آزادانہ بحث ومباحثہ اور ماہنامہ الشریعہ کی پالیسی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۱ء

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ہمارے قابل احترام دوست ہیں، تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے ایک عرصے سے سرگرم عمل ہیں، ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے اور دینی حمیت کو بیدار رکھنے کے لیے مسلسل تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے موقر جریدہ ’’البرہان‘‘ کا اکتوبر ۲۰۱۱ء کا شمارہ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار وخیالات پر نقد وجرح کے لیے مخصوص کیا ہے اور اس ضمن میں راقم الحروف، ماہنامہ ’الشریعہ‘ اور عزیزم عمار خان ناصر سلمہ پر بھی کرم فرمائی کی ہے جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔

ڈاکٹر صاحب محترم کے دینی معاملات میں عزم وجذبہ کا میں پہلے سے ہی معترف ہوں، مگر اب ان کی ایک اور صلاحیت سے آگاہی حاصل کر کے بہرحال مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ وہ ایک اچھے ’’مناظر‘‘ بھی ہیں اور مناظرانہ داؤ پیچ استعمال کرنے پر خوب قدرت رکھتے ہیں۔ انھیں شکوہ ہے کہ:

  • ’الشریعہ‘ غامدی صاحب کے افکار کی اشاعت کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
  • ’الشریعہ‘ کی آزادانہ مکالمہ اور بحث ومباحثہ کی پالیسی ان کے خیال میں ضرورت سے زیادہ ’آزادانہ‘ ہے۔
  • جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں راقم الحروف کا موقف واضح نہیں ہے۔
  • میرا بیٹا اور ’الشریعہ‘ کا مدیر حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ جاوید غامدی صاحب کے افکار کا مبلغ ہے اور اس کے باوجود میں نے اسے ’الشریعہ‘ کے مدیر کے طور پر برقرار رکھا ہوا ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ان شکووں کا تھوڑا سا جائزہ لے لیا جائے کہ شکوہ کرنا ان کا حق ہے اور اس پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ’الشریعہ‘ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار کی اشاعت کے لیے استعمال ہو رہا ہے تو یہ بات خلاف واقعہ ہے، اس لیے کہ ’الشریعہ‘ کی فائل گواہ ہے کہ اس میں غامدی صاحب کے افکار پر تنقید کے حوالے سے بھی بیسیوں مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں سے کم وبیش ایک درجن مضامین خود میرے ہیں جن میں غامدی صاحب کے افکار کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور ان پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ قارئین گزشتہ چند سالوں کی فائل پر ایک نظر ڈال کر خود دیکھ سکتے ہیں کہ غامدی صاحب کے افکار کے حوالے سے ’الشریعہ‘ میں بحث ومباحثہ کا آغاز بنیادی طور پر ان کے افکار پر تنقیدی مضامین سے ہوا ہے جبکہ غامدی صاحب کے حلقہ فکر کی طرف سے موصول ہونے والے مضامین محض جوابی طو رپر ’الشریعہ‘ کی اس پالیسی کے تحت شائع کیے گئے ہیں کہ مباحثہ کے دونوں فریقوں کو اپنا موقف اور استدلال واضح کرنے کا حق حاصل ہے اور قارئین تک دونوں اطراف کا نقطہ نظر براہ راست پہنچنا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی موقف کے وزنی یا کمزور ہونے کا فیصلہ خود کر سکیں۔

ڈاکٹر صاحب محترم کو ’الشریعہ‘ میں آزادانہ مباحثہ کی پالیسی پر شکوہ ہے اور وہ اسے آزادی کے مغربی فکر کے مترادف قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ’الشریعہ‘ کی پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ’البرہان‘ کے اسی شمارے میں وہ خود راقم الحروف کی یہ گزارش نقل کر چکے ہیں کہ:

’’راقم الحروف کے نزدیک اسلامی قوانین واحکام کی تعبیر وتشریح کے لیے صحیح، قابل عمل اور متوازن راستہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کے دائرہ کی، بہرحال پابندی کی جائے۔‘‘

’’مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے، میں ان کے دکھ اور مشکلات کو سمجھتا ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ امت کے اجماعی تعامل اور اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی مسلمات کا دائرہ کراس نہ ہو، کیونکہ اس دائرے سے آگے بہرحال گمراہی کی سلطنت شروع ہو جاتی ہے۔‘‘

میں فی الواقع یہ بات نہیں سمجھ پایا کہ راقم الحروف کی یہ گزارش نقل کرنے کے بعد بھی اگر ڈاکٹر صاحب موصوف کو ’الشریعہ‘ کی آزادانہ مباحثہ کی پالیسی پر اعتراض ہے تو ان کے اس اعتراض اور اس تجمد کے درمیان کیا فرق باقی رہ جاتا ہے جس کا رونا خود ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں پورے خلوص کے ساتھ رویا ہے۔

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی ایک شکایت یہ ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں راقم الحروف کا موقف پوری طرح واضح نہیں ہے، جبکہ میں اس پر خود ان سے اس شکوے کا حق رکھتا ہوں کہ انھوں نے یہ رائے غامدی صاحب کے بارے میں میرے مضامین پڑھے بغیر قائم کر لی ہے، حتیٰ کہ ’’جناب جاوید احمد غامدی کے حلقہ فکر کے ساتھ ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ کے عنوان سے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب میں انھیں صرف دو مختصر عبارتیں دکھائی دی ہیں جن کا انھوں نے اپنے مضامین میں حوالہ دیا ہے، مگر ان گیارہ مضامین کو دیکھنے کا انھیں موقع نہیں مل سکا جو ستر سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں اور جن میں غامدی صاحب کے افکار وخیالات پر علمی نقد کیا گیا ہے، جبکہ ان کے بارے میں محترم نعیم صدیقی صاحب مرحوم کا تبصرہ بھی ان کے مکتوب گرامی کی صورت میں اسی کتاب میں موجود ہے جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ:

’’میں نے آپ کی جرات مندی کو سراہا کہ اکیلے میدان میں اترے اور دوسری طرف سے تین چار نوجوانوں کا جتھا آپ کے پیچھے لگ گیا، مگر کہیں خم آپ نے بھی نہیں کھایا۔ بے اختیار میرا جی چاہا کہ میں آپ کی مدد کو نکلوں، مگر کم علم الگ، میری صحت کی کشتی گرداب میں ہے۔‘‘

ڈاکٹر محمد امین صاحب میرے قابل صد احترام بھائی، دوست اور دینی معاملات میں رفیق کار ہیں۔ مجھے ان سے اس یک طرفہ طرز عمل کی ہرگز توقع نہیں تھی، اس لیے میں اس حوالے سے مزید کچھ عرض کرنے سے پہلے انھیں مشورہ دوں گاکہ وہ ’الشریعہ‘ میں غامدی صاحب کے حوالے سے شائع ہونے والے میرے مضامین کا، جو ’’ایک علمی وفکری مکالمہ‘‘ میں موجود ہیں، ایک بار پورا مطالعہ کر لیں۔ اس کے بعد غامدی صاحب کے بارے میں میرے موقف کی مزید وضاحت کا تقاضا کریں۔ البتہ اس کتاب پر اپنے ہی تحریر کردہ پیش لفظ کا ایک اقتباس سردست نقل کر رہا ہوں:

’’غامدی صاحب نے جس انداز سے دین کی بنیادی اصطلاحات کی تشکیل نو کی ہے اور اصطلاحات کے الفاظ کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے مفہوم ومصداق کے حوالے سے جو نیا تانا بانا بنا ہے، وہ اجتہاد اور تجدید کے قدیمی اور روایتی مفہوم کے بجائے تشکیل نو (Reconstruction) کے دائرے میں آتا ہے۔ ہمارا ان سے اصولی اختلاف یہی ہے اور ہم پورے شرح صدر اور دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں کہ جہاں بھی دین کے پورے ڈھانچے کی تشکیل نو کی بات ہوگی، دین کی بنیادی اصطلاحات کو نئے معانی دے کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور امت کے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے خلاف بے اعتمادی کی فضا پیدا کر کے نئی نسل کو اس سے کاٹنے کی سوچ کارفرما ہوگی، وہاں ایسی کوششوں کا عملی نتیجہ گمراہی کا ماحول پیدا کرنے کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوگا۔‘‘ (ایک علمی وفکری مکالمہ، ص ۸)

اس وضاحت کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف کو مزید کسی وضاحت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کی نشان دہی فرمائیں، اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ ہاں، اپنی چند ’’کمزوریوں‘‘ کا اس موقع پر ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کا لحاظ ضرور رکھا جانا چاہیے۔

ایک یہ کہ ’’لٹھ مار تنقید‘‘ کا نہ میرے اندر سلیقہ موجود ہے اور نہ ہی اس کا عادی ہوں۔ کوئی دوست طبع آزمائی کریں تو برداشت کسی نہ کسی طرح کر لیتا ہوں، مگر خود ایسا کرنے کا سرے سے مجھ میں حوصلہ ہی نہیں ہے۔ سادہ لہجے میں اور حتی الوسع طالب علمانہ انداز میں رائے سے اختلاف کرتا ہوں اور ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ بات علمی دائرے سے باہر نہ نکلنے پائے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ سے میں نے اسی ذوق کی تربیت پائی ہے۔

دوسری کمزوری جس کا اعتراف کرنے میں مجھے کوئی باک نہیں، مجھ میں یہ ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا تھرمامیٹر موجود نہیں ہے جس کے ذریعے سے لوگوں کی نیتوں اور دلوں کا حال جان سکوں۔ ظاہر کا مکلف ہوں اور اسی دائرے میں رہنے کی کوشش کرتا ہوں، البتہ کسی صاحب کی رائے اور موقف کے ممکنہ نتائج وثمرات کے حوالے سے بات ضرور کر لیتا ہوں، جیسا کہ میں نے غامدی صاحب کے بارے میں بھی سطور بالا میں عرض کیا ہے، مگر نیت اور دل تک مجھے رسائی حاصل نہیں ہے کہ کسی کو حتمی لہجے میں کسی کا ایجنٹ قرار دے سکوں۔

چند سال پہلے اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سیمینار میں ملک کے ایک بڑے دانش ور نے چند معاشی مسائل کے بارے میں ایک صاحب علم کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سرمایہ داروں کے کہنے پر یہ موقف اختیار کیا ہے۔ میں نے اسی اسٹیج پر اس بات سے کھلے بندوں اختلاف کیا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ یہ بارے ہمارے کلچرل مزاج اور نفسیات کا حصہ بن چکی ہے کہ ہم جس سے اختلاف کرتے ہیں، اسے کسی نہ کسی کا ایجنٹ قرار دیے بغیر ہماری نفسیات کی تسکین نہیں ہوتی۔ میں نے وہاں یہ بھی عرض کیا تھا کہ اجتماعی معاملات میں جو بھی موقف اختیار کیا جائے گا، وہ معروضی حالات میں کسی نہ کسی کو ضرور فائدہ دے گا، اس لیے یہ کہنا کہ وہ موقف کسی فریق سے پیسے کھا کر اپنایا گیا ہے، یک طرفہ نہیں رہے گا، دوسری طرف کے بارے میں بھی آسانی کے ساتھ یہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ جناب جاوید احمد غامدی اور ان کی قسم کے دیگر اصحاب دانش پر نقد وتبصرہ کے حوالے سے خود ڈاکٹر محمد امین صاحب کا ایک ارشاد بھی یہاں نقل کرنا مناسب دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے ’البرہان‘ کے زیر نظر شمارہ کے ص ۵۸ پر فرمایا ہے کہ:

’’علماء کرام یہ بھی غور نہیں فرماتے ہیں کہ آج مغربی تہذیب اگر فاتح، غالب اور قوی ہے تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ مضبوط علمی وفکری بنیادوں پر کھڑی ہے، لہٰذا مسلم معاشرے کے لیے اس کا چیلنج حربی اور سیاسی ہی نہیں، علمی اور فکری بھی ہے، لیکن معاف کیجیے گا! علماء کرام اس کا جواب کیا دیں گے، وہ تو اسے سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ انھیں تو ’’مقاصد الفلاسفہ‘‘ کا ادراک نہیں، ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ کا ادراک وہ کیسے کریں گے؟ محض یہ کہہ دینا کہ ہمارا موقف مبنی برحق ہے اور ان کا موقف غلط ہے، کافی نہیں جب تک ہم مروجہ علمی اسالیب میں اپنے موقف کا صحیح ہونا اور ان کے موقف کا خام، ناقص اور غلط ہونا دلائل کے ساتھ ثابت نہیں کر دیتے۔ اس کے مقابلہ میں جاوید غامدی صاحب اور ان کے ..... تلامذہ ذہین اور محنتی ہیں، وسیع المطالعہ ہیں، جدید تعلیم یافتہ ہیں، مغربی نفسیات کو سمجھتے ہیں، بات متانت، شائستگی اور دلیل کے ساتھ کرتے ہیں اور موثر انداز میں کرتے ہیں، لوگوں کے سوالوں کے جواب صحیح فریکونسی میں دیتے ہیں تو لوگ ان کی بات کیوں نہ سنیں اور ان سے متاثر کیوں نہ ہوں؟

علماء کرام غور فرمائیں کہ دینی مدارس، مساجد کے ائمہ وخطبا، ان کی دعوتی تنظیموں (تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی وغیرہ) اور اصلاحی اداروں (صوفیاء اور ان کی خانقاہوں) کو کیا مغربی فکر وتہذیب اور مسلم معاشرے میں اس کے تعامل واثرات سے پیدا ہونے والے مسائل اور چیلنجز کا ادراک ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے پیدا کردہ علوم اور فکر نے مسلم معاشرے کے لوگوں کا، جنھوں نے مغربی فکر پر مبنی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے، ایک خاص ذہن (mindset) بنایا ہے جس سے ہماری روایتی فکر نہ آگاہ ہے اور نہ اس سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس چیز نے ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ جاوید غامدی صاحب اور ان کے رفقاء کار اس خلا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اسے پر کر رہے ہیں، لہٰذا غامدی صاحب پر کفر اور گمراہی کے فتوے لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جب تک علماء کرام اس تجمد کے ماحول اور اپنی فرقہ واریت سے باہر نہیں نکلیں گے اور اپنے آپ کو عصر حاضر کے علمی وفکری چیلنج کا جواب دینے کا اہل نہیں بنائیں گے۔‘‘

ہم ڈاکٹر صاحب محترم کے انتہائی شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمارا موقف اور ’الشریعہ‘ کا مقدمہ ہم سے کہیں زیادہ اچھے انداز میں اپنے مذکورہ ارشاد میں سمو دیا ہے۔ ہم شاید اتنے اچھے پیرایے میں اسے پیش نہ کر سکتے۔

عزیزم عمار خان ناصر سلمہ کے بارے میں بھی ڈاکٹر صاحب موصوف نے تند وتیز شکوہ کیا ہے، مگر مجھے اس سے کلی اتفاق نہیں ہے، اس لیے کہ وہ میرے ہاتھوں میں پلا بڑھا ہے، اسے میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ وہ اپنے دادا محترم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کا شاگرد ہے، اس نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درس نظامی کی تعلیم کی تکمیل کی ہے اور دورۂ حدیث کیا ہے۔ اس کے بعد موقوف علیہ تک درس نظامی کی کتابیں دس گیارہ سال تک مسلسل پڑھائی ہیں۔ تدریسی اور کتابی ذوق رکھتا ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی اور شغل نہیں ہے۔ غامدی صاحب سے اس کا تلمذ کا تعلق ہے اور ان کے بعض افکار سے وہ متاثر ہے، جبکہ کچھ عرصہ تک ان کے ادارے کے ساتھ بھی اس کا جزوی تعلق رہا ہے۔ اس کے بعض خیالات اور مضامین سے خود میں نے بھی اختلاف کیا ہے اور ’الشریعہ‘ کے صفحات پر کیا ہے جو ریکارڈ پر موجود ہے، لیکن کسی صاحب فکر کے بعض نتائج فکر سے ہم آہنگ ہونا اور بات ہے اور اس کی مکمل فکر کا مبلغ ہونا اور بات ہے۔ اس فرق کو اگر ڈاکٹر امین صاحب بھی نہیں سمجھ سکیں گے تو اور کون سمجھے گا؟

پھر بعض باتیں خواہ مخواہ ’’غامدیت‘‘ کے طعنے کی آڑ میں عمار خان کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔ مثلاً مسلمان شاتم رسول کے لیے توبہ کی گنجائش کے بارے میں احناف متقدمین کے موقف کی بات صرف عمار خان نے نہیں لکھی، بلکہ علامہ شامیؒ کا موقف بھی یہی ہے اور دور حاضر کے مفتیان کرام میں سے الشیخ عبد العزیز بن بازؒ اور ہمارے ہاں مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، مولانا مفتی عبد الواحد اور مولانا مفتی محمد زاہد نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے اور خود میرا طالب علمانہ موقف بھی یہی ہے، حتیٰ کہ ممتاز اہل حدیث عالم دین مولانا حافظ صلاح الدین یوسف نے بھی یہی لکھا ہے اور یہ سب کچھ ’الشریعہ‘ میں تفصیل کے ساتھ شائع ہو چکا ہے۔ اب صرف اس وجہ سے کہ اس موقف کا حوالہ غامدی صاحب نے بھی دیا ہے، کھینچ تان کر اسے ’’غامدیت‘‘ قرار دینا او رپھر طعن وتشنیع کی توپوں کے دہانے کھول دینا نہ صرف یہ کہ علمی دیانت کے منافی ہے بلکہ ائمہ احناف کے علمی موقف کی اہانت واستخفاف بھی ہے جس سے ڈاکٹر امین صاحب جیسے صاحب دانش کو بہرحال گریز کرنا چاہیے تھا۔

اس موقع پر ان امور ومسائل پر بحث ومباحثہ کا مثبت ماحول پیدا کرنے اور علم وتحقیق سے دلچسپی رکھنے والے اہل علم کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے میں اپنا اصولی موقف ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں جس کا اظہار ایک سے زیادہ مواقع پر کر چکا ہوں اور ابھی ماہ اکتوبر ۲۰۱۱ء کے ’الشریعہ‘ میں ایک تفصیلی سوال نامہ کے جواب میں بھی وہ درج ذیل الفاظ میں موجود ہے:

’’آج کے حالات میں آزادانہ بحث و مباحثہ کے بغیر کسی بھی مسئلے میں منطقی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ اور تعلیمی مراکز نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مختلف اطراف سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس کے اثرات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمارا روایتی اسلوب کافی نہیں ہے۔ ماضی نے اپنا علمی خزانہ کتابوں اور سی ڈیز کی شکل میں اگل دیا ہے اور آج کوئی بھی ذی استعداد اور با صلاحیت نوجوان اپنے چودہ سو سالہ علمی ماضی کے کسی بھی حصہ کے بارے میں معلومات حاصل کر نا چاہے یا کسی بھی طبقے کا موقف اور دلائل معلوم کرنا چاہے تو اسے اس کے بھرپور مواقع اور وسائل ہر وقت میسر ہیں۔ اس ماحول میں یہ کوشش کرنا کہ نوجوان اہل علم صرف ہمارے مہیا کردہ علم اور معلومات پر قناعت کریں اور علم اور معلومات کے دیگر ذرائع سے آنکھیں اور کان بند کر لیں ، نہ صرف یہ کہ ممکن نہیں بلکہ فطرت کے بھی منافی ہے۔ اس لیے آج کے دور میں ہماری ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے اور یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہو جاتی ہے کہ مطالعہ اور تحقیق کے اس سمندر سے نئی نسل کو روکنے کی بجائے خود بھی اس میں گھسیں اور ان متنوع اور مختلف الجہات ذرائع معلومات میں حق کی تلاش یا حق کے دائرے کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی راہ نمائی کریں۔ چنانچہ علم و فکر کی دنیا میں میرا ذوق روکنے یا باز رکھنے کا نہیں بلکہ سمجھانے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کا ہے۔ کسی دوست کو یہ طریقہ پسند ہو یا نہ ہو، لیکن میں اسی کو صحیح سمجھتا ہوں۔ اس کے لیے بحث و مباحثہ ضروری ہے، مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور دلائل کی روشنی میں ان کا خالص علمی انداز میں تلاش کرنا ضروری ہے۔ ایک عرصہ تک میرا بھی یہ ذوق اور ذہن رہا ہے کہ تحقیق کا دائرہ صرف یہ ہوتا ہے کہ جو بات ہم اپنے ذہن میں پہلے سے طے کر چکے ہیں، اسے کسی نہ کسی طرح ثابت کر دیا جائے۔ مگر رفتہ رفتہ یہ بات ذہن میں راسخ ہوتی گئی کہ خود اپنی بات کو دلائل اور حقائق کے معیار پر پرکھنا بھی تحقیق کا اہم ہدف ہوتا ہے ۔ بہت سے مسائل میں اکابر اہل علم کا رجوع الی الحق بالخصوص حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی طرف سے اس کا باقاعدہ اہتمام میرے ذوق میں اس تبدیلی کا باعث بنا۔‘‘

باقی رہی بات ’الشریعہ‘ کی ادارت کی تو میں خود ڈاکٹر صاحب موصوف سے دریافت کرنا چاہوں گا کہ آزادانہ علمی مباحثہ کے لیے، جس کی اصولی طور پر ڈاکٹر صاحب بھی تائید فرما رہے ہیں، کسی ایسے شخص کی ادارت کی ضرورت ہے جو خود بھی علمی بحث ومباحثہ کا ذوق اور صلاحیت رکھتا ہو یا ڈاکٹر صاحب کے بقول کسی ’’تجمد کے خوگر‘‘ کو اس منصب پر بٹھا دیا جائے اور پھر ڈاکٹر صاحب محترم کو شکوہ کرنا پڑے کہ اسے تو ’’مقاصد الفلاسفہ‘‘ کا ادراک نہیں، وہ ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ کا ادراک کیسے کرے گا؟

گزشتہ دنوں ایک محترم دوست میرے پاس تشریف لائے اور بڑے خلوص کے ساتھ فرمایا کہ ’’آپ نے عمار خان کو آزاد چھوڑ رکھا ہے۔‘‘ میں نے ان کی اس ہمدردی اور خیر خواہی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں تسلی دی کہ ایسا نہیں ہے۔ میں نے اسے بالکل آزاد نہیں چھوڑ رکھا ہے، بلکہ جہاں ضرورت محسوس ہو، اسے سمجھاتا ہوں، اس کی راہ نمائی کرتا ہوں اور جو بات اس کی سمجھ میں آ جائے، وہ مانتا بھی ہے۔ اس کے مزاج میں تعنت اور ضد بالکل نہیں ہے، البتہ بات سمجھ کر مانتا ہے۔ بہت سے معاملات میں اس نے میرے سمجھانے پر رائے تبدیل کی ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ میں نے اسے بالکل آزاد چھوڑ رکھا ہے، البتہ میں نے اسے اس گھنے جنگل میں تنہا اور بے سہارا بھی نہیں چھوڑ رکھا کہ جس کا جی چاہے، اس پر غرانے کی مشق شروع کر دے۔ اتنی بات کا ہمارے دوست خیال رکھ سکیں تو ان کی نوازش ہوگی۔