حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے، اب کوئی فاضل دیوبند اس علاقہ میں میرے علم میں موجود نہیں ہے۔ چند ماہ قبل مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا بھی انتقال ہو گیا ہے جو فاضل دیوبند تھے، وہ ایک عرصہ تک مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ناظم اور محکمہ اوقاف کے ڈسٹرکٹ خطیب رہے ہیں، گلی لانگریاں والی گوجرانوالہ کی مسجد کے امام و خطیب تھے، میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم میں طالب علمی کا سارا دور انہی کی نظامت میں گزارا ہے اور وہ میرے درس نظامی کے ابتدائی اساتذہ میں سے بھی ہیں۔ ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کے بعد ہم یہ کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی آج ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔

گزشتہ جمعہ کو میں ان کی عیادت کے لیے ڈسکہ حاضر ہوا، کچھ عرصہ سے وہ بیمار تھے مگر بیماری کے باوجود ۵ فروری کو یوم کشمیر کے جلوس سے خطاب کیا اور اس روز جمعۃ المبارک کے اجتماع میں بھی اسی مسئلہ پر تقریر کی جس کے بارے میں ان کے بعض سامعین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوانی کے دور کی یاد تازہ کر دی، یہ ان کا آخری عمومی خطاب تھا۔ بیماری کے ایام میں بھی اسباق پڑھاتے رہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے دارالعلوم مدنیہ میں ۲۸ فروری بدھ کو بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا، ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف تھی اور جگر کا عارضہ بھی تھا۔

گزشتہ ہفتے ایک شب چارپائی سے اٹھتے ہوئے گر گئے جس سے ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف بڑھ گئی پھر باقی ایام بے چینی اور اضطراب میں ہی بسر کیے۔ لاہور کے میو ہسپتال لے جایا گیا، چند دن رہے مگر واپسی کے لیے بے تاب تھے چنانچہ گزشتہ بدھ کو انہیں واپس ڈسکہ لایا گیا۔ میں جمعہ کی شام کو عزیزم عمار خان اور ڈاکٹر محمد رفیق میر کے ہمراہ حاضر ہوا، بے چینی کی حالت میں تھے، بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، چند لمحے ہم نے ان کی زیارت کی اور پھر دعائے صحت کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گئے۔

ہماری ان سے رشتہ داری بھی تھی کہ ان کے برادر نسبتی مولانا مفتی محمد رویس خان ایوبی آف میرپور آزاد کشمیر میرے حقیقی خالو ہیں، جبکہ میری خالہ زاد بہن مولانا محمد فیروز خان کی بہو ہیں۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم سے تھا، غالباً ۱۹۵۶ء میں دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث کیا، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے اور ان سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں آگئے اور دارالعلوم مدنیہ کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا جو اَب ضلع سیالکوٹ کے بڑے دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور قادیانی امت کے عالمی لیڈر چوہدری ظفر اللہ خان کا تعلق بھی ڈسکہ سے تھا اور ان کا خاندان ایک عرصہ تک یہاں آباد چلا آ رہا ہے، مولانا فیروز خان نے ان کی خاندانی حویلی کے سامنے ایک خالی جگہ پر ڈیرہ لگا لیا، مزاج میں جلال غالب تھا، متحرک اور فعال عالم دین تھے اور دینی حمیت و غیرت کا مجسمہ تھے اس لیے خوب گہماگہمی رہی اور ’’اٹ کھڑکا‘‘ وقتاً فوقتاً ہوتا رہا۔ ہمارا طالب علمی کا دور تھا، دار العلوم مدنیہ کا سالانہ جلسہ خاصا معرکے کا ہوتا تھا، ہم بائیسکلوں پر گوجرانوالہ سے جلسہ سننے جایا کرتے تھے۔ میں نے خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے دو ہی خطاب سنے ہیں، ایک شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں اور دوسرا دار العلوم مدنیہ ڈسکہ میں۔ ڈسکہ کے خطاب کا آغاز حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے اس دلچسپ جملہ سے کیا تھا کہ ’’آپ کے شہر کا نام بھی عجیب ہے، کہاں چلے ہو؟ ڈس کے!‘‘

مولانا محمد فیروز خان کا بھرپور جوانی کا دور تھا اور وہ ہاتھ میں رائفل پکڑے پوری تقریر کے دوران حفاظت کے لیے اسٹیج پر کھڑے رہے۔ اس دور میں علماء کرام عام طور پر ہتھیاروں سے نا آشنا ہوتے تھے، زیادہ سے زیادہ کسی کے ہاتھ میں کلہاڑی ہوتی تھی، صرف حضرت مولانا بشیر احمد پسروری ہاتھ میں تلوار رکھتے تھے اور صاحب السیف کہلاتے تھے، اس زمانے میں کسی عالم دین کے ہاتھ میں ریوالور یا رائفل کا ہونا بہت رعب اور دبدبہ کی بات سمجھی جاتی تھی اور مجھے بھی اسٹیج پر مولانا فیروز خان رائفل بدست کھڑے بڑے با رعب لگے جس کا نقشہ ابھی تک ذہن میں موجود ہے۔ دار العلوم مدنیہ کے جلسہ کا اسٹیج چودھری ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے ہوتا تھا، اس لیے اس اسٹیج پر احراری خطابت کی گھن گرج عجیب سماں پیدا کرتی تھی۔ میں نے اسی اسٹیج پر سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا پہلا خطاب سنا جو کئی گھنٹوں پر مشتمل تھا اور ان کے خطیبانہ جوش و خروش اور مناظرانہ کروفر کے بارے میں اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ وہ چودھری ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے کھڑے خطاب کر رہے تھے۔

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب اعلیٰ پائے کے مدرس تھے، بالخصوص ادب، عربی اور معقولات میں چوٹی کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ میں نے ان سے کوئی باقاعدہ سبق نہیں پڑھا، البتہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے سالانہ امتحان میں ہمیشہ تشریف لاتے تھے اور میں نے انہیں بعض کتابوں کا امتحان دیا ہے اس لیے میں نے ہمیشہ انہیں اپنے اساتذہ میں شمار کیا ہے اور زندگی بھر ان سے اسی نوعیت کی نیاز مندی رہی ہے۔ وہ بھی ہمیشہ شفقت فرماتے تھے، دعاؤں سے نوازتے تھے، سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرتے تھے اور غلطیوں پر ٹوکتے بھی تھے۔ ایک موقع پر حضرت مولانا بشیر احمد پسروری نے شاہی مسجد پسرور کے سالانہ جلسہ میں مجھے خطاب کا حکم دیا، میرا نوجوانی کا دور تھا، حضرت مولانا شبیر احمد پسروری صدارت فرما رہے تھے، مولانا محمد فیروز خان اسٹیج پر تھے، مجھے خطاب کے لیے کہا گیا تو حضرت مولانا محمد فیروز خان مجھے ایک طرف لے گئے اور فرمایا کہ یہاں سوچ سمجھ کر بولنا، بابا جی جلالی بزرگ ہیں کوئی بات غلط ہو جائے تو تقریر کے درمیان کھڑے ہو کر ٹوک دیا کرتے ہیں۔ میں بحمد اللہ تقریر میں ویسے ہی محتاط رہتا ہوں مگر اس تقریر میں مجھے زیادہ محتاط ہونا پڑا، حضرت مولانا محمد فیروز خان نے یہ بات حضرت پسروری کے بارے میں کہی تھی مگر میں مولانا محمد فیروز خان کی موجودگی میں بھی محتاط رہتا تھا کہ اس طرح کے جلال کی جھلک کبھی کبھی وہ بھی دکھا دیا کرتے تھے۔

جمعیت علماء اسلام میں ان کے ساتھ طویل جماعتی رفاقت رہی، وہ ایک عرصہ تک جمعیت علماء اسلام سیالکوٹ کے ضلعی امیر رہے، ضلعی سیالکوٹ سے متعلقہ جماعتی معاملات کے لیے زیادہ تر انہی کی خدمت میں حاضری ہوتی تھی، دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، خود ان کا اپنا مزاج تحریکی تھی، جب تک صحت نے ساتھ دیا دینی معاملات میں کسی نہ کسی حوالہ سے پیشرفت کرتے رہتے تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفٰی، ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت اور ۱۹۸۷ء کی شریعت بل کی تحریک میں ہمارا ساتھ رہا۔ ان کا جوش و جذبہ اور عزم و استقلال دیکھ کر مایوس دلوں میں حوصلہ پیدا ہو جاتا تھا اور خاموش مزاج لوگوں کا بھی بولنے اور کچھ کر گزرنے کو جی چاہنے لگتا تھا۔ وہ بے باک اور دبنگ مقرر تھے، پبلک اجتماع ہو یا خصوصی محفل، کارکنوں کا اجلاس ہو یا اعلیٰ سطح کی شورائی میٹنگ ہر جگہ وہ دو ٹوک اور بے لچک بات کرتے تھے۔ غیر ضروری مصلحتوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور جہاں ضرورت محسوس کرتے ڈٹ جاتے تھے۔ وہ قید و بند کی صعوبتوں سے کئی بار دو چار ہوئے مگر ہر آزمائش سے سرخرو نکلے۔ سر کاری افسران کے ساتھ امن کمیٹیوں میں بیٹھتے تھے اور مختلف معاملات میں مذاکرات کرتے تھے مگر عالمانہ وقار اور قائدانہ بے نیازی کا دامن ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہتا تھا اور اس موقع پر وہ حکمت و تدبر اور جرأت و جسارت کا عجیب سا امتزاج بن جاتے تھے۔

والد محترم حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے ساتھ ان کا ہمیشہ قریبی تعلق رہا۔ مسلکی، جماعتی اور تعلیمی معاملات میں مشاورت و تعاون کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ تینوں فضلاء دیوبند تھے اور تینوں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد تھے، اس نسبت کا رابطہ الگ سے لطف دیتا تھا۔ میری ہمیشہ ان سے نیاز مندی رہی ہے اور میں نے ان سے نہ صرف بہت سے معاملات میں استفادہ کیا ہے اور راہنمائی لی ہے، آج اس روایت و مزاج کے حضرات کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں اور میں ذاتی طور پر اب زیادہ تنہائی محسوس کرنے لگا ہوں۔ ا للہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر کریں، جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ سے نوازیں اور ان کے فرزندوں اور اہل خاندان کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔