امریکہ میں قادیانیت اور یہودیت کا نفوذ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۱۹۸۷ء

مجھے نیویارک پہنچے آج ساتواں روز ہے۔ محترم مولانا میاں محمد اجمل قادری بھی تین روز قبل یہاں پہنچ چکے ہیں۔ میاں صاحب حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر کے کنیڈا چلے گئے تھے اور ایک ہفتہ تک وہاں مختلف شہروں میں مسلمان راہنماؤں اور شہریوں سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ انہوں نے متعدد اجتماعات سے خطاب کیا اور اس کے بعد امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن اور ایک اور شہر مشی گن سے ہوتے ہوئے نیویارک پہنچے ہیں اور اب ہم دونوں مل کر اس وسیع و عریض شہر کے مختلف حصوں میں دوستوں سے ملاقاتیں اور اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔

مولانا میاں محمد اجمل قادری لاہور کی قدیمی دینی تنظیم انجمن خدام الدین شیرانوالہ گیٹ کو ’’عالمی انجمن خدام الدین‘‘ یا ’’ورلڈ خدام الدین آرگنائزیشن‘‘ کی حیثیت دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس سلسلہ میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کینیڈا اور امریکہ کے ہم خیال حضرات سے گفت و شنید کے بعد اب برطانیہ جا رہے ہیں اور اس کے بعد کویت سے ہوئے پاکستان واپس پہنچیں گے۔ ’’عالمی انجمن خدام الدین‘‘ کے قیام کے مقاصد میں وہ دو باتوں کا بطورِ خاص ذکر کر رہے ہیں۔

  1. ایک یہ کہ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے کم و بیش پون صدی قبل لاہور میں قرآن کریم کے درس اور دینی و اصلاحی مشن کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اسے عالمی سطح پر پھیلایا جائے۔
  2. اور دوسری یہ کہ بیرون ممالک میں جو مسلمان بالخصوص پاکستانی حضرات مقیم ہیں ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے وہ اپنے دین کی تعلیمات سے بہرہ ور ہو سکیں اور اسلامی عقائد و عبادات اور اخلاق و معاشرت کے ساتھ ان کی وابستگی قائم رہے۔

جبکہ میری حاضری کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ میں قادیانیوں اور دوسری ایسی لابیوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے جو اسلام اور پاکستان کے بارے میں امریکی حکام اور نیویارک میں موجود دنیا بھر کے نمائندوں کو غلط فہمیوں کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں محب وطن اور باشعور پاکستانی مسلمانوں کی ایک ایسی لابی منظم کی جائے جو اسلام دشمن اور پاکستان مخالف لابیوں کے یکطرفہ پراپیگنڈا کا توڑ کر کے نیویارک کے عالمی پلیٹ فارم کو پاکستانی مسلمانوں بالخصوص دینی حلقوں کے موقف اور جذبات سے آگاہ کر سکے۔

گزشتہ اپریل میں امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کی امداد کے لیے شرائط کی جو قرارداد منظور کی ہے اس میں ایٹم بم کے مسئلہ کے علاوہ قادیانیوں کی اعلانیہ حمایت اور اسلامی قوانین کی بالواسطہ مخالفت کے امور بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ارشد پرویز کیس کے حوالہ سے پاکستان کی ایٹمی پالیسی کو پریشرائز کرنے کی جو مہم چل رہی ہے اس سلسلے میں یہاں مقیم پاکستانی مسلمانوں میں جذبات و احساسات کی حد تک بیداری پائی جاتی ہے لیکن ایک تو یہ کہ ان امور کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے واقفیت کا فقدان ہے اور دوسرا یہ کہ ان احساسات و جذبات کو مربوط کرنے کے لیے راہنمائی کا کوئی نظم موجود نہیں ہے ورنہ یہ احساسات و جذبات ایک مضبوط لابی کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالب علم راہنما جناب عبد الشکور ’’حلقہ اسلامی‘‘ کے نام سے جماعتِ اسلامی کے ہم خیال احباب کو مربوط رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے نیویارک میں ایک مرکز قائم کیا ہوا ہے اور خود ان کا گھر بھی اچھا خاصا مرکز ہے۔ ان کا کام اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں مثبت اور موثر ہے لیکن اصل ضرورت کسی مخصوص فکری دائرہ سے ہٹ کر پاکستانی نقطۂ نظر سے ایک مضبوط لابی کی تشکیل ہے اور یہ ضرورت اب بڑھتی جا رہی ہے اس لیے کہ امریکہ بالخصوص نیویارک میں پاکستانیوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے اور حکومت امریکہ نے غیر قانونی طور پر یہاں مقیم غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے اپنی پالیسی میں جو لچک پیدا کی ہے اس کے نتیجہ میں پاکستانیوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔ بہرحال مولانا میاں محمد اجمل قادری اور راقم الحروف اس پس منظر میں یہاں کے پاکستانی احباب سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

امریکہ میں یہودی لابی سب سے زیادہ موثر اور طاقتور ہے اور پاکستان کے خلاف اس لابی کے جذبات او رخیالات میں بہت زیادہ جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی حکومت کی بار بار مداخلت اور دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کا سب سے بڑا محرک یہی لابی ہے۔ اس لابی کے ذہن میں یہ خوف سوار ہے کہ اگر پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا تو اس کا نشانہ اسرائیل بن سکتا ہے اس لیے اسرائیل کی بقا کی خاطر یہ ضروری ہے کہ پاکستان کو کسی بھی حالت میں ایٹمی توانائی سے بہرہ ور نہ ہونے دیا جائے۔ اس خوف کا کوئی واقعاتی جواز موجود ہو یا نہ ہو، اس سے قطع نظر امریکہ کی موثر ترین یہودی لابی اسے اپنے ذہن پر مسلط کیے ہوئے ہے اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی حکومت پر پوری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔

قادیانیوں کی سرگرمیاں بھی یہاں بہت زیادہ منظم اور مربوط ہیں، ان کا پراپیگنڈا بے حد وسیع ہے اور اس کے علاوہ وہ پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ ہمدردی، معاونت اور تحریص کے مخصوص حربوں کو پوری کامیابی اور مہارت کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ لاہور کے ایک نوجوان نے رات ہی ہماری مجلس میں بتایا کہ وہ کم و بیش سوا سال سے یہاں مقیم ہے اور قادیانی دوستوں کا حلقہ پورے تسلسل کے ساتھ اسے قادیانی بننے کی ترغیب دے رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر بیمار ہوگیا اور اسے پیشاب کی بندش کی وجہ سے ہسپتال جانا پڑا تو ہسپتال میں قیام کے دوران اخراجات علاج و خوراک اور تیمارداری کے تمام فرائض اس کے کسی تقاضے کے بغیر قادیانی حضرات نے پورے کیے۔ لیکن اس نوجوان کا بیعت کا تعلق حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے ہے اس لیے قادیانیت کے خلاف اس کے خیالات میں کوئی لچک پیدا نہیں ہو سکی۔ البتہ ایک اور نوجوان کے بارے میں اس نے بتایا کہ وہ ایسے ہی مراحل سے گزر کر قادیانی ہوگیا ہے۔ اس نوجوان کا کہنا ہے کہ یہاں مختلف طریقوں بالخصوص غیر قانونی ذرائع سے آنے والے نوجوان بے سہارا ہوتے ہیں اور قدم قدم پر مدد کے محتاج ہوتے ہیں۔ اس لیے جب قادیانیوں کی طرف سے انہیں تعاون اور پشت پناہی ملتی ہے تو بہت سے لوگ ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ ماہ قادیانیوں کی سالانہ کانفرنس بالٹی مور یونیورسٹی میں منعقد ہوئی جس کے تمام انتظامات یونیورسٹی کے لان اور ہوسٹل میں کیے گئے اور اب ماہ ستمبر میں مرزا طاہر احمد دوبارہ امریکہ آرہے ہیں اور یہاں کی قادیانی جماعت مختلف حیلوں بہانوں سے مسلمانوں کو ان کی ملاقات کے لیے آمادہ کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ بہرحال قادیانیوں کی سرگرمیاں بہت زیادہ مؤثر ہیں اور یہ ان کی منظم مہم کا نتیجہ ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد میں قادیانیوں کا باقاعدہ ذکر کر کے ان کے بارے میں حکومت پاکستان کے اقدامات کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں مشہور قادیانی سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام کے اس خط کا ذکر بھی یہاں مختلف محفلوں میں سننے میں آیا جو انہوں نے امریکی سینٹ کے ارکان کو لکھا اور جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت تک پاکستان کی امداد کی منظوری نہ دیں جب تک حکومت پاکستان قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کی ضمانت نہیں دیتی۔ باخبر حلقوں میں سینٹ کی مذکورہ قرارداد کی بنیاد اسی خط کو سمجھا جا رہا ہے۔

تیسرے نمبر پر یہاں سیکولر لابی بھی متحرک ہے جو اسلامی قوانین کے بارے میں امریکی حلقوں میں یہ ذہن پیدا کر کے انہیں ان کی مخالفت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اسلامی قوانین انسانی حقوق کے منافی ہیں۔یہ سیکولر لابی پاکستان کے اندر اور باہر خود اپنا تعارف تو امریکی سامراج کے شدید ترین مخالف کے عنوان سے کراتی ہے لیکن اسلامی قوانین کی مخالفت کا براہ راست حوصلہ نہ پا کر نفاذِ اسلام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے امریکی سامراج ہی کا سہارا لینے پر مجبور ہے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی نظام اور قوانین کو ان کے اصل رنگ میں خلافت راشدہ کے حوالہ سے پیش کر کے ان کی افادیت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور اس کے خلاف مختلف لابیوں کے پراپیگنڈا کا جواب دیا جائے۔

آج جمعہ کا دن ہے، یہاں کے دوستوں کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مجھے بروک لین کی مکی مسجد میں جمعۃ المبارک سے خطاب کرنا ہے جبکہ مولانا میاں محمد اجمل قادری حلقہ اسلامی کے مرکز میں جمعہ پڑھائیں گے۔ میاں صاحب جمعہ پڑھا کر آج ہی لندن روانہ ہو جائیں گے جبکہ مجھے آنے والے بدھ کو لندن جانا ہے۔ کل ہفتہ کے دن عشاء کے بعد مکی مسجد میں ایک مشاورتی اجلاس جس میں آئندہ لائحہ عمل کی ترتیب زیر غور آئے گی، ان شاء اللہ العزیز۔