عدالتِ شرعیہ کا کنونشن

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ اپریل ۱۹۷۶ء
اصل عنوان: 
عدالت شرعیہ کا کنونشن اور مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ۔ اہم تجویزیں، اہم فیصلے

گزشتہ ہفتہ لاہور کے دینی و سیاسی حلقوں میں خاصی گہماگہمی رہی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند کی تشریف آوری اور ماہنامہ الرشید کے ’’دارالعلوم دیوبند نمبر‘‘ کی افتتاحی تقریب سے اس گہماگہمی کا آغاز ہوا۔ اور جمعیۃ علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس اور شرعی عدالتوں کے دو روزہ کنونشن کے بعد قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کی پریس کانفرنس تک یہ سرگرمیاں جاری رہیں۔

جمعیۃ علماء اسلام کے زیراہتمام شرعی عدالتوں کے قاضیوں کا دو روزہ کنونشن گزشتہ روز مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہوا جس میں مرکزی قاضی القضاۃ مولانا مفتی محمود، قاضی مولانا عبد الکریم بیر شریف، قاضی مولانا محمد سرفراز خان صفدر گوجرانوالہ، صوبہ پنجاب کے قاضی القضاۃ مولانا مفتی محمد عبد اللہ ملتان، قاضی مولانا عبد القیوم گوجرانوالہ، قاضی مولانا عبد القدیر لائلپور، صوبہ سندھ کے قاضی القضاۃ مولانا احمد الرحمان کراچی، قاضی مولانا قطب الدین صاحب ہالیجی شریف، صوبہ سرحد کے قاضی القضاۃ مولانا سید محمد ایوب جان بنوری پشاور، صوبہ بلوچستان کے قاضی القضاۃ مولانا عبد الغفور کوئٹہ اور قاضی مولانا ابوبکر خضدار کے علاوہ چاروں صوبوں سے ضلعی قضاۃ نے شرکت کی۔ اور عدالت عالیہ شرعیہ پنجاب کی خصوصی دعوت پر آزادکشمیر کے ممتاز عالم دین مولانا مفتی عبد المتین سابق قاضی ضلع پونچھ، پنجاب ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب سید ریاض الحسن گیلانی، جناب قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ، جناب چوہدری قادر بخش ایڈووکیٹ اور جناب رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ بھی کنونشن میں شریک ہوئے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت مرکزی قاضی مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اور باقی نشستوں کی صدارت قاضی القضاۃ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے فرمائی۔

مولانا مفتی محمود کا خطاب

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی محمود نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء اسلام نے شرعی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ مجبورًا کیا ہے۔ کیونکہ اٹھائیس سال سے ہم انتظار کر رہے تھے کہ قیامِ پاکستان کے مقصد کو پورا کرتے ہوئے یہاں شرعی قوانین عمل میں لائے جائیں گے لیکن یہاں عوام، علماء اور تمام طبقوں کی دلی خواہش کے باوجود ایک اقلیتی گروہ ملک میں فرنگی نظام کو نافذ رکھے ہوئے ہے۔ اور وہ گروہ اسلام کے عادلانہ نظام و قوانین میں صرف اس لیے رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے کہ اسلامی قوانین کے اجراء سے خود اس طبقہ کے مفادات خطرہ میں پڑ جائیں گے۔ لیکن ہم اب زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتے اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک مروجہ عدالتوں میں شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہیں آتا ہم اپنے طور پر شرعی عدالتوں کا نظام قائم کریں گے اور جہاں تک ہمارے بس میں ہوا شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں لائیں گے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ حکومت مسلسل ٹال مٹول سے کام لے کر اسلامی قوانین پر عملدرآمد کو مؤخر کر رہی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کے بارے میں جو سوالنامہ جاری کیا ہے وہ ٹال مٹول اس پالیسی کا حصہ ہے۔ ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب حکومت کو اپنی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کوئی بل منظور کرانا چاہتی ہے تو اپوزیشن کے جائز اعتراضات کی بھی پروا نہیں کرتی بلکہ اپوزیشن کے ارکان کو جبرًا باہر دھکیل کر تئیس منٹ میں آئین میں ترمیم کا بل منظور کروا لیتی ہے لیکن اسلام کے معاملات میں ٹال مٹول اور سوالناموں کا سہارا لیتی ہے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ دراصل بعض ملحد عناصر سود کی تجارتی و غیر تجارتی تقسیم کر کے بینکوں کے سود کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکن ہے بعض فتویٰ فروش قسم کے لوگ حکومت کی اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کریں لیکن علماء حق اس قسم کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مفتی صاحب نے تمام قضاۃ کو تلقین کی ہے کہ وہ بزرگانِ دین اور اسلاف کرام کے مقدس طرزِ عمل کو سامنے رکھیں اور منصب قضاء کی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں تاکہ ان کا کردار اور قوت فیصلہ ملک میں اسلامی قوانین کی ترویج اور علماء کی نیک نامی کا باعث بنے۔

سید ریاض الحسن گیلانی کا خطاب

پنجاب ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب سید ریاض الحسن گیلانی نے کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلہ کو سراہا اور کہا کہ علماء کرام نے یہ تاریخی فیصلہ کر کے ایک اہم ملی فریضہ کی تکمیل کی طرف قدم اٹھایا ہے اور ہم سب اس فرض کی ادائیگی میں آپ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فرنگی زدہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلامی قوانین پر آج عمل نہیں ہو سکتا کیونکہ ترقی کا دور ہے، آج ہوائی جہاز اور ایٹم بم کا زمانہ ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ جب ہندوستان میں فتاویٰ عالمگیری کو منسوخ کر کے فرنگی قوانین کو نافذ کیا گیا تھا کیا اس وقت ترقی کی موجودہ شکل تھی؟ کیا اس لحاظ سے موجودہ قوانین بھی غیر ترقی یافتہ دور کی علامت نہیں جو ترقی یافتہ دور میں چل رہے ہیں؟ اگر فرنگی قوانین ترقی کے باوجود اب تک چل رہے ہیں تو اسلامی قوانین پر عملدرآمد میں کیا رکاوٹ ہے؟

گیلانی صاحب نے کہا کہ اسلامی قوانین ہی دنیا میں سب سے برتر قوانین ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر نہ کوئی دانشمند ہے نہ مدبر، نہ کوئی انسانی مسائل کو جاننے والا ہے اور نہ حل کرنے والا۔ اس لیے خدائی قوانین کے مقابلے میں دنیا کے سارے قوانین ہیچ ہیں اور اسلامی قوانین کا نظام ہی ملک میں اصلاح و فلاح کا ضامن ہو سکتا ہے۔

گیلانی صاحب نے کہا کہ آج اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی ہے تاکہ فرنگی قوانین کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا جائے، میں پوچھتا ہوں کہ جب انگریز نے فتاویٰ عالمگیری کی جگہ اپنے قوانین نافذ کیے تھے تو کونسی نظریاتی کونسل قائم کی تھی؟ اس نے تو فتاویٰ عالمگیری کو یکسر منسوخ کر کے اپنے پورے قانونی نظام کو لاگو کر دیا تھا۔ اسلام کو کفر کے سانچے میں یا کفر کو اسلام کے سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا کیونکہ اسلام اور کفر ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ان میں کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔

گیلانی صاحب نے کہا کہ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ اسلامی قوانین کی ترتیب و تدوین میں وقت لگے گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بات بھی غلط ہے، ہمارے پاس عظیم الشان فقہی ذخیرہ کی صورت میں اسلامی قوانین مرتب و مدون موجود ہیں، ہمارے پاس ہدایہ ہے، مبسوط ہے، عالمگیری ہے اور دوسری کتابیں ہیں جن میں اسلامی قوانین پوری طرح مدون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی قوانین پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اس کے لیے کسی کے حکم کی ضرورت نہیں۔ جس طرح نماز پڑھنے کے لیے کسی کا حکم درکار نہیں اسی طرح اسلامی قوانین کے لیے بھی کسی کا حکم درکار نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں، اس لیے ہم اسلامی قوانین پر عمل کے پابند ہیں او رہمیں اس فرض کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔

گیلانی صاحب نے کہا کہ اس سے قبل بھی مسلمان علاقوں پر غیر مسلموں نے قبضہ کیا تھا لیکن مسلمانوں کے فیصلے کبھی کافر قوم کے قوانین کے مطابق نہیں ہوتے تھے بلکہ مسلمانوں نے ہر دور میں، خواہ غلبے کا ہو یا غلامی کا، قرآن و سنت کے قوانین کے مطابق ہی اپنے فیصلے کیے ہیں۔ صرف انگریز کے دور میں مسلمانوں کو اس قدر پابند کر دیا گیا کہ ان کے فیصلے قرآن و سنت کے بجائے فرنگی قوانین کے تحت ہونے لگے اور آج فرنگی کے چلے جانے کے باوجود فرنگی زدہ افراد کی وجہ سے یہ کافرانہ قوانین ہم پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے وقت کی اس ضرورت کا احساس کیا ہے اور شرعی قوانین کے نفاذ کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ آپ کا فیصلہ بہت پیارا، بروقت اور قابل تحسین ہے اور اس سلسلے میں آپ کو ہمارا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔

کنونشن سے مولانا محمد ایوب جان بنوری، مولانا مفتی احمد الرحمان، مولانا مفتی محمد عبد اللہ، مولانا عبد الحئی، قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ، چوہدری خدا بخش ایڈووکیٹ اور جناب رشید مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

عدالتِ شرعیہ کا طریق کار

کنونشن میں مولانا محمد ایوب جان بنوری، مولانا مفتی محمد عبد اللہ، مولانا احمد الرحمان، مولانا مفتی عبد المتین، مولانا محمد انور شاہ، سید ریاض الحسن گیلانی، جناب قاضی محمد سلیم ایڈووکیٹ اور جناب قادر بخش ایڈووکیٹ پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جس نے طریق کار کا خاکہ تجویز کر کے دوسری نشست میں پیش کیا جو بعض ترمیمات کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔

کنونشن میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سوالنامہ کا جواب لکھنے کے لیے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی احمد الرحمان، اور مولانا مفتی ولی حسن پر مشتمل کمیٹی تجویز کی گئی اور رات ساڑھے گیارہ بجے دعا پر کنونشن بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔