الرحمت ٹرسٹ ہاسپٹل، کامونکی، گوجرانوالہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
نا معلوم

۲۲ جون کو جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ میں تحریک آزادی کے نامور راہ نما مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کی یاد میں قائم ہونے والے ’’الرحمت ٹرسٹ ہسپتال‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ جامعہ اسلامیہ (ٹرسٹ) کامونکی مولانا عبد الرؤف فاروقی کی نگرانی میں ایک عرصہ سے تعلیمی و دینی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہے۔ حفظ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ درس نظامی کے بعض درجات کی تعلیم کے علاوہ اس ادارہ کی سب سے بڑی خصوصیت مختلف مذاہب کے مطالعہ اور تحقیق کا ذوق بیدار کرنا اور علماء کرام کو بین المذاہب مکالمہ کے لیے تیار کرنا ہے ،جس کے لیے مختلف اوقات میں بیسیوں تربیتی کورسز منعقد ہو چکے ہیں جن سے سینکڑوں علماء کرام نے استفادہ کیا ہے۔ یہودیت، مسیحیت، ہندو ازم، سکھ مذہب، بدھ مت، قادیانیت، بہائیت اور رفض و بدعات کے حوالہ سے ممتاز اصحاب علم و فکر اپنی تحقیقات و تجربات سے علماء کرام اور طلبہ کو آگاہ کرتے ہیں اور اس تقابلی مطالعہ سے اسلام کی دعوت اور دفاع دونوں حوالوں سے علماء کرام، دینی کارکنوں اور مبلغین کو راہ نمائی ملتی ہے۔

اب اگلے سال سے جامعہ اسلامیہ نے امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کی طرز پر دارالمبلغین کے قیام اور ایک سال کے تربیتی کورس کے اہتمام کا اعلان کیا ہے۔ حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کا تعلق فرنگی محلی علماء کرام کے خاندان سے تھا اور انہوں نے لکھنو میں دارالمبلغین قائم کر کے سالہا سال تک علماء کرام کو اہل سنت کے عقائد و مذہب کے تحفظ کے لیے تیار کیا ہے۔ انہیں اس محاذ پر پورے جنوبی ایشیا کی سطح پر استاذ کل اور امام اہل سنت کا درجہ حاصل تھا۔ اور سینکڑوں علماء کرام نے اس سلسلہ میں ان سے تلمذ کا شرف حاصل کیا ہے۔ ہمارے چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ نے دارالعلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد لکھنو کے اس دارالمبلغین میں حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ سے استفادہ کیا تھا اور ان کی شاگردی میں کورس کی تکمیل کی تھی۔ متکلم اہل سنت حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ اور اس محاذ کے بہت سے دیگر مناظرین و متکلمین بھی حضرت لکھنویؒ سے تلمذ کا شرف رکھتے ہیں۔ چند سال قبل میں نے اسکردو کے علاقہ میں حاضری کے موقع پر وہاں کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد کثیرؒ فاضل دیوبند کے بارے میں وہاں کے دوستوں سے سنا کہ انہیں اس علاقہ میں اہل سنت کے مذہب و عقائد کے دفاع و ترویج کے لیے حضرت لکھنویؒ نے بطور خاص تیار کیا تھا اور وہ بعد میں خط و کتابت کے ذریعہ ان سے اس مشن کے سلسلہ میں راہ نمائی حاصل کرتے رہتے تھے۔

حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے اسلوب اور طرز پر اہل سنت کے مذہب و عقائد کے لیے محنت کی ضرورت خود بھی ایک عرصہ سے محسوس کر رہا ہوں اور وقتاً فوقتاً اپنے کالموں میں کسی نہ کسی بہانے سے تذکرہ کرتا رہتا ہوں۔ اس لیے جامعہ اسلامیہ کامونکی کی طرف سے اس طرز پر دارالمبلغین کے قیام کا اعلان پڑھ کر مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے اور میں نے مولانا فاروقی کو اس عزم پر مبارک باد دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔

لیکن آج کا تذکرہ تو ہسپتال کے حوالہ سے ہے جو انہوں نے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ کے نام سے منسوب کیا ہے۔ جامعہ اسلامیہ کے قیام کے بعد سے ایک ڈسپنسری ہفتہ وار ترتیب سے قائم چلی آرہی ہے کہ لاہور سے ڈاکٹر آصف اور کامونکی سے ڈاکٹر محمود الحسن ہر بدھ کو اس ڈسپنسری میں پابندی سے آتے رہے ہیں اور علاقہ بھر سے سینکڑوں مریضوں کو علاج معالجہ کی فری سہولت ملتی رہی ہے۔ جبکہ اب اسے باقاعدہ ہسپتال کی شکل دے دی گئی ہے اور اس کے لیے بلڈنگ تیار ہے۔ ڈاکٹر محمد علی نے اسے مکمل ہسپتال کے طور پر چلانے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ایک باوقار تقریب میں دعا کے ساتھ اس کا افتتاح ہوگیا ہے۔

مولانا عبد الرؤف فاروقی نے تقریب کی صدارت کی جبکہ کامونکی سے صوبائی اسمبلی کے رکن چودھری شمشاد احمد خان مہمان خصوصی تھے۔ علاقہ بھر سے علماء کرام اور مختلف طبقات کے حضرات نے شرکت کی اور ایک دینی مدرسہ کی طرف سے اس کار خیر کے آغاز پر سب نے مسرت کا اظہار کیا۔ میں نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ دین کی دعوت و تعلیم اور سماجی خدمت آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ اس لیے کہ ہمارا سب سے پہلا سبق غار حراء کی وحی اقراء باسم ربک الذی خلق ہے جبکہ اس کے بعد دوسرا سبق ہمیں ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے اس ارشاد کی صورت میں ملتا ہے جو انہوں نے غار حراء کے اچانک واقعہ کے بعد پر گبھراہٹ ہونے کی وجہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوصلہ و تسلی کے لیے فرمایا تھا، کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یقیناًضائع نہیں ہونے دے گا ۔ اس لیے کہ آپ صلہ رحمی کرنے والے ہیں، محتاجوں کو کما کر کھلاتے ہیں، ضرورت مندوں کے کام آتے ہیں، مسافروں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور ناگہانی آفتوں میں لوگوں کے مددگار ہوتے ہیں۔ اس لیے میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اسلام کا پہلا سبق قرأت، تعلیم، قلم اور علم کے حوالہ سے ہے، اور دوسرا سبق صلہ رحمی اور سوسائٹی کے نادار لوگوں کی خدمت کے حوالہ سے ہے۔ چنانچہ سماجی خدمت بھی اسلامی تعلیمات کا لازمی حصہ ہے جس کا دینی اداروں کو اہتمام کرنا چاہیے۔

چودھری شمشاد احمد خان نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یہ رفاہی کام ایک دینی مدرسہ کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ویلفیئر اور رفاہ عامہ کے عنوان سے قائم ہونے والے ادارے رفتہ رفتہ کمرشل صورت اختیار کر جاتے ہیں جس سے ان کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ رفاہی ہسپتال چونکہ جامعہ اسلامیہ کی طرف سے شروع ہو رہا ہے اس لیے اطمینان کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خدمت خلق اور سماجی بہبود کے دائرے میں ہی کام کرتا رہے گا۔

درجہ بندی: