اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹیں / کراچی کا فساد / ریڈیو اور ٹیلی ویژن / حنیف رامےصاحب کی نئی تجویز / پاور لومز کی صنعت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ مارچ ۱۹۷۸ء

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں قومی سیرت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ

’’حکومت اسلامی نظام کی ترویج کے ضمن میں ذمہ داریوں سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہوگی اور اس راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘ (نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۲ فروری ۱۹۷۸ء)

جنرل موصوف کا یہ عزم انتہائی مبارک اور خوش آئند ہے اور ہر نیک دل پاکستانی اس کا خیرمقدم کرے گا۔ مگر ہم اس سلسلہ میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو توجہ دلانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ جناب اپنے گردوپیش اور زیرکمان اس انتظامیہ پر بھی ایک نگاہ ڈال لیں جس کے آپ سربراہ ہیں، اور جو ملک میں کسی بھی قسم کی اصلاحات کو کامیاب یا ناکام بنانے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ ہمارے خیال میں سول انتظامیہ کا رویہ اور کارکردگی اپنے سربراہ اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عزائم اور خیالات سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے۔ کیونکہ جب تک انتظامیہ اپنے سربراہ کے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سابقہ روش اور طریقہ کار سے ہٹ کر انقلابی اور مشنری جذبہ سے کام نہیں کرے گی اس وقت تک اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اس لیے ہم چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سے گزارش کریں گے کہ دوسری رکاوٹوں کو دور کرنے اور رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے ساتھ اس سب سے بڑی اور مؤثر رکاوٹ پر بھی نظر رکھیں۔ اور اگر وہ اپنے نیک اور مبارک عزائم کو واقعی دائرۂ عمل میں لانا چاہتے ہیں تو اصلاحات کے نفاذ کو کامیاب یا ناکام بنانے والی قوت کو بھی اپنے عزائم کے ساتھ ہم آہنگ کریں تاکہ وہ اس نیک مقصد میں عملاً کامیاب ہو سکیں۔

کراچی کا فساد

جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مقدس دن کراچی میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہر شہری ان افراد کے غم میں رنجیدہ ہے جو شر پسند عناصر کی غنڈہ گردی کا شکار ہوگئے۔ تا دمِ تحریر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسے فرقہ وارانہ فساد کا نام دیا گیا ہے مگر قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ حالیہ تحریک اور انتخابی مہم میں مختلف مکاتب فکر کی طرف سے باہمی اتحاد و اتفاق اور اعتماد و رواداری کا جو مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے اس کے پیش نظر کسی اشتعال کے بغیر فرقہ وارانہ فساد کی بات کچھ قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی اور یہ یقیناً قومی وحدت اور مختلف مکاتب فکر کے اتحاد کو سبوتاژ کرنے کی کسی بیرونی سازش کی ایک کڑی ہے۔

مارشل لاء انتظامیہ نے کیس کی عدالتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اس لیے ہم اس موقع پر اس بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تاہم حکومت سے یہ ضرور گزارش کریں گے کہ جو لوگ ملک میں بد امنی اور لاقانونیت کو ہوا دینے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنا مناسب بات نہ ہوگی، اور اب تک کی کارروائیوں کے بعد ان لوگوں کو کسی مزید واردات کا موقع نہیں ملنا چاہیے کہ حکومت کی یہی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

ریڈیو اور ٹیلی ویژن

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے کہا ہے کہ ریڈیو اور ٹی وی سے شرپسندوں کو چن چن کر نکال دیا جائے گا۔ (نوائے وقت ۲۲ فروری ۱۹۷۸ء)۔ جنرل موصوف کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم صرف اتنا عرض کرنا چاہیں گے کہ ’’شرپسندی‘‘ کی حدود کا تعین حقیقت پسندی کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ شرپسندی کا تعلق صرف انتظامی مسائل سے نہیں بلکہ قومی ذرائع ابلاغ ہونے کی نسبت سے نظریاتی و اخلاقی پہلو بھی اس کے ضمن میں آتے ہیں۔ اور اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت میں قومی دولت سے چلنے والے ان دو قومی نشریاتی اداروں نے ملک میں فحاشی، عریانی، اخلاقی بے راہ روی، جنسی و رومانی ہیجان اور نظریاتی غیر یقینی کو ابھارنے میں اتنا ہمہ گیر کردار ادا کیا ہے کہ کوئی دشمن بھی کسی قوم کو اخلاقی و نظریاتی طور پر تباہ کرنے کی مہم اتنی تیزی سے نہیں چلاتا۔ اس لیے جنرل موصوف ریڈیو اور ٹی وی کو ’’شرپسندوں‘‘ سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ ’’شر پسندی‘‘ سے بھی بچانے کی سعی فرمائیں تاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے یہ دو قومی نشریاتی ادارے قوم کی نظریاتی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔

رامے صاحب کی نئی تجویز

مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر جناب محمد حنیف رامے نے بزعم خویش ملک کے مسائل کا یہ حل پیش کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر غیر جماعتی پارلیمانی نظام رائج کیا جائے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ تجویز پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اس کا واقعاتی پس منظر کیا ہے، ہم جناب رامے صاحب سے یہ عرض کریں گے کہ جناب اس ملک میں طویل نظریاتی و عملی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں آپ معاشرہ سے ان جماعتوں کو کس طرح بے دخل کر سکیں گے؟ کیونکہ ہم عملاً یہ تجربہ کر چکے ہیں کہ سابق صدر محمد ایوب خان نے قومی اسمبلی کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے مگر پہلے سیشن میں ہی غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہو کر آنے والے ارکان اپنے اپنے افکار و خیالات کے مطابق جماعتوں میں بٹ گئے اور صدر محمد ایوب خان کو سیاسی جماعتیں بحال کرنا پڑیں۔

یہ درست ہے کہ ملک میں سیاسی مسافروں کی کمی نہیں اور ہوا کا رخ بدلتے دیکھ کر جماعتیں تبدیل کرنے والے عناصر ابھی تک سیاست میں سرگرم ہیں۔ لیکن ملک میں ایسی جماعتیں بھی غیر مؤثر نہیں ہیں جنہیں نظریات اور پروگرام کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے اور غیر جماعتی نظام کی بنیاد پر انتخابات کے باوجود ان نظریاتی جماعتوں کو جماعتی کردار ادا کرنے سے محروم کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس لیے رامے صاحب سے بصد ادب گزارش ہے کہ وہ قومی سیاست کو بے مقصد بحثوں میں الجھانے سے گریز کریں کہ سیاست میں نمایاں ہونے کی یہ راہ نہ تو ہموار ہے اور نہ شارٹ کٹ۔

پاور لومز کی صنعت

بعض اطلاعات کے مطابق ملک میں برقی کھڈیوں کی صنعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے اور اس سے وابستہ ہزاروں مالکان اور لاکھوں مزدور پریشان ہیں کیونکہ برقی کھڈیوں کی مصنوعات کی معقول کھپت نہ ہونے کے باعث بیشتر کھڈیاں بند پڑی ہیں اور اس صنعت سے متعلق حضرات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برقی کھڈیوں کے تیار کردہ کپڑے کی کھپت کے لیے بیرون ملک مناسب منڈیاں تلاش کی جائیں۔

اس مطالبہ کی تائید کے ساتھ ہم مسئلہ کے اس پہلو کو بھی سامنے لانا چاہتے ہیں کہ ملک میں کچھ عرصہ سے غیر ملکی کپڑے او رمصنوعات کے استعمال کا جو وبائی رجحان پیدا ہوا ہے وہ بھی ملکی صنعت کے عدم استحکام کا ایک اہم سبب ہے۔ قومی مفاد کا تقاضہ یہ ہے کہ قوم میں سادگی، کفایت شعاری اور ملکی مصنوعات کو ترجیح دینے کے جذبات کو ابھارا جائے اور قومی سطح پر ایک منظم اور ہمہ گیر تحریک چلائی جائے تاکہ ملکی صنعت کے استحکام کے ساتھ ساتھ زائد مصارف اور محض فیشن پر صرف ہونے والی دولت برباد ہونے کی بجائے کسی مفید قومی مقصد پر خرچ ہو سکے، کیونکہ ہم اس وقت اقتصادی طور پر جس حالت سے گزر رہے ہیں اس میں ملک فیشن پرستی کی عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔