بھٹو صاحب! مذاکرات کس بات پر؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ وہ قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ مذاکرات اور بات چیت کی دعوت بظاہر بڑی خوشنما ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس مسئلہ پر ہوں گے؟

قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان اصل مابہ النزاع مسئلہ قومی اسمبلی کے انتخابات کا ہے جو سات مارچ کو منعقد ہوئے اور جن میں اس قدر وسیع پیمانے پر دھاندلیاں ہوئیں کہ نہ صرف قومی اتحاد بلکہ چاروں صوبوں کی ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور دو سابق ججوں جناب بشیر الدین احمد اور جناب بدیع الزمان کیکاؤس کی رائے کے مطابق جزوی تحقیقات یا انتخابی ٹربیونل کے قیام سے ان دھاندلیوں کا مداوا نہیں ہو سکتا اور اس کا حل صرف یہ ہے کہ وزیراعظم مستعفی ہوں، الیکشن کمیشن کی ازسرنو تنظیم کی جائے اور عدلیہ و فوج کی نگرانی میں نئے سرے سے الیکشن کرائے جائیں۔

دوسری طرف جناب ذوالفقار علی بھٹو کا موقف یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے الیکشن کا معاملہ طے شدہ ہے اس پر گفتگو نہیں ہو سکتی اور نہ ہی دوبارہ الیکشن کرائے جا سکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ دوسرے امور پر وہ قومی اتحاد سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات کسی بھی ذی شعور کی سمجھ سے بالاتر ہے جب مسٹر بھٹو کے نزدیک قومی اسمبلی کے الیکشن کا مسئلہ طے شدہ ہے اور قومی اتحاد کے نزدیک اصل مابہ النزاع ہی قومی اسمبلی کا الیکشن ہے تو مسٹر بھٹو قومی اتحاد کے ساتھ آخر کس موضوع پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں؟

اس صورتحال کے پیش نظر یہ بات بھی توجہ کے قابل ہے کہ مذاکرات سے عملی انکار قومی اتحاد کی جانب سے نہیں بلکہ مسٹر بھٹو کی طرف سے ہے، آخر اصل مسئلہ کو ایجنڈا سے خارج کر کے مذاکرات کی دعوت دینا بات چیت سے انکار نہیں تو اور کیا ہے؟