سید ذو الکفل بخاریؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نقیب ختم نبوت
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۱۰ء

امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے اس ہونہار نواسے کی اچانک اور حادثاتی موت نے تو کچھ لمحات کے لیے ذہن پر سکتہ طاری کر دیا۔ وہ مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور کئی برسوں سے سعودیہ میں مقیم تھے۔ اس سال اپریل کے دوران مکہ مکرمہ میں حاضری کے دوران میری خواہش رہی کہ ان سے ملاقات ہو جائے مگر میرے میزبان کا ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اور اب پیر کے روز میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک دینی مدرسہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہا تھا کہ برادرم عبد اللطیف خالد چیمہ نے ٹیلی فون پر گلوگیر لہجے میں یہ خبر دی کہ سید ذو الکفل بخاری مکہ مکرمہ میں ٹریفک کے ایک حادثہ میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنی عمر کے چالیس برس بھی مکمل نہیں کر پائے تھے کہ بلاوا آ گیا۔

موت کا وقت، جگہ اور کیفیت تینوں اللہ تعالیٰ کے پاس طے شدہ ہیں اور تقدیر میں ازل سے لکھی ہوئی ہیں، مگر خود انسان کو ان میں سے کسی ایک کا بھی علم نہیں ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ کے بقول اسی بے خبری پر دنیا کی ساری رونقیں قائم ہیں، ورنہ ہر انسان کو مرنے سے پہلے بار بار مرنے کے مراحل سے گزرنا پڑے۔ سید ذو الکفل بخاریؒ کا یہ تعارف تو تھا ہی کہ وہ امیر شریعتؒ کے نواسے اور بخاری خاندان کے چشم وچراغ ہیں، مگر ہمارے لیے ان کا ایک تعارف اور بھی تھا کہ وہ علم وفکر کی دنیا کے آدمی تھے۔ مطالعہ کرنا، مسائل پربحث ومباحثہ کرنا اور نقد وجرح کے ساتھ ہر بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا ان کا ذوق تھا۔ دار بنی ہاشم ملتان میں ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور بہت سے مسائل پر ان سے گفتگو ہوئی۔ ان کا کریدنا اور سوال کا انداز مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ میرا اپنا ذوق یہ ہے کہ گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ سوال کرنے والے نوجوان کا منتظر رہتا ہوں۔ مطالعہ وتحقیق اور بحث وکرید کے میدان میں آج کے دور میں جن نوجوانوں سے وابستہ امیدیں مسلسل بڑھتی جا رہی تھیں، ان میں ایک اہم نام سید ذو الکفل بخاری کا بھی تھا اور اس پہلو سے یہ میرے لیے ذاتی صدمہ بھی ہے۔

سید ذو الکفل بخاریؒ ہمارے ملک کے ان باشعور نوجوانوں میں سے تھے جن سے بجا طور پر اہل نظر کی یہ توقعات وابستہ ہو گئی تھیں کہ امت مسلمہ کی زبوں حالی کے اس دور میں وہ اپنی ذہانت، مطالعہ، تدبر اور حوصلہ کے ساتھ علمی وفکری راہ نمائی کی وہ روایت قائم رکھ سکیں گے جو ہمارے ماضی کے تسلسل کا حصہ رہی ہے اور جس روایت کا ذکر ہوتے ہی ماضی قریب میں مولانا ابو الکلام آزادؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، چودھری افضل حقؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا مناظر احسنؒ گیلانی، مولانا عبد الماجد دریابادیؒ اور آغا شورش کاشمیری مرحوم جیسے عظیم نام خود بخود ذہن کی اسکرین پر ابھر آتے ہیں۔ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جس کے تعارف میں سب سے پہلے خطابت کا تذکرہ ہوتا ہے اور اردو زبان کے سب سے بڑے خطیب امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت سے اس خاندان کے تعارف کا آغاز ہوتا ہے، لیکن یہ خطابت خالی اسٹیج کی خطابت نہ تھی بلکہ اس کی پشت پر علم وحکمت، زبان وادب، مطالعہ وتحقیق اور رجز وشعر کے ساتھ ساتھ لہجے کی گھن گرج او رمحاورے کی چاشنی بھی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر رہی ہے۔ سید ذو الکفل بخاریؒ نے جن نابغہ شخصیات کی سرپرستی میں شعور کی منزلیں طے کیں ان میں مولانا سید ابوذر بخاریؒ کا نام سب سے نمایاں ہے جنہیں اس دور میں ایک چلتی پھرتی اور بحث وتمحیص کرتی ہوئی لائبریری کے عنوان سے معنون کیا جا سکتا ہے اور اس سیرگاہ کے گل ہائے رنگارنگ کی خوشبو سید ذوالکفل بخاریؒ کی باتوں سے بھی چھلکتی تھی۔

سید ذو الکفل بخاری کا تعلق قلم اور کتاب سے تھا اور علم وشعور کی باتیں ہی ہر وقت ان کی نوک زبان پر رہتی تھیں۔ وہ مطالعہ کی گہرائی میں ڈوب کر جب تجزیہ وتحقیق اور استفسار وسوال کی طرف متوجہ ہوتے تو ان کی نکتہ رسی کا سامنا کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ مجھے ان کے ساتھ متعدد محفلوں میں گفت وشنید کا موقع ملا ہے اور وہ ان معدودے چند نوجوانوں میں سے تھے جن کے سوال کا جواب دینے کے لیے پہلے کچھ دیر سوچنا پڑتا۔ خدا جانے ایسے نوجوان مجھے کیوں زیادہ پسند ہیں جو روایت کے دائرے میں خود کو پابند رکھتے ہوئے

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

کے ذوق سے بھی بہرہ ور ہیں۔ شاید یہ مستقبل کی صحیح صورت گری کے تقاضوں میں سے ہو۔ مجھے سید ذو الکفل بخاریؒ سے انس تھا، ان کے خاندانی تناظر کی وجہ سے، ان کے علمی ذوق کی وجہ سے، کتاب کے ساتھ ان کے والہانہ تعلق کی وجہ سے، ان کے سوالات کے تیکھے پن کی وجہ سے، اور امت کے لیے ان کے درد میں ڈوبے ہوئے دل کی وجہ سے۔ یہ باتیں تو شاید کہیں نہ کہیں بکھری ہوئی مل ہی جائیں گی مگر ان سب کے مجموعہ کو سید ذو الکفل بخاریؒ کی صورت میں اب کہاں تلاش کروں گا؟

ہائے او موت تجھے موت ہی آئی ہوتی

اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔