غیر جماعتی انتخابات اور سیاسی جماعتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اگست ۱۹۸۸ء

صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے عام انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد کرانے کے اعلان سے مایوسی اور تذبذب کی جو فضا ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں پیدا ہوگئی ہے اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی بھرپور شرکت کے امکانات پر شک و شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے بلکہ بعض حلقے سرے سے عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں ہی بے یقینی کا شکار ہوگئے ہیں۔

۱۹۸۵ء کے عام انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے جانے کے بعد حکومت کی طرف سے تسلسل کے ساتھ اس ارادہ کا اظہار کیا گیا تھا کہ آئندہ عام انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ بالخصوص سپریم کورٹ کی طرف سے سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کے قانون کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد یہ بات یقینی سمجھی جا رہی تھی کہ انتخابات بہرحال جماعتی بنیادوں پر ہوں گے مگر اچانک غیر جماعتی انتخابات کے اعلان نے جمہوری عمل کی مکمل بحالی کی طرف محسوس کی جانے والی اس پیش رفت کی نفی کر دی ہے اور قوم کو ایک بار پھر سیاسی تذبذب اور بے یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی طرف سے غیر جماعتی انتخابات کے خلاف جس اجتماعی ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ بالکل منطقی اور برحق ہے اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سیاسی جماعتوں کے اجتماعی ردعمل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ مہم کی صورت میں اس کی حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں جذبات اور جوش سے زیادہ تحمل اور تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں سیاسی جماعتوں کو نہ تو ایسی صورتحال پیدا کرنی چاہیے جس کا نتیجہ ایک نئے مارشل لاء کی صورت میں سامنے آسکتا ہو، اور نہ ہی انتخابات کے بائیکاٹ کی راہ اختیار کر کے ضیاء حکومت کو یہ موقع فراہم کرنا چاہیے کہ وہ انتخابات کے نام سے اپنی مرضی کا کوئی اور ٹولہ عوام پر مسلط کر سکے۔ انتخابات جیسے بھی ہوں بہرحال حصہ لینا ہی سیاسی جماعتوں بلکہ ملک اور عوام کے مفاد میں ہے کیونکہ اس طرح چوتھے مارشل لاء کے امکانات اور ایک نیم جمہوری حکومت کے تسلط کو روکا جا سکتا ہے۔