انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء
اصل عنوان: 
انسانی حقوق کے ماتم کا عالمی دن

آج جبکہ میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں دس دسمبر ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں آج کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کی منظوری دی تھی جسے آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون کا درجہ حاصل ہے۔ اس چارٹر پر کم و بیش تمام ممالک نے دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے، اس کے تحت بین الاقوامی ادارے کام کر رہے ہیں، اس کی خلاف ورزی پر بہت سے ملکوں کو چارج شیٹ کیا جاتا ہے، سالانہ رپورٹیں جاری ہوتی ہیں، دنیا بھر کے ممالک کی صورتحال کا انسانی حقوق کے اس چارٹر کے حوالہ سے جائزہ لیا جاتا ہے، خلاف ورزی کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی ہوتی ہے، متعلقہ حکومتوں کو توجہ دلائی جاتی ہے، ان پر خلاف ورزی روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، خلاف ورزی پر اڑ جانے والوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے، اقتصادی بائیکاٹ کی نوبت آتی ہے، ناکہ بندی کا مرحلہ پیش آتا ہے، اور جہاں اقوام متحدہ کے اصل چودھریوں کی مرضی اور مفاد کا معاملہ ہو فوج کشی سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اور حکومتوں کو طاقت کے بل پر گرانے اور ان کے ساتھ ان ملکوں کے غریب عوام پر ڈیزی کٹر برسانے کا شوق بھی پورا کر لیا جاتا ہے۔ ایک عالمی عدالت موجود ہے جہاں ملکوں اور قوموں کے درمیان ہونے والے تنازعات فیصلے کے لیے لائے جاتے ہیں، عدالت فیصلے کرتی ہے اور جو فیصلے اقوام متحدہ کے چودھریوں کی مرضی کے مطابق ہوں ان پر عملدرآمد کا اہتمام بھی ہو جاتا ہے۔ ایک جنرل اسمبلی بھی قائم ہے جس کا اجلاس سال میں ایک دفعہ ہوتا ہے، مختلف ممالک کے سربراہ اور نمائندے آکر جنرل اسمبلی میں اپنی اپنی بھڑاس نکالتے ہیں، مسائل پیش کرتے ہیں، ان پر بحث ہوتی ہے اور قراردادیں بھی پاس ہو جاتی ہیں جن میں سے کسی پر سلامتی کونسل کی صوابدید اور مرضی سے عمل کی صورت بھی نکل آتی ہے۔

اقوام متحدہ میں فیصلوں کی اصل اتھارٹی سلامتی کونسل ہے جس کے پانچ مستقل ارکان ہیں: امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس۔ انہیں ویٹو پاور حاصل ہے کہ بین الاقوامی سطح کا کوئی فیصلہ ان پانچ کی مرضی کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی قرارداد اور فیصلے کو ان میں سے کوئی بھی ویٹو کر سکتا ہے اور اس ویٹو کے بعد اس قرارداد یا فیصلے کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔ ان کے علاوہ دس غیر مستقل ارکان ہیں جو باری باری مختلف براعظموں سے دو دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، انہیں ووٹ کا حق حاصل ہے، سلامتی کونسل میں کسی مسئلہ پر بحث کرنے اور کوئی مسئلہ پیش کرنے کا حق حاصل حاصل ہے لیکن یہ دونوں حق اس وقت اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں جب پانچ بڑے چودھریوں میں سے کوئی ایک ویٹو کے لیے ہاتھ کھڑا کر دے۔ اس طرح عملاً اقوام متحدہ کو دنیا کی عالمی حکومت کا مقام حاصل ہے اور یہ ان پانچ ملکوں کی مرضی، مفاد اور صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کس چیز کو جائز قرار دیں اور کس کو ناجائز کا درجہ دے دیں۔ قوموں، ملکوں اور افراد کا کون سا حق تسلیم کریں اور کس حق پر خط تنسیخ کھینچ دیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۰ دسمبر ۱۹۴۸ء کو تیس نکات پر مشتمل انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظوری دیتے ہوئے تمہید میں ان کے مندرجہ ذیل مقاصد بیان کیے تھے کہ:

  • چونکہ ہر انسان کی ذاتی عزت اور حرمت اور انسانوں کے مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔
  • چونکہ انسانی حقوق سے لاپروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمے پہنچے ہیں اور عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔
  • چونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی حقوق کو قانون کی عملداری کے ذریعے محفوظ رکھا جائے، اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ انسان عاجز آکر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہوں۔
  • چونکہ اقوام متحدہ کی ممبر قوموں نے اپنے چارٹر میں بنیادی انسانی حقوق، انسانی شخصیت کے حرمت اور قدر، اور مردوں اور عورتوں کے مساوی حقوق کے بارے میں اپنے عقیدے کی دوبارہ تصدیق کر دی ہے، اور وسیع تر آزادی کی فضا میں معاشرتی ترقی کو تقویت دینے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔
  • چونکہ ممبر ملکوں نے یہ عہد کر لیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اشتراک عمل سے ساری دنیا میں اصولاً اور عملاً انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے۔
  • چونکہ اس عہد کی تکمیل کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ ان حقوق اور آزادیوں کی نوعیت کو سب سمجھ سکیں۔

جنرل اسمبلی یہ اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصول مقصد کا مشترک معیار ہوگا تاکہ ہر فرد اور معاشرے کا ہر ادارہ اس منشور کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ان حقوق اور آزادیوں کا احترام پیدا کرے اور انہیں قومی اور بین الاقوامی کارروائیوں کے ذریعے ممبر ملکوں میں اور ان قوموں میں جو ممبر ملکوں کے ماتحت ہوں، منوانے کے لیے بتدریج کوشش کر سکے۔‘‘

مگر آج چھپن سال کے بعد جب انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو دنیا کی صورتحال پر اور بڑھتی ہوئی عالمی کشمکش پر ایک نظر ڈال لیں کہ ۱۹۴۵ء میں قائم ہونے والی اقوام متحدہ اور ۱۹۴۸ء میں منظور ہونے والے انسانی حقوق کے عالمی منشور نے دنیا کے تنازعات میں کس حد تک کمی کی ہے اور دنیا کی اس وقت موجودہ چھ ارب کی آبادی کی اکثریت کو کون سے حقوق دلوائے ہیں؟

اسلام آباد میں امریکی سفیر جناب رائن سی کروکر نے ایک مطبوعہ مضمون میں انسانی حقوق کی منظوری کو امریکہ کا کارنامہ قرار دیا ہے اور اس کے لیے کوشش کرنے والے امریکی صدر آنجہانی روز ویلٹ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ لیکن امریکہ اور مغرب سے ہٹ کر دوسری دنیا کے عوام کے انسانی حقوق کے معاملہ میں خود امریکہ کا طرزعمل کیا ہے، اس پر روشنی ڈالنے کی انہوں نے ضرورت محسوس نہیں کی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے انسانی حقوق کے حوالہ سے امریکی کردار کے بارے میں گزشتہ پانچ سال کے دوران جو رپورٹیں دی ہیں صرف انہی کو سامنے رکھ لیا جائے تو امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اور زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں اسی مضمون میں امریکہ کے سفیر محترم نے پاکستان میں وردی اور صدارت کو ۲۰۰۷ء تک یکجا رکھنے کے لیے جو سند جواز فراہم کی ہے اسی سے امریکہ کے اس دوہرے معیار کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ جو امریکہ اپنے ملک میں کسی بھی سیاسی منصب کے ساتھ فوجی وردی کو ایک لمحہ کے لیے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے وہ پاکستان میں اسے نہ صرف قبول کرنے، اس کی حوصلہ افزائی کرنے اور اسے مزید تین سال کے لیے جاری رکھنے کی تجویز پیش کر رہا ہے۔

انسانی برادری اور اس کے ممالک و اقوام کے درمیان مساوات کا جو نعرہ اقوام متحدہ نے ساٹھ برس قبل لگایا تھا اس کا خود اقوام متحدہ کے باضابطہ فیصلوں کے مطابق حال یہ ہے کہ بالادست پانچ ممالک کسی دلیل یا منطق کے بغیر صرف اپنے مفاد اور صوابدید کی بنیاد پر اقوام عالم کے کسی بھی متفقہ فیصلہ کو رد سکتے ہیں۔ اگر اس کا نام اقوام و ممالک کے درمیان مساوات اور انصاف ہے تو عدل، انصاف، مساوات، جبر، دھونس، نا انصافی اور ہٹ دھرمی جیسے الفاظ کے لیے لغت میں نئے معانی کا تعین کرنا ہوگا۔

غریب اور امیر کے درمیان فرق ختم کرنے اور دنیا کے تمام انسانوں کو مساوی حقوق فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے دعوؤں کا بھانڈا خود اس کی اپنی جاری کردہ اس رپورٹ نے پھوڑ دیا ہے جو آج کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے کہا ہے کہ ۸ سال پہلے کیے گئے اس وعدہ کے باوجود کہ دنیا میں ۲۰۱۵ء تک خوراک کی قلت کو آدھا کر دیا جائے گا ہر ۵ سیکنڈ کے بعد ایک بچہ بھوک سے مر جاتا ہے۔ ادارے کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھوک کی وجہ سے ہر سال ۵۰ لاکھ بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت کو اقوام متحدہ خوراک کی کمی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتی رہتی ہے حالانکہ اس کی اصل وجہ خوراک کی قلت نہیں بلکہ وسائل دولت کی غلط اور غیر منصفانہ تقسیم ہے جس نے دنیا کی ایک بڑی آبادی کو غربت اور فقر و فاقہ کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے۔ لیکن چونکہ اقوام متحدہ کے بڑے چودھری خود اس غیر منصفانہ تقسیم کا سب سے بڑا کردار ہیں اس لیے اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک کو اس کے تذکرہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور وہ اس مسئلہ کا کوئی حل پیش کرنے کی بجائے اپنی مذکورہ رپورٹ میں صرف یہ کہہ کر رہ گیا ہے کہ امیر مالک کو چاہیے کہ اس سلسلہ میں مزید کام کریں۔

اسلامی دنیا کے ساتھ مغربی دنیا کا جو طرزعمل ہے اور اسلام کو جس طرح معاندانہ پروپیگنڈا اور رویہ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کا اعتراف خود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کھلے بندوں کیا ہے۔ لیکن جناب کوفی عنان ہی سے پوچھ لیا جائے کہ کیا اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کے کسی با اختیار ادارے میں باضابطہ طور پر ڈسکس کیا جا سکتا ہے تو وہ نفی میں سر ہلا کر رہ جائیں گے۔ طاقت کے سامنے اقوام متحدہ کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ سے پوچھے بغیر جھوٹے الزامات کی بنیاد پر عراق پر حملہ کر دیا اور ہزاروں شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے علاوہ عراق کی دنیا میں باضابطہ طور پر تسلیم کی جانے والی حکومت کو طاقت کے بل پر ختم کر دیا ہے مگر اقوام متحدہ امریکہ کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے اسی کے پیچھے چلے جا رہی ہے۔ جبکہ اسرائیل کھلم کھلا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی دھجیاں بکھیر رہا ہے مگر اقوام متحدہ نے دھیان دوسری طرف کر رکھا ہے۔

فلسطین کا مسئلہ ہو، کشمیر کا تنازع ہو، عالم اسلام کی مسلسل حق تلفی بلکہ کردار کشی اور اہانت کا مسئلہ ہو، غریب ممالک کی معاشی بحالی کا سوال ہو، آمریتوں کے مسلسل جبر کا شکا رہونے والے مختلف ممالک کے شہریوں کے سیاسی حقوق کی بات ہو، یا دنیا کے معاشی وسائل پر چند ملکوں کے قبضہ اور اجارہ داری کا سوال ہو۔ ان سب مسائل میں اقوام متحدہ بڑی طاقتوں بالخصوص امریکہ کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے، چنانچہ اس کا انسانی حقوق کا یہ چارٹر عملاً محض ایک ہتھیار ہے جس کا رخ غریب اقوام اور مسلم ممالک کی طرف ہو تو ڈیزی کٹر کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور امیر اور بالادست اقوام کی طرف اسے دیکھنا پڑ جائے تو اس کی دھار کند ہو جاتی ہے۔

ان حالات میں ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ آج کا دن انسانی حقوق کے چارٹر کے لیے یادگار دن تو ہے لیکن یہ اس کی منظوری پر خوشی منانے کا نہیں بلکہ اس کی پامالی اور بے حرمتی پر ماتم کرنے کا دن ہے۔ دنیا پر چند ملکوں کی اجارہ داری کا ماتم، غریب ممالک و اقوام کی بے بسی کا ماتم، عالم اسلام کے مسلسل استحصال کا ماتم، دنیا کے معاشی وسائل پر چند ملکوں کے قبضے کا ماتم، مسلم دنیا میں ہر طرف بکھری لاشوں کا ماتم، دنیا میں ہر طرف بھوک سے بلکتے اور تڑپتے انسانوں کا ماتم اور آمریتوں کے جبر تلے کراہتے ہوئے شہریوں کے سیاسی حقوق کا ماتم۔ معروضی حالات میں اس ماتم اور مرثیہ کے سوا اقوام متحدہ کے دامن میں اور رہ بھی کیا گیا ہے؟

درجہ بندی: