نفاذ شریعت کی جدوجہد: علمی مباحثہ کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۰ء

’’الشریعہ‘‘ کے صفحات پر جہاد کی شرعی حیثیت، موجودہ معروضی حالات میں اس کی عملی صورتوں اور دنیا کے مختلف حصوں میں جہادی تحریکات کے طریق کار کے حوالے سے مباحثہ کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے اور کم وبیش اس سلسلے میں رائے رکھنے والے اکثر دوستوں کا نقطہ نظر کسی نہ کسی پہلو سے سامنے آ چکا ہے۔ ہمارا مقصد اس قسم کے مباحث سے یہی ہوتا ہے کہ ملی اور قومی سطح کے مسائل میں علمی اور فکری طور پر رائے رکھنے والے حضرات کا نقطہ نظر قارئین کے سامنے آئے تاکہ انھیں کھلے ماحول میں مسئلہ کے تمام پہلووں کو ملحوظ رکھتے ہوئے رائے قائم کرنے میں آسانی ہو۔ اس کے ساتھ ہی ہماری کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی بھی مسئلے پر بحث ومباحثہ ’’مکالمہ‘‘ کے دائرے میں رہے اور باہمی مورچہ بندی کی شکل نہ اختیار کرنے پائے، چنانچہ اس سلسلے میں جاری بحث ومباحثہ کا رخ اسی مسئلے کے ایک دوسرے اہم پہلو کی طرف موڑتے ہوئے ہم ایک علمی وفکری مکالمہ کا آغاز کر رہے ہیں جو نہ صرف ملت اسلامیہ کی نئی پود کے ذہنوں میں بیسیوں سوالات کی صورت میں گردش کر رہا ہے بلکہ عالم اسلام میں نفاذ اسلام کی تحریکات کی بھی ایک علمی وفکری ضرورت ہے۔

یہ سوال قیام پاکستان کے فوراً بعد اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ایک نئی نظریاتی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہوگا اور اس کی تشکیل میں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے باہمی اختلافات کا کس حد تک عمل دخل ہوگا؟ چنانچہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے پیش کیے تھے تاکہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے اور قانونی نظام کے بارے میں دینی حلقوں کا متفقہ موقف سامنے آ جائے اور یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ یہ مذہبی مکاتب فکر تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود دستوری اور قانونی نظام کے معاملات میں یکسو اور متفق ہیں اور ان کے اختلافات ملک کو ایک نظریاتی ریاست کی حیثیت دینے میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی منظوری اور اس پر تمام دینی حلقوں کا اتفاق بھی دستور وقانون کے بارے میں ان کے اتفاق اور ہم آہنگی کا مظہر تھا، حتیٰ کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت اور جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور تک اسلامائزیشن کے لیے ہونے والی پیش رفت کا پس منظر بھی یہی تھا، لیکن ’’جہاد افغانستان‘‘ کے بعد رونما ہونے والی علاقائی تبدیلیوں کے ماحول میں اس دستوری جدوجہد کے بارے میں دو م مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں:

ایک نقطہ نظر سیکولر حلقوں کا ہے کہ قرارداد مقاصد سے اب تک نفاذ اسلام کے لیے ہونے والے تمام اقدامات غلط ہیں اور ان سب پر خط تنسیخ کھینچنے کی ضرورت ہے۔

دوسرا نقطہ نظر بعض دینی حلقوں کی طرف سے یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے پرامن دستوری اور آئینی جدوجہد ناکام ہو چکی ہے اور اب ہتھیار اٹھائے بغیر اس ملک میں نفاذ شریعت کی کوئی عملی صورت باقی نہیں رہی۔

چنانچہ اس فضا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمکش او رمحاذ آرائی کے جو نئے رخ سامنے آئے ہیں، اس میں یہ سوال ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ:

  • آج کے دور میں پاکستان یا کسی بھی اسلامی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہو سکتا ہے اور خلافت کی عملی شکل کیا ہوگی؟
  • ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے : (۱) دستوری اور قانونی جدوجہد (۲) عوامی دباؤ اور احتجاج کا تحریکی راستہ اور (۳) ہتھیار اٹھا کر عسکری جدوجہد میں سے کون سا طریقہ قابل عمل ہے اور ملک کے دینی حلقوں کو اس حوالے سے کیا کرنا چاہیے؟

ہم اس حوالے سے جس مباحثہ کا آغاز کر رہے ہیں، وہ انھی دو سوالات کے دائرے میں ہوگا اور اس سلسلے میں کسی بھی نقطہ نظر کے بارے میں ایسی تحریریں شامل اشاعت کی جائیں گی جو خالصتاً علمی وفکری بنیاد پر شستہ اور مثبت انداز میں تحریر کی گئی ہوں اور مناظرانہ اسلوب اور باہمی تحقیر واستہزا کے مواد سے خالی ہوں۔ بحث کے آغاز میں ہم ایجنڈے کے طور پر قرارداد مقاصد اور علما کے ۲۲ نکات کے علاوہ ایک تفصیلی مضمون بھی شائع کر رہے ہیں جو راقم الحروف نے کراچی کے ایک نشریاتی ادارے کے سوال نامے کے جواب میں تحریر کیا ہے۔

ارباب علم ودانش سے گزارش ہے کہ وہ وقت کی اس اہم ترین ضرورت کی طرف توجہ فرمائیں اور ایک خوب صورت اور معیاری علمی وفکری مباحثہ کی شکل میں امت مسلمہ کی نئی نسل کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے دستوری اور قانونی تقاضوں کے سلسلے میں عالم اسلام کی دینی تحریکات کی بھی راہ نمائی فرمائیں۔