وطن دشمن تنظیموں پر پابندی کا آرڈیننس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ نومبر ۱۹۷۳ء

صدر مملکت جناب فضل الٰہی چوہدری نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملکی مفاد کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی تنظیموں پر پابندی لگا سکتی ہے اور افراد کو سزا دے سکتی ہے۔ ملکی مفاد کے منافی سرگرمیوں کے ضمن میں:

  • ایک سے زائد قومیتوں کے پرچار،
  • فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے،
  • علاقائی سالمیت اور خودمختاری میں رخنہ ڈالنے،
  • لسانی، نسلی اور علاقائی بنیادوں پر تفریق پیدا کرنے،
  • اور ملک کے کسی حصہ کی علیحدگی کی کوششوں

کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سات سال، ان کی مدد کرنے والوں کو پانچ سال، اور ایسی تنظیموں کی رکنیت برقرار رکھنے والے افراد کو دو سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اصولی طور پر اس آرڈیننس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ اگر اس کے ذریعہ سیاسی فوائد کے حصول اور سیاسی مخالفین کے خلاف بے جا انتقامی کاروائیوں کے خدشات سے صرفِ نظر کرنا ممکن ہوتا تو ہم اس آرڈیننس کا پرجوش خیرمقدم کرتے۔ ملکی سالمیت کا تحفظ ملک کے ہر شہری کا مقدس فریضہ ہے اور ملک کو توڑنے یا نسلی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر ایسی تفریق پیدا کرنا جس سے ملکی استحکام کو خطرہ لاحق ہو، یقیناً ملک و قوم کے مفاد کے منافی اور سنگین نوعیت کی غداری ہے جسے کسی صورت گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ اس لحاظ سے یہ آرڈیننس انتہائی خوش آئند اور ناگزیر ہے۔ لیکن ماضی کا تجربہ شاہد ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ حکومت سے اختلاف کو غداری، حکمرانوں کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنے کو وطن دشمنی اور سیاسی میدان میں حکمران جماعت کا مقابلہ کرنے والی جماعتوں کی سرگرمیوں کو ملکی مفاد کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ ہر حکمران نے اپنے مخالفین کو ملک دشمن کہا ہے اور اپوزیشن سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے ہمیشہ بغاوت اور غداری کے سنگین الفاظ کا سہارا لیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ یہ سنگین اور انتہائی الفاظ، جو سیاسی کفر کے مترادف ہیں، آج پاکستان میں اپنے مفہوم سے عاری ہو چکے ہیں اور شاید اس ملک میں ایک دو کے سوا کوئی ایسا سیاسی راہنما نہ ہو جسے کسی نہ کسی حکومت سے غدار اور وطن دشمن کا خطاب نہ مل چکا ہو۔

اگر بات ماضی کی حکومتوں تک محدود ہوتی تو بھی تھوڑی دیر کے لیے اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ مگر موجودہ حکومت، جو ووٹوں کے ذریعہ عروسِ اقتدار سے ہمکنار ہوئی ہے، اس نے تو اس معاملہ میں سابقہ حکومتوں کو بھی مات کر دیا ہے اور سیاسی انتقام کے لیے ایسے ایسے حربے استعمال کیے ہیں کہ اس کے دو سالہ دورِ اقتدار کے مقابلہ میں گزشتہ ربع صدی کے سیاسی مظالم ہیچ نظر آتے ہیں۔

  • سرحد و بلوچستان کے عوام پر پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دینے کے جرم میں غیر نمائندہ حکومتیں مسلط کرنا،
  • بلوچستان کے عوام کو جمہوری حقوق دینے کی بجائے ان پر فوجی کاروائی،
  • متحدہ جمہوری محاذ کے جلسوں میں مسلح کاروائی کا اہتمام،
  • اپوزیشن رہنماؤں پر قاتلانہ حملے،
  • اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات،
  • ڈی پی آر کے تحت محب وطن رہنماؤں کی گرفتاریاں،
  • ریڈیو، ٹی وی اور ٹرسٹ اخبارات کے ذریعہ اپوزیشن جماعتوں کے خلاف مذموم و مکروہ کردار کش پروپیگنڈا،
  • خود وزیراعظم کا اپوزیشن لیڈروں کے خلاف انتہائی گھٹیا اور بازاری زبان استعمال کرنا،
  • عوام کے منتخب نمائندوں کو جیلوں میں ٹھونسنا،
  • سیاسی قیدیوں پر شرمناک تشدد اور غیر انسانی و غیر اخلاقی سلوک،
  • اور ضمنی انتخابات میں اندھادھند سرکاری مداخلت،

یہ سب امور حکمران پارٹی کی سیاسی ہوس اور اپوزیشن کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ اس پس منظر میں جب ہم مذکورہ آرڈیننس کو دیکھتے ہیں تو ہمارے لیے ان خدشات کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے کہ ملک کے دوسرے قوانین کی طرح اس قانون کو بھی سیاسی انتقام کے لیے بطور حربہ استعمال کیا جائے گا اور حکمران پارٹی اس طرح اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی راہ ہموار کرے گی۔ خدا کرے کہ یہ خدشات غلط ہوں اور یہ آرڈیننس سیاسی انتقام کا حربہ بننے کی بجائے ملکی استحکام و سالمیت کے تحفظ کا ضامن بنے۔

اس کے ساتھ ہی ہم وفاقی حکومت سے یہ استدعا کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان افراد کے خلاف بھی مقدمات چلائے جائیں اور انہیں قوم کے سامنے بے نقاب کر کے جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے جن کی مذموم سازشوں کے باعث وطن عزیز دولخت ہوا اور بہادر افواج کو بھارت جیسے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے، تاکہ قوم یہ یقین کر سکے کہ یہ آرڈیننس واقعی ملکی استحکام کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔