مدرسہ تعلیمی بورڈ کا قیام اور مدارس کی رجسٹریشن کا حکومتی فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جون ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
دینی مدارس اور حکومتی اقدامات

دینی مدارس کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پانچوں وفاقوں نے ان حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے اور جن کے تحت دینی مدارس کو چھ ماہ کے اندر رجسٹریشن کا پابند کرتے ہوئے سرکاری سطح پر ’’مدرسہ تعلیمی بورڈ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے مدارس کو بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دینی مدارس کو بیرون ملک سے ملنے والی امداد کو مدرسہ تعلیمی بورڈ کی کلیئرنس کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دینی مدارس کے نصاب میں انگلش، ریاضی اور سائنس کے مضامین کے اضافے کو لازمی قرار دینے کے علاوہ دہشت گردی اور فرقہ واریت میں ملوث دینی مدارس کے ناظم صاحبان کو دو سال قید کی سزا اور جرمانہ کے قانون کے نفاذ کا عندیہ دیا گیا ہے۔

اگرچہ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر محمود احمد غازی نے وضاحت کی ہے کہ ابھی مدارس کے بارے میں آرڈیننس کی حتمی شکل طے نہیں ہوئی، مگر وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراطلاعات جناب نثار اے میمن کی پریس بریفنگ میں مذکورہ بالا امور کے سامنے آجانے کے بعد آرڈیننس کے بنیادی مشمولات کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ اور حکومت ایک عرصہ سے دینی مدارس کے بارے میں جن عزائم اور اقدامات کا اظہار کرتی آرہی ہے اس کی عملی شکل کا بنیادی ڈھانچہ واضح ہوگیا ہے۔ وزیر مذہبی امور نے اپنی پریس کانفرنس میں دینی مدارس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے لیے حکومت کی طرف سے تیرہ ارب روپے کی امداد کی خوشخبری بھی دی جو تین سال میں مدارس کو دی جائے گی۔ لیکن اس کے باوجود نہ صرف دینی مدارس نے متفقہ طور پر ان اقدامات کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ لاہور ہائی کورٹ بار نے بھی ایک قرارداد میں دینی مدارس کے خلاف ان حکومتی اقدامات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی طرف سے حکومتی اقدامات کو یکسر مسترد کرنے کے مضمرات اور پس منظر کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں تین باتوں کا بطور خاص جائزہ لینے کی ضرورت ہے:

  1. ایک یہ کہ دینی مدارس کے نظام و نصاب میں رفتار زمانہ کے ساتھ جس قسم کی اصلاحات ناگزیر ہیں ان کی ضرورت سے کسی ذی شعور کو انکار نہیں ہے اور ہم خود ایک عرصہ سے دینی مدارس کے منتظمین کو اس طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ ہماری رائے میں دینی مدارس کے نصاب میں نہ صرف انگلش زبان کے اضافے کی ضرورت ہے بلکہ عربی بول چال اور تحریر و تقریر کے ساتھ ساتھ تقابل ادیان و مذاہب، تاریخ، پبلک ریلیشننگ اور کمپیوٹر ٹریننگ وغیرہ جیسے اہم مضامین کے اضافہ کو بھی ہم وقت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ تبدیلی اور اضافہ حکومتی اقدامات، اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات اور امریکہ کے مطالبات کے دائرے میں نہیں بلکہ خود دینی حلقوں کی داخلی ضروریات اور ملی و معاشرتی تقاضوں کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

    اور جیسے ہم دینی مدارس کے نصاب میں ان مضامین کے اضافوں کو ناگزیر سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح دینی مدارس کے نصاب (کے اعلیٰ درجوں) میں سائنس اور ریاضی کے اضافہ کو قطعی طور پر غلط اور نامعقول تصور کرتے ہیں۔ دینی تعلیم کے ساتھ ریاضی اور سائنس کی تعلیم کو لازمی قرار دینا اسی طرح کی غیر معقول حرکت ہے جیسے لاء کالج کے نصاب میں سائنس اور ریاضی کو لازمی مضامین کا درجہ دے دیا جائے۔

  2. دوسری بات یہ کہ اگر حکومت اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اس کی حیثیت ایک خیر خواہ مشیر اور رہنما کی ہونی چاہیے۔ اس سے زیادہ حکومت کوئی رول ادا کرنا چاہے گی تو اسے دینی مدارس کے داخلی معاملات میں مداخلت اور ان کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جائے گا جسے دینی مدارس کے ارباب حل و عقد کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔

    دینی مدارس کا موجودہ کردار جس کے مفید پہلوؤں کا خود جنرل پرویز مشرف کئی بار اعتراف کر چکے ہیں اور دینی مدارس کے جس دینی و معاشرتی کردار کا تذکرہ وفاقی وزیر مذہبی امور، وفاقی وزیرداخلہ اور گورنر پنجاب کے بیانات میں مسلسل ملتا ہے، اس کردار کی گاڑی مالیاتی و انتظامی خودمختاری اور تعلیمی نصاب و نظام کی آزادی کے دو پہلیوں پر چلتی آرہی ہے۔ ان میں سے کسی ایک پہیے کی ہوا نکال دی گئی تو دینی مدارس کے اس ملی کردار کا وجود باقی نہیں رہے گی جس کا اعتراف ہمارے حکمران بار بار کر رہے ہیں، اور جس ملی کردار سے خائف ہو کر عالمی استعماری قوتیں اور بین الاقوامی ادارے ان دینی مدارس کے جداگانہ تشخص کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

  3. تیسری بات یہ ہے کہ حکومت جس فضا اور حالات میں دینی مدارس کے گرد پابندیوں کا حصار قائم کرنے اور تیرہ ارب کی امداد کا لالچ دے کر انہیں اس دائرہ میں آنے کی ترغیب دے رہی ہے اس فضا میں تو کسی طرح یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اور ایسے حالات میں حکومت دینی مدارس کے بارے میں جو بھی عملی قدم اٹھائے گی اس سے حکومتی اور دینی حلقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کے سوا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

ایک طرف صورتحال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے امریکہ کی زیرقیادت عالمی اتحاد کے ساتھ مل کر دینی مدارس کی ڈیڑھ صدی کی کمائی کو خاک میں ملا دیا ہے۔ طالبان حکومت دینی مدارس کی ڈیڑھ صدی کی کمائی تھی اور دینی مدارس افغانستان میں خالصتاً نظریہ اور دینی بنیادوں پر قائم طالبان حکومت کو دیکھ کر مطمئن تھے کہ ان کی ڈیڑھ صدی کی محنت رنگ لے آئی ہے اور اسلام کی جن تعلیمات کو انہوں نے گزشتہ دو سو برس سے محنت، قناعت، فاقہ کشی اور قربانیوں کے ساتھ زمانے کی دست برد سے بچا کر رکھا ہوا تھا وہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ عملی اور اجتماعی زندگی میں ان کی عملداری کے امکانات بھی نظر آنے لگے ہیں۔ لیکن امریکی اتحاد نے حکومت پاکستان کے تعاون سے طاقت کے بل پر اس حکومت کا خاتمہ ہی نہیں کیا بلکہ اس کے علمی اور فکری سرچشمہ دینی مدارس کے خلاف وسیع تر انتقامی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن کا سلسلہ افغانستان سے آگے بڑھتا ہوا پاکستان کے مختلف شہروں تک پھیلتا جا رہا ہے۔ دینی مدارس پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، علماء اور کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں آرہی ہیں، خوف و ہراس کی فضا قائم کی جا رہی ہے اور دینی مدارس کے ساتھ تعاون کرنے والے اصحاب خیر کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ امریکی کمانڈوز کی رہنمائی میں پاکستانی فورسز اس وقت پاکستان کے مختلف علاقوں میں دینی مدارس کے خلاف جو کارروائیاں کر رہی ہیں اور جس طرح دینی حلقوں کو خوف زدہ اور ہراساں کیا جا رہا ہے اس فضا میں دینی مدارس کے لیے تیرہ ارب روپے کی امداد اور ان کی اصلاح و ترقی کے سرکاری اقدامات کو ایک سنگین مذاق اور زخموں پر نمک چھڑکنے کے سوا اور کیا سمجھا جا سکتا ہے؟

موجودہ حکومت اگر دینی مدارس کے نظام و نصاب کی اصلاح میں مخلص ہے اور خلوص دل کے ساتھ ان کی امداد کرنا چاہتی ہے تو اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ

  • ملک بھر میں دینی مدارس کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں فی الفور بند کر دی جائیں،
  • امریکی کمانڈوز سے دوٹوک طور پر کہہ دیا جائے کہ القاعدہ کے ارکان کی تلاش کی آڑ میں ہم اپنے دینی تعلیم کے نظام اور ماحول کو ڈسٹرب نہیں کر سکتے،
  • دینی مدارس کو مالیاتی و انتظامی خودمختاری کے تحفظ کی دوٹوک گارنٹی دی جائے،
  • نصاب و نظام کے معاملہ میں انہیں ڈکٹیشن دینے کی بجائے مشاورت کے ذریعے ضروری اصلاحات کی راہ ان کے وفاقوں کے ذریعے ہموار کی جائے،
  • اور دینی حلقوں اور مدارس کے بارے میں امریکہ اور بھارت کے ایجنڈے سے لاتعلقی کا واضح طور پر اعلان کیا جائے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوندوں سے فرمایا تھا کہ وہ اپنی بیویوں کو غلاموں کی طرح زدوکوب نہ کیا کریں کیونکہ یہ بات کسی طرح بھی اچھی نہیں ہوگی کہ دن کے وقت وہ انہیں تھپڑ مار رہے ہوں اور شام کو پھر انہیں گلے لگانے کے لیے بھی آگے بڑھیں۔ حکمران بھی گھر کے سربراہ کی طرح ہوتا ہے، اسے بھی اگر گھر کے افراد کے تعاون کی ضرورت ہے تو اسے جناب نبی اکرمؐ کی اس نصیحت کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ یہ تو کوئی شرافت کی بات نہیں سمجھی جائے گی کہ ایک طرف دینی مدارس چھاپوں کی زد میں ہوں، رات کی تاریکی میں ان کی دیواریں پھلانگی جا رہی ہوں، اساتذہ و طلبہ کو زدوکوب کیا جا رہا ہو اور جیل کی کالی کوٹھڑیوں کو مولویوں سے بھرا جا رہا ہو اور دوسری طرف وفاقی وزیر مذہبی امور تیرہ ارب روپے کے نوٹ تھالی میں رکھ کر دینی مدارس کے دروازوں پر دستک دے رہے ہوں۔ ان حالات میں تو امداد اور نصیحت کی بات کوئی عام آدمی بھی قبول نہیں کرتا، حکومت نے دینی مدارس کے ارباب حل و عقد سے اس کی توقع کیسے کر لی ہے؟