پولیس کی کارکردگی، ایک تجویز

پنجاب پولیس کے افسر اعلیٰ جناب انور آفریدی نے ایک پریس کانفرنس میں پولیس کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض خامیوں کے ضمن میں پولیس کمیشن کی سفارشات کا ذکر کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ محکمانہ کارکردگی کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

جہاں تک پولیس کی کارکردگی پر لوگوں کے شبہات اور اعتراضات کا تعلق ہے انہیں یکسر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ بعض باتیں یقیناً ایسی ہیں جو پولیس کے کردار کو عوام کی نظروں میں مشکوک بنا دیتی ہیں اور خصوصاً کچھ آفیسرز کا رعونت آمیز رویہ، جس کا اعتراف خود جناب آفریدی نے بھی کیا ہے، پولیس کی کارکردگی کے بہتر ہونے میں رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ رشوت خوری اور اقرباء پروری کا مرض بھی دوسرے محکموں کی نسبت اس محکمہ میں کچھ زیادہ ہی پرورش پا گیا ہے۔ اس طرح قانون کی حفاظت کرنے والا یہ محکمہ عام زندگی پر قانون کی گرفت مضبوط رکھنے میں ناکام نظر آرہا ہے۔

دوسری طرف پولیس سے متعلقہ افراد کو بھی بعض شکایات اور ان کی بعض ضروریات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ان شکایات و ضروریات کو پورا کیے بغیر ان سے بہتر کارکردگی کی توقع رکھنا فضول ہے۔ آفریدی صاحب نے جس پولیس کمیشن کا ذکر کیا ہے اس کی رپورٹ ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آئی۔ ہماری رائے میں عوامی زندگی کے تمام شعبوں سے اس قدر وسیع تعلق رکھنے والے محکمہ کی کارکردگی کے بارے میں محدود تجزیہ کافی نہیں ہے بلکہ حکومت کو چاہیے وہ ذرا کھل کر عوامی سطح پر اس امر کا جائزہ لے۔ اس کے لیے اگر ایک سوالنامہ جاری کیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا۔ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس سوالنامہ کے جواب میں پولیس کے بارے میں اپنی شکایات کا اظہار کریں، اور ساتھ ہی ساتھ پولیس کے حکام اور سپاہیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی شکایات اور ضروریات کو بلاجھجھک ظاہر کریں۔ اور پھر تصویر کے دونوں رخوں کو سامنے رکھ کر محکمہ پولیس کی کارکردگی کی اصلاح کے لیے کوئی قدم اٹھایا جائے۔ ہماری رائے میں اصلاح احوال کا یہ راستہ زیادہ مفید ثابت ہو گا۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۴ مئی ۱۹۷۱ء