عورت کی ملازمت ۔ فطرت کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۳ مئی ۲۰۱۰ء

بھارتی اخبارات میں ان دنوں عورت کے حوالے سے تین موضوعات پر بطور خاص بات ہو رہی ہے اور مختلف اطراف سے ان پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔

اسقاطِ حمل کا رجحان

ایک عنوان یہ ہے کہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے یہ معلوم ہونے پر کہ پیدا ہونے والا بچہ صنف نازک سے تعلق رکھتا ہے ہزاروں حمل گرا دیے جاتے ہیں، اور اسقاط حمل کے تناسب میں مسلسل اضافے نے سنجیدہ حضرات کو پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کے ایک اخبار میں اس سلسلے میں ایک سیمینار کی رپورٹ نظر سے گزری جس میں کہا گیا ہے کہ بچی کی پیدائش کو عام طور پر معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیے الٹراساؤنڈ کے ذریعے معلوم کر کے اگر حمل بچی کا ہو تو اسے گرا دیا جاتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں معصوم بچیاں اس ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔

اسلام سے پہلے عرب کے جاہلی معاشرے میں بھی یہ رواج عام تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر موجود ہے۔ قران کریم کے ارشاد کے مطابق اس وقت لڑکیوں کو ولادت کے بعد زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اور ہزاروں لڑکیاں اس ظلم کا شکار ہوتی تھیں جس کی دو وجہیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ لڑکی کی پیدائش کو باعثِ عار سمجھا جاتا تھا، اور دوسری وجہ یہ کہ انہیں خاندان پر معاشی بوجھ تصور کیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس کی مکمل ممانعت کی اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ اس مکروہ رواج کو ختم کیا۔ مگر آج کے جدید معاشرے میں بچے کو ولادت کے بعد زندہ دفن کرنے کی جگہ ولادت سے قبل اسقاطِ حمل نے لے لی ہے۔ اور نہ صرف بھارت میں بلکہ مغربی دنیا میں بھی اس کا چلن عام ہے، بلکہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے ذریعے دنیا بھر کے ملکوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں اسقاطِ حمل کو قانونی جواز فراہم کریں۔

مغرب میں اسقاطِ حمل کی کثرت کی وجہ سے یہ ہے کہ وہاں زنا عام ہے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی کفالت سے بچنے کے لیے اسقاطِ حمل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ گویا یہ قرآن کریم کی زبان میں ’’خشیۃ املاق‘‘ یعنی معاشی بوجھ کی ایک صورت ہے جس کی وجہ سے ہزاروں بلکہ لاکھوں بچے ماں کی کوکھ سے پیدا ہونے سے پہلے ہی موت کی نیند سلا دیے جاتے ہیں اور اس میں لڑکی یا لڑکے کا کوئی فرق نہیں ہے۔ جبکہ بھارت میں صرف بچیوں کے حمل گرائے جاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ بچیوں کی ولادت کو عار یا معاشی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

شادی کے بغیر جنسی تعلق

دوسری بحث بھارتی سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان کے ان ریمارکس کے حوالے سے ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ شادی سے قبل لڑکے اور لڑکی کے درمیان جنسی تعلقات میں کوئی حرج نہیں، اور اگر جوڑا شادی کے بندھن کے بغیر جنسی تعلقات کے ساتھ اکٹھا رہنا چاہتا ہے تو اس میں کوئی گناہ یا حرج کی بات نہیں ہے۔

یہ بات بھی عرب جاہلیت کی ان اقدار میں سے ہے جنہیں جناب رسول اللہؐ نے ختم کیا تھا اور باقاعدہ نکاح کے سوا جنسی تعلقات کی باقی تمام صورتوں کو ناجائز قرار دے دیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق اسلام سے قبل عرب معاشرے میں رضامندی کا زنا جرم نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اگر کوئی مرد اور عورت باہمی رضامندی سے اس عمل کا ارتکاب کرتے تھے تو سوسائٹی کی طرف سے انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا تھا اور بچہ پیدا ہونے کی صورت میں ان کا نسب بھی تسلیم کیا جاتا تھا۔ جناب نبی اکرمؐ نے اس جاہلی روایت کو ختم کرنے کا اعلان فرمایا اور قرار دیا کہ زنا ایک قبیح جرم ہے جس کا مرتکب سنگین سزا کا مستحق ہے اور آئندہ زنا کے عمل سے نسب کا ثبوت قانونی جواز کا درجہ حاصل نہیں کر سکے گا۔

عورت کی ملازمت اور کاروبار

تیسری بحث دارالعلوم دیوبند کی طرف منسوب ایک فتوے کے حوالے سے بھارتی اخبارات میں زوروں پر ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے مفتی صاحبان نے فتویٰ صادر کیا ہے کہ عورت ملازمت یا کاروبار نہیں کر سکتی اور اس کی کمائی ہوئی رقم حرام ہے۔ ہم نے جب اس فتوے کی بات سنی تو ذہن نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس لیے کہ ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے کہ ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ تجارت کیا کرتی تھیں اور جناب رسول اکرمؐ کی ازواج مطہرات میں حضرت ام سلمہؓ، حضرت ام حبیبہؓ اور حضرت زینبؓ اپنے گھر میں کام کرتی تھیں اور مختلف چیزیں تیار کر کے بازار میں فروخت کیا کرتی تھیں۔ دیگر حضرات صحابہ کرامؓ کی ازواج مطہرات بھی تجارت اور حرفت کے کام کرتی تھیں اور کمائی کیا کرتی تھیں۔ اس لیے یہ بات تو کوئی عام سا مولوی بھی نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ دارالعلوم دیوبند جیسے ذمہ دار ادارے کے مفتی صاحبان یہ فتویٰ دیں۔

آج ایک ای میل کے ذریعے بھارت کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کا ایک وضاحتی بیان موصول ہوا تو معلوم ہوا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ یہ بیان قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بات کا بتنگڑ کیسے بنایا جاتا ہے۔

’’جماعت دیوبند کے بزرگ عالم اور معروف دانشور و مصنف مولانا عتیق الرحمان سنبھلی (مقیم لندن) نے دارالعلوم دیوبند کے فتوؤں کے خلاف میڈیا کی حالیہ مہم کو نہایت غیر ذمہ دارانہ بلکہ معاندانہ قرار دیا ہے۔ مولانا نے اپنے ایک اخباری بیان میں جو آج دہلی سے جاری کیا گیا، کہا کہ دارالعلوم صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک اہم دینی و علمی مرکز ہے۔ میڈیا کے کچھ حلقے اور مسلم دشمن گروہ اس کو مستقل ایک بدنام کن مہم کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ مولانا نے دارالعلوم کے دفتر اہتمام سے فرمائش کر کے متعلقہ فتوؤں کی کاپی منگوا کر خود دیکھی اور صاف محسوس کیا کہ میڈیا نے توڑ موڑ کر بات کو پیش کیا ہے۔

مولانا کا کہنا ہے کہ ملک اور بیرون ملک کے بعض اخبارات اور ٹی وی چینلز نے بالکل جھوٹ یہ بات نشر کی کہ دارالعلوم کی طرف سے عورت کی کمائی کو حرام کہا گیا ہے۔ اس کے برعکس دارالعلوم کے فتوؤں میں صراحت ہے کہ ’’کمائی پر حرام ہونے کا حکم نہیں‘‘۔ بعض فتوؤں میں یہ بھی صراحت ہے کہ ’’عورت کے لیے کمانا ممنوع نہیں‘‘۔ ہاں بجا طور پر شرعی لباس اور حیا کے تقاضوں کی پابندی کی شرط ہے۔

مولانا کا کہنا تھا کہ چونکہ اس زمانے میں دفتروں اور بازاروں کا ماحول نہایت بے حیائی کا ہے اور مغربی تہذیب و تعلیم نے ذہن ناپاک بنا دیے ہیں، دفتروں میں صنف نازک کے ساتھ زیادتیوں کے جس طرح کے واقعات عام ہیں اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے دارالعلوم کے فتوؤں میں خواتین کو بلاضرورت سروس کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ نہایت معقول بات ہے۔ مولانا نے بڑا افسوس ظاہر کیا کہ بعض مسلمان بھی حقیقت جانے بغیر میڈیا کے خلافِ حقیقت پروپیگنڈا سے متاثر ہو جاتے ہیں اور یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند ہمارے عقیدے و تہذیب کی آخری دفاعی لائن ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ نہایت حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے بعض اردو کے اخبارات بھی بسا اوقات اس مہم کا حصہ بن جاتے ہیں حالانکہ ان سے تو بجا طور پر یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ دارالعلوم سے رابطہ کر کے اصل حقیقت جان لیں اور فتوؤں کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کریں۔

مولانا نے پوری دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ یہ وقت دارالعلوم کی تائید و حمایت اور مغربی تہذیب کے مقابلے میں اس کے راہنما کردار کو تقویت پہنچانے کا ہے، نہ کہ اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے سپراندازی کرنے کا۔‘‘

اسلام نے عورت اور مرد کے میل جول کی حدود متعین کی ہیں اور پردے و حجاب کے ضابطے نافذ کیے ہیں جن کی پابندی بہرحال ضروری ہے۔ ان حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے عورت ملازمت بھی کر سکتی ہے، کاروبار بھی کر سکتی ہے اور جائز کمائی کے دیگر ذرائع بھی اختیار کر سکتی ہے جس کی شریعت میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی طبقہ ملازمت اور کاروبار وغیرہ کے جواز کے نام پر مرد اور عورت کے درمیان اس فطری فرق کی نفی کرنا چاہتا ہے جس کی بنیاد پر اسلام نے مردوں اور عورتوں کے لیے قوانین میں فرق رکھا ہے تو فطرتِ سلیمہ کے طے کردہ اس فرق کو ختم کرنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی عملاً اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔

درجہ بندی: