ربوہ کا نیا نام: صدیق آباد، نواں قادیان یا چناب نگر؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۰ دسمبر ۱۹۹۸ء
اصل عنوان: 
ربوہ، صدیق آباد، نواں قادیان؟

گزشتہ روز فلیٹیز لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی طرف سے ربوہ کا نام تبدیل ہونے کی خوشی میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے محرک مولانا منظور احمد چنیوٹی اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب حسن اختر موکل کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اور ربوہ کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد منظور کرنے پر پنجاب اسمبلی کے ارکان، حکومت، اپوزیشن اور محرک کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد نے قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مولانا چنیوٹی اور پنجاب اسمبلی کے ارکان کو مبارکباد پیش کی مگر ربوہ کے نئے نام ’’نواں قادیان‘‘ سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس نام کو منظور نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قادیانیوں کا تشخص اجاگر ہوگا اس لیے یہ نام قابل قبول نہیں ہے اور اس کی بجائے مجلس عمل ختم نبوت کے پرانے مطالبہ کے مطابق اس شہر کا نام حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نام نامی پر ’’صدیق آباد‘‘ رکھا جانا چاہیے۔ اس کے جواب میں مولانا چنیوٹی نے کہا کہ ’’نواں قادیان‘‘ کا نام حکومت پنجاب نے انہی کی تجویز پر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی بلکہ ان کے نزدیک قادیانیوں کی الگ شناخت کو اجاگر کرنا ضروری ہے جو اس نام سے ہو جاتی ہے، اور اس نام کے سامنے آجانے کے بعد کوئی شخص اس شہر کے بسنے والوں کے بارے میں کسی شک میں نہیں رہتا۔ البتہ وہ شہر کا نام کسی بزرگ مسلم شخصیت کے نام پر رکھنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس سے تقدس کا تاثر اور اشتباہ کی فضا بدستور باقی رہتی ہے اور نام بدلنے کا مقصد کماحقہ پورا نہیں ہوتا۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود انہیں ’’نواں قادیان‘‘ کے نام پر اصرار نہیں ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر دوستوں کی خاطر وہ ’’چناب نگر‘‘ یا کسی اور ایسے نام پر متفق ہو سکتے ہیں جس میں کسی اسلامی حوالے سے تقدس کا تاثر نہ پایا جاتا ہو۔

اس موقع پر راقم الحروف نے بھی پنجاب اسمبلی کی قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر جناب حسن اختر موکل کی وساطت سے صوبائی اسمبلی اور حکومت کو دو گزارشات پیش کیں۔

  1. ایک یہ کہ ربوہ کا نام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس شہر کے باشندوں کو ان کے مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق دینے کے لیے بھی قانون سازی ہونی چاہیے اور وہ لیز منسوخ کی جانی چاہیے جو قادیانیوں کی کنٹرولر تنظیم ’’انجمن احمدیہ‘‘ نے پنجاب کے انگریز گورنر سرموڈی سے ۱۹۴۷ء میں کوڑیوں کے مول حاصل کر کے اس زمین کو اپنے تصرف میں لیا تھا جہاں آج ربوہ یا نواں قادیان آباد ہے۔ یہ زمین لیز کے باوجود سرکاری ملکیت ہے اور جس طرح حکومت نے کئی شہروں میں کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیے ہیں اسی طرح اس زمین کی لیز منسوخ کر کے اس کے باشندوں کو بھی مالکانہ حقوق دیے جا سکتے ہیں۔
  2. دوسری گزارش یہ تھی کہ ربوہ کے نام کی تبدیلی کے متفقہ فیصلہ کے بعد نئے نام کے بارے میں اختلاف رائے کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کی جائے اور اسے اس فیصلہ پر عملدرآمد کو مؤخر کرنے کا بہانہ نہ بنایا جائے۔ کیونکہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت پر اندرون اور بیرون ملک لابیوں کا خاصا دباؤ ہے اور اسے اس فیصلہ پر عملدرآمد کو روکنے کے لیے معمولی سا بہانہ بھی فائدہ دے سکتا ہے۔ لیکن حکومت اگر اس فیصلہ پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہو تو نئے نام کے بارے میں اختلاف رائے کو احسن طریقہ سے طے کیا جا سکتا ہے۔

اس کے جواب میں جناب حسن اختر موکل نے معنی خیز انداز میں دو باتیں فرمائیں۔ ایک یہ کہ ’آپ لوگ حکومت کو بہانہ دیتے ہی کیوں ہیں؟‘‘ اور دوسری یہ کہ ’’اب گیند آپ کی کورٹ میں ہے۔‘‘

ہمارا خیال ہے کہ موصوف کے ان ریمارکس کے بعد حکومتی پالیسی اور آئندہ طرزعمل کے بارے میں مزید کچھ دریافت کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی اورا س کی روشنی میں سب کو اور بالخصوص عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ ورنہ پنجاب اسمبلی کی متفقہ قرارداد اور وزارت مال کے اقدامات کے باوجود صورتحال جوں کی توں باقی رہ سکتی ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر نہیں بلکہ نئے نام پر اختلاف کرنے والی جماعتوں پر ہوگی۔

ہماری معلومات کے مطابق پنجاب کی وزارت مال نے ۳ دسمبر کو ربوہ کا نام ’’نواں قادیان‘‘ رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے مگر اس سلسلہ میں علماء کے حلقوں میں اختلاف رائے سامنے آنے کے بعد اس پر مزید عملی پیش رفت روک دی گئی ہے اور حکومت پنجاب ’’تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو‘‘ کی پالیسی اختیار کر چکی ہے۔

جبکہ مرزا طاہر احمد نے بھی ’’نواں قادیان‘‘ کے نام کو قادیان میں واپسی قرار دے کر اپنے آنجہانی والد مرزا بشیر الدین محمود کی پیش گوئی پوری ہونے کی بات کہہ دی ہے جس کا مقصد اپنے پیروکاروں کو تسلی دینے کے علاوہ مسلمانوں کو اس سلسلہ میں بلاوجہ بحث و اختلاف میں الجھانا بھی نظر آتا ہے۔ ورنہ مرزا بشیر الدین محمود کی پیشگوئی یہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی تقسیم عارضی ہے، یہ تقسیم ختم ہوگی، دوبارہ اکھنڈ بھارت بنے گا اور قادیانی امت کے لوگ اپنے مرکز قادیان میں واپس آجائیں گے۔ اس لیے ربوہ کا نام نواں قادیان رکھنے سے یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوتی۔ اس طرح پیشگوئی پوری ہونے کی بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیشگوئی کی تھی اور اسے اپنی صداقت کا معیار قرار دیا تھا لیکن مرزا قادیانی کی وفات تک محمدی بیگم ان کے نکاح میں نہیں آئی اور وہ یہ حسرت دل میں لیے اگلے جہاں کو سدھار گئے۔ البتہ ان کی وفات کے بعد قادیانی جماعت کے تاویل کاروں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا قادیانی کی اولاد میں سے کسی مرد کا نکاح محمدی بیگم کی اولاد میں سے کسی لڑکی کے ساتھ کبھی نہ کبھی ضرور ہوگا اور اس طرح یہ پیش گوئی پوری ہو جائے گی۔

اس لیے ہمارا خیال ہے کہ نواں قادیان کے نام سے اختلاف کرنے والے حضرات کو اس صورتحال کا وسیع تناظر میں جائزہ لینا چاہیے اور مولانا چنیوٹی کے اس موقف کے وزن کو محسوس کرنا چاہیے کہ ربوہ کا نام کسی اسلامی شخصیت کے نام پر رکھنے سے تقدس اور اشتباہ کا تاثر بدستور موجود رہے گا، جبکہ نواں قادیان کے نام سے قادیانیوں کا اپنا تشخص اجاگر ہوگا اور تحریک ختم نبوت کی تمام تر جدوجہد کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ قادیانیوں کا جداگانہ تشخص جتنا زیادہ نمایاں ہو سکے اسے اجاگر کیا جائے تاکہ اسلام اور اہل اسلام کو قادیانیوں کے اختلاط اور اشتباہ سے بچایا جا سکے۔

اس کے علاوہ ایک اور پہلو سے بھی اس مسئلہ کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ یہ شہر قادیانیوں نے بسایا ہے اور اس میں انہی کی اکثریت آباد ہے۔ اس لیے ان کے شہر کا نام رکھتے ہوئے انہیں بالکل نظر انداز کر دینا بھی انصاف کا تقاضا نہیں ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۸ میں واضح طور پر ہمیں اس بات کی ہدایت فرمائی ہے کہ ’’کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کر سکو، بلکہ تم انصاف ہی کرو کیونکہ یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ اس لیے یہ اعتراض تو درست ہے کہ قادیانیوں نے ’’ربوہ‘‘ کا نام اس لیے رکھا کہ قرآن کریم کے ایک مقدس لفظ سے غلط فائدہ اٹھا کر سادہ لوح مسلمانوں کے لیے دھوکہ کی فضا قائم کر سکیں اس لیے اس نام کو بدلنا ضروری ہے، مگر اس کے متبادل نام میں ان کو قطعی طو رپر ایک طرف کر دینا مناسب نہیں ہے اور یہ ضروری ہے کہ ایسا نام رکھا جائے جس پر انہیں اعتراض نہ ہو یا کم از کم وہ اس پر اعتراض نہ کر سکیں۔ ورنہ کسی نام پر جذباتی اور یکطرفہ ضد انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف ہوگی اور ایسی صورت میں بین الاقوامی برادری کو مطمئن کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

اس پس منظر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر دینی جماعتوں سے ہماری استدعا ہے کہ وہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے صورتحال کا جائزہ وسیع تر تناظر میں لیں اور کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کریں جس سے پنجاب اسمبلی کی قرارداد اور وزارت مال کے اقدامات غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں اور معاملات سابقہ پوزیشن پر واپس چلے جائیں۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرح ہمیں بھی نواں قادیان کے نام پر اصرار نہیں ہے لیکن ان کے اس موقف میں بہرحال وزن محسوس ہوتا ہے کہ

  • ربوہ کا نیا نام کسی اسلامی شخصیت کے نام پر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے تقدس اور اشتباہ کا تاثر باقی رہے گا۔
  • نئے نام سے قادیانیوں کا جداگانہ تشخص نمایاں ہوتا ہو تو زیادہ بہتر ہے اور نیا نام ایسا ہونا چاہیے جس پر قادیانی اعتراض اور واویلا نہ کر سکیں۔