ہماری گھریلو درسگاہ

   
تاریخ بیان: 
۲۱ دسمبر ۲۰۲۰ء

بعد الحمد والصلوٰة۔ آج کی اس محفل میں حاضری میرے لیے مختلف حوالوں سے خوشی اور سعادت کی بات ہے ، ایک تو اس لیے کہ چند بچیوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے جن میں میری بھتیجیاں بھی شامل ہیں جو ہمارے چھوٹے بھائی مولانا منہاج الحق خان راشد کی بیٹیاں ہیں، دوسرا اس حوالہ سے کہ یہ درسگاہ والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اور ہماری دو ماؤں کی گھریلو درسگاہ ہے، اور تیسرا اس لیے کہ میری اپنی ابتدائی درسگاہ بھی یہی ہے اور میں نے یہیں سے تعلیم کا آغاز کیا تھا۔ اس لیے حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والی بچیوں اور ان کے والدین کو مبارک باد دیتے ہوئے اس درسگاہ کی مختصر تاریخ عرض کروں گا اور اس کے بعد موقع کی مناسبت سے ایک دو اور گزارشات بھی کروں گا۔

والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ۱۹۴۳ء میں گکھڑ آئے تھے اور جامع مسجد بوہڑ والی میں خطابت و امامت کے فرائض انہوں نے سنبھالے تھے جبکہ ۱۹۴۵ء میں ان کی پہلی شادی ہوئی۔ ہماری والدہ محترمہ گوجرانوالہ کے راجپوت جنجوعہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، انہوں نے اپنے والد گرامی حضرت مولانا میاں محمد اکبرؒ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس دوران گکھڑ میں دینی تعلیم کی دو درسگاہیں قائم ہوئیں، ایک درسگاہ مسجد میں تھی جس میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ تعلیم دیتے تھے، مختلف علاقوں سے طلبہ جمع ہوتے تھے اور اہل محلہ ان کو کھانا مہیا کر دیتے تھے جبکہ ان کی رہائش مسجد میں ہوتی تھی۔ یہ درسگاہ ۱۹۵۲ء میں گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرة العلوم کا آغاز ہونے تک اسی طرح چلتی رہی۔ اس دور میں دینی درسگاہوں کا عمومی ماحول یہی ہوتا تھا کہ کسی صاحب علم کے پاس مختلف علاقوں سے طلبہ جمع ہو جاتے تھے، مسجدوں میں رہائش ہوتی تھی اور اہل محلہ دو وقت کا کھانا دے دیا کرتے تھے۔ حضرت والد محترمؒ نے اس دوران اسی نظم کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں کے سینکڑوں طلبہ کو تعلیم دی ہے ، جبکہ ۱۹۵۶ء میں وہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ساتھ منسلک ہو گئے تو اس مسجد میں پھر قرآن کریم حفظ و ناظرہ، قاری کلاس اور درس نظامی کی تعلیم مختلف مراحل میں ہوتی چلی آرہی ہے، جو اَب معارف اسلامیہ اکادمی کے عنوان سے جاری ہے اور ہمارے چھوٹے بھائی مولانا قاری حماد الزھراوی کی سربراہی میں ایک پورا نظام مصروف عمل ہے۔

جبکہ دوسری درسگاہ ہمارے گھر میں تھی، ابتدا میں ہماری رہائش بٹ دری فیکٹری کی بالائی منزل میں تھی، میری پیدائش وہیں کی ہے، والدہ محترمہ کے پاس بچے اور بچیاں پچھلے پہر آتے تھے اور وہ انہیں قرآن کریم کی تعلیم دیتی تھیں، وہاں سے ہماری رہائش مسجد ٹھیکیداراں والی گلی میں منتقل ہو ئی اور حضرت والد محترم ؒ کی دوسری شادی کے بعد ہمارے چھوٹے امی جان بھی آگئیں۔ وہاں بھی صورت یہی تھی کہ شام کو بچے اور بچیاں جمع ہوتے تھے اور ہماری دونوں مائیں انہیں تعلیم دیتی تھیں۔ پھر ہماری رہائش بٹ دری فیکٹری کے عقب میں ماسٹر خوشی محمد صاحب مرحوم کے مکان میں آگئی اور تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد ۱۹۶۰ء میں ہم اس مکان میں آگئے جو ہمارا ذاتی مکان ہے اور گھریلو درسگاہ بھی اسی طرح چلتی رہی، ان سب مراحل میں مختلف مواقع پر والد گرامیؒ اور ہماری دونوں مائیں رحمہما اللہ تعالیٰ اس درسگاہ میں تعلیم دیتی تھیں، قرآن کریم حفظ و ناظرہ، ترجمہ قرآن کریم ، بہشتی زیور کے علاوہ درس نظامی کے اسباق بھی حضرت والد گرامیؒ بچیوں کو مسلسل پڑھاتے رہے۔

اس درسگاہ سے مختلف اوقات میں سینکڑوں بچیوں اور بچوں نے استفادہ کیا جن میں سابق صدر پاکستان جناب محمد رفیق تارڑ، سابق آئی جی پنجاب پولیس احمد نسیم چودھری، ریٹائرڈ بریگیڈیئر جناب محمد علی چغتائی اور وزارت خارجہ کے ایک سابقہ افسر جناب محمد شعبان اپل شامل ہیں، اس دور میں بنات کے لیے درس نظامی کے باقاعدہ مدارس بہت کم تھے مگر گکھڑ کی بہت سی بچیوں نے والد گرامیؒ سے درس نظامی کی کم و بیش مکمل تعلیم حاصل کی جن میں ہماری تینوں بہنیں شامل ہیں اور اب یہ سلسلہ ’’جامعہ امام اہل سنت للبنات‘‘ کے نام سے جاری ہے۔

مجھے اس بات پر بہت خوشی ہے کہ حضرت والد گرامیؒ کے جاری کردہ دونوں تعلیمی سلسلے بدستور مصروف عمل ہیں، مسجد والے نظام ہمارے چھوٹے بھائی مولانا قاری حماد الزھراوی صاحب اور گھریلو درسگاہ کو سب سے چھوٹے بھائی مولانا قاری منہاج الحق خان راشد چلا رہے ہیں اور ان کے ساتھ گکھڑ کے اصحاب ذوق اور اصحابِ خیر کا ایک حلقہ مصروف کار ہے۔ میں مسلسل دعا گو رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ والد محترم ؒ اور ہماری دونوں ماؤں کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ہمارے بھائیوں اور ساتھیوں کو ان کے اس صدقہ جاریہ کا تسلسل جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اس کے بعد آج کی اس تقریب کے حوالہ سے ایک دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا، چند بچیوں نے قرآن کریم حفظ مکمل کیا ہے اور ان میں انعامات تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ بچیوں اور ان کے خاندانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے ایک بات بچیوں سے اور دوسری بات ان کے والدین سے عرض کروں گا۔

بچیوں کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کریم جیسی عظیم نعمت اور دولت کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ہے تو ان کے اس مبارک عمل میں اور بھی بہت سے لوگ شریک ہیں جنہیں اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ان کی ذمہ داری ہے:

  1. پہلے نمبر پر ان کے ماں باپ ہیں جنہوں نے شوق اور توجہ کے ساتھ انہیں اس طرف لگایا اور ان کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو یاد کر سکی ہیں۔
  2. دوسرے نمبر پر اساتذہ ہیں جنہوں نے پڑھایا ،ان کی محنت اور توجہ کے باعث بچیوں نے قرآن کریم کو یاد کیا ہے اور ان کی محنت مسلسل ان کے ساتھ شامل رہی ہے۔
  3. تیسرے نمبر پر جس مدرسہ میں انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے اس کے منتظمین ان کے اس عمل میں حصہ دار ہیں کیونکہ ان کے انتظام اور نگرانی کی وجہ سے اساتذہ کا پڑھانا اور طالبات کا پڑھنا اسباب کی دنیا میں قابل عمل ہوا۔
  4. چوتھے نمبر پر وہ لوگ جن کے تعاون سے یہ مدرسہ چل رہا ہے، ان کا تعاون بھی اس تعلیم کا اہم سبب بنا ہے اور وہ اس عمل خیر میں شامل ہیں۔
  5. حافظ قرآن بچیوں سے یہ گزارش کروں گا کہ اس سارے کام میں ان کا نمبر پانچواں ہے، اس بات کو ذہن نشین کرنا اور یاد رکھنا ضروری ہے، ان سب کو دعاؤں میں یار رکھیں اور ان کا شکریہ ادا کرتی رہیں کہ ان سب لوگوں کی وجہ سے آپ سب نے قرآن کریم جیسی عظیم نعمت حاصل کی ہے۔

جبکہ والدین سے یہ عرض کروں گا کہ آپ نے جس شوق اور توجہ کے ساتھ اپنی بچیوں کو قرآن کریم حفظ کرایا ہے اس سے زیادہ توجہ ان کو قرآن کریم یاد رکھوانے کے لیے ضروری ہے کیونکہ صرف ایک بار حفظ کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کو زندگی بھر یاد رکھنا یاد کرنے سے زیادہ ضروری ہے، ورنہ یہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی اور جن مقاصد اور فوائد کے لیے یہ محنت کی ہے وہ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ میرا عرض کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انہیں باقی سب کاموں سے روک کر صرف اسی کام کے لیے وقف کر دیں بلکہ یہ عرض کر رہا ہوں کہ زندگی کے سارے کام جو ان کے لیے آپ نے سوچ رکھے ہیں ضرور کریں مگر ان کی زندگی کی ترتیب ایسی سیٹ کر دیں کہ یہ قرآن کریم کو یاد رکھ سکیں اور قرآن کریم سننے اور سنانے کا وقت انہیں میسر آتا رہے کیونکہ اس کے بغیر قرآن کریم کو یاد نہیں رکھا جا سکتا اور یہ کام والدین ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ حفظ قرآن کریم کی نعمت سے بہرہ ور ہونے والی بچیوں، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد دیتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت انہیں قرآن کریم یاد رکھنے کی توفیق دیں، قرآن کریم کا علم اور فہم نصیب کریں، عمل کی توفیق دیں، قرآن کریم کی خدمت کے مواقع عطا فرمائیں اور ہم سب کو دنیا اور آخرت میں قرآن کریم کی برکات سے بہرہ ور فرمائیں ، آمین یا رب العالمین۔

(ماہنامہ نصرة العلوم، گوجرانوالہ ۔ جنوری ۲۰۲۱ء)
موضوع: