اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نظام ۔ تضادات پر ایک نظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۳ دسمبر ۱۹۹۸ء
اصل عنوان: 
انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی نظام

۱۰ دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا گیا، اس روز ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا منشور منظور کیا تھا۔ اس مناسبت سے دس دسمبر کو ہر سال انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے، اس موقع پر تقریبات ہوتی ہیں، اخبارات میں مضامیں شائع کیے جاتے ہیں اور انسانی حقوق کے عنوان سے کام کرنے والی تنظیمیں مختلف طریقوں سے اپنی کارکردگی کا اظہار کرتی ہیں۔ اتفاق سے اسی روز مجھے ربوہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سالانہ تربیتی کورس میں ’’انسانی حقوق اور اسلام‘‘ کے موضوع پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا جو دوسرے روز چنیوٹ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کے سالانہ تربیتی کورس میں بھی پیش کی گئیں۔

’’انسانی حقوق اور اسلام‘‘ کا موضوع اپنے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کا متقاضی ہے، مگر مجھے ہر سال ان کورسز کے شرکاء کو بطور خاص یہ بتانا ہوتا ہے کہ مختلف اسلامی احکام و قوانین پر انسانی حقوق کے عنوان سے مغربی لابیوں کے اعتراضات کیا ہیں؟ اور ایسا کیوں ہے کہ جب بھی کسی مسلم ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی بات ہوتی ہے یا ناموس رسالتؐ کے تحفظ اور عقیدہ ختم نبوت کی پاسداری کی غرض سے کوئی قانونی پیش رفت ہوتی ہے تو مغربی لابیاں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں انسانی حقوق کے نام پر اس کے خلاف واویلا شروع کر دیتی ہیں۔ چنانچہ اس پہلو سے جو گزارشات ان کورسز کے شرکاء کے سامنے پیش کی گئیں ان کا مختصر خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی موجودہ جدوجہد اور تمام تر تگ و دو اقوام متحدہ کے منظور کردہ انسانی حقوق کے اس چارٹر کی بنیاد پر ہے جو ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو منظور کیا گیا تھا۔ اس پر دنیا کے کم و بیش سبھی ممالک کے دستخط ہیں اورا قوام متحدہ کے متعدد ادارے دنیا بھر میں اس چارٹر کی متعدد دفعات پر عملدرآمد کی نہ صرف مانیٹرنگ کرتے ہیں بلکہ ان اداروں کی سالانہ رپورٹوں اور قراردادوں کی بنیاد پر بیشتر حکومتوں کی پالیسیاں اور معاملات طے پاتے ہیں۔ مگر مسلم حکومتوں کی مشکل یہ ہے کہ انہیں اس چارٹر پر دستخط کرنے اور اقوام متحدہ کا رکن ہونے کی وجہ سے اپنی پالیسیوں اور نظم حکومت میں چارٹر کی دفعات کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔ اور ایڈجسٹ نہ کرنے کی صورت میں عالمی اداروں کی ناراضگی اور بین الاقوامی لابیوں کی مخالفانہ مہم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اس منشور کی بعض خلافِ اسلام دفعات پر عملدرآمد کی صورت میں خود اپنے عقائد سے انحراف اور اپنے ملکوں کی رائے عامہ بالخصوص دینی حلقوں کی ناراضگی مول لینا پڑتی ہے۔ اس طرح مسلم حکومتیں نہ اسلامی احکام و قوانین پر صحیح طور پر عملدرآمد کا حوصلہ کر پاتی ہیں او رنہ ہی اقوام متحدہ کے منشور کو مکمل طور پر اپنے اپنے ملک کے نظام میں شامل کرنا ان کے بس میں ہوتا ہے۔

مثلاً انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے منشور کی ایک مستقل دفعہ میں شادی اور خاندان کے حوالہ سے جو اصول پیش کیا گیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والا کوئی مرد اور عورت رنگ، نسل اور مذہب کے کسی امتیاز کے بغیر باہم شادی کرنے اور خاندان کی بنیاد رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ نیز شادی، دورانِ شادی اور اس کی تنسیخ میں دونوں کے حقوق مساوی ہیں۔ اس دفعہ کے تحت شادی میں مذہب کے امتیاز کی نفی اسلامی احکام کے منافی ہے کیونکہ

  • قرآن کریم کی نص صریح کی رو سے مسلمان عورت کی شادی صرف مسلمان مرد سے ہو سکتی ہے۔ اسی طرح دورانِ شادی اور شادی کی تنسیخ میں دونوں کے حقوق کی مساوات کا تصور بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔ کیونکہ دورانِ شادی کے پیریڈ کو اسلام صرف ایک سماجی معاہدہ تصور نہیں کرتا بلکہ خاندان کو ایک یونٹ سمجھتے ہوئے مرد کو اس یونٹ کا حاکم قرار دیتا ہے، اور اسلام میاں بیوی کے اختیارات میں واضح ترجیح قائم کر کے مستحکم خاندانی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شادی کی تنسیخ میں بھی اسلام دونوں کا مساوی حق تسلیم نہیں کرتا اور مرد کو طلاق کا حق دے کر اس کی برتری تسلیم کرتا ہے۔ جبکہ عورت کو خاوند پر کسی جائز اعتراض کی صورت میں تنسیخ نکاح کے لیے عدالت کی طرف رجوع کا حق دے کر اس کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور کی اس دفعہ کو پوری طرح تسلیم کر لیا جائے تو نکاح و طلاق اور خاندانی نظام کے بارے میں اسلامی قوانین کا پورا ڈھانچہ زمین بوس ہو جاتا ہے اور اس پر عملدرآمد کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

  • اسی طرح جرائم کی سزاؤں کے بارے میں اقوام متحدہ کے منشور کی ایک مستقل دفعہ میں حکومتوں سے اس امر کی ضمانت طلب کی گئی ہے کہ کسی مجرم کو ایسی سزا نہیں دی جائے گی جس میں ذہنی اذیت اور جسمانی تشدد کا عنصر پایا جاتا ہو۔ جبکہ اسلامی حدود و تعزیرات میں سزاؤں کی جو مختلف صورتیں موجود ہیں مثلاً کوڑے مارنا، سنگسار کرنا، ہاتھ کاٹنا اور کھلے بندوں سزا دینا یہ سب سزائیں ذہنی اذیت اور جسمانی تشدد پر مبنی ہیں۔ اور اسی وجہ سے جرائم کی شرعی سزاؤں کو بہت سے حلقے وحشیانہ اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہیں۔

ان دو دفعات کا ذکر بطور مثال صرف بات سمجھانے کے لیے کیا گیا ہے جن سے اسلامی نظام کے دو مستقل شعبے (۱) خاندانی قوانین اور (۲) حدود و تعزیرات براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اسلامی نظام کے درمیان پائے جانے والے تضادات کو سمجھا جائے اور دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تضادات پر معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کرنے کی بجائے جرأت مندانہ موقف اختیار کریں اور اپنے اسلامی عقائد و احکام پر قائم رہتے ہوئے اقوام متحدہ سے اس منشور پر نظر ثانی کا مطالبہ کریں۔

جس دور میں اقوام متحدہ کا یہ منشو رمنظور کیا گیا تھا بہت سے مسلمان ممالک غلامی اور محکومیت کی زندگی بسر کر رہے تھے اور عالمی سطح پر امت مسلمہ کو (جغرافیائی طور پر آزادی کی) یہ حیثیت حاصل نہیں تھی جو اب حاصل ہے۔ اور اس کے بعد نصف صدی کے دوران ان پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور عالمی منظر تبدیل ہوگیا ہے۔ اس لیے اگر اقوام متحدہ حالات کی تبدیلی کا ادراک نہیں کرے گی اور عالم اسلام کے بڑھتے ہوئے اسلامی رجحانات کا احترام کرنے کی بجائے اسے اپنے خلاف حریف سمجھتی رہے گی تو بالآخر خود اس کے لیے اپنا وجود قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

درجہ بندی: