان کے عقیدہ، عبادت اور اخلاقیات کے ساتھ رہے گا جبکہ سیاسی و معاشرتی معاملات میں رائے دینے، راہ نمائی کرنے اور مداخلت کرنے کا مذہب، پادری اور چرچ کو کوئی حق نہیں ہوگا۔ اسی کو آگے چل کر ’’سیکولرازم‘‘ سے تعبیر کیا گیا اور معیاری نظام قرار دے کر پوری دنیا سے اسے اختیار کرنے اور اس کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بیسویں صدی عیسوی کے دوسرے عشرہ میں یورپی ممالک یعنی برطانیہ اور جرمنی وغیرہ کے درمیان جنگ ہوئی جس میں پوری دنیا بالواسطہ یا بلا واسطہ لپیٹ میں آگئی، اس لیے اسے ’’جنگ عظیم اول‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں عالم اسلام کی نمائندہ حکومت ’’خلافت عثمانیہ‘‘ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا چنانچہ جرمنی کے ساتھ ساتھ وہ بھی شکست سے دوچار ہوگئی تھی اور نتیجے میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ جنگ عظیم اول میں لاکھوں انسانوں کے قتل ہو جانے کے بعد اقوام و ممالک کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’’لیگ آف نیشنز‘‘ قائم کی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اقوام و ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو جنگ کی صورت اختیار نہ کرنے دی جائے اور اس بین الاقوامی فورم کے ذریعہ ان تنازعات کا حل نکال کر قوموں اور ملکوں کی باہمی جنگ کو روکا جائے، لیکن ’’لیگ آف نیشنز‘‘ اپنے اس مقصد میں ناکام ہوگئی اور بیسویں صدی کے چوتھے اور پانچویں عشرے کے درمیان پھر عالمی جنگ بپا ہوئی جس میں جرمنی اور جاپان ایک طرف جبکہ برطانیہ، فرانس اور روس وغیرہ دوسری طرف تھے۔ اس جنگ نے پہلی جنگ سے زیادہ تباہی مچائی اور اس کے آخری مراحل میں امریکہ نے اتحادیوں کی حمایت میں جنگ میں شریک ہو کر جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا جس پر جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔

اس کے بعد ۱۹۴۵ء میں ایک اور بین الاقوامی تنظیم اقوام متحدہ (United Nations) کے نام سے وجود میں آئی جو اب تک نہ صرف قائم ہے بلکہ بین الاقوامی معاملات کا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اقوام متحدہ کے تنظیمی اور پالیسی سازی کے اختیارات اور معاملات پر اجاری داری کی وجہ سے اقوام متحدہ پر مغربی ممالک کی بالادستی قائم ہے اور اسے عام طور پر انہی کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیمی صورت حال یہ ہے کہ اس کی ایک ’’جنرل اسمبلی‘‘ ہے جس میں تمام ممبر ممالک برابر کے رکن ہیں اور سال میں ایک بار تمام ممالک کے حکمران یا ان کے نمائندے جمع ہو کر عالمی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قراردادیں پاس ہوتی ہیں۔ لیکن ان قراردادوں کی حیثیت صرف سفارش کی ہوتی ہے ان کا نفاذ ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ چنانچہ جنرل اسمبلی کی سینکڑوں سفارشی قراردادیں اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ کی فائلوں میں دبی پڑی ہیں۔

اقوام متحدہ میں پالیسی سازی، فیصلوں اور ان کے نفاذ کی اصل قوت ’’سلامتی کونسل‘‘ ہے جس کے گیارہ ارکان میں سے پانچ ارکان (۱) امریکہ (۲) برطانیہ (۳) فرانس (۴) روس اور (۵) چین مستقل ممبر کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ چھ ارکان دنیا کے مختلف ممالک میں سے باری باری دو دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ یہ گیارہ رکنی سلامتی کونسل اقوام متحدہ کی اصل قوت اور اتھارٹی ہے لیکن ان میں سے پانچ مستقل ارکان کو حقِ استرداد (Veto Power) حاصل ہے کہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس میں سے کوئی ایک ملک بھی سلامتی کونسل کے کسی فیصلے کو مسترد کر دے تو وہ کالعدم ہو جاتا ہے۔ اس طرح پوری دنیا کے نظام پر اقوام متحدہ کے نام سے اصل حکمرانی اور کنٹرول ان پانچ ممالک کا ہے اور یہ پانچ ممالک جس بات پر متفق ہو جائیں پوری دنیا کو وہ فیصلہ بہرحال تسلیم کرنا ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کا اصل مقصد قوموں اور ملکوں کے درمیان ہونے والے تنازعات کا حل تلاش کرنا اور جنگ کو روکنا تھا لیکن ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمگیر منشور منظور کر کے اور اس کی پابندی کو تمام ممالک و اقوام کے لیے لازمی قرار دے کر دنیا کے سیاسی اور معاشرتی نظام میں راہ نمائی اور مداخلت کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کر لیا۔ اور اس کے بعد سے ممالک و اقوام کے درمیان جنگ کو روکنے کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک کے سیاسی اور معاشرتی نظاموں کو کنٹرول کرنا بھی اقوام متحدہ کی ذمہ داری سمجھا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ اس سلسلہ میں مسلسل کردار ادا کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے اور اس کے تحت متفقہ طور پر یا اکثریت کے ساتھ طے ہونے والے فیصلے ’’بین الاقوامی معاہدات‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن تاریخ اور سماج کے ایک طالب علم کے طور پر مجھے اس سے اختلاف ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے جن فیصلوں کو دنیا پر نافذ کرنا چاہتی ہے وہ عملاً نافذ ہوتے ہیں ان کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کو سزا دی جاتی ہے حتیٰ کہ خلاف ورزی کرنے والے ملکوں پر فوج کشی بھی کی جاتی ہے اور انہیں اقوام متحدہ کا فیصلہ تسلیم کرنے پر بزور مجبور کیا جاتا ہے۔ اس لیے انسانی حقوق کا منشور اور اقوام متحدہ کے دیگر فیصلے صرف ’’معاہدات‘‘ نہیں بلکہ عملاً ’’بین الاقوامی قانون‘‘ بن چکے ہیں اور خود اقوام متحدہ صرف بین الاقوامی تنظیم نہیں بلکہ عملًا ایک عالمی حکومت کا درجہ رکھتی ہے جس کے ذریعہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک عملاً پوری دنیا پر حکومت کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اس عملی کردار کو سامنے رکھنا بالخصوص عالم اسلام کے ان حلقوں کے لیے انتہائی ضروری ہے جو اسلامی نظام کے نفاذ، اسلامی معاشرہ کے قیام اور خلافت اسلامیہ کے احیاء کے لیے دنیا کے کسی بھی حصہ میں محنت کر رہے ہیں تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ اس سلسلہ میں ان کا مقابلہ اصل میں کس قوت سے ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر ایسی جدوجہد کرنے والے حلقے اور طبقے اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک میں اپنے مقتدر حلقوں سے نفاذِ اسلام کا مطالبہ کر رہے ہیں یا ان سے نفاذِ اسلام کے لیے لڑ رہے ہیں جبکہ حقیقی صورت حال یہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں نفاذِ اسلام یا شریعت کے قوانین کی ترویج کی جدوجہد ہو اس کا سامنا اصل میں ایک بین الاقوامی نظام سے ہے اور ایک مضبوط عالمی نیٹ ورک سے ہے جو ساری دنیا میں ’’انسانی حقوق کے منشور‘‘ کے عنوان سے مغرب کا طے کردہ سیاسی اور معاشرتی نظام نافذ کرنے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔

عالم اسلام کے کم و بیش سبھی ممالک اقوام متحدہ کا حصہ ہیں اور اس کے معاملات میں شریک ہیں لیکن عالم اسلام کے نظریاتی اور باشعور حلقوں کو دو حوالوں سے واضح طور پر تحفظات کا سامنا ہے۔ ایک یہ کہ اقوام متحدہ کی فیصلہ سازی اور فیصلوں کے نفاذ کی اتھارٹی میں عالم اسلام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اور مسلمانوں کا کوئی ملک بھی ان پانچ ممالک میں شامل نہیں ہے جنہیں فیصلے مسترد کر دینے اور معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا اختیار اور حق حاصل ہے۔ اس طرح اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی اور فیصلوں کی تنفیذ کے معاملات سے عالم اسلام کلیتہً بے دخل ہے اور اس کا کردار دنیا کے ان پانچ بڑوں کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے اور کرتے چلے جانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ہمارا دوسرا تحفظ انسانی حقوق کے منشور کے حوالہ سے ہے جو صرف مغربی ممالک کی باہمی کشمکش اور انقلاب فرانس کے پس منظر کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے، بلکہ اس کی بہت سی دفعات اسلامی شریعت کے احکام و قوانین سے متصادم ہیں۔ اور عملی صورت حال یہ ہے جس کی ہم آئندہ سطور میں وضاحت کریں گے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کو من و عن قبول کر لینے کی صورت میں مسلم ممالک اور حکومتوں کو قرآن و سنت کے بیسیوں احکام اور شریعت اسلامیہ کے سینکڑوں ضابطوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے جبکہ عالم اسلام کی صورت حال یہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران طبقات خدانخواستہ اس کے لیے کسی درجہ میں تیار بھی ہوں مگر مسلم عوام کی اکثریت دنیا کے کسی بھی خطے میں اس کے لیے تیار نہیں ہے اور گزشتہ نصف صدی کے دوران درجنوں مسلم ممالک کی رائے عامہ جمہوری و سیاسی ذرائع سے اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین اور ریاست و حکومت کے معاملات میں مذہب کے کردار سے دست بردار ہونے کے لیے وہ کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ عالم اسلام کو اقوام متحدہ کے فیصلہ سازی اور فیصلوں کے نفاذ کے نظام میں شریک کیا جائے اور انسانی حقوق کے منشور پر نظر ثانی کی جائے۔ اگر اس وقت عالم اسلام کی دیگر حکومتیں ان کا ساتھ دیتیں تو اس سلسلہ میں مؤثر پیش رفت ہو سکتی تھی لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور موجودہ صورت حال میں اب بھی اس کا بظاہر کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

دسمبر ۱۹۴۸ء میں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا یہ منشور منظور کیا تھا اس وقت دنیا میں مسلم ممالک کا کوئی عالمی فورم موجود نہیں تھا، خلافت عثمانیہ کا اس سے قبل خاتمہ ہو چکا تھا اور اس کی جگہ لینے کے لیے کوئی عالمی فورم سامنے نہیں آیا تھا بلکہ اب تک یہی صورت حال ہے، دنیا کے بیشتر مسلم ممالک آزاد نہیں تھے اور کسی نہ کسی استعماری قوت کی نو آبادی شمار ہوتے تھے اس طرح جنرل اسمبلی میں عالم اسلام کی مکمل نمائندگی موجود نہیں تھی، اس لیے یہ کہنا کہ اقوام متحدہ کی تشکیل اس کے نظام کے تعین اور اس کے معاہدات کی تدوین میں عالم اسلام برابر کا شریک ہے، درست نہیں ہے اور انصاف کی بات نہیں ہے، اس لیے آج بھی مسلم حکومتوں بالخصوص او آئی سی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے فرائض کو محسوس کریں اور اقوام متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے اور اس کے تحت ہونے والے بین الاقوامی معاہدات پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام اور عالم اسلام کی صحیح نمائندگی کا فرض پورا کریں۔

اس مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ جب اقوام متحدہ خود مذہبی آزادی، لوگوں کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق اور علاقائی ثقافتوں کے تحفظ کی علمبردار ہے تو اسے کسی مذہب کی حدود کار متعین کرنے اور اہل مذہب کو اس مذہب کے کچھ حصوں پر عمل سے روکنے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی علاقائی ثقافتوں کو انسانی حقوق کے منشور کے نام پر بلڈوز کر کے ایک ہی تہذیبی فلسفہ کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کا اس کے پاس کوئی جواز ہے۔

ان گزارشات کے بعد ہم انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیہ کا شق وار سرسری جائزہ لینا چاہیں گے، صرف اس پہلو سے کہ اسلامی شریعت کے ایک طالب علم اور نفاذ شریعت کی جدوجہد کے ایک شعوری کارکن کے طور پر اس سلسلہ میں ہمارے تحفظات کیا ہیں اور اس منشور کو مکمل طور پر قبول کر لینے کی صورت میں ہم اسلامی نقطۂ نظر سے کیا خدشات بلکہ نقصانات محسوس کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کا عالمی منشور

Published by the Office of Public Information, United Nations Universal Declaration of Human Rights (URDU)
Reprinted in U.N. OPI/15-15377-June 1965-5M

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو ’’انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘ منظور کر کے اس کا اعلانِ عام کیا۔ اگلے صفحات پر اس منشور کا مکمل متن درج ہے۔ اس تاریخی کارنامے کے بعد اسمبلی نے اپنے تمام ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی اپنے اپنے ہاں اس کا اعلانِ عام کریں اور اس کی نشر و اشاعت میں حصہ لیں۔ مثلاً یہ کہ اسے نمایاں مقام پر آویزاں کیا جائے اور خاص طور پر اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں اسے پڑھ کر سنایا جائے اور اس کی تفصیلات واضح کی جائیں۔ اور اس ضمن میں کسی ملک یا علاقے کی سیاسی حیثیت کے لحاظ سے کوئی امتیاز نہ برتا جائے۔

آخری مستند متن ۔ محکمۂ اطلاعاتِ عامہ اقوام متحدہ، نیویارک

چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا اس دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔

چونکہ انسانی حقوق سے لا پروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جس سے انسانیت کے ضمیر کوسخت صدمے پہنچے ہیں۔ عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔

چونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو قانون کی عمل داری کے ذریعے محفوظ رکھا جائے۔ اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان عاجز آکر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوں۔

چونکہ یہ ضروری ہے کہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھایا جائے۔

چونکہ اقوام متحدہ کی ممبر قوموں نے اپنے منشور میں بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کی حرمت اور قدر اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں اپنے عقیدے کی دوبارہ تصدیق کر دی ہے اور وسیع تر آزادی کی فضا میں معاشرتی ترقی کو تقویت دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔

چونکہ ممبر ملکوں نے یہ عہد کر لیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی اشتراک عمل سے ساری دنیا میں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے۔

چونکہ اس عہد کی تکمیل کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سب سمجھ سکیں۔

لہٰذا جنرل اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصولِ مقصد کا مشترک معیار ہوگا تاکہ ہر فرد اور معاشرے کا ہر ادارہ اس منشور کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ان حقوق اور آزادیوں کا احترام پیدا کرے، اور انہیں قومی اور بین الاقوامی کاروائیوں کے ذریعے ممبر ملکوں میں اور ان قوموں میں جو ممبر ملکوں کے ماتحت ہوں، منوانے کے لیے بتدریج کوشش کر سکے۔

دفعہ نمبر ۱

تمام انسان آزاد اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں ضمیر اور عقل ودیعت ہوئی ہے۔ اس لیے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے۔

دفعہ نمبر ۲

  1. ہر شخص ان تمام آزادیوں اور حقوق کا مستحق ہے جو اس اعلان میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس حق پر نسل، رنگ ، جنس ، زبان ، مذہب اور سیاسی تفریق کا یا کسی قسم کے عقیدے، قوم، معاشرے، دولت یا خاندانی حیثیت وغیرہ کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
  2. اس کے علاوہ جس علاقے سے جو شخص تعلق رکھتا ہے اس کی سیاسی کیفیت کا دائرۂ اختیار یا بین الاقوامی حیثیت کی بنا پر اس سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ ملک یا علاقہ آزاد ہو یا تولیتی ہو یا غیر مختار ہو یا سیاسی اقتدار کے لحاظ سے کسی دوسری بندش کا پابند ہو۔

دفعہ نمبر ۳

ہر شخص کو اپنی جان، آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق حاصل ہے۔

دفعہ نمبر ۴

کوئی شخص غلام یا لونڈی بنا کر نہ رکھا جا سکے گا۔ غلامی اور بردہ فروشی ، چاہے اس کی کوئی شکل بھی ہو، ممنوع قرار دی جائے گی۔

دفعہ نمبر ۵

کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ، انسانیت سوز، یا ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی۔

دفعہ نمبر ۶

ہر شخص کا حق ہے کہ ہر مقام پر قانون اس کی شخصیت کو تسلیم کرے۔

دفعہ نمبر ۷

قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب بغیر کسی تفریق کے قانون کے اندر امان پانے کے برابر کے حق دار ہیں۔ اس اعلان کے خلاف جو تفریق کی جائے یا جس تفریق کے لیے ترغیب دی جائے اس سے سب برابر کے بچاؤ کے حق دار ہیں۔

دفعہ نمبر ۸

ہر شخص کو ان افعال کے خلاف جو اس دستور یا قانون میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کو تلف کرتے ہوں، با اختیار قومی عدالتوں سے مؤثر طریقے سے چارہ جوئی کرنے کا پورا حق ہے۔

دفعہ نمبر ۹

کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار، نظر بند، یا جلاوطن نہیں کیا جائے گا۔

دفعہ نمبر ۱۰

ہر ایک شخص کو یکساں طور پر حق حاصل ہے کہ اس کے حقوق و فرائض کا تعین یا اس کے خلاف کسی عائد کردہ جرم کے بارے میں مقدمہ کی سماعت آزاد اور غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے پر ہو۔

دفعہ نمبر ۱۱

  1. ایسے ہر شخص کو جس پر کوئی فوجداری کا الزام عائد کیا جائے، بے گناہ شمار کیے جانے کا حق ہے۔ تا وقتیکہ اس پر کھلی عدالت میں قانون کے مطابق جرم ثابت نہ ہو جائے اور اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع نہ دیا جا چکا ہو۔
  2. کسی شخص کو کسی ایسے فعل یا فروگزاشت کی بنا پر جو ارتکاب کے وقت قومی یا بین الاقوامی قانون کے اندر تعزیری جرم شمار نہیں کیا جاتا تھا، کسی تعزیری جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔

دفعہ نمبر ۱۲

کسی شخص کی نجی زندگی، خانگی زندگی، گھر بار، خط و کتابت میں من مانے طریقے پر مداخلت نہ کی جائے گی اور نہ ہی اس کی عزت اور نیک نامی پر حملے کیے جائیں گے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ قانون اسے حملے یا مداخلت سے محفوظ رکھے۔

دفعہ نمبر ۱۳

  1. ہر شخص کا حق ہے کہ اسے ہر ریاست کی حدود کے اندر نقل و حرکت کرنے اور سکونت اختیار کرنے کی آزادی ہو۔
  2. ہر شخص کو اس بات کا حق ہے کہ وہ ملک سے چلا جائے چاہے یہ ملک اس کا اپنا ہو۔ اور اسی طرح اسے ملک میں واپس آجانے کا بھی حق ہے۔

دفعہ نمبر ۱۴

  1. ہر شخص کو ایذا رسانی سے بچنے کے لیے دوسرے ملکوں میں پناہ ڈھونڈنے، اور پناہ مل جائے تو اس سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔
  2. یہ حق ان عدالتی کاروائیوں سے بچنے کے لیے استعمال میں نہیں لایا جا سکتا جو خالصتًا غیر سیاسی جرائم یا ایسے افعال کی وجہ سے عمل میں آتی ہیں جو اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصول کے خلاف ہیں۔

دفعہ نمبر ۱۵

  1. ہر شخص کو قومیت کا حق ہے۔
  2. کوئی شخص محض حاکم کی مرضی پر اپنی قومیت سے محروم نہیں کیا جائے گا اور اس کو قومیت تبدیل کرنے کا حق دینے سے انکار نہ کیا جائے گا۔

دفعہ نمبر ۱۶

  1. بالغ مردوں اور عورتوں کو بغیر کسی ایسی پابندی کے جو نسل، قومیت یا مذہب کی بنا پر لگائی جائے شادی بیاہ کرنے اور گھر بسانے کا حق ہے۔ مردوں اور عورتوں کو نکاح، ازدواجی زندگی اور نکاح کو فسخ کرنے کے معاملہ میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
  2. نکاح فریقین کی پوری اور آزاد رضامندی سے ہوگا۔
  3. خاندان، معاشرے کی فطری اور بنیادی اکائی ہے، اور وہ معاشرے اور ریاست دونوں کی طرف سے تحفظ کا حق دار ہے۔

دفعہ نمبر ۱۷

  1. ہر انسان کو تنہا یا دوسروں سے مل کر جائیداد رکھنے کا حق ہے۔
  2. کسی شخص کو زبردستی اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

دفعہ نمبر ۱۸

ہر انسان کو آزادیٔ فکر، آزادیٔ ضمیر، آزادیٔ مذہب کا پورا حق ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے، پبلک یا نجی طور پر تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل کر عقیدے کی تبلیغ، عمل، عبادت اور مذہبی رسوم پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔

دفعہ نمبر ۱۹

ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اور جس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کیے علم اور خیالات کی تلاش کرے، انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے۔

دفعہ نمبر ۲۰

  1. ہر شخص کو پر امن طریقے سے ملنے جلنے اور انجمنیں قائم کرنے کی آزادی کا حق ہے۔
  2. کسی شخص کو کسی انجمن میں شامل ہونے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ نمبر ۲۱

  1. ہر شخص کو اپنے ملک کی حکومت میں براہ راست یا آزادانہ طور پر منتخب کیے ہوئے نمائندوں کے ذریعے حصہ لینے کاحق ہے۔
  2. ہر شخص کواپنے ملک میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا برابر کا حق ہے۔
  3. عوام کی مرضی حکومت کے اقتدار کی بنیاد ہوگی۔ یہ مرضی وقتاً فوقتاً ایسے حقیقی انتخابات کے ذریعے ظاہر کی جائے گی جو عام اور مساوی رائے دہندگی سے ہوں گے۔ اور جو خفیہ ووٹ یا اس کے مساوی کسی دوسرے آزادانہ طریقۂ رائے دہندگی کے مطابق عمل میں آئیں گے۔

دفعہ نمبر ۲۲

معاشرے کے رکن کی حیثیت سے ہر شخص کو معاشرتی تحفظ کا حق حاصل ہے اور یہ حق بھی کہ وہ ملک کے نظام اور وسائل کے مطابق قومی کوشش اور بین الاقوامی تعاون سے ایسے اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کو حاصل کرے جو اس کی عزت اور شخصیت کے نشوونما کے لیے لازم ہیں۔

دفعہ نمبر ۲۳

  1. ہر شخص کو کام کاج، روزگار کے آزادانہ انتخاب، کام کاج کی مناسب و معقول شرائط اور بے روزگاری کے خلاف تحفظ کا حق ہے۔
  2. ہر شخص کو کسی تفریق کے بغیر مساوی معاوضے کا حق ہے۔
  3. ہر شخص جو کام کرتا ہے وہ ایسے مناسب و معقول مشاہرے کا حق رکھتا ہے جو خود اس کے اور اس کے اہل و عیال کے لیے باعزت زندگی کا ضامن ہو۔ اور جس میں اگر ضروری ہو تو معاشرتی تحفظ کے دوسرے ذریعوں سے اضافہ کیا جا سکے۔
  4. ہر شخص کو اپنے مفاد کے بچاؤ کے لیے تجارتی انجمنیں قائم کرنے اور اس میں شریک ہونے کا حق حاصل ہے۔

دفعہ نمبر ۲۴

ہر شخص کا آرام اور فرصت کا حق ہے جس میں کام کے گھنٹوں کی حد بندی اور تنخواہ کے علاوہ مقررہ وقفوں کے ساتھ تعطیلات بھی شامل ہیں۔

دفعہ نمبر ۲۵

  1. ہر شخص کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے مناسب معیار زندگی کا حق ہے جس میں خوراک، پوشاک، مکان اور علاج کی سہولتیں اور دوسری ضروری معاشرتی مراعات شامل ہیں۔ اور بے روزگاری، بیماری، معذوری، بیوگی، بڑھاپا، ان حالات میں روزگار سے محرومی جو اس کے قبضہ قدرت سے باہر ہوں، کے خلاف تحفظ کا حق حاصل ہے۔
  2. زچہ اور بچہ خاص توجہ اور امداد کے حق دار ہیں۔ تمام بچے خواہ وہ شادی سے پیدا ہوئے ہوں یا شادی کے بغیر معاشرتی تحفظ سے یکساں طور پر مستفید ہوں گے۔

دفعہ نمبر ۲۶

  1. ہر شخص کو تعلیم کا حق ہے۔ تعلیم مفت ہوگی کم سے کم ابتدائی اور بنیادی درجوں میں۔ ابتدائی تعلیم لازمی ہوگی۔ فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرنے کا عام انتظام کیا جائے گا اور لیاقت کی بنا پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا سب کے لیے مساوی طور پر ممکن ہوگا۔
  2. تعلیم کا مقصد انسانی شخصیت کی پوری نشوونما ہوگا اور وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام میں اضافہ کرنے کا ذریعہ ہوگی۔ وہ تمام قوموں اور نسلی یا مذہبی گروہوں کے درمیان باہمی مفاہمت، رواداری اور دوستی کو ترقی دے گی اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی سرگرمیوں کو آگے بڑھائے گی۔
  3. والدین کو اس بات کے انتخاب کا اولین حق ہے کہ ان کے بچوں کو کس قسم کی تعلیم دی جائے گی۔

دفعہ نمبر ۲۷

  1. ہر شخص کو قوم کی ثقافتی زندگی میں آزادانہ حصہ لینے، ادبیات سے مستفید ہونے اور سائنس کی ترقی اور اس کے فوائد میں شرکت کا حق حاصل ہے۔
  2. ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ اس کے ان اخلاقی اور مادی مفاد کا تحفظ کیا جائے جو اسے ایسی سائنسی، عملی یا ادبی تصنیف سے جس کا وہ مصنف ہو، حاصل ہوتے ہیں۔

دفعہ نمبر ۲۸

ہر شخص ایسے معاشرتی اور بین الاقوامی نظام میں شامل ہونے کا حق دار ہے جس میں وہ تمام آزادیاں اور حقوق حاصل ہو سکیں جو اس اعلان میں پیش کر دیے گئے ہیں۔

دفعہ نمبر ۲۹

  1. ہر شخص پر معاشرے کے حقوق ہیں کیونکہ معاشرے میں رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آزادانہ اور پوری نشوونما ممکن ہے۔
  2. اپنی آزادیوں اور حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہر شخص صرف ایسی حدود کا پابند ہوگا جو دوسروں کی آزادیوں اور حقوق کو تسلیم کرانے اور ان کا احترام کرانے کی غرض سے، یا جمہوری نظام میں اخلاق، امن عامہ اور عام فلاح و بہبود کے مناسب لوازمات کو پورا کرنے کے لیے قانون کی طرف سے عائد کیے گئے ہیں۔
  3. یہ حقوق اور آزادیاں کسی حالت میں بھی اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصول کے خلاف عمل میں نہیں لائی جا سکتیں۔

دفعہ نمبر ۳۰

اس اعلان کی کسی چیز سے کوئی ایسی بات مراد نہیں لی جا سکتی جس سے ملک، گروہ یا شخص کو کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہونے یا کسی ایسے کام کو انجام دینے کا حق پیدا ہو جس کا منشا ان حقوق اور آزادیوں کی تخریب ہو جو یہاں پیش کی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کے مغربی تناظر اور اسلامی تناظر کا فرق

اقوام متحدہ کے منشور کے دفعہ وار تجزیہ سے پہلے تمہید کے طور پر چند تحفظات کا اظہار ضروری ہے۔

  • اس میں مغربی دنیا کے تہذیبی، سیاسی اور مذہبی پس منظر کو بنیاد بنایا گیا ہے اور انقلاب فرانس سے پہلے کی صورت حال اور جنگ عظیم اول اور دوم کا باعث بننے والے اسباب کو سامنے رکھا گیا ہے۔ یہ مغربی دنیا کا پس منظر ضرور ہے لیکن عالم اسلام کا پس منظر قطعی طور پر یہ نہیں ہے، عالم اسلام میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی پاسداری اور معاشرتی انصاف کی فراہمی کی ایک شاندار تاریخ موجود ہے جسے بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اور مغرب اپنے علاقائی پس منظر کے رد عمل میں جس معاشرتی اور تہذیبی نتیجہ تک پہنچا ہے اسے پوری دنیا میں اور خاص طور پر اس پس منظر سے قطعی مختلف ماضی رکھنے والے عالم اسلام پر مسلط کرنے کے درپے ہے جو انصاف کا تقاضہ نہیں ہے۔
  • مذہب اور مذہبی قیادت نے یورپی ممالک میں یقینًا بادشاہت اور جاگیرداری کی پشت پناہی کی ہے لیکن عالم اسلام میں مذہبی قیادت علمی و فکری طور پر ہمیشہ آزاد رہی ہے اور حکمرانوں کے مظالم کے مقابلہ میں عوام کے ساتھ رہی ہے، اس لیے جو سزا مغرب نے اپنے مذہب کے لیے تجویز کی ہے اسے عالم اسلام اور دین اسلام پر چسپاں کرنا سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔
  • مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق سے مراد اگر یہ ہے کہ ہر معاملہ میں ان کے ساتھ برابری کا معاملہ کیا جائے، جیسا کہ عام طور پر اس کی یہی تشریح کی جا رہی ہے، تو یہ نہ صرف یہ کہ ناممکن ہے بلکہ عقل، انصاف اور فطرت کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے کہ مرد اور عورت کی تخلیق اور جسمانی ڈھانچے میں فرق ہے، ان کی نفسیات اور ذہنی کیفیات میں فرق ہے، ان کے فطری فرائض میں فرق ہے اور ان کی قوت کار میں فرق ہے۔ اس فرق کو نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور اس فرق کی موجودگی میں ہر معاملہ میں برابری ممکن نہیں ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس کے لیے بہت خوبصورت اور فطری اصول بیان فرمایا ہے کہ وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَة وَاللّٰەُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (سورۃ البقرہ ۲۲۸) ’’عورتوں کے حقوق ان کی ذمہ داریوں کے حساب سے ہیں، اور مردوں کی ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے‘‘۔ مردوں اور عورتوں کے درمیان حقوق و فرائض کی تقسیم ان کی جسمانی تخلیق، ذہنی نفسیات، فطری فرائض اور قوت کار کے حساب سے ہوگی تو وہی تقسیم فطری ہوگی اور وہی دراصل مساویانہ ہوگی، اس سے ہٹ کر کوئی بھی معاملہ فطرت اور انصاف سے انحراف متصور ہوگا۔
  • خاندان سوسائٹی کا ایک بنیادی یونٹ ہے جس کا وجود اور بقا سوسائٹی کی ضروریات سے ہے۔ خاندان میاں بیوی اور اولاد پر مشتمل ہوتا ہے اور ان چند افراد میں کسی ایک کا انتظامی سربراہ قرار پانا خاندان کی فطری ضرورت ہے جسے قرآن کریم نے وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃ سے تعبیر کیا ہے۔ خاندان ایک ادارہ ہے اور کسی بھی ادارے کا نظام صحیح چلانے کے لیے نظم و نسق ایک ہاتھ میں ہوگا تو معاملات صحیح چلیں گے اور اگر برابر کے اختیارات کے دو مینیجر کسی ادارے میں بٹھا دیے جائیں گے تو وہ کوئی بھی ادارہ ہو، تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام صحیح طور پر چلنے کی بڑی وجہ بھی یہی بتائی ہے کہ نظام ایک ہاتھ میں ہے لَوْ کَانَ فِیْھِمَا اٰلِھَةٌ اِلَّا اللّٰەُ لَفَسَدَتًا فَسُبْحٰنَ اللّٰەِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (سورۃ الانبیاء ۲۲) ’’اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں خراب ہو جاتے، سو اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں‘‘۔اگر خدائی اختیارات کی حامل کوئی اور شخصیت اور ذات بھی موجود ہوتی تو کائنات درہم برہم ہو جاتی، اسی طرح خاندان کا نظام صحیح طور پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ منتظم ایک ہو۔ عورت کو اسلام نے مرد کی مشیر و معاون بنایا ہے بلکہ جناب نبی اکرمؐ نے والمرأۃ راعیة فی بیت زوجھا کہا ہے کہ گھر کے اندر کا نظام اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس کے بارے میں مسئولہ اور ذمہ دار ہے لیکن اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ (سورۃ النساء ۳۴) اور وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَة (سورۃ البقرۃ ۲۲۸) فرما کر گھر کا نظم طے کیا ہے کہ سنیارٹی اور انتظامی کنٹرول مرد کے ہاتھ میں ہے اور یہی فطرت اور نظم کا تقاضہ ہے۔ مغربی دنیا آج اپنے خاندانی نظام کے بکھر جانے سے پریشان ہے اور بہت سے مغربی دانشور اس پر الجھن اور پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ مغرب نے خاندانی نظام کی فطری درجہ بندی کا لحاظ نہیں رکھا اور مرد اور عورت کو یکساں اختیارات کا حامل قرار دے کر اپنے خاندانی نظام کا شیرازہ منتشر کردیا ہے۔
  • تمہید میں انسانی حقوق کے اس منشور کو تمام اقوام کے واسطے حصول مقصد کا ’’مشترک معیار‘‘ قرار دیا گیا ہے جو محل نظر ہے، اس لیے کہ جب یہ منشور ترتیب دیا جا رہا تھا تو انسانی آبادی کے ایک بڑے حصے میں معاشرتی کردار رکھنے والے مذاہب اور ثقافتوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا تھا، مغرب اگر اپنی سوسائٹی میں اپنے مذہب کے ظالمانہ کردار سے ناراض ہے تو اس مذہب سے انکار اس کا حق ہے لیکن باقی مذاہب کے بارے میں اس قسم کا فیصلہ کرنا اس کا حق نہیں ہے، اس سلسلہ میں عالم اسلام کی پوزیشن ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، لیکن انسانی حقوق کے منشور کی تشکیل کے وقت چین بھی اس سے باہر تھا اور تائیوان کے ایک جزیرے کو چین قرار دے کر محض خانہ پُری کی گئی تھی، اسی وجہ سے عوامی جمہوریہ چین کو بھی جو دنیا کی انسانی آبادی کے کم و بیش ایک چوتھائی حصے پر مشتمل ہے، انسانی حقوق کے بارے میں مغربی دنیا کی تعبیرات و تشریحات پر مسلسل تحفظات رہتے ہیں۔ دنیا کی علاقائی تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشرتی کردار رکھنے والے مذاہب کو نظر انداز کر کے تشکیل دیے جانے والے منشور کو تمام اقوام کے واسطے ’’مشترکہ معیار‘‘ قرار دیا جانا ان کی ثقافتوں اور مذاہب کی نفی کے مترادف ہے اور عالم اسلام کے لیے نہ یہ نفی قابل قبول ہے اور نہ ہی وہ اپنے دین و مذہب کے معاشرتی کردار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار ہے، اس لیے ان زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر اس منشور پر نظر ثانی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے منشور کا دفعہ وار تجزیہ

دفعہ نمبر ۱ تا ۳ ۔ اقوام متحدہ کی دو رُخی پالیسی

دفعہ نمبر۱ تا ۳ سے ہمیں اصولی طور پر اتفاق ہے اور اسلامی تعلیمات بھی ان حوالوں سے اسی نوعیت کی چلی آرہی ہیں، البتہ موجودہ حالات میں ان اصولوں کی تطبیق اور مغربی ممالک حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے عملی کردار کے بارے میں ہمیں تحفظات ہیں، مثلاً دفعہ میں انسانوں کے درمیان ’’نسلی فرق‘‘ کی نفی کی گئی ہے جبکہ نسلی امتیاز اور برتری کی بنیاد پر قائم کی جانے والی یہودی ریاست اسرائیل کی مکمل سرپرستی کی جا رہی ہے۔

دفعہ نمبر ۴ ۔ غلامی کا مسئلہ

دفعہ نمبر ۴ ’’غلامی کے خاتمے‘‘ کے بارے میں ہے، ہمیں اس سے بھی اختلاف نہیں اور عالم اسلام نے اسے عملاً قبول کر رکھا ہے۔ چنانچہ گزشتہ ایک صدی کے دوران دنیا بھر میں جہاں بھی شرعی بنیادوں پر’’جہاد‘‘ کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں کسی کو غلام یا لونڈی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی موجودہ وقت میں دنیا کے کسی بھی حصے میں جہاد کے عنوان سے جنگ لڑنے والے گروہ کسی کو غلام یا لونڈی بنا رہے ہیں، لیکن اسلام اور غلامی کے بارے میں چونکہ بین الاقوامی سطح پر کنفیوژن پایا جاتا ہے اس لیے اس حوالہ سے کچھ باتیں پیش کرنا ضروری ہیں:

جاہلیت کے دور میں کسی کو غلام یا لونڈی بنانے کے عام طور پر تین طریقے ہوتے تھے:

  1. طاقت ور لوگ کمزور لوگوں کو زبردستی پکڑ کر بیچ دیتے تھے اور وہ غلام تصور کیے جاتے تھے، جناب نبی اکرمؐ کے صحابہ کرامؓ حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ اسی طریقہ سے غلام بنے تھے۔
  2. قرضے یا تاوان کے بوجھ تلے دبا ہوا شخص قرضہ ادا نہ کر سکنے کی پوزیشن میں خود کو قرض خواہ یا تاوان وصول کرنے والے کے حوالے کر دیتا تھا اور وہ اسے فروخت کر دیتا تھا۔
  3. جنگوں میں قید ہوجانے والے افراد کو اجتماعی قید خانے میں ڈالنے کی بجائے غلام اور لونڈیاں بنا کر تقسیم کر دیا جاتا تھا اور وہ ان لوگوں کی ملکیت ہوتے تھے۔

جناب نبی اکرمؐ نے پہلی دونوں صورتوں کو بیع الحر حرام اور ثمن الحر حرام فرما کر ممنوع قرار دے دیا تھا، اور اس ارشاد گرامی کے بعدمسلم معاشرہ میں اس نوعیت کی غلامی کا وجود باقی نہیں رہا تھا، البتہ جنگوں میں قید ہونے والوں کی غلامی کو اسلام نے باقی رکھا لیکن قطعی حکم کے طور پر نہیں بلکہ فَاِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآءً حَتّـٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا (سورۃ محمد ۴) ’’ پھر یا تو اس کے بعد احسان کرو یا تاوان لے لو یہاں تک کہ لڑائی والے اپنے ہتھیار ڈال دیں‘‘۔ یہ فرما کر قرآن کریم نے جنگی قیدیوں کے بارے میں دو متبادل صورتیں بھی بیان فرمائی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’غلام بنانا‘‘ حکم نہیں بلکہ مختلف صورتوں میں بطور آپشن ایک صورت ہے جس کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ قرآن کریم نے غلاموں کو آزاد کر دینے کی ترغیب دی ہے اور ان کے حقوق بھی متعین فرمائے ہیں اور انہیں بلا وجہ سزا دینے اور ان کی طاقت سے زیادہ کام لینے سے منع فرمایا ہے، حتیٰ کہ حضرت ابو مسعود انصاریؓ کو جناب نبی اکرمؐ نے صرف اس وجہ سے لونڈی کو آزاد کر دینے کا حکم دیا تھا کہ انہوں نے لونڈی کو تھپڑ مار دیا تھا۔

بہرحال غلامی کی یہ صورت حکم کے طور پر نہیں بلکہ آپشن کے طور پر باقی رکھی ہے جس کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس زمانے میں اجتماعی قید خانے نہیں ہوتے تھے اور اس وقت کا عالمی عرف یہی تھا، اسی وجہ سے آج کے عالمی عرف کو قبول کرتے ہوئے عالم اسلام نے شرعی جنگوں میں کسی کو غلام یا لونڈی بنانے سے گریز کا طرز عمل اختیار کر رکھا ہے۔

بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو بات قرآن و سنت کے کسی قطعی اور صریح حکم سے متصادم ہو اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی معاملہ میں کوئی متبادل صورت موجود ہے یا اجتہاد کے شرعی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی صورت اختیار کی جا سکتی ہے تو بین الاقوامی معاہدہ کی صورت میں اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ غلامی کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی اس دفعہ کو اور جنیوا کنونشن کی صورت میں بین الاقوامی معاہدہ کو عالم اسلام نے اسی اصول کے تحت قبول کر رکھا ہے اور اس پر ملت اسلامیہ عمل بھی کر رہی ہے۔

اس شق کے حوالہ سے ہم پر مغرب کا یہ اعتراض ہے کہ جب غلامی کے خاتمہ کو عالم اسلام نے عملاً قبول کر لیا ہے تو پھر غلامی کے بارے میں قرآن کریم کی آیات، جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات اور فقہ اسلامی کے ابواب کو دینی تعلیم کے نصاب میں پڑھایا کیوں جا رہا ہے اور انہیں نصاب سے خارج کیوں نہیں کیا جاتا؟ اس کے جواب میں ہماری گزارش یہ ہے کہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین ابدی ہیں، انہیں منسوخ کرنے کی کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے اور ہم نے غلامی کے بارے میں موجودہ بین الاقوامی معاہدات کو قرآن و سنت کے احکام و قوانین میں نسخ کی بنیاد پر نہیں بلکہ موجودہ حالات میں ان کی تطبیق کے حوالہ سے قبول کیا ہے اور یہ اسی وقت تک ہے جب تک موجودہ حالات اور عالمی عرف باقی ہے، یہ نسخ نہیں بلکہ تطبیق کی ایک عملی صورت ہے، آئندہ کسی دور میں اگر پہلے والے حالات اور عالمی عرف لوٹ آئے تو قرآن و سنت کے ان احکام و قوانین پر اسی طرح عمل ہوگا جیسا پہلے دور میں ہوتا رہا ہے۔

غلامی کے بارے میں ایک بات یہ بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ آزاد انسانوں پکڑ کر بیچ دینا جسے ’’بردہ فروشی‘‘ کہا جاتا ہے، امریکہ میں صدر ابراہام لنکن کے دور تک موجود رہا ہے۔ اس سے قبل افریقہ سے لوگوں کو ہزاروں کی تعداد میں جہازوں میں بھر کر لایا جاتا تھا اور غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تھا۔ امریکہ کی سیاہ فام آبادی انہی غلاموں کی اولاد ہے، صدر ابراہام لنکن نے غلامی کے خاتمے کا قانون نافذ کیا، لیکن ان سیاہ فاموں کو اس کے بعد بھی گوروں کے برابر شہری حقوق حاصل نہیں تھے اور نہ ہی وہ ووٹ اور رائے کا حق رکھتے تھے، ووٹ کا حق انہیں ۱۹۶۴ء میں صدر جان ایف کینیڈی کے دور میں سیاہ فام لیڈر مارٹن لوتھر کنگ کی عوامی تحریک کے نتیجے میں دستوری طور پر دیا گیا، اس وقت تک وہ ووٹ کے حق سے محروم تھے۔

دفعہ نمبر ۵ ۔ اسلامی حدود و تعزیرات پر اعتراض کی بنیاد

دفعہ نمبر ۵ میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جائے گا یا سزا نہیں دی جائے گی جو ظالمانہ ہو، جس میں جسمانی تشدد ہو اور جو گھٹیا سلوک ہو۔

اقوام متحدہ کے ادارے اور بین الاقوامی لابیاں اس کی تشریح یہ کرتی ہیں کہ جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور توہین و تذلیل والا سلوک کسی شخص کے ساتھ نہیں کیا جائے گا۔ سلوک کی حد تک یہ بات ہمارے لیے بھی قابل قبول ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ اس کی ہدایت کی ہے لیکن اس دفعہ میں ’’یا سزا نہیں دی جائے گی‘‘ کہہ کر سزاؤں کو بھی اس میں شامل کر دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی بھی جرم میں دی جانے والی سزا کو جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور توہین و تذلیل سے خالی ہونا چاہیے اور جس سزا میں ان میں سے کوئی بات پائی جاتی ہے ، وہ انسانی حقوق کے منافی تصور ہوگی۔

معاشرتی جرائم کی اسلامی سزاؤں کو اسی وجہ سے انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جاتا ہے کہ ان میں قتل کرنے، سنگسار کرنے، ہاتھ پاؤں کاٹنے، قصاص میں جسمانی اعضاء قطع کرنے، کوڑے مارنے اور کھلے بندوں لوگوں کے سامنے سزا دینے کی صورتیں موجود ہیں، قرآن و سنت کی بیان کردہ ان سزاؤں کو نہ صرف انسانی حقوق کے منافی کہا جاتا ہے بلکہ نعوذ باللہ وحشیانہ، ظالمانہ اور غیر انسانی سزاؤں سے بھی تعبیر کر دیا جاتا ہے۔

اس سلسلہ میں ہمارے موقف کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ سزائیں قرآن کریم نے از سر نو طے نہیں کیں بلکہ یہ ساری سزائیں تورات کی بیان کردہ سزائیں ہیں جو آج بھی دنیا میں پڑھی جانے والی بائبل میں اسی طرح موجود ہیں۔ قرآن کریم نے بعض اصلاحات کے ساتھ توریت کی ان سزاؤں کے تسلسل کو باقی رکھا ہے۔ جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ تجربہ اور مشاہدہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانی معاشرہ میں جرائم کا خاتمہ سخت سزاؤں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ آج سعودی عرب میں جرائم کی شرح کم بیان کی جاتی ہے حتیٰ کہ حرمین شریفین میں مختلف رنگوں، نسلوں اور ثقافتوں کے لوگ ہر وقت جمع رہنے کے باوجود جرائم کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ حرمین شریفین کے تقدس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے عدالتی نظام کی وہ سخت سزائیں بھی ہیں جو اسلام کی شرعی سزائیں ہیں۔ اسی طرح دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کے دور میں جرائم کا مکمل خاتمہ ہوگیا تھا، اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ امارت اسلامی افغانستان میں طالبان نے اسلام کی شرعی سزاؤں کو عملاً نافذ کر رکھا تھا، جن کی برکت سے جرائم کا وجود نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔

دفعہ نمبر ۶ تا ۱۵

دفعہ نمبر ۶ تا ۱۵ کی باتوں سے ہمیں بھی اصولی طور پر اتفاق ہے اور بظاہر ان کے حوالہ سے ہمیں کوئی اشکال نہیں ہے۔

دفعہ نمبر ۱۶ ۔ خاندانی نظام اور اسلامی تعلیمات

البتہ دفعہ ۱۶ بطور خاص قابل توجہ ہے جس میں خاندانی نظام کا ڈھانچہ بیان کیا گیا ہے۔ اس دفعہ پر غور کیا جائے تو درج ذیل باتیں زیادہ غور کی مستحق ہیں:

  1. نکاح کا حق بالغ مردوں اور عورتوں کو ہے گویا نابالغ لڑکے اور لڑکی کے نکاح کو تسلیم نہیں کیا گیا، اسی لیے کم و بیش ہر ملک میں نکاح کے لیے لڑکے اور لڑکی کی عمر مقرر ہے اور اس سے کم عمر میں نکاح کو قانوناً تسلیم نہیں کیا جاتا۔ مثلاً پاکستان میں نکاح کے لیے لڑکے کی عمر ۱۸ سال اور لڑکی کی عمر ۱۶ سال ہے۔ اس سے کم عمر میں اگر نکاح ہوا ہے تو وہ قابل سزا جرم تصور ہوتا ہے اور شکایت کرنے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ اس طرح ہمارے ہاں حدیث و فقہ کی کتابوں میں نکاح صغیر اور نکاح صغیرہ اور اس کے ساتھ ولایت کے جو احکام ہیں وہ سب موقوف ہو جاتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ اس بات کو بھی پیش نظر رکھ لیا جائے تو معاملہ اور زیادہ تعجب انگیز ہو جاتا ہے کہ مرد اور عورت باہمی رضامندی سے زنا کا ارتکاب کریں تو وہ آج کے عالمی عرف میں جرم نہیں سمجھا جاتا، گویا مقررہ حد سے کم عمر کا لڑکا یا لڑکی زنا کریں تو جرم نہیں ہے اور اگر باقاعدہ نکاح کر لیں تو یہ جرم تصور ہوگا۔
  2. مرد اور عورت کے باہمی نکاح میں رنگ، نسل، قومیت اور مذہب کو رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے، اس میں مذہب کے حوالہ سے ہمارا اختلاف موجود ہے۔ اس لیے کہ اسلام کسی مسلمان لڑکی کا نکاح غیر مسلم کے ساتھ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور مسلمان مرد کا نکاح بھی کسی غیر مسلم خاتون کے ساتھ شرعًا جائز نہیں، سوائے اس کے کہ لڑکی اہل کتاب میں سے ہو اور خدا، رسول اور قیامت کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی بنیادی باتوں پر یقین رکھتی ہو۔
    نکاح وغیرہ کے مسائل یعنی خاندانی زندگی کے احکام میں آج کے عالمی فلسفہ کے ساتھ مسلمانوں کا ایک بڑا تنازعہ یہی ہے کہ انسانی حقوق کے منشور کی اس دفعہ کی رو سے یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلموں کے باہمی نکاح کی اجازت دی جائے، مگر مسلمان علماء دنیا میں کسی بھی جگہ قرآن و سنت کے صریح احکام کی وجہ سے یہ اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں جب کوئی مسلمان لڑکی غیر مسلم مرد سے یا مسلمان مرد کسی غیر مسلم عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس پر اعتراض کیا جاتا ہے تو وہاں کی عدالتیں اس اعتراض کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اس نکاح کو جائز قرار دے دیتی ہیں۔
  3. نکاح کے دوران یعنی ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کو بالکل برابر قرار دے کر خاندان کی سربراہی کے معاملہ میں مرد کے حق کی نفی کی گئی ہے جس کے بارے میں ہم تمہید کے ضمن میں یہ عرض کر چکے ہیں کہ یہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے کہ اسلام نے مرد کو گھر کا حاکم قرار دیا ہے بلکہ یہ گھر کے نظم کے حوالہ سے بھی غیر معقول بات ہے، اس لیے کہ کسی ایک کی انتظامی برتری کو تسلیم کیے بغیر گھر کا نظام چلنا اور اس کا باقی رہنا ممکن نہیں ہے۔
  4. نکاح کو فسخ کرنے کے بارے میں مرد اور عورت کے حق کو برابر قرار دیا گیا ہے، یہ بھی اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے کہ اسلام مرد کو براہ راست طلاق کا جو حق دیتا ہے وہ عورت کو حاصل نہیں ہے اور انسانی حقوق میں مرد اور عورت کی مساوات کے نام پر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مرد کی طرح عورت کو طلاق کا برابر کا قانونی حق دے کر عورت اور مرد کے درمیان مساوات قائم کی جائے۔
    اسلام نے عورت کو طلاق کا حق نہیں دیا لیکن مطالبۂ طلاق کا حق دیا ہے جسے خلع کہا جاتا ہے۔ اور اس مطالبۂ حق کو پورا کرنا صرف خاوند پر موقوف نہیں ہے بلکہ اگر عورت کا مطالبہ جائز ہے اور مطالبہ کے وجوہ درست ہیں تو خاوند کے علاوہ تحکیم اور قضا کی صورت میں عورت کے اس مطالبہ کو تسلیم کرنے کے متبادل راستے موجود ہیں، کیونکہ حَکم اور قاضی عورت کا مطالبہ درست ہونے کی صورت میں خاوند کی مرضی کے بغیر بھی نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ اس لیے اسلامی قانون کے بارے میں یہ تأثر درست نہیں ہے کہ اس میں عورت کو مکمل طور پر مرد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے البتہ یہ بات درست ہے کہ اسلام نے مرد کو براہ راست طلاق کا حق دیا ہے لیکن عورت کو یہ حق بالواسطہ دیا ہے جو مرد اور عورت کی نفسیات میں واضح فرق کے باعث معقول اور منطقی ہونے کے ساتھ ساتھ خاندان کی بقا اور تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔

اس سلسلہ میں عجیب بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے مذکورہ فلسفہ کے اس مطالبہ کو پورا کرنے کے لیے صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں پاکستان میں جو عائلی قوانین نافذ کیے گئے، ان میں نکاح کے فارم میں ’’تفویض طلاق‘‘ کا ایک مستقل خانہ درج کر کے مغرب کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ایک درمیانی صورت تھی کہ خاوند کا بیوی کو طلاق کا حق تفویض کر دینا شرعًا بھی درست ہے اور اس سے مغرب کو بھی کسی حد تک مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ خانہ عملاً غیر مؤثر ثابت ہوا ہے اس لیے کہ اکثر و بیشتر نکاحوں میں اس خانہ کی طرف توجہ ہی نہیں دی جاتی اور نہ ہی فارم میں کسی نکاح کے اندراج کے موقع پر اس سوال کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اس لیے مغرب کا یہ دباؤ اور مطالبہ پھر زور پکڑ گیا ہے کہ عورت کو قانون میں صراحت کے ساتھ مرد کے برابر طلاق کا حق دیا جائے۔ اس کا حل ہمارے ہاں اب یہ سامنے لایا گیا ہے کہ بعض عدالتی فیصلوں میں خلع کو عورت کا مساوی حق طلاق قرار دیا گیا ہے اور خلع کے قانونی طریق کار کے لیے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں قائم کیے جانے والے ’’خواتین حقوق کمیشن‘‘ نے اس سلسلہ میں نئے قانون کے نفاذ کے لیے جو سفارشات پیش کی ہیں ان میں خلع کو عورت کے مساوی حق طلاق کا درجہ دیا گیا ہے۔

بہرحال خاندانی قوانین کے حوالہ سے مغربی فلسفہ اور اسلامی تعلیمات کے درمیان یہ ایک بنیادی تنازعہ ہے جو انسانی حقوق منشور کی اس دفعہ کی بنیاد پر کھڑا ہوا ہے اور مسلسل جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی عورت اور مرد میں مکمل مساوات کے حوالہ سے ایک اصولی بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ مرد اور عورت کے بارے میں قوانین، احکام اور معاشرتی روایات کے فرق کو ’’جنس کی بنیاد پر امتیاز‘‘ قرار دیا جاتا ہے اور جنس کی بنیاد پر امتیازی قوانین کے مکمل خاتمہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حَکم، قانون اور ضابطہ کے باب میں مرد اور عورت کے سلسلہ میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے اور جہاں بھی کوئی فرق موجود ہے اسے امتیازی قانون یا امتیازی رویہ قرار دے کر اس کے خاتمہ پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں بات کو سمجھنے کے لیے ان چند پہلوؤں پر نظر ڈال لی جائے تو ’’امتیازی قوانین‘‘ کے خاتمہ کا یہ موقف مزید واضح ہو جاتا ہے:

  • اسلام میں عورت کو حکمرانی کے حق سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
  • عورت مذہبی معاملات میں خطابت و امامت کی ذمہ داری سے مستثنیٰ ہے۔
  • وراثت کے حصوں میں مردوں اور عورتوں کو بیشتر صورتوں میں برابر کا حق نہیں دیا گیا۔

اور اس قسم کے اور بہت سے امور ہیں جہاں قرآن و سنت نے مرد اور عورت کے لیے الگ الگ احکام و قوانین بیان کیے ہیں۔ یہ سب صورتیں مغرب کی نظر میں مرد اور عورت میں مساوات کے مبینہ اصول کے منافی ہیں اور امتیازی قانون یا رویہ کہلاتی ہیں۔

ہم نے ان سطور میں صرف اس فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مرد اور عورت میں مکمل مساوات کے قیام اور امتیازی قوانین کے خاتمہ کے لیے قرآن و سنت کے کون کون سے احکام میں خدانخواستہ رد و بدل کرنا ضروری ہو جاتا ہے، ہم اس حوالہ سے دلائل کی بحث میں نہیں پڑے، اگر کوئی صاحب علم و دانش دلائل اور منطق کے ساتھ اس بحث کی طرف توجہ دے سکیں تو یہ ان کی بڑی دینی خدمت ہوگی۔ البتہ تفصیلات میں جائے بغیر صرف ایک اصولی بات کی طرف متوجہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کسی جگہ ایک فورم میں راقم الحروف سے سوال کیا گیا کہ کیا مرد اور عورت کے بار ے احکام و قوانین میں فرق ہونا چاہیے؟ میں نے عرض کیا کہ کیا مرد اور عورت میں کوئی فرق موجود ہے؟ سوال کرنے والے نے جواب دیا کہ یہ فرق تو ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر مرد اور عورت کی تخلیق میں، جسمانی ساخت میں، ذہنی رجحانات میں، نفسیات میں، قوت کار میں، فطری فرائض میں اور طرز عمل میں فرق موجود ہے جسے کسی طرح بھی ختم نہیں کیا جا سکتا تو ان کے بارے میں احکام و قوانین کا فرق بھی ایک ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر سوسائٹی کے نظام کو اور خاص طور پر خاندانی سسٹم کو صحیح طور پر نہیں چلایا جا سکتا۔

دفعہ نمبر ۱۷

انسانی حقوق کے عالمی منشور کی دفعہ نمبر ۱۷ کے بارے میں ہمیں کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

دفعہ نمبر ۱۸ و ۱۹ ۔ آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ رائے

البتہ ہم دفعہ نمبر ۱۸ اور دفعہ نمبر ۱۹ پر ضرور بات کرنا چاہیں گے اس لیے کہ ان دو دفعات پر عالم اسلام اور مغرب کے درمیان دو بڑے تنازعات کی بنیاد ہے۔ ایک جھگڑا آزادیٔ مذہب کے عنوان سے ہے اور دوسرے تنازعہ کا عنوان آزادیٔ رائے ہے۔ آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ رائے کی حدود کیا ہیں اور ان کے بارے میں آج کی دنیا کے ساتھ ہم مسلمانوں کا تنازعہ کیا ہے؟ اس کی عملی صورتیں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے ہے جو ایک عرصہ سے جاری ہے۔ چنانچہ موجودہ عالمی کشمکش اور مباحثہ کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنا بہت ضروری ہے۔

مغرب چونکہ ریاستی، حکومتی اور معاشرتی معاملات میں مذہب کے کردار سے دست بردار ہو چکا ہے اور اس کے نزدیک مذہب صرف فرد کی ذاتی رائے اور ترجیح کا معاملہ ہے اس لیے اس کا خیال ہے کہ ریاست اور حکومت کو مذہبی معاملات میں فریق نہیں بننا چاہیے، یہ فرد کا ذاتی حق ہے کہ وہ کوئی عقیدہ رکھے یا نہ رکھے، کسی کی عبادت کرے یا نہ کرے، ایک مذہب ترک کر کے دوسرا مذہب اختیار کر لے، اپنے مذہب کا کھلم کھلا پرچار کرے، دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے اور اپنی مذہبی رسوم آزادی کے ساتھ ادا کرے، اس کے اس حق میں مداخلت کا حکومت یا ریاست کو حق حاصل نہیں ہے، اسی طرح ریاست و حکومت کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ مذہب کے حوالہ سے اپنے شہریوں کے درمیان کوئی فرق روا رکھے اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے الگ الگ قانون اور احکام نافذ کرے، اگر حکومت کسی فرد یا گروہ کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرتی ہے تو اسے مذہبی آزادی میں مداخلت قرار دیا جاتا ہے اور اگر مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں الگ الگ احکام و قوانین کا نفاذ کرتی ہے تو اسے مذہبی امتیاز کا قانون کہا جاتا ہے اور اسے ختم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ دفعہ نمبر ۱۸ میں مذہبی آزادی کی جو حدود بیان کی گئی ہیں ان کی بنیاد پر ہمارے ہاں پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی دستوری دفعہ اور انہیں اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنے والے امتناع قادیانیت قانون کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے ختم کرنے کا عالمی سطح پر مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح بعض دوسری اقلیتیں بالخصوص مسیحی آبادی بھی بعض ملکی قوانین کو مذہبی آزادی کے منافی اور مذہبی امتیاز پر مبنی قوانین قرار دے کر ان کے خاتمہ کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔

جبکہ اس سلسلہ میں اصل صورت حال یہ ہے کہ پاکستان اپنے وجود اور دستور دونوں حوالوں سے ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حدود میں اس نظریہ و مذہب کا نہ صرف تحفظ کرے بلکہ اس کے احکام و قوانین کا نفاذ عمل میں لائے اور ملک میں ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل کرے۔ اس لیے اسلامی عقیدہ و ثقافت کی حفاظت اور اسلامی احکام و قوانین کی عملداری حکومت پاکستان کا ریاستی فریضہ قرار پاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی ملک کی حکومت کا یہ اولین فریضہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دستور کا تحفظ کرے، اس کا نفاذ کرے اور اس کے منافی کوئی کام اپنے ملک میں نہ ہونے دے، کسی بھی ملک کے دستور کی بنیادوں اور اصولوں سے اتفاق یا اختلاف ایک الگ امر ہے لیکن ملک کے اندر اس کے تحفظ و نفاذ کا معاملہ اس سے مختلف امر ہے۔ مثلاً فرانس کے دستور کی بہت سی باتوں سے خود اس ملک کے بہت سے شہریوں کو نظری طور پر اختلاف ہوگا لیکن ملک کے شہری کی حیثیت سے اس اختلاف کے باوجود اس دستور کو ماننا اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے اور اس سے اس پر عمل کرانا حکومت کا فرض ہے۔ اگر وہ اختلاف کی بنیاد پر ملک کے دستور کی کسی بات پر عمل کرنے سے انکار کرے گا تو یہ اختلاف نہیں رہے گا بلکہ بغاوت کی شکل اختیار کر لے گا جس کی اجازت دنیا کا کوئی ملک یا حکومت دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

قپاکستان جب دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہندوؤں سے الگ معاشرت و ثقافت کے حوالہ سے تشکیل پایا تھا اور جب اس کا دستور اسلامی بنیادوں پر طے کیا گیا تھا، ان دونوں مواقع پر اس خطہ میں موجود غیر مسلم اقلیتیں اس عمل میں شریک تھیں اور انہوں نے اسلام کی بنیاد پر پاکستان کی تشکیل اور نظریاتی بنیادوں پر دستور کی تدوین کے عمل کو تسلیم کیا تھا جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حدود میں رہنے والے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان سوشل کنٹریکٹ اور سماجی معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے، اور جب اقوام متحدہ نے پاکستان کی اس امتیازی حیثیت کے باوجود اس کی رکنیت کو قبول کر رکھا ہے اور پاکستان اپنے اسلامی تشخص اور نظریاتی دستور کی موجودگی میں اقوام متحدہ کا سرگرم رکن ہے تو گویا عالمی سطح پر بھی پاکستان کے اس امتیازی تشخص کو قبول کر لیا گیا ہے۔ اور یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان اور دستور ساز اسمبلی کے انتخاب کے دونوں مواقع پر پاکستان کے اسلامی نظریاتی ریاست ہونے کا فیصلہ ملک کے عوام پر جبر کے ذریعہ مسلط نہیں کیا گیا بلکہ آزادانہ عوامی رائے اور مکمل جمہوری عمل کی صورت میں عوام کے منتخب نمائندوں نے یہ فیصلے کیے ہیں تو ان زمینی حقائق کی موجودگی میں دنیا میں کسی بھی سطح پر کسی کا یہ حق نہیں رہ جاتا کہ وہ پاکستان کے اس اسلامی نظریاتی تشخص سے انکار کرے اور ملک کے اندر اس اسلامی نظریاتی تشخص کے لیے کیے جانے والے ریاستی اور حکومتی اقدامات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

اس اصولی گزارش کے بعد ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ پاکستان میں اپنے دستوری مذہب اسلام کی حفاظت و ترویج اسی طرح ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہے جس طرح امریکہ میں امریکی دستور کی حفاظت و تنفیذ وہاں کی حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے، جس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ملک میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کو یہ حق تو ہے کہ وہ اپنا نظری اختلاف قائم رکھتے ہوئے ملک میں رہیں اور دستور میں اتفاق رائے اور سماجی معاہدہ کی رو سے طے پانے والے اپنے حقوق سے مکمل استفادہ کریں، لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر پاکستان کے اسلامی تشخص اور دستور کی اسلامی بنیادوں کو چیلنج کرنے کا حق انہیں کسی طرح بھی حاصل نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں قادیانیوں کا موقف اور طرز عمل سب سے زیادہ تعجب انگیز بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ وہ عالم اسلام کے اجماعی فیصلے کو ماننے سے انکاری ہیں، پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے دستوری فیصلے سے منحرف ہیں، ملک کی سپریم کورٹ کے متفقہ فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہے اور پاکستان کے شہریوں کے جمہوری فیصلے سے انحراف کر رہے ہیں، اور اس سب کچھ کے ساتھ ان کا اصرار ہے کہ پوری امت مسلمہ اور ساری کی ساری پاکستانی قوم ان کے سامنے سرنڈر ہو اور تمام جمہوری، عدالتی اور دینی فیصلوں سے دست بردار ہو کر ان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں مسلمان کے طور پر اپنے وجود کا حصہ تسلیم کرے، آج قادیانی گروہ دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے کہ پاکستان میں ان کے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی پامال کی جا رہی ہے اور وہ مظلوم ہیں جبکہ بین الاقوامی ادارے اور مغربی ممالک حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے جار ہے ہیں۔

اس سلسلہ میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ مسئلہ قادیانیوں کے مذہبی یا شہری حقوق کا نہیں بلکہ ان کے معاشرتی سٹیٹس اور حقوق کے ٹائٹل کا ہے، وہ اگر اپنے بارے میں دستوری، عدالتی اور شرعی فیصلوں کو قبول کر کے مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں تو ملک کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ان کے تمام حقوق محفوظ ہیں اور ان کے کسی مسلمہ حق سے انکار نہیں ہے، لیکن اگر وہ جمہوری اور دینی فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے دستور و قانون کو چیلنج کرتے ہیں اور مسلم اکثریت کا زبردستی حصہ بننا چاہتے ہیں تو اس کا سرے سے کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

دفعہ ۱۹ میں آزادیٔ رائے کی بات کی گئی ہے اور اس کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ مذہب اور مذہبی شخصیات سے اختلاف اور ان پر تنقید بھی آزادیٔ رائے کا حصہ ہے اور اس کو جرم قرار دے کر اس پر موت کی سزا مقرر کرنا آزادیٔ رائے اور آزادیٔ ضمیر کے انسانی حق کے منافی ہے۔ یہ بات مغالطہ کے سوا کچھ نہیں، اس لیے کہ اختلاف رائے اور چیز ہے اور توہین اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ مسلمانوں نے علمی اختلاف کا جواب ہمیشہ علمی انداز سے دیا ہے، صدیوں سے مستشرقین اسلام پر، قرآن کریم پر اور جناب نبی اکرمؐ کی شخصیت اور کردار پر اعتراضات کر رہے ہیں اور مسلمان دانش ور ان کے جوابات دے رہے ہیں، لیکن جناب نبی اکرمؐ یا کسی بھی سچے رسول اور نبی کی توہین کو انہوں نے کبھی برداشت نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ کبھی یہ بات برداشت ہو سکتی ہے۔ میں اس کی دو واقعاتی مثالیں دینا چاہوں گا۔ مغرب کے ایک دانش ور سرولیم میور نے جناب نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ پر کتاب لکھی اور اس میں بعض اعتراضات کیے، ان میں اعتراضات کا مسلمانوں کی طرف سے کتاب کی صورت میں جواب دیا گیا، لیکن سلمان رشدی نے ’’شیطانی آیات‘‘ کے نام سے خرافات کا مجموعہ مرتب کیا جس کی بنیاد علمی یا تاریخی اشکالات پر نہیں بلکہ توہین و استخفاف اور طنز و استہزاء پر تھی، اس لیے اسے برداشت نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اب سے ڈیڑھ سو سال قبل لاہور میں ایک ہندو دانش ور پنڈٹ دیانند سرسوتی نے ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ کے نام سے کتاب لکھی اور اس کے ایک باب میں قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کے بارے میں سو سے زیادہ اعتراضات کیے، مسلمان علماء نے اس کتاب کا جواب لکھا اور پنڈٹ سرسوتی سے براہ راست مباحثہ کر کے اسے لا جواب کیا۔ لیکن لاہور میں ہی ایک اور ہندو مصنف راج پال نے ’’رنگیلا رسول‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جس کا نام ہی توہین آمیز تھا، اسے برداشت نہیں کیا گیا اور غازی علم الدین شہیدؒ نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اختلاف اور توہین میں فرق ہے اور توہین رسالتؐ کو جرم قرار دینے پر اعتراض در حقیقت توہین کو حقوق میں شامل کرنے کی بات ہے جو قطعی طور پر غیر معقول اور ناقابل قبول ہے۔ میں عام طور پر یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ دنیا کے ہر ملک میں ’’ہتک عزت‘‘ پر قانونی چارہ جوئی کا حق شہریوں کو حاصل ہے اور ’’ازالۂ حیثیت عرفی‘‘ سے شہریوں کو قانونی تحفظ دیا جاتا ہے، اگر کسی ملک کے ایک عام شہری کی ہتک عزت اور ازالۂ حیثیت عرفی جرم ہے تو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی ہتک عزت اور آزالۂ حیثیت عرفی اس سے کئی گنا زیادہ سنگین جرم ہے، اس لیے کہ اس کے ساتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے کروڑوں عقیدت مندوں کے دلی جذبات کی توہین بھی شامل ہو جاتی ہے۔

’’آزادیٔ رائے‘‘ کے حوالہ سے ایک اور بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ کم و بیش ہر ملک میں اس کی نظریاتی اساس، اس کے دستور اور قومی شخصیات کی توہین کا کسی کو حق نہیں دیا جاتا، حتیٰ کہ قومی شعائر مثلاً پرچم وغیرہ کی حرمت کے قانونی تحفظ کا اہتمام کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ فوج کی وردی، پولیس کی وردی اور ان کے سٹارز وغیرہ کو بھی قومی شعبوں کی علامات قرار دے کر ان کی توہین کو جرم سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اسلام بھی چونکہ ایک اسلامی ریاست کی دستوری اساس ہے، اس لیے اسلام کے شعائر اور دینی علامات کی توہین بھی جرم ہے، اور انسانی حقوق کے نام سے ان شعائر اور علامات کی بے حرمتی کا جواز فراہم کرنا انصاف اور عقل کے خلاف بات ہے۔

ہمارا مغرب سے مطالبہ ہے کہ اختلاف اور توہین کے فرق کو تسلیم کیا جائے اور جس طرح کسی بھی ملک کی قومی شخصیات اور قومی علامات کی حرمت و عزت کو قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اسی طرح حضرات انبیاء کرام علیہم السلام، مسلمہ مذاہب اور ان کی علامات و شعائر کے قانونی تحفظ کا حق تسلیم کیا جائے۔

دفعہ نمبر ۲۰ ۔ معاشرہ کی سیاسی گروہ بندی

دفعہ نمبر ۲۰ کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اس لیے کہ معاشرے کی سیاسی گروہ بندی جناب نبی اکرمؐ کے دور میں بھی موجود تھی جو پہلے قبائل کی صورت میں تھی جیسا کہ قریش میں سیاسی معاملات کی انجام دہی مختلف شعبوں میں مختلف خاندانوں کے سپرد تھی جبکہ جناب نبی کریمؐ کے وصال کے وقت مہاجرین، انصار اور خاندان نبوت کے الگ الگ سیاسی موقف کی شکل میں اس کا اظہار ہوا، انصار مدینہ نے اپنے طور پر خلیفہ کا انتخاب کرنا چاہا، مہاجرین نے ان سے اختلاف کیا اور حضرت علیؓ نے خاندان نبوت کی طرف سے مہاجرین اور انصار کے فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس کی تفصیلات میں جائے بغیر اصولی طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اجتماعی و سیاسی مسائل پر الگ الگ گروہوں کی صورت میں موقف اختیار کرنے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے کی عملی شکل اس دور کے اسلامی معاشرہ میں موجود تھی، اسی کی ترقی یافتہ صورت کو اگر جماعت سازی کی بنیاد سمجھ لیا جائے تو ہمیں اس میں کوئی اشکال نظر نہیں آتا۔ البتہ اس انجمن سازی کا بنیادی اصول وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (سورۃ المائدہ ۲) کے قرآنی ارشاد کو قرار دے کر جماعت سازی کی حدود و شرائط کا تعین ضروری ہوگا۔

دفعہ نمبر ۲۱ ۔ اسلام میں حقِ حکمرانی کی بنیاد

دفعہ نمبر ۲۱ سیاسی نظام کے بارے میں ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے عالمی سطح پر اس ذمہ داری کو قبول کیا ہے کہ ان کا سیاسی نظام اور حکومتی نظم شہریوں کی اجتماعی رائے کے تابع ہوگا اور عوام کی رائے سے ہٹ کر قائم ہونے والی کوئی حکومت اس منشور کی رو سے جائز حکومت متصور نہیں ہوگی۔ اسے جمہوریت کہا جاتا ہے اور عوام کی حاکمیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس حوالہ سے اسلامی تعلیمات، قرآن و سنت کے ارشادات اور خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کی روشنی میں کچھ گزارشات پیش کرنا ضروری ہے:

  • اسلام میں عوام کی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی پابندی ایک اسلامی حکومت کی بنیاد ہے اور حکمران فرد یا گروہ عوام کے فیصلوں کو نافذ کرنے کی بجائے قرآن و سنت کے احکام کو نافذ کرنے کا پابند ہے، اس لیے اسلام کے سیاسی نظام میں نظام حکومت کو حکومت کی بجائے خلافت سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ حکمران از خود حکومت نہیں کرتا بلکہ قرآن و سنت کے احکام کے نفاذ میں جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتا ہے۔ چنانچہ فقہاء امت نے خلافت کی جو تعریف بیان کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ خلیفہ وہ ہے جو جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اجتماعی معاملات سر انجام دے۔
  • اسلام میں عوام یا ان کے نمائندوں کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قرآن و سنت کے صریح اور قطعی احکام میں کوئی رد و بدل کریں، ان کی پابندی ہر حال میں حکمران، عوام اور ان کے نمائندوں پر ضروری ہے، مگر وہ احکام و مسائل جو قرآن و سنت میں موجود نہیں ہیں، یا واضح نہیں ہیں، یا ان کی تعبیر و تشریح میں امت کے اہل علم کی آراء مختلف چلی آرہی ہیں، ان میں اجتہاد کے شرعی اصولوں کے دائرے میں حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ البتہ ان میں یہ فرق ضروری ہے کہ جن امور و مسائل کا تعلق عوامی اور انتظامی معاملات سے ہے ان کا فیصلہ کرنا حکومت یا عوام کے نمائندوں کا حق ہے اور جن مسائل کا تعلق شرعی امور اور دینی تعبیر و تشریح سے ہے ان میں مسلمہ اہل علم فیصلے کی اتھارٹی ہوں گے اور انہی کے فیصلے معتبر ہوں گے۔
  • اسلام میں حکومت کی تشکیل اور خلیفہ کا انتخاب عوام کی رائے پر ہوگا جیسا کہ جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد ان کے جانشین کا انتخاب عوامی بحث و مباحثہ کے بعد عوامی رائے اور انتخاب کے ذریعہ ہوا، اپنا جانشین جناب نبی اکرمؐ نے خود نامزد نہیں فرمایا البتہ اشارات ضرور کیے تھے لیکن فیصلہ مسلمانوں کی رائے پر چھوڑ دیا تھا۔ بخاری شریف اور مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے ایک موقع پر اپنا جانشین نامزد کرنے اور اس کے لیے تحریر لکھوانے کا ارادہ کیا لیکن پھر یہ فرما کر یہ ارادہ ترک کر دیا کہ یأبی اللّٰە والمؤمنون الا ابابکر اللہ تعالیٰ ابوبکر کے سوا کسی کو خلیفہ نہیں بننے دیں گے اور مسلمان بھی کسی اور کو قبول نہیں کریں گے، یہ ارشاد گرامی جہاں حضرت ابوبکرؓ کے خلیفۂ رسولؐ ہونے کی اہلیت کی طرف اشارہ کرتا ہے وہاں مسلمانوں کی اجتماعی رائے کی اصابت پر اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ چنانچہ عملاً یہی ہوا کہ نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد اس مسئلہ پر اختلاف تو ہوا لیکن بالآخر امت حضرت ابوبکرؓ پر متفق ہوگئی۔

فقہاء اسلام نے خلافت کے انعقاد یعنی ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کی جو صورتیں بیان فرمائی ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے، کم و بیش سبھی فقہاء نے اس کی پانچ صورتیں بیان فرمائی ہیں:

  1. عامۃ المسلمین یا ان کے اہل حل و عقد خلیفہ کا انتخاب کریں جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ کا چناؤ کیا گیا تھا، اسے آج کے دور میں براہ راست انتخاب یا بالواسطہ انتخاب کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
  2. خلیفۃ المسلمین اپنا جانشین خود نامزد کردے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو نامزد کر دیا تھا۔
  3. خلیفۂ وقت کسی ایک فرد کو جانشین بنانے کی بجائے خلافت کے اہل لوگوں کا ایک پینل نامزد کر دے اور ان میں سے کسی کو منتخب کیا جائے جیسا کہ حضرت عمرؓ نے چھ بزرگوں کا پینل نامزد کر دیا تھا اور ان میں سے حضرت عثمانؓ کا انتخاب کیا گیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ فرماتے ہیں جو اس پینل میں شامل تھے اور جنہیں اس پینل نے خلیفہ کے چناؤ کا اختیار دے دیا تھا، ان کا ارشاد ہے کہ وہ مسلسل تین دن تک اس سلسلہ میں لوگوں سے مشاورت کرتے رہے، انہوں نے مدینہ منورہ کا کوئی طبقہ اور حلقہ نہیں چھوڑا جس سے مشاورت نہ کی ہو، حتیٰ کہ انہوں نے مسلسل تین دن اور تین رات تک آنکھ میں نیند کا سرمہ تک نہیں لگایا اور جب یہ اطمینان حاصل کر لیا کہ لوگوں کی عمومی رائے حضرت عثمانؓ کے حق میں ہے تو انہیں خلیفہ نامزد کرنے کا اعلان کر دیا۔
  4. خلیفہ کے انتقال کے وقت جو ارباب شوریٰ یا اہل حل و عقد موجود ہوں وہ نئے خلیفہ کا انتخاب کر لیں جیسا کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد مدینہ منورہ میں موجود اصحاب شوریٰ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خلیفہ منتخب کر لیا تھا۔
  5. خلافت کی اہلیت رکھنے والے کوئی صاحب طاقت کے بل پر اقتدار پر قبضہ کر لیں اور امت انہیں قبول کر لے جیسا کہ حضرت معاویہؓ کی خلافت کو حضرت حسنؓ کی بیعت کے بعد امت نے قبول کر لیا تھا اور وہ اس کے بعد کم و بیش بیس برس تک امت کے متفقہ امیر المؤمنین رہے۔

خلافت کے انعقاد یعنی کسی اسلامی حکومت کی تشکیل اور اس کے جواز کی یہ پانچ صورتیں فقہاء اسلام نے بیان فرمائی ہیں، ان میں سے دوسری، تیسری اور چوتھی صورت تو آج کے دور میں قابل عمل نہیں ہیں، اس لیے کہ اس وقت دنیا میں کوئی شرعی خلیفہ موجود نہیں ہے جو کسی کو اپنا جانشین نامزد کر سکے یا اس کے لیے کوئی پینل مقرر کر سکے اور نہ ہی خلافت کی کوئی باضابطہ شوریٰ موجود ہے جس کے ارکان خلیفہ کا انتخاب کر سکیں، اس لیے آج کے عالمی حالات میں خلافت کے انعقاد یا ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے دو ہی راستے ممکن اور قابل عمل ہیں۔ ایک یہ کہ کسی ملک کے عوام براہ راست یا اپنے معتمد نمائندوں (ارباب حل و عقد) کے ذریعہ خلیفہ کا انتخاب کریں اور دوسرا یہ کہ خلافت کی اہلیت رکھنے والا کوئی شخص طاقت کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کر لے اور ملک کے عوام اسے بطور حکمران قبول کر لیں یعنی عملاً اس کی رٹ قائم ہو جائے۔

خلافت یا اسلامی حکومت کے حوالہ سے اہل سنت اور اہل تشیع کے اختلاف کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے ۔ اہل سنت کے ہاں یہ نظام ’’خلافت‘‘ کہلاتا ہے جبکہ اہل تشیع اسے ’’امامت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور خلافت و امامت میں چند اصولی اور بنیادی فرق پائے جاتے ہیں:

  • امام نامزد ہوتا ہے اور خلیفہ امت کی صوابدید پر منتخب ہوتا ہے جیسا کہ اہل تشیع کے نزدیک جناب نبی اکرمؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنا جانشین نامزد کر دیا تھا، جبکہ اہل سنت کے نزدیک صحابہ کرامؓ کے تمام طبقات نے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے حضرت ابوبکرؓ کا انتخاب کیا تھا۔
  • امام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اسی لیے وہ معصوم ہوتا ہے، مگر خلیفہ احکام اسلامی کے نفاذ اور حق حکمرانی استعمال کرنے میں اللہ تعالیٰ کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتا ہے۔ قاضی ابو یعلیؒ نے ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی صاحب نے حضرت ابوبکرؓ کو یا خلیفۃ اللە کہہ کر خطاب کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے اسے ٹوک دیا اور فرمایا کہ لست بخلیفة اللّٰە انا خلیفة رسول اللّٰہ میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ نہیں ہوں بلکہ رسول اللہؐ کا خلیفہ ہوں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ امام اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے خود دلیل کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی دلیل کا محتاج نہیں ہے ،مگر خلیفہ جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتے ہوئے اپنے فیصلے اور حکم میں قرآن و سنت کی دلیل کا پابند ہے جیسا کہ صدیق اکبرؓ نے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطبہ میں یہ واضح کر دیا تھا کہ میں اگر قرآن و سنت کے مطابق چلوں تو میری اطاعت تم پر ضروری ہے اور اگر اس کے خلاف چلنے لگوں تو تم پر میری اطاعت ضروری نہیں ہے۔
  • امام نسبی اور خاندانی ہے جیسا کہ اہل تشیع کے بارہ امام ایک ہی نسب اور خاندان سے ہیں مگر خلافت نسبی اور خاندانی نہیں ہے، اس لیے کہ چاروں خلفاء راشدین حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور ان کے بعد صحابہ کرامؓ کے دور میں بننے والے مسلمانوں کے متفقہ امیر المومنین حضرت معاویہؓ میں سے کوئی بزرگ بھی ایک دوسرے کا نسبی اور خاندانی وارث نہیں تھا، اگرچہ بعد میں مسلمانوں کی خلافت اکثر خاندانی دائروں میں ہی چلتی آرہی ہے لیکن حضرات صحابہ کرامؓ کے دور کا نظام خلافت جو آئیڈیل اور اسوہ کی حیثیت رکھتا ہے، خاندانی اور نسبی خلافت کے دائرہ سے ہٹ کر تھا۔
  • امام کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا مگر خلیفہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پہلے خطبہ میں فرما دیا تھا کہ اگر سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو لیکن اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے سیدھا کر دو، یہ خلیفہ کا عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہے اور عوام کا حقِ احتساب ہے جو خلافت راشدہ کے دور میں عملی طور پر موجود رہا ہے۔
  • امام معصوم عن الخطاء ہے اس کی کسی بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا مگر خلیفہ کی شرعی حیثیت مجتہد کی ہے جس کے بار ے میں اصول یہ ہے کہ المجتھد یخطئ و یصیب اس لیے حضرات خلفاء راشدینؓ کے بہت سے فیصلوں سے ان کے سامنے اختلاف کیا جاتا تھا اور وہ درست ہونے کی صورت میں اختلاف کو قبول بھی کرتے تھے۔

دورِ حاضر میں ایران کا دستور ’’امامت‘‘ کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے کہ امام غائب کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے ’’ولایت فقیہ‘‘ کو ان کے نمائندہ کی حیثیت دی گئی ہے اور ولایت فقیہ کے طور پر آیت اللہ خمینی اور ان کے بعد آیت اللہ خامنائی اس منصب پر فائز ہوئے ہیں، ان کے ساتھ ایک ’’شوریٰ نگہبان‘‘ ہے اور ولایت فقیہ اور شوریٰ نگہبان کو دستوری طور پر یہ حیثیت حاصل ہے کہ ان کے فیصلے حکومت، پارلیمنٹ، عدالت اور دیگر تمام شعبوں پر بالادستی رکھتے ہیں، وہ ان میں سے کسی کا فیصلہ بھی منسوخ کر سکتے ہیں، مگر ان کے فیصلے کو کسی جگہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا، حکومت اور پارلیمنٹ وقفہ وقفہ سے منتخب ہوتی ہیں مگر ’’ولایت فقیہ‘‘ کا منصب تا حیات ہے۔

جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے دستور ’’خلافت‘‘ کے تصور کے قریب ہیں، سعودی عرب میں حاکمیت اعلیٰ قرآن و سنت کی ہے، حق حکمرانی آل سعود کو حاصل ہے مگر وہ قرآن و سنت کے مطابق حکومت کرنے کے پابند ہیں، پاکستان کے دستور میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی گئی ہے، حق حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہے اور حکومت اور پارلیمنٹ دونوں دستوری طور پر قرآن و سنت کے پابند ہیں۔

دفعہ نمبر ۲۲ تا ۲۴

دفعہ نمبر ۲۲ تا دفعہ نمبر ۲۴ کے ضمن میں کوئی خاص بات کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

دفعہ نمبر ۲۵ ۔ معاشرہ کی طبقاتی تقسیم

البتہ دفعہ نمبر ۲۵ میں ’’معیارِ زندگی‘‘ اور ’’معاشی تحفظ‘‘ کے حوالہ سے بات کی گئی ہے، اس لیے اس حوالہ سے کچھ معروضات پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

  • ’’معیارِ زندگی‘‘ کے بارے میں یہ بات سامنے رہنا ضروری ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کے بعد جب سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو اصحابِ شوریٰ نے دو اصولی فیصلے کیے، ایک یہ کہ چونکہ خلیفہ کے اوقات امورِ حکومت میں صرف ہوں گے اور وہ اپنا کوئی کاروبار وغیرہ نہیں کر سکیں گے اس لیے ان کے اور ان کے گھر کے اخراجات بیت المال کے ذمہ ہوں گے۔ اور دوسرا فیصلہ یہ کہ ان کے اخراجات کا تعین اس بنیاد پر ہوگا کہ وہ مدینہ منورہ منورہ کے ایک عام شہری کے معیار کے مطابق اپنے گھر کے اخراجات چلا سکیں، عام شہری سے مراد متوسط درجے کا شہری ہے اور فیصلے کے الفاظ میں یہ جملہ بہت زیادہ توجہ کا مستحق ہے کہ لا وکس فیھا ولا شطط نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی مملکت میں حکمرانوں اور عام شہریوں کا معیار زندگی یکساں ہونا چاہیے اور اسی بنیاد پر ’’بیت المال‘‘ سے حضرت صدیق اکبرؓ کا وظیفہ مقرر کیا گیا۔
  • امیر المومنین حضرت عمرؓ نے سرکاری عمال پر پابندی لگا دی تھی کہ:
    (۱) وہ اپنے گھر کے سامنے ڈیوڑھی نہیں بنا سکیں گے۔
    (۲) ترکی گھوڑے پر سواری نہیں کریں گے۔
    (۳) باریک لباس نہیں پہنیں گے اور
    (۴) چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائیں گے۔
    یہ اس دور میں معاشرتی امتیاز کی علامات تھیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمران طبقات کو عام شہریوں کے ساتھ معاشی برابری کے ساتھ معاشرتی برابری کا بھی لحاظ رکھنا ہوگا۔
  • بیت المال سے عام لوگوں کے وظیفے مقرر کرنے میں حضرت ابوبکرؓ کی رائے تھی کہ وہ برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، دینی درجات یا فضیلت کو وجۂ ترجیح نہیں بننا چاہیے۔ جبکہ حضرت عمرؓ کی رائے تھی کہ فضیلت اور درجات کے لحاظ سے وظائف کی درجہ بندی ہونی چاہیے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنے دور میں وظائف کی تقسیم بالکل برابری کی بنیاد پر کی ہے مگر حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں یہ طریقہ تبدیل کر کے درجہ بندی کر دی اور امہات المومنین، مہاجرین، انصار اور دیگر حوالوں سے مختلف گریڈ طے کر کے ان کی بنیاد پر وظائف تقسیم کیے۔ مگر امام ابو یوسفؒ نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھا ہے کہ آخری سال حضرت عمرؓ نے اس درجہ بندی کے معاشرتی نقصانات دیکھتے ہوئے یہ فرمایا کہ مجھے یہ بات سمجھ آئی ہے کہ اس کے بارے میں حضرت ابوبکرؓ کی رائے درست تھی۔ اس لیے اگلے سال سے اس کے مطابق عمل کروں گا۔ مگر اگلے سال سے پہلے حضرت عمرؓ کی شہادت کا سانحہ پیش آگیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں معاشرتی طبقات اور درجہ بندی کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے اور معاشرتی یکسانیت قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

’’بیت المال‘‘ جناب نبی اکرمؐ کے دور میں ہی موجود تھا اور اس کے ذریعہ معاشرہ کے معذور اور ضرورت مند افراد کی مدد کی جاتی تھی، جناب نبی اکرمؐ بیت المال کی رقوم سے ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے تھے اور تاوان میں پھنس جانے والے حضرات کی مدد بھی کرتے تھے، حتیٰ کہ ایک روایت میں مقتول کی دیت بھی بیت المال سے ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے، بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ من ترک مالا فلو ورثتە و من ترک کلاً و عیالاً فإلیّ و علیّ جو شخص مال چھوڑ کر مرا وہ اس کے وارثوں کو ملے گا اور جو بوجھ اور بے سہارا اولاد چھوڑ کر مرا وہ میری طرف رجوع کرے گا اور اس کی ذمہ داری مجھ پر ہوگی۔ میری طالب علمانہ رائے میں ’’بیت المال‘‘ کے ذریعہ سوسائٹی کے معذور، نادار، بے روزگار، ضرورت مند اور بوجھ تلے دبے لوگوں کی مدد کرنے اور ان کی کفالت کرنے کی بنیاد رسول اللہؐ کے اسی ارشاد گرامی فإلیّ و علیّ پر ہے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے بیت المال کے نظام کو اس قدر منظم کیا کہ خلافت راشدہ کا دور آج بھی ویلفیئر سٹیٹ اور رفاہی ریاست کے لیے آئیڈیل تصور کیا جاتا ہے اور بہت سے مغربی ممالک اس کے بعض حصوں کی پیروی کر رہے ہیں، حتیٰ کہ ناروے میں اس سلسلہ کے بعض قوانین اور وظیفے حضرت عمرؓ کے نام کے ساتھ رائج کیے گئے ہیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست ہے جو مملکت کے تمام باشندوں کی ضروریات زندگی فراہم کرنے اور ان کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس سلسلہ میں حضرت عمر بن الخطابؓ کا یہ تاریخی جملہ ایک راہ نما اصول کا درجہ رکھتا ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے پر کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے تو عمرؓ سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

ایک اسلامی رفاہی ریاست میں ’’بیت المال‘‘ کا کردار کیا ہے، اس کے حوالہ سے امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور کا ایک واقعہ امام ابو عبید قاسم بن سلامؒ نے ’’کتاب الاموال‘‘ میں بیان فرمایا ہے جو ایک اسلامی ریاست کے رفاہی پہلو کی وضاحت کرتا ہے۔ ان کے دور میں عراق کے گورنر عبد الحمیدؒ نے امیر المومنین کو خط لکھا کہ اس سال صوبہ میں بیت المال کو جو آمدنی ہوئی ہے اس سے سال بھر کے اخراجات پورے کرنے کے بعد کچھ رقم بچ گئی ہے اس کے بارے میں فرمائیں کہ کیا کیا جائے؟ امیر المومنین نے جواب دیا کہ صوبہ میں اعلان کر کے جو حضرات مقروض ہیں اور اپنے قرضے ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ان کے قرضے بیت المال سے ادا کر دو۔ گورنر کا جواب آیا کہ یہ کام کر چکا ہوں اس کے باوجود زائد رقم موجود ہے۔ امیر المومنین کا دوسرا خط آیا کہ سروے کر کے معلوم کرو کہ جو لڑکے اور لڑکیاں شادی کے قابل ہیں اور اخراجات میسر نہ ہونے کی وجہ سے شادیاں نہیں کر سکتے ان کی شادیاں بیت المال کی طرف سے کرادو۔ گورنر صاحب نے لکھا کہ یہ بھی کر چکا ہوں، رقم پھر بھی بچ گئی ہے، امیر المومنین نے لکھا کہ وہ شادی شدہ حضرات جو بیوی کا مہر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ان کے مہر بیت المال سے ادا کر دو۔ گورنر عبد الحمیدؒ نے لکھا کہ یہ بھی کر چکا ہوں، امیر المومنینؒ نے پھر لکھا کہ بے آباد زمینوں کا سروے کرا کے انہیں آباد کرنے کے لیے زمین داروں کو آسان قسطوں پر قرضے دے دو۔

یہ بات بظاہر عجیب سی لگتی ہے لیکن تاریخی حقیقت ہے اور ایک اسلامی ریاست میں ’’بیت المال‘‘ کے کردار کی وضاحت کرتی ہے، ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اسلام کے یہ سنہری اصول اور خلافت راشدہ اور خلافت اسلامیہ کی یہ زرّیں روایات رفاہی ریاست کے حوالہ سے غیر مسلم حکومتوں کی توجہ تو حاصل کر رہی ہیں لیکن مسلم ممالک بالخصوص اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے حکمرانوں کی اس طرف توجہ نہیں ہے۔

دفعہ نمبر ۲۵ کی دوسری شق میں زچہ اور بچہ کی امداد کے حوالہ سے بات کی گئی ہے اور یہ وضاحت کی گئی ہے کہ بچہ شادی کے نتیجے میں پیدا ہو یا بغیر شادی کے، دونوں صورتوں میں یکساں سلوک کا مستحق ہوگا۔ ہمیں بچے کے بارے میں تو کوئی کلام نہیں ہے کہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک درست طرز عمل نہیں ہے، لیکن زچہ کے بارے میں دونوں صورتوں میں برابر کے سلوک کی بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بغیر شادی کے بچوں کی صورت میں بھی زچہ کو قانونی طور پر برابر کے سلوک کا حقدار قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ اسلام ان دونوں صورتوں میں فرق کرتا ہے اور شادی کے بغیر بچے کو جنم دینے والی زچہ اور اس کے ساتھ ناجائز سلوک قائم کرنے والا مرد دونوں اسلام کی نظر میں مجرم ہیں اور ان کے لیے سزا مقرر ہے۔

جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں ایک عورت آئی کہ اس نے زنا کیا ہے اور زنا سے پیدا ہونے والا بچہ اس کی گود میں ہے، اس لیے اسے سزا دی جائے، نبی اکرمؐ نے اس سے فرمایا کہ بچے کا تو کوئی قصور نہیں ہے، جاؤ بچے کو دودھ پلاؤ ، جب اس کو تمہارے دودھ کی ضرورت نہیں رہے گی تو پھر آنا۔ روایت میں ہے کہ وہ ایک عرصہ کے بعد بچے کو لے کر آئی جس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور وہ اسے کھا رہا تھا، اس نے کہا کہ اب یہ بچہ روٹی کھا لیتا ہے اور اسے میرے دودھ کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے اب مجھ پر سزا نافذ کی جائے، چنانچہ نبی اکرمؐ نے اس عورت کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو تحفظ فراہم کیا ہے اور اس کے تحفظ کی حد تک اس کی ماں کو بھی سہولت دی ہے لیکن اس ماں کے جرم کو معاف نہیں کیا اور اسے سزا دی ہے، اس لیے زچہ بچہ دونوں کے لیے یکساں معاشرتی تحفظ کی بات اسلامی نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے۔

دفعہ نمبر ۲۶ تا ۲۹

دفعہ ۲۶ تا ۲۹ کے بارے میں بھی ہم کوئی بات کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

دفعہ نمبر ۳۰

البتہ دفعہ نمبر ۳۰ قابل توجہ ہے کہ اس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک و اقوام کو اس بات کا پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں اس منشور کی پابندی کریں گے اور اس منشور میں بیان کردہ آزادیوں اور حقوق کی کوئی ایسی تعبیر بھی نہیں کر سکیں گے جو اس منشور کے مرتب کرنے والوں کے مقصد اور منشا کے خلاف ہو۔

ہم نے انسانی حقوق کے اس منشور کی مختلف دفعات پر تبصرہ کرتے ہوئے صرف اس پہلو کو سامنے رکھا ہے کہ ان اہم باتوں کی نشاندہی ہو جائے جو ہماری طالب علمانہ رائے میں اسلامی تعلیمات کی رو سے محل نظر ہیں اور جنہیں من و عن قبول کرنا قرآن و سنت کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہوئے ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ باقی رہیں یہ تفصیلات کہ ان پر دلائل اور تاریخی پس منظر کی روشنی میں مدلل بحث کی جائے، یہ کام ہمارے علمی مراکز اور دینی اداروں کا ہے۔ اللہ کرے کہ ہمارے علمی و دینی مراکز اس کی طرف مناسب توجہ دے سکیں۔ آمین یا رب العالمین۔

(ابو عمار زاہد الراشدی ۔ نزیل مکۃ المکرمۃ۔ ۹ رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ)

درجہ بندی: