سینٹ کے حالیہ انتخابات اور ماضی کا ایک ذاتی تجربہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳ مارچ ۲۰۰۳ء

اسلام آباد اور فاٹا سے سینٹ کے بارہ ارکان کے انتخاب کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کے انتخاب کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور سینٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے آنے والی اہم شخصیات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کے معروف دانشور اور ماہر قانون ایس ایم ظفر نے، جو خود بھی (ق) لیگ کی طرف سے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، یہ تبصرہ کیا ہے کہ ’’موجودہ سینٹ پاکستان کا تھنک ٹینک ثابت ہوگا‘‘۔ ویسے بھی مالیاتی اختیارات میں کوئی حصہ نہ ہونے کی وجہ سے سینٹ کی عملی پوزیشن ’’تھنک ٹینک‘‘ جیسی ہی ہے کہ اس فورم پر زیادہ تر صرف تقریریں ہوتی ہیں، اظہار خیال ہوتا ہے، تجاویز پیش ہوتی ہیں اور پھر وہ تھنک ٹینک کی سفارشات کی طرح عملی فیصلوں کے لیے دوسرے ہاتھوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ تاہم ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایس ایم ظفر کی زبان مبارک کریں اور موجودہ سینٹ ملک و قوم کے لیے پہلے سے بہتر تھنک ٹینک ثابت ہو۔

سینٹ کا ادارہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اس وجہ سے عمل میں لایا گیا تھا کہ چونکہ قومی اسمبلی میں نمائندگی کی بنیاد آبادی کے تناسب پر ہے اس لیے تھوڑی آبادی والے صوبوں کی نمائندگی اس میں کم ہوتی ہے۔ جبکہ قومی اسمبلی میں فیصلے سادہ اکثریت سے ہوتے ہیں اس لیے چھوٹے صوبوں کے مفادات و حقوق کو زیادہ نمائندگی رکھنے والے صوبوں سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس خطرے کے تدارک اور صوبائی حقوق و مفادات کے یکساں تحفظ کی گارنٹی کے لیے مساوی نمائندگی کے اصول پر ایوان بالا (سینٹ) قائم کیا گیا ہے جو قومی اسمبلی کے فیصلوں پر نظر رکھتا ہے، اور مالیاتی امور کے علاوہ قومی اسمبلی کے باقی فیصلے آخری منظوری کے لیے سینٹ کے پاس جاتے ہیں جسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اس فیصلے اور قانون کی توثیق کر دے یا اسے نظر ثانی کے لیے واپس بھجوا دے۔ اس طرح آبادی کے تناسب میں بہت زیادہ تفاوت رکھنے والے صوبوں کے درمیان توازن کے لیے سینٹ اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

سینٹ کے بارے میں دستور میں یہ اصول طے ہے کہ یہ ادارہ کبھی ختم نبیں ہوگا اور نہ ہی اسے توڑا جا سکتا ہے۔ اس کے نصف ارکان ہر تین سال کے بعد باری باری منتخب ہوتے ہیں تاکہ اس کا تسلسل قائم رہے اور کوئی لمحہ ملک پر ایسا نہ آئے کہ سینٹ موجود نہ ہو۔ حتیٰ کہ جن دنوں میں قومی اسمبلی ٹوٹ جاتی ہے اور نئے الیکشن کے لیے اسے تحلیل کر دیا جاتا ہے ان دنوں میں بھی سینٹ کی موجودگی دستوری طور پر ضروری ہوتی ہے کیونکہ سینٹ کا بنیادی تصور اور اصول ہی یہ ہے کہ اس کا تسلسل قائم رہے اور اس میں کوئی خلاء واقع نہ ہو۔ لیکن جب بے چارہ دستور خود طاقتور ہاتھوں (مارشل لاء) کی تاب نہ لاتے ہوئے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کی دی ہوئی گارنٹی سینٹ کو کیا تحفظ دے سکتی ہے؟ اس لیے جب بھی قومی اسمبلی پر کوئی ضرب پڑتی ہے تو سینٹ بھی قومی اسمبلی کے ساتھ ہی زمین بوس ہو جاتا ہے۔

سینٹ کے حالیہ الیکشن میں جہاں ایس ایم ظفر، چوہدری محمد انور بھنڈر، مشاہد حسین سید اور محمد میاں سومرو جیسے شناسا اور تجربہ کار چہرے حکمران کیمپ کی طرف سے ایوان بالا میں آئے ہیں وہاں متحدہ مجلس عمل کی جانب سے مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا سمیع الحق، پروفیسر ساجد میر، پروفیسر خورشید احمد اور پروفیسر غفور احمد جیسے پرانے اور کہنہ مشق پارلیمنٹیرین قوم کی نمائندگی کے لیے موجود ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بھی ایوان بالا کے لیے نمائندوں کے انتخاب میں تجربہ اور سنیارٹی کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس لیے ’’تھنک ٹینک‘‘ والی بات مناسب ہی لگتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر ایوان بالا ’’نظر بد‘‘ سے محفوظ رہا تو کم از کم علم و دانش اور فکر و نظر کے محاذ پر تو قوم کو ایک اچھی ٹیم کی راہنمائی میسر آجائے گی۔

دینی حوالے سے مجھے سب سے زیادہ خوشی مولانا شاہ احمد نورانی کے سینیٹر منتخب ہونے پر ہوئی ہے اور سب سے زیادہ افسوس مولانا قاضی عبد اللطیف کے الیکشن ہارنے پر ہوا ہے۔ سینٹ کے الیکشن سے چند روز قبل جمعیۃ علماء اسلام (س) کے ایک صوبائی راہنما کے ڈیرے پر سینٹ کے انتخابات کے ممکنہ نتائج پر گفتگو ہو رہی تھی، میں نے گزارش کی کہ مجھے سب سے زیادہ دلچسپی مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا قاضی عبد اللطیف کے جیتنے سے ہے اور میری دلی خواہش ہے کہ یہ دونوں سنجیدہ اور تجربہ کار بزرگ ایوان بالا میں ضرور پہنچیں۔ لیکن اس کے ساتھ جمعیۃ علماء اسلام (س) کے دوستوں سے یہ بھی عرض کیا کہ متحدہ مجلس عمل نے آپ کی جماعت کو صوبہ سرحد سے سینٹ کے لیے ڈیڑھ ٹکٹ دیا ہے کیونکہ جو دو ٹکٹ آپ کو ملے ہیں ان میں سے ایک کنفرم ہے اور دوسرا چانس پر ہے۔ اس لیے آپ کے قائد مولانا سمیع الحق کو چاہیے کہ چونکہ ان کے گھر میں ایم این اے کی سیٹ پہلے ہی موجود ہے اس لیے کنفرم ٹکٹ قاضی عبد اللطیف کے حوالے کر دیں اور خود چانس پر ٹرائی کریں۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا اور مولانا قاضی عبد اللطیف اپنے تمام تر استحقاق کے باوجود صرف اس لیے چانس کی نذر ہوگئے کہ

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

سینٹ کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں اور ووٹوں کی خرید و فروخت اور ووٹروں کے اغوا کی باتیں بھی ہوئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صوبہ سرحد میں سینٹ کے لیے ایک ووٹ کی قیمت ایک کروڑ روپے تک پہنچی ہے اور جس طرح کوئی سیاسی بنیاد نہ رکھنے والے چند مالدار ترین حضرات سینٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے ان الزامات کو حتمی طور پر رد کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان معنیٰ خیز ہے کہ ہم سینٹ کے الیکشن کے نتائج کو مجبورًا قبول کر رہے ہیں۔

الیکشن میں دھاندلی کے الزامات ہمارے ہاں ایک روایت بن گئی ہے جو سارے کے سارے عام طور پر درست نہیں ہوتے اور سارے غلط بھی نہیں ہوتے۔ میں اس سلسلہ میں ایک ذاتی تجربہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ۱۹۸۵ء میں جب جنرل ضیاء الحق مرحوم نے غیر جماعتی انتخابات کرائے تو مجھے بھی سینٹ کے الیکشن کا شوق چراہا۔ میں پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے ایک متحرک سیاسی دور گزار چکا تھا اور ان دنوں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (درخواستی گروپ) کا مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھا۔ اس لیے شوق نے دل میں انگڑائی لی اور میں نے بھی سینٹ کے الیکشن کے لیے کاغذات جمع کر دیے جو اس حوالے سے میری زندگی کی پہلی اور آخری غلطی تھی۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی صوبائی اسمبلی کے رکن تھے، انہوں نے تمام تر مصلحتوں اور تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرے لیے پوری مہم چلائی لیکن نتائج کا اندازہ الیکشن سے چند روز پہلے ہی پوری طرح ہوگیا تھا کہ صرف مولانا چنیوٹی کا بابرکت ووٹ ہی میرے حصے میں آئے گا اور ان کے کہنے پر جس رکن اسمبلی نے میرے کاغذات کی تائید کی تھی اس کا ووٹ بھی میرے مقدر میں نہیں ہے۔اسی سلسلے میں دو دلچسپ واقعات کا ذکر ضروری ہے:

بھائی پھیرو سے رانا پھول محمد مرحوم اسمبلی کے ممبر تھے اور بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے، ان کے پاس ہم ووٹ مانگنے کے لیے گئے تو انہوں نے دیکھتے ہی فرمایا کہ مولوی صاحب! آپ کس چکر میں پڑ گئے ہیں، یہ آپ جیسے شریف لوگوں کا کام نہیں ہے، جاؤ گھر میں آرام سے بیٹھو۔ پھر میرے کان کے قریب منہ لا کر کہا کہ آپ کو پتہ نہیں کہ اب الیکشن کمپین کا طریق کار بدل گیا ہے، پہلے ’’ڈور ٹو ڈور‘‘ کمپین ہوا کرتی تھی مگر اب تو الیکشن کمپین ’’بیڈ ٹو بیڈ‘‘ ہونے لگی ہے، یہاں تم لوگ کیا کرو گے؟

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ میرے انتہائی بے تکلف دوست اور کلاس فیلو سول سروس میں ہیں، ان دنوں وہ لاہور میں ایک اعلیٰ انتظامی عہدے پر فائز تھے۔ چونکہ ابھی وہ سروس میں ہیں اس لیے ان کا نام لینا مناسب نہیں معلوم ہوتا، ہم الیکشن مہم کے دوران ملاقات کے لیے ان کے پاس گئے کہ ان سے حالات کا کچھ اندازہ ہو جائے گا۔ انہوں نے ہماری بات سن کر کہا کہ خدا کے بندے! اگر یہ کام کرنا تھا تو مجھے پہلے بتا دیتے میں کسی سے تمہاری بات کرا دیتا، اب تو سب کچھ ہو چکا ہے اور کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگرچہ ان کے پاس ہم صرف معلومات حاصل کرنے کی حد تک اخلاقی تعاون کے لیے گئے تھے، ہمارا مقصد الیکشن مہم میں انہیں شریک کرنا نہیں تھا۔ لیکن ان کی بات سے اندازہ ہوا کہ ہماری ترتیب غلط تھی اور اصل بات انہی سے کرنے کی تھی جو ہم ’’بروقت‘‘ نہیں کر سکے تھے اس لیے اسی روز اندازہ ہوگیا کہ ہماری تگ ودو کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ الیکشن سے کم از کم تین دن پہلے کا قصہ ہے اور اٹھارہ سال پہلے کے اس واقعے سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس ’’صنعت‘‘ نے اب تک مزید کتنی ترقی کر لی ہوگی۔

بہرحال پارلیمنٹ کا الیکشن مکمل ہونے پر ہم سینٹ کے نو منتخب ارکان کو مبارکباد دیتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پارلیمنٹ کو قومی خودمختاری کی بحالی، اسلامی نظام کے عملی نفاذ اور پاکستان کی خوشحالی، خود کفالت اور ترقی کے لیے بہتر سے بہتر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔