قرآن کریم اور حضرت عمرؓ کا ذوق

   
تاریخ بیان: 
۱۱ اکتوبر ۲۰۰۷ء

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میری مادر علمی ہے اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ اس کا قیام ۱۹۵۲ء میں عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کی مساعی سے عمل میں آیا تھا، اور اپنے برادر گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ساتھ مل کر انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک اس گلشن علم کی آبیاری کی ہے۔ گزشتہ پانچ چھ برس سے دونوں بھائی معذور اور صاحب فراش ہیں اور ان کے حکم اور ہدایت پر ان کی جگہ یہ خدمت سرانجام دینے کی ہم ناکارہ لوگ کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کا سایہ صحت و عافیت کے ساتھ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھیں اور ہمیں ان کا یہ عظیم دینی سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

جامعہ نصرۃ العلوم میں ایک عرصہ سے بنات کی تعلیم کو باضابطہ کرنے کی خواہش تھی اور اس کے لیے کوشش بھی ہو رہی تھی مگر بعض رکاوٹوں کے باعث تاخیر ہوتی رہی۔ اب مدرسہ کے عقب میں دو تین مکان خرید کر جامعہ نصرۃ العلوم للبنات کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے جس میں کم و بیش ایک کروڑ روپے کی لاگت کا اندازہ بتایا جاتا ہے۔ احباب سے التماس ہے کہ وہ اس سلسلے میں تعاون کے ساتھ ساتھ اس کی تکمیل اور آبادی کے لیے خصوصی دعاؤں کا بھی اہتمام کریں۔ گزشتہ روز رمضان المبارک کی ۲۹ویں شب کے موقع پر مدرسہ نصرۃ العلوم کی جامع مسجد نور میں تراویح کے دوران قرآن کریم مکمل ہونے پر حسب معمول احباب کے سامنے کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس سال تراویح میں قرآن کریم مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم کے سب سے چھوٹے فرزند مولانا حافظ محمد عرباض خان سواتی سلمہ (فاضل مدرسہ نصرۃ العلوم) نے سنایا اور ختم قرآن کریم کی تقریب سے مدرسہ کے مہتمم مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد ریاض خان سواتی کے علاوہ حسب سابق راقم الحروف نے بھی کچھ گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے، اس ماہ میں قرآن کریم نازل ہوا اور اسی میں قرآن کریم کی سب سے زیادہ تلاوت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہینہ میں قرآن کریم کی تلاوت و سماع اور دیگر اعمال خیر کی توفیق زیادہ دیتے ہیں، مواقع زیادہ مہیا فرماتے ہیں اور اجر و ثواب بھی کئی گنا زیادہ دیتے ہیں۔ تراویح میں قرآن کریم سنانے اور اور سننے کی اس سعادت پر برادر عزیز مولانا محمد عرباض خان سواتی سلمہ اور جامع مسجد نور کے نمازیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اس مناسبت سے قرآن کریم کے حوالے سے امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ کا ایک مکتوب گرامی آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے بصرہ کے عامل حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو لکھا تھا جس سے قرآن کریم کے بارے میں حضرت عمرؓ کے ذوق کا اندازہ ہوتا ہے اور رہنمائی اور سبق حاصل ہوتا ہے۔

حضرت امام بخاریؒ نے بخاری شریف میں قرآن کریم کے بارے میں حضرت عمرؓ کے ذوق کی دو باتوں کا بطور خاص تذکرہ کیا ہے:

  1. ایک یہ کہ ’’کان وقافا عند کتاب اللّٰہ‘‘ قرآن کریم کا حوالہ سامنے آنے پر وہ رک جایا کرتے تھے، یعنی قرآن کریم کا کوئی حکم سامنے آتا تو تھوڑی دیر رک کر اور توقف کر کے اس بات کا جائزہ لیتے تھے کہ قرآن کریم کا حکم کیا ہے اور اس کے بارے میں میرا عمل اور رویہ کیا ہے؟
    جبکہ دوسری بات امام بخاریؒ یہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی مجلس شوریٰ میں قرآن کریم کا علم رکھنے والوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی، خواہ وہ بزرگ ہوں یا نوجوان۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ان کی مشاورت کے حلقہ میں بڑے بڑے بزرگوں کے ساتھ ساتھ حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت حر بن قیسؓ جیسے نوجوان صحابہ بھی شامل تھے اور انہیں مشاورت میں بہت اہمیت دی جاتی تھی۔
  2. طبقات ابن سعدؓ میں روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ نے اپنے ایک مکتوب گرامی میں اسلامی سلطنت کے صوبائی عمّال کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں قرآن کریم کے حافظوں کی فہرست مرتب کر کے انہیں بھجوائیں تاکہ وہ ان کا بیت المال سے وظیفہ جاری کریں اور مختلف علاقوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے ان کا تقرر کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے قرآن کریم حفظ مکمل کرنے والے ہر شخص کے لیے اڑھائی ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کیا تھا۔ درہم چاندی کا سکہ تھا جس کا وزن ساڑھے تین ماشے بتایا جاتا ہے، اگر بازار میں چاندی کی قیمت تین سو روپے فی تولہ ہو تو آج کی کرنسی میں اس درہم کی قیمت پچھتر یا اسی روپے بنتی ہے جو امریکی ڈالر سے زیادہ ہے اور یورپی یونین کے یورو کے لگ بھگ ہے، سرسری اندازے میں پاکستانی کرنسی کے حساب سے یہ وظیفہ کم و بیش دو لاکھ روپے سالانہ بنتا ہے۔

یہ عالم اسلام میں حفاظ قرآن کریم کی تعداد کے بارے میں پہلا سروے تھا جس میں حافظوں کا شمار کیا گیا اور ان کی فہرستیں مرتب کی گئیں جبکہ مجھے امریکہ کے حالیہ کے سفر کے دوران مکی مسجد بروکلین نیویارک میں خطاب کے موقع پر اسلامک سوسائٹی نارتھ آف امریکہ (ISNA) کی ویب سائٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ تازہ ترین سروے کے مطابق دنیا میں اس وقت قرآن کریم کے حفاظ کی تعداد تیرہ ملین یعنی ایک کروڑ تیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، جو بلاشبہ آج کے دور میں جو ہم مسلمانوں کے زوال اور ادبار کا دور ہے، قرآن کریم کے اعجاز کا کھلا اظہار ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور بے نیازی ہے کہ ہم مسلمانوں کا حال دن بدن پتلا ہوتا جا رہا ہے اور ہمارا ہر آنے والا دن گزرنے والے دن سے بدتر ہوتا ہے لیکن اس دور میں قرآن کریم کا دائرہ دن بدن پھیلتا جا رہا ہے جو قرآن کریم کی حقانیت اور اعجاز کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے مکتوب گرامی کے جواب میں بصرہ کے عامل حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے انہیں بصرہ کے حفاظ کی فہرست بھجوائی جو تین سو حفاظ پر مشتمل تھی، اور حضرت عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور بصرہ کے حافظ قرآن مسلمانوں کے نام ایک مکتوب ارسال فرمایا جو دوسری بہت سی کتابوں کے علاوہ کنز الاعمال (ج ۱، ص ۲۱۷) میں بھی مذکور ہے اور اس کا ترجمہ و مفہوم یہ ہے:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

اللہ کے بندے عمر بن الخطابؓ کی طرف سے عبداللہ بن قیسؓ (ابو موسیٰ اشعری) اور حفاظ قرآن کے نام۔

السلام علیکم۔

  • واضح ہو کہ یہ قرآن کریم تمہارے لیے باعث اجر و ثواب ہونے والا ہے لہٰذا اس کی تعلیم پر عمل کرو اور اسے اپنے مقاصد کا آلۂ کار نہ بناؤ۔
  • جو قرآن کریم کو اپنا قائد و متبوع بنائے گا قرآن کریم اسے جنت کی سیر کرائے گا۔
  • قرآن کریم کو خدا کے حضور تمہارا سفارشی ہونا چاہئے نہ کہ تمہارے خلاف شکایت کرنے والا، کیونکہ قرآن جس کا سفارشی ہوگا وہ جنت میں جائے گا اور جس کے خلاف شکایت کرے گا وہ دوزخ میں جلے گا۔
  • جب خدا کا بندہ رات میں اٹھتا ہے اور مسواک کر کے وضو کرتا ہے، پھر تکبیر کہہ کر نماز پڑھتا ہے تو فرشتہ اس کا منہ چومتا ہے اور کہتا ہے کہ پڑھو پڑھو، تم پاک و صاف ہو گئے، قرآن کریم پڑھ کر تمہیں لطف آئے گا۔
  • قرآن کریم ہدایت کا سرچشمہ، علم کا پھول اور رحمن کا تازہ کلام ہے۔
  • اگر رات میں اٹھنے والا بغیر مسواک کے وضو کرتا ہے تو فرشتہ اس کی نگرانی تو کرتا ہے لیکن منہ نہیں چومتا۔
  • نماز میں قرآن پڑھنا ایسا ہے جیسے کسی کو چھپا ہوا خزانہ مل جائے اور مخفی دولت حاصل ہو جائے۔
  • قرآن کریم پڑھا کرو، نماز نور ہے، زکوٰۃ برہان ہے، صبر روشنی ہے، روزہ ڈھال ہے اور قرآن تمہارے بارے میں ایک دلیل ہے۔
  • قرآن کریم کا احترام کرو اور اس سے بے اعتنائی نہ برتو کیونکہ خدا اس کی عزت کرتا ہے جو قرآن کریم کی عزت کرتا ہے اور اس کو بے آبرو کر دیتا ہے جو قرآن کریم کی بے حرمتی کرتا ہے۔
  • جو شخص قرآن کریم پڑھے، اس کو یاد کرے اور پھر اس کے مطابق عمل کرے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے، دعا کرنے والا چاہے تو خدا دنیا میں اس کی دعا کو پورا کر دیتا ہے ورنہ اس کی مانگی ہوئی چیز آخرت کے لیے جمع ہو جاتی ہے۔
  • یاد رکھو خدا کا انعام بہترین اور ہمیشہ رہنے والا ہے اور یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو صاحب ایمان ہیں اور اپنے مالک پر بھروسہ کرتے ہیں۔

یہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطابؓ کے مکتوب گرامی کا خلاصہ ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کے حقوق کی طرف توجہ دلائی ہے اور ہمیں اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی تلقین کی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اس کے ساتھ ہی اپنے حالیہ سفر امریکہ کے حوالے سے اور ایک بات کی آپ حضرات کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ رمضان المبارک سے چند روز قبل نیویارک اسٹیٹ پولیس کے دو بڑے افسروں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا، اور جب ان سے ایک پریس کانفرنس میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہے اور اسے نسل انسانی کی رہنمائی کے لیے سب سے بہتر کتاب پایا ہے اور اس سے متاثر ہو کر وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ خبر جب میں نے پڑھی تو ذہن میں ایک سوال ابھرا جسے آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ان دو پولیس افسروں نے قرآن کریم کو ایک رہنما کتاب کے طور پر پڑھا اور انہیں رہنمائی مل گئی، مگر ہم ابھی تک قرآن کریم کو تبرک اور تعوّذ کی کتاب سمجھے ہوئے ہیں کہ اس کے پڑھنے سے اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ کاروبار میں برکت حاصل ہو گی اور گھر کے ماحول سے شیطانی اثرات دور ہوں گے۔ مجھے ان تینوں میں سے کسی بات سے بھی انکار نہیں ہے لیکن قرآن کریم کا اصل عنوان ’’ھدی للناس‘‘ اور ’’ھدی للمتقین‘‘ ہے جس کی طرف ہماری توجہ نہیں ہے، میرا ایمان ہے کہ جس دن ہم مسلمانوں نے بحیثیت امت قرآن کریم کو ہدایت اور رہنمائی کے لیے رہنما کتاب کے طور پر پڑھنے کا سلسلہ شروع کر دیا تو ہمارے سارے راستے سیدھے ہو جائیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یارب العالمین۔