حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے۔ ابھی چند ماہ قبل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق ناظم اور محکمہ اوقاف کے سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا انتقال ہوا تو ان کے بعد ہم کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا محمد فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم سے تھا۔ غالباً ۱۹۵۶ء میں دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث کیا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے اور ان سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں آگئے اور دار العلوم مدنیہ کے نام سے دینی ادارہ قائم کیا جو اب ضلع سیالکوٹ کے بڑے دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور قادیانی امت کے عالمی لیڈر چودھری ظفر اللہ خان کا تعلق بھی ڈسکہ سے تھا اور ان کا خاندان ایک عرصہ تک یہاں آباد رہا ہے۔ مولانا فیروز خان نے ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے ایک متروکہ بلڈنگ پر ڈیرہ لگا لیا۔ مزاج میں جلال غالب تھا، متحرک اور فعال عالم دین تھے اور دینی حمیت وغیرت کا مجسمہ تھے، اس لیے خوب گہما گہمی رہی اور ”اٹ کھڑکا“ وقتاً فوقتاً ہوتا رہا۔ دار العلوم مدنیہ کے جلسے کا اسٹیج چودھری ظفر اللہ خان کی خاندانی حویلی کے سامنے ہوتا تھا اس لیے اس اسٹیج پر احراری خطابت کی گھن گرج عجیب سماں پیداکرتی تھی۔

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب اعلیٰ پائے کے مدرس تھے، بالخصوص ادب اور معقولات میں چوٹی کے اساتذہ میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، خود ان کا اپنامزاج تحریکی تھا اور جب تک صحت نے ساتھ دیا دینی معاملات میں کسی نہ کسی حوالے سے پیش رفت کرتے رہتے تھے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت، ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفٰی، ۱۹۸۴ءکی تحریک ختم نبوت اور ۱۹۸۷ء کی شریعت بل کی تحریک میں ہمارا باہمی ساتھ رہا۔ ان کا جوش و جذبہ اور عزم و استقلال دیکھ کر مایوس دلوں میں حوصلہ پیدا ہو جاتا تھا اور خاموش مزاج لوگوں کا بھی بولنے اور کچھ کر گزرنے کو جی چاہنے لگتا تھا۔ وہ بے باک اور دبنگ مقرر تھے۔ پبلک اجتماع ہو یا خصوصی محفل، کارکنوں کا اجلاس ہو یا اعلیٰ سطح کی شورائی میٹنگ، ہر جگہ وہ دو ٹوک اور بے لچک بات کرتے تھے۔ غیر ضروری مصلحتوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور جہاں ضرورت محسوس کرتے تھے ڈٹ جاتے تھے۔ وہ قید وبند کی صعوبتوں سے کئی بار دوچار ہوئے مگر ہر آزمائش سے سرخرو نکلے۔

والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے ساتھ ان کا ہمیشہ قریبی تعلق رہا۔ مسلکی، جماعتی اور تعلیمی معاملات میں مشاورت و تعاون کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ تینوں فضلائے دیوبند تھے اور تینوں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے۔ اس نسبت کا رابطہ الگ سے لطف دیتا تھا۔ میری ہمیشہ ان سے نیاز مندی رہی ہے اور میں نے ان سے نہ صرف بہت سے معاملات میں استفادہ کیا ہے بلکہ راہ نمائی بھی لی ہے۔ آج اس روایت و مزاج کے حضرات کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں اور میں ذاتی طور پر اب زیادہ تنہائی محسوس کرنے لگا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات سے درگزر فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ جگہ سے نوازیں اور ان کے فرزندوں اور اہل خاندان کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔