اسلم قریشی کیس اور برطانوی حکومت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے تازہ شمارہ (نمبر ۲۱/۶) میں گزشتہ ماہ صدیق آباد (ربوہ) میں منقعد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں دوسرے روز کی کارروائی کے ضمن میں راقم الحروف کی تقریر کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ راقم الحروف نے برطانوی وزیراعظم مسز تھیچر سے ملاقات کر کے انہیں اسلم قریشی کیس کے سلسلہ میں برطانوی حکومت کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔

اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ مسز تھیچر سے ملاقات والی بات رپورٹنگ کی غلطی ہے کیونکہ برطانوی وزیراعظم سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی البتہ انہیں اسلم قریشی کیس کے سلسلہ میں برطانوی حکومت کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلانے کے لیے اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے اس سے قارئین کا آگاہ ہونا ضروری ہے۔

ومبلے ہال لندن میں منعقد ہونے والی تیسری سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران راقم الحروف نے ’’اسلم قریشی کیس‘‘ کے حوالہ سے برطانوی حکومت کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ مولانا محمد اسلم قریشی کو اغوا ہوئے چار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور ان کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ اسلم قریشی کے قانونی ورثاء، ان کے کیس کے مدعی اور پاکستان کے دینی حلقوں کا الزام ہے کہ یہ اغواء قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے ایماء پر ہوا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے عوامی حلقے اسلم قریشی کیس میں مرزا طاہر احمد کو شامل تفتیش کرنے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں لیکن مرزا طاہر احمد اس تفتیش کا سامنا کرنے کی بجائے فرار ہو کر لندن میں مقیم ہیں اور قانونی طور پر برطانوی حکومت کی پناہ میں ہیں۔ اس لیے برطانوی حکومت کی یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ مرزا طاہر احمد کو پناہ دینے کا حکم واپس لے کر پاکستان بھجوائے تاکہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ اور اگر ایسا کرنا برطانوی حکومت کی کسی مصلحت کے خلاف ہو تو ہماری طرف سے کھلی پیشکش ہے کہ حکومت برطانیہ اپنے تفتیشی اداروں کے ذریعے اسلم قریشی کیس کی انکوائری کرا کے مرزا طاہر احمد کی پوزیشن کو واضح کرے تاکہ انصاف کے منطقی تقاضوں سے انحراف کی گنجائش باقی نہ رہے۔

کم و بیش یہی الفاظ تھے جو راقم الحروف نے لندن کی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں کہے اور سنجیدہ حلقوں نے ان گزارشات کو پسند کرتے ہوئے اسے ایک معقول اور متوازن موقف قرار دیا۔

لندن میں قیام کے دوران ہی یہ مشورہ ہوا کہ اس مضمون کی ایک باضابطہ چٹھی بھی برطانوی وزیراعظم مسز مارگریٹ تھیچر کو ارسال کی جائے چنانچہ ایک چٹھی تیار کر کے وہاں دوستوں کو دے آیا چونکہ مجھے جلدی آنا تھا۔ اب ساؤتھال سے جناب حاجی محمد اسلم کا خط آیا ہے کہ انہوں نے راقم الحروف کی طرف سے مندرجہ بالا مضمون پر مشتمل ایک باضابطہ خط ۱۴ اکتوبر کو ساؤتھال کے پوسٹ آفس سے برطانوی وزیراعظم کے نام رجسٹرڈ بھجوا دیا ہے جس کا رجسٹریشن نمبر K۵۳۸۹۹۷ ہے۔

۹ اکتوبر کو صدیق آباد (ربوہ) کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں راقم الحروف نے اس بات کو اپنی تقریر کے دوران وضاحت سے پیش کیا اور اسی مضمون کی ایک قرارداد کی تحریک کی جسے متفقہ طور پر کانفرنس کے آخری اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ اس قرارداد کا متن بھی برطانوی حکومت کو بھجوایا جا رہا ہے۔ یہ چند سطور بطور وضاحت قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ ریکارڈ درست رہے۔