سزائے موت کی معافی ۔آئینی اور اسلامی نقطۂ نظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ جولائی ۲۰۰۸ء

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سزائے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان ملک بھر کے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا یہ پہلو بطور خاص اجاگر کیا جا رہا ہے کہ شاید وزیراعظم کی طرف سے اس سلسلہ میں صدر کو بھیجی جانے والی سمری میں سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جس سے پاکستان کے قانونی نظام میں سزائے موت کو کلیۃً ختم کیا جانا مقصود ہے۔ جبکہ اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ سزائے موت تو ختم نہیں کی جا رہی البتہ اس وقت ملک کی مختلف جیلوں میں جو قیدی سزائے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد پھانسی کے منتظر ہیں ان کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ہمارے خیال میں پہلی صورت تو غالباً نہیں ہو سکتی اس لیے کہ ملک کے قانونی نظام سے سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے صدر کو سمری بھیجے جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لیے قومی اسمبلی میں باقاعدہ بل لانا پڑے گا جس میں تعزیرات پاکستان کی ان دفعات میں ترامیم تجویز کی جائیں گی جن میں مختلف جرائم میں موت کی سزا مقرر کی گئی ہے، اس کے بغیر سزائے موت کو ملک کے قانونی نظام سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ مگر چونکہ صدر مملکت کو ملکی قانون کے تحت کسی بھی مجرم کی موت کی سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے اس لیے یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے ان تمام قیدیوں کی سزائے موت معاف کرنے کے لیے کہا جائے جو اس وقت ملک بھر کی جیلوں میں عدالتی فیصلوں کے بعد سزائے موت کے انتظار میں ہیں اور ہمارے خیال میں وزیراعظم کے مذکورہ اعلان کی یہی صورت قابل عمل نظر آتی ہے۔

جہاں تک ملک کے قانونی نظام میں سزائے موت کو ختم کرنے کا تعلق ہے اس کے لیے بین الاقوامی طور پر بھی کہا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے باقاعدہ قرارداد منظور کی جس میں تمام ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قانونی نظاموں سے سزائے موت ختم کر دیں اور کسی شخص کو کسی ملک میں کسی بھی جرم کے تحت موت کی سزا نہ دی جائے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی سطح پر لابنگ کی جا رہی ہے اور پاکستان کے اندر بھی سینکڑوں این جی اوز اس کے لیے متحرک دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن ہمارے موجودہ دستوری ڈھانچے میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے کہ

  1. دستورِ پاکستان میں اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے۔
  2. قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے مکمل نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے۔
  3. قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نافذ نہ کرنے کا واضح طور پر وعدہ کیا گیا ہے۔

دستور پاکستان کی ان دفعات کی موجودگی میں ملک کے کسی بھی ایوان میں پیش کیا جانے والا ایسا بل دستور سے متصادم ہوگا جس میں سزائے موت ختم کرنے کی بات کی گئی ہو کیونکہ قرآن و سنت میں بہت سے جرائم کے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور اسے ایک اسلامی ریاست کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے، مثلاً

  • سورۃ البقرہ کی آیت ۱۷۸ اور ۱۷۹ کی رو سے ’’جان کے بدلے جان‘‘ کا قانون بیان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قانون معاشرے میں جان کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ جبکہ انہی آیات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاتل کی سزائے موت کو معاف کرنے کا اختیار مقتول کے وارثوں کا ہے کیونکہ یہ اس حوالے سے حقوق العباد میں شمار ہوتا ہے۔ اور حقوق العباد کے حوالے سے اسلام کا قانون و ضابطہ یہ ہے کہ انہیں صاحبِ حق کے علاوہ کوئی دوسرا شخص معاف نہیں کر سکتا۔
  • اسی طرح سورہ المائدہ کی آیت ۴۵ میں کہا گیا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل پر قصاص کا قانون فرض کیا تھا، اور اس جگہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قاتل کی سزائے موت کو معاف کرنے کا اختیار مقتول کے وارثوں کو ہی حاصل ہے۔ جبکہ اسی آیت کے آخر میں یہ ارشاد ربانی بھی موجود ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان کا شمار کافروں میں ہوتا ہے۔
  • سورہ البقرہ آیت ۵۴ میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے جب بت پرستی اختیار کر کے ارتداد کا ارتکاب کیا تو ایسا کرنے والوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے موت کی سزا دی۔ چنانچہ اس آیت قرآنی کی رو سے ہمارا قانون بھی یہی بنتا ہے اس لیے کہ قرآن کریم میں اگر توراۃ کا کوئی حکم بیان کر کے اس پر خاموشی اختیار کی گئی ہے اور اس کے ختم کیے جانے کے بارے میں کوئی صراحت موجود نہیں ہے تو وہ آسمانی شریعتوں کے احکام و قوانین کے تسلسل کی رو سے اسلام کا قانون بھی بن جاتا ہے۔
  • جبکہ اس کی تائید میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد بخاری شریف کی ایک روایت میں موجود ہے جس میں آپؐ نے فرمایا ہے کہ ’’جو شخص مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو‘‘۔
  • سورہ المائدہ کی آیت ۳۳ میں ایسی ڈکیتی کی سزا بھی موت بیان کی گئی ہے جس کے ساتھ قتل بھی شامل ہو۔
  • اس کے علاوہ جناب رسول اللہؐ نے زنا کے شادی شدہ مجرموں کو موت (سنگسار کرنے) کی سزا دی ہے اور بخاری شریف کی روایت کے مطابق آنحضرتؐ نے اسے کتاب اللہ کا فیصلہ قرار دیا ہے جو اس لحاظ سے بالکل واضح ہے کہ آپؐ نے توراۃ منگوا کر اس کا حکم سنا اور اس کے مطابق شادی شدہ افراد کو موت کی سزا دی۔ جبکہ آج کی موجودہ بائبل میں بھی زانی کے لیے سنگسار کیے جانے کا یہ قانون جوں کا توں موجود ہے۔ گویا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ توراۃ کے حکم پر عمل کیا اور اس کا تسلسل بطور قانون اسلام میں بھی جاری رکھنے کا حکم دیا۔
  • پھر جناب نبی اکرمؐ نے ریاست کے باغی اور ایک جائز حکومت کے قانونی سسٹم کو چیلنج کرنے والے کے لیے بھی موت کی سزا مقرر فرمائی۔

اس طرح قرآن و سنت میں متعدد سنگین جرائم میں موت کی سزا صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن و سنت کے ساتھ دستوری کمٹمنٹ پر قائم رہتے ہوئے ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد پر عمل کریں جس میں ملک کے قانونی نظام سے موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اگرچہ عملی صورت حال مختلف ہے اور ہمارا قومی رویہ گزشتہ ساٹھ سال سے یہی چلا آرہا ہے کہ ہم قرآن و سنت کے ساتھ وفاداری کا ہر موقع پر اظہار بھی کرتے ہیں لیکن قانونی نظام میں وہ تمام تبدیلیاں یکے بعد دیگرے کرتے چلے جا رہے ہیں جن کا ہم سے مغرب مطالبہ کرتا ہے، جیسا کہ حدود آرڈیننس میں کیا گیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ موت کی سزا کے بارے میں بھی پارلیمنٹ میں اسی نوعیت کا کوئی بل لانے کی کوشش کی جائے، لیکن ایسا کرنا قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ دستور سے انحراف کے بھی مترادف ہوگا۔

باقی رہی یہ بات کہ سزائے موت کے قانون کو چھیڑے بغیر ملک میں اس وقت سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے وزیراعظم نے صدر کو سمری بھجوائی ہے تو اس حوالے سے بھی شرعی پوزیشن یہ ہے کہ ’’قتل نفس‘‘ سے تحفظ کو قرآن کریم نے حقوق اللہ اور ریاست کا حق قرار دینے کے ساتھ ساتھ ’’حقوق العباد‘‘ میں بھی شامل کیا ہے۔ اور اس میں قاتل سے قصاص لینے، یا قصاص میں معاف کر کے دیت (خون بہا) وصول کرنے، یا دیت بھی معاف کر دینے کو مقتول کے ورثاء کا حق بتایا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلہ میں واضح ارشاد موجود ہے کہ قصاص یا دیت کے کسی معاملہ میں مقتول کے وارث اگر معاف کر دیں تو وہ سزا معاف ہو جاتی ہے اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص حتیٰ کہ ریاست بھی اس حق کو صاحبِ حق کی مرضی کے بغیر معاف نہیں کر سکتی۔

ہمیں سزائے موت کے قیدیوں کو موت کے پھندے تک لازماً پہنچانے سے کوئی غرض نہیں ہے اور اگر وہ کسی جائز ذریعہ سے موت کے پھندے سے بچ جائیں تو ہمیں بھی خوشی ہوگی۔ لیکن اس میں کسی دوسرے کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے اور ایسا کوئی عمل قرآن و سنت کے احکام کو نظر انداز کر کے نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ سزائے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے لیے صدر کو سمری بھیجنے کی بجائے ان مقتولین کے خاندانوں سے رابطہ کریں اور انہیں راضی کر کے ان کی طرف سے ان قیدیوں کو معافی دلوانے کی کوشش کریں جن کے قتل کے جرم میں انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ اس لیے کہ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے اور قرآن و سنت کی ہدایات بھی یہی ہیں۔